Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

پاک چین دوستی باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی کی روشن مثال ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی

سی پیک پاکستان کی معیشت، صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئی پیش رفت کا آغاز ثابت ہوگا، ملک محمد احمد خاں

لاہور(آصف اقبال) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے پچھتر برس باہمی اعتماد، احترام، اخلاص اور مشترکہ مفادات کی روشن مثال ہیں، جبکہ پاک چین دوستی ہر آزمائش میں سرخرو ہوئی اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہوتی چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کے ہر مشکل وقت میں قابلِ اعتماد دوست کا کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے تعلقات آج تزویراتی شراکت داری کی اعلیٰ مثال بن چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی کن یونیورسٹی (BNU) لاہور میں پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں عوامی جمہوریہ چین کے قونصل جنرل مسٹر سن یان، سابق سفیر و ڈائریکٹر بی سی پی آر و چیئر چائنا اسٹڈیز سفیر منصور احمد خان، وائس چانسلر بی این یو ڈاکٹر معید یوسف، پروفیسر لیو زونگ یی ڈائریکٹر سینٹر فار ساؤتھ ایشیا اسٹڈیز شنگھائی انسٹیٹیوٹس فار انٹرنیشنل اسٹڈیز، اساتذہ، طلبہ، سفارتی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) نے دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کو نئی جہت دی اور پاکستان کی ترقی، توانائی، انفراسٹرکچر اور علاقائی روابط کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات اور کاروباری شراکت داری پر مرکوز ہوگا، جو پاکستان کی معاشی بحالی اور پائیدار ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز اور ایم ایل ون منصوبہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں جبکہ پنجاب سی پیک کے پہلے مرحلے میں پاکستان کی اقتصادی شہ رگ کے طور پر سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ لاہور اور چین کے شہر چینگدو سمیت پنجاب کے سسٹر صوبائی روابط کو عملی اقتصادی، تجارتی، تعلیمی اور ثقافتی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ چین نے آٹھ سو ملین سے زائد افراد کو غربت سے نکال کر دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی اور پاکستان کو چین کے ترقیاتی ماڈل، عوامی فلاح اور مقامی طرز حکمرانی کے تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے دیہی خود اختیاری اور عوامی ترقی کے ماڈلز پاکستان کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات کا اگلا مرحلہ صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کاروباری اداروں، جامعات، تحقیقی مراکز اور عوامی روابط کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور چینی زبان کا فروغ دونوں ممالک کے تعلقات کے مستقبل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاک چین دوستی کا اصل مقصد عام شہری کی زندگی میں بہتری، خوشحالی اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 21 مئی کو پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر پنجاب اسمبلی کا ایک وفد چین کا دورہ کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی، اقتصادی اور ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے قونصل جنرل مسٹر سن یان نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کی ضامن ہے۔ سابق سفیر منصور احمد خان نے کہا کہ پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ مزید وسعت اختیار کر رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر معید یوسف نے تعلیمی و تحقیقی روابط کو مستقبل کی اہم ضرورت قرار دیا۔ پروفیسر لیو زونگ یی نے دونوں ممالک کے درمیان علمی، تحقیقی اور پالیسی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button