ویانا کی گلیوں سے اٹھتی ایک شاہی رشتے کی خبر، اور بھٹو خاندان کی وہ تاریخ جو نکاح ناموں میں لکھی گئی !

پاکستان میں کچھ سوال ایسے ہیں جن کا نہ آئین سے تعلق ہے، نہ پارلیمان سے، نہ حکومت بنانے یا گرانے سے۔ پھر بھی عوام انہیں بجٹ اور انتخابی نتائج سے زیادہ توجہ سے سنتے ہیں۔ برسوں سے ایسا ہی ایک سوال بلاول بھٹو زرداری کا تعاقب کر رہا ہے کہ ’’بلاول، شادی کب کر رہے ہیں؟‘‘اس سوال پر کبھی وہ مسکرا دیئے، کبھی ٹال گئے، کبھی الٹا صحافی ہی سے پوچھ بیٹھے کہ شادی مجھے کرنی ہے یا آپ کو؟ مگر وقت عجیب منصف ہے یہ سوالوں کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا، صرف جواب کا انتظار کرتا رہتا ہے۔اب یہی سوال کراچی اور اسلام آباد سے نکل کر ویانا کی شاہی گزرگاہوں تک جا پہنچا ہے،بلاول 21 ستمبر 1988 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ یعنی چند ہفتوں بعد وہ 38 برس کے ہو جائیں گے وہ عمر جب ہمارے ہاں مائیں بیٹے کی سیاسی کامیابیوں سے زیادہ اس کے سر پر سہرا دیکھنے کی فکر کرنے لگتی ہیں۔اس بار کہانی کے کردار نئے ہیں۔ اُردو ذرائع ابلاغ کے مطابق مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ بلاول کی شادی طے پا چکی ہے اور لڑکی کا تعلق آسٹریا کے قریب ایک یورپی ملک سے ہے، جبکہ صدر آصف علی زرداری اسی عرصے میں یورپ کے نجی دورے پر ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صدر زرداری 27 سے 31 اگست تک آسٹریا میں ہیں، اور خاندان کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا پھر ایک اور دعویٰ آیا۔ صحافی علینہ شگری نے کہا کہ صدر زرداری بلاول کی شادی کی تاریخ طے کرنے کے سلسلے میں ویانا میں موجود ہیں اور ہونے والی اہلیہ پاکستانی نہیں بلکہ یورپی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا تعلق لیختن اشٹائن سے ہے یا کسی اور یورپی ملک سے، اور یہ دعویٰ فی الحال کسی مستند سرکاری بیان کی توثیق سے محروم ہے۔سوشل میڈیا نے اس خلا کو اپنے انداز میں پُر کیا۔ ایک بیانیہ ہونے والی دلہن کو لیختن اشٹائن کے حکمران خاندان House of Liechtenstein سے جوڑتا ہے۔ دوسرا اسے آسٹریا کے سابق شاہی خاندان Habsburg اور آخری آسٹرین شہنشاہ کارل اوّل کی نسل سے منسوب کرتا ہے۔ کہیں واڈوز کا ذکر ہے، کہیں ویانا کا۔ یعنی دلہن ایک ہے، یا ہر پوسٹ نے اپنی اپنی شہزادی تلاش کر لی ہے یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ اور پھر وہ جواب آ گیا جو صحافت کو دوبارہ میز پر لا بٹھاتا ہے۔ میئر کراچی اور چیئرمین پیپلز پارٹی کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی منگنی یا شادی سے متعلق خبریں غلط اور بے بنیاد ہیں۔ایک شرارتی سوال اور ایک لکیر یہ کہ شوشل میڈیا کی نظر ایک اور چیز پر پہلے ہی پڑ چکی تھی: بلاول بدل بھی تو گئے ہیں۔ گزشتہ عرصے میں ان کے وزن میں نمایاں کمی آئی ہے، اتنی کہ امریکہ واشنگٹن میرے ایک صحافی دوست نے خود ان سے فٹنس کا راز پوچھ لیا تھا۔ اب شرارتی ذہن دونوں باتوں کو جوڑ کر پوچھے گا کہ صاحب کافی عرصے سے سہرا باندھنے کی تیاری تو نہیں کر رہے تھے؟مگر یہیں صحافت کو مسکراہٹ کے بعد ایک لکیر کھینچنی پڑتی ہے۔ وزن کم کرنا حقیقت ہے؛ اسے شادی کی تیاری قرار دینے کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ خبر نہیں، محض ایک خوش مزاج قیاس ہے اور ایک اہم احتیاط: ان دنوں جو تصاویر گردش میں ہیں، ان میں موجود خاتون کی شناخت، شاہی نسب یا بلاول سے کسی ممکنہ رشتے کی تصدیق صرف ایک پوسٹ کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ اگر یہ تصاویر شائع ہوں تو ان پر ’’سوشل میڈیا پر زیرِ گردش تصویر‘‘ ہی لکھنا چاہیے، ’’بلاول کی ہونے والی اہلیہ‘‘ ہرگز نہیں۔ کسی نجی شخص کا چہرہ ہماری قیاس آرائی کا ایندھن نہیں بننا چاہیے یہ نہیں کہ بلاول شادی کر رہے ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک آدمی کا نکاح قوم کا موضوعِ بحث کیوں بن جاتا ہے؟اس کا جواب بھٹو خاندان کی اپنی تاریخ میں موجود ہے جب 1987 میں دولہا دلہن سے بڑا سوال بن گیا تھا دسمبر 1987 کو کراچی میں بے نظیر بھٹو کی آصف علی زرداری سے شادی ہوئی ایک طے شدہ شادی، جو آکسفورڈ اور ہارورڈ کی تعلیم یافتہ بے نظیر کے لیے بہت سوں کے نزدیک حیران کن تھی۔ ان کے مطابق آصف زرداری سے ان کا تعارف رشتہ قبول کرنے سے صرف پانچ دن پہلے ہوا تھا۔ جولائی 1987 میں لندن میں منگنی کے بعد پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بے نظیر نے کہا کہ وہ اپنی مذہبی ذمہ داریوں اور خاندان کے ساتھ فرض کے احساس کے تحت اس رشتے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ اس وقت کئی کالم نگاروں نے قیاس کیا کہ شاید بے نظیر شادی کے بعد سیاست ہی چھوڑ دیں گی۔ان دنوں لیاری کے ککری گراؤنڈ میں ہونے والا عوامی استقبالیہ ایک غیرمعمولی منظر تھا سینکڑوں مہمان اور تماشائی راستوں پر اُمڈ آئے تھے۔ ایک روز پہلے سینکڑوں خواتین ان کے گھر کے قریب گلیوں میں رقص کر رہی تھیں۔ لیکن یہ پوری تصویر نہیں تھی میں اس دوران بھی صحافی تھا اس دوران جیالوں کا ردِعمل ملا جلا تھا۔ کئی حلقوں میں مایوسی تھی، اور بعض کارکنوں نے احتجاجاً پارٹی جھنڈے تک اتار دیئے تھے ۔ میری نظر میں یہ وجہ سیاسی نہیں، نفسیاتی تھی ایسے جیالوں نے شہید محترمہ بے نظیر کو ایک انسان نہیں، بلکہ ایک روحانی علامت بنا رکھا تھا قربانی، جلاوطنی اور یتیمی کا استعارہ۔ انکو اب بھی پارٹی کے بہت سے لوگ رانی اور شہزادی سے تشبہیہ دیتے ہیں اور ایسی علامتوں کی شادیاں نہیں ہوتیں جب انہوں نے ایک عام انسان کی طرح گھر بسانے کا فیصلہ کیا تو کچھ لوگوں کو یوں لگا جیسے کوئی مندر خالی ہو گیا ہو۔ اور یہ ناراضی وقت کے ساتھ آصف علی زرداری کی طرف منتقل ہوتی گئی۔ ’’مسٹر ٹین پرسنٹ‘‘ کا لقب، کمیشن اور کک بیکس کے الزامات، اور یہ عام تاثر کہ ان کی شادی بے نظیر کے زوال میں بڑا کردار ادا کرے گی۔ 1990 میں پہلی حکومت برطرف ہونے پر گرفتاری، 1993 میں رہائی، پھر 1996 میں دوسری بار قید۔ 1987 سے 2007 تک، شادی کے بیس برسوں میں یہ جوڑا مشکل سے سات سال ساتھ گزار سکا۔محترمہ بے نظیر نے خود اس فیصلے کی وضاحت کبھی نہیں چھوڑی۔ 1994 میں انہوں نے نیویارک ٹائمز سے کہا کہ ایک مسلم جماعت کی قیادت کرتے ہوئے وہ محبت کی شادی کرنے کی آزادی نہیں رکھتی تھیں، ایسا کرنا ان کے سیاسی کیریئر کو تباہ کر دیتا انکا یہ جملہ اس پورے کالم کا مرکزی نکتہ ہے۔ پاکستان میں سیاست دان کی ذاتی زندگی اس کی اپنی ملکیت نہیں رہتی اور اس سے پہلے وہ باب جو کبھی درج نہ ہوا بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی میں بھی یہی تضاد موجود تھا ان کی پہلی شادی 1943 میں اپنی کزن شیریں امیر بیگم سے ہوئی، جو ان سے دس برس بڑی تھیں اور جن سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ دوسری شادی بیگم نصرت بھٹو سے، جو پاکستان کی خاتونِ اوّل بنیں اور جن کی کوکھ سے بے نظیر پیدا ہوئیں میر مرتضی اور شاہنواز نے جنم لیا، مگر ایک تیسرا نام بھی ہے، جو تاریخ کے حاشیے پر لکھا ہے: حسنہ شیخ۔1961 میں ڈھاکہ میں جب چونتیس سالہ بھٹو ایوب خان کے نوجوان وزیرِ خارجہ تھے، ان کی ملاقات حسنہ شیخ سے ہوئی جو اس وقت بنگالی وکیل عبدالاحد کی اہلیہ اور دو ننھی بچیوں کی ماں تھیں۔ امریکی مؤرخ اسٹینلے وولپرٹ کو دیئے گئے بیان کے مطابق یہ تعلق پندرہ برس تک قائم رہا۔ دسمبر 1971 میں بھٹو کے اقتدار میں آنے سے لے کر 1977 کے فوجی انقلاب تک جب وہ لندن چلی گئیں حسنہ شیخ حکومت کے اندر ایک غیر رسمی ’’کچن کیبنٹ‘‘ چلاتی رہیں۔ پیپلز پارٹی کے سلمان تاثیر نے انہیں ’’پاکستان کی میڈم دی پومپادور‘‘ قرار دیا تھا۔حسنہ شیخ کا دعویٰ تھا کہ وہ بالآخر بھٹو سے نکاح کر کے ان کی تیسری بیوی بن گئی تھیں۔ اور یہ نکاح بھٹو کے دست راست مولانا کوثر نیازی نے پڑھایا تھا تاہم اس کا کوئی ثبوت کبھی سامنے نہ آ سکا نہ اُس وقت جب فوج نے بھٹو کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ خاندان نے اس رشتے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ تاہم ایک بار مولانا کوثر نیازی نے شاید اسکا اقرار بھی کیا تھا، رپورٹس کے مطابق حسنہ شیخ آج بھی لندن میں مقیم ہیں اور عمر کے آٹھویں عشرے میں ہیں لیکن ریکارڈ پر انکی یہی دو شادیاں ہیں، اور روایت میں تین کی سرگوشی۔ ایک ایسا نام جسے تاریخ نے سنا مگر کاغذ نے نہیں لکھا۔نصف صدی بعد آج ہم پھر ایک بھٹو کے نکاح پر قیاس کر رہے ہیں۔ کچھ نہیں بدلا، سوائے اس کے کہ اُس زمانے کی سرگوشیاں محفلوں میں ہوتی تھیں، آج ٹرینڈ بن جاتی ہیں اور یہ صرف بھٹوؤں کا مسئلہ نہیں بھٹو خاندان کے ناقدین اسے موروثی سیاست کی خصوصیت کہہ سکتے ہیں۔ مگر عمران خان کی مثال اس دلیل کو کاٹ دیتی ہے۔خان صاحب کی تینوں شادیاں سیاسی مواد بنیں۔ جمائما گولڈ اسمتھ کے ساتھ رشتے کو ان کے مخالفین نے برسوں تک ’’یہودی لابی‘‘ کے طعنے میں ڈھالا۔ ریحام خان سے علیحدگی ایک کتاب اور مہینوں کے ٹاک شوز میں بدل گئی۔ اور تیسری شادی؟ وہ تو باقاعدہ عدالت میں پہنچ گئی۔ فروری 2024 کو ایک عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا سنائی جرم یہ کہ ان کی 2018 کی شادی عدت کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہوئی۔ 13 جولائی 2024 کو اسی عدالت نے دونوں کو بری کر دیا۔ذرا رک کر سوچیے۔ ایک سابق وزیرِ اعظم کو ان کے نکاح کی تاریخ پر قید کی سزا سنائی گئی، اور پھر بری کر دیا گیا۔ پانچ ماہ کے اندر۔ یہ فیصلہ عدت کا نہیں تھا یہ فیصلہ سیاست کا تھا، جس پر شریعت کی مہر لگائی گئی بھٹو کی حسنہ شیخ، بے نظیر کا 1987 کا نکاح، عمران خان کی عدت تینوں کہانیوں میں ایک ہی چیز مشترک ہے۔ جب ہم کسی سیاست دان کی نجی زندگی کو ہتھیار بناتے ہیں تو ہم دراصل سیاست کو نہیں، خود کو گرا رہے ہوتے ہیں۔ سو، فی الحال سامنے دو تصویریں ہیں ایک تصویر سوشل میڈیا کی: ویانا کی گلیاں، یورپ کا شاہی خاندان، ایک صدر کا نجی سفر، اور پاکستان کے سب سے معروف سیاسی گھرانے کے اکلوتے بیٹے کے سر پر سجنے والا سہرا۔ دوسری تصویر سرکاری مؤقف کی: خبر غلط ہے، بے بنیاد ہے۔ ان دونوں کے درمیان کہیں حقیقت کھڑی ہے شاید مسکراتی ہوئی، شاید مناسب وقت کا انتظار کرتی ہوئی۔ممکن ہے یہ کہانی چند دن بعد سوشل میڈیا کی گرد میں گم ہو جائے، جیسے پہلے کئی گم ہوئیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی صبح پیپلز پارٹی کے کسی باضابطہ اکاؤنٹ سے ایک تصویر نمودار ہو، ساتھ چند الفاظ لکھے ہوں، اور برسوں سے پوچھے جانے والے سوال کا جواب مل جائے۔تب تک نہ شہنائی بجی ہے، نہ نکاح نامے پر دستخط ہوئے ہیں۔ صرف سرگوشیاں ہیں۔ اور سرگوشیوں کا مسئلہ یہی ہے کبھی وہ ہوا کے ساتھ بکھر جاتی ہیں، اور کبھی وہی سرگوشیاں آنے والے کل کی سرخی بن جاتی ہیں۔



