Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

آزاد کشمیر انتخابات: سیاسی معرکہ فیصلہ کن مرحلے میں، احتجاجی ماحول بھی انتخابی منظرنامے پر اثرانداز

(تجزیہ: نمائندہ خصوصی آصف اقبال )
آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات اپنے آخری اور انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے، سیاسی جماعتوں کے جلسے، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہم پورے خطے میں جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب حالیہ احتجاجی تحریک، دھرنوں اور امن و امان کی صورتحال نے انتخابی ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار کے انتخابات صرف آزاد کشمیر کی نئی حکومت کے انتخاب تک محدود نہیں بلکہ انہیں پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد سمیت ملک بھر کے سیاسی اور پارلیمانی حلقوں کی نظریں ان انتخابات پر مرکوز ہیں۔مسلم لیگ (ن) وفاقی حکومت کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے اقدامات کو اپنی انتخابی مہم کا مرکز بنائے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی تنظیمی طاقت اور دیرینہ سیاسی بنیادوں پر انتخابی میدان میں متحرک ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے موجودہ حالات کے تناظر میں انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث انتخابی منظرنامے میں ایک نئی سیاسی بحث نے جنم لیا ہے۔حالیہ ہفتوں میں آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریک، دھرنوں اور بعض علاقوں میں کشیدہ حالات نے بھی سیاسی ماحول کو متاثر کیا ہے۔ احتجاج کرنے والے مختلف مطالبات پیش کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاستی رٹ، امن و امان اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور ان کے لیے سکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔پارلیمانی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے اور تمام سیاسی قوتیں جمہوری روایات کے مطابق اپنی رائے کا اظہار کریں۔ سیاسی استحکام، شفاف انتخابی عمل اور پرامن ماحول نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کے مجموعی جمہوری نظام کے لیے بھی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔انتخابی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس مرتبہ ووٹرز کی توجہ محض سیاسی نعروں تک محدود نہیں بلکہ مہنگائی، روزگار، بجلی، تعلیم، صحت، سڑکوں، سیاحت، مقامی ترقیاتی منصوبوں اور گڈ گورننس جیسے مسائل بھی ووٹنگ کے رجحانات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کی روایتی سیاست میں برادری، مقامی شخصیات اور امیدواروں کی ذاتی ساکھ بھی کئی حلقوں میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہو سکتی ہے۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی تو آزاد امیدوار اور چھوٹی جماعتیں حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں انتخابی نتائج کے بعد اتحاد سازی، سیاسی مشاورت اور پارلیمانی مذاکرات کا ایک نیا مرحلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔آزاد کشمیر کے یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ ان کے نتائج نہ صرف آئندہ پانچ برس کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے بلکہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت، تنظیمی صلاحیت اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کے بارے میں بھی اہم اشارے فراہم کریں گے۔اب تمام نظریں پولنگ کے دن اور عوام کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔ اگر انتخابی عمل پرامن، شفاف اور آئینی تقاضوں کے مطابق مکمل ہوتا ہے تو یہ نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کے جمہوری نظام کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت تصور کی جائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button