Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

پیٹرو ڈالر، آبنائے ہرمز اور بدلتی ہوئی دنیا

دنیا کی بڑی جنگیں صرف توپ، میزائل اور میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں۔ اصل معرکہ اکثر وہاں برپا ہوتا ہے جہاں توانائی، تجارت، کرنسی، سفارت کاری اور عالمی طاقت ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ صورتحال نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا مشرقِ وسطیٰ کا بحران محض ایک علاقائی تنازع ہے، یا اس کے پردے میں عالمی اقتصادی اور مالیاتی نظام بھی ایک نئی کروٹ لے رہا ہے؟اس پوری صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت سب سے نمایاں ہے۔ یہ صرف سمندر کی ایک تنگ گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ خلیج سے دنیا کے مختلف حصوں تک توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے وابستہ ہے۔ اگر یہاں طویل رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمت تک محدود نہیں رہیں گے؛ بحری کرایے، انشورنس، سپلائی چین، صنعتی پیداوار اور دنیا بھر میں مہنگائی سب متاثر ہو سکتے ہیں۔چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی بڑی ایشیائی معیشتیں خلیجی توانائی پر نمایاں انحصار رکھتی ہیں۔ یوں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کی سرحدوں سے نکل کر عالمی معیشت کے دروازے تک پہنچ جاتی ہے۔یہیں سے پیٹرو ڈالر کی بحث بھی شروع ہوتی ہے۔1970 کی دہائی میں تیل، ڈالر اور امریکی مالیاتی نظام کے درمیان تعلق مضبوط ہوا اور وقت کے ساتھ ڈالر کی عالمی مرکزیت مزید مستحکم ہوتی گئی۔ تاہم یہ تصور درست نہیں کہ کسی ایک سادہ معاہدے نے دنیا بھر کے تیل کو ہمیشہ کے لیے ڈالر کا پابند کر دیا تھا۔ حقیقت میں امریکی مالیاتی منڈیوں کی طاقت، عالمی بینکاری، خلیجی سرمایہ کاری، توانائی کی تجارت اور امریکی معیشت پر عالمی اعتماد نے مل کر وہ نظام تشکیل دیا جس میں ڈالر کو غیر معمولی عالمی حیثیت حاصل ہوئی۔لیکن دنیا اب پہلے جیسی نہیں رہی چین اور دیگر ممالک مقامی کرنسیوں میں تجارت کے امکانات بڑھا رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اپنے معاشی و سرمایہ کاری کے روابط کو متنوع بنا رہے ہیں اور کئی ریاستیں ڈالر پر مکمل انحصار کم کرنے کے راستے تلاش کر رہی ہیں۔ تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پیٹرو ڈالر ختم ہو چکا ہے یا ڈالر کی عالمی بالادستی اچانک ختم ہونے والی ہے۔ امریکی ٹریژری مارکیٹ کی گہرائی، عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کا مرکزی کردار اور امریکی مالیاتی منڈیوں کی وسعت آج بھی اسے دنیا کی غالب ریزرو کرنسی بنائے ہوئے ہے۔اصل تبدیلی شاید یہ ہے کہ دنیا یک قطبی مالیاتی نظام سے بتدریج کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ایران کے لیے آبنائے ہرمز جغرافیائی طاقت کا ایک اہم ذریعہ ہے، جبکہ امریکہ کے پاس مالیاتی پابندیاں، عالمی بینکاری اور ڈالر کے نظام کے ذریعے دباؤ ڈالنے کے ذرائع موجود ہیں۔ یوں موجودہ کشیدگی میں ایک طرف جغرافیہ طاقت بن جاتا ہے اور دوسری طرف مالیاتی نظام ایک اسٹریٹجک ہتھیار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔مگر اس پورے منظرنامے میں ایک اور ملک خاموشی سے اہم ہوتا جا رہا ہے، اور وہ ہے پاکستان۔پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے محض تماشائی بننے کی اجازت نہیں دیتی۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، خلیجی ممالک ہمارے دیرینہ دوست اور شراکت دار ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تاریخی سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ کسی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے امن اور مذاکرات کی قوت بنے۔یہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور سفارتی سوچ کی اہمیت سامنے آتی ہے۔موجودہ علاقائی بحران میں اعلیٰ سطحی پاکستانی رابطوں نے یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان محض حالات کا منتظر نہیں بلکہ اپنی سفارتی گنجائش کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ براہِ راست رابطہ، خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کے سفارتی روابط اسلام آباد کو ایک منفرد پوزیشن فراہم کرتے ہیں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت کو صرف عسکری تناظر میں دیکھنا اس وقت کی پاکستانی حکمتِ عملی کو محدود کر کے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔ موجودہ حالات میں ان کی قیادت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی، علاقائی استحکام اور قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے سفارتی راستوں کو کھلا رکھے۔ایران کے دورے اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کو اسی بڑے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر پاکستانی قیادت تہران، خلیجی دارالحکومتوں اور دیگر عالمی مراکز کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آ سکتا ہے جو بحران میں آگ نہیں بڑھاتا بلکہ راستہ تلاش کرتا ہے۔یہ معمولی کامیابی نہیں ہوگی۔دنیا میں طاقتور وہی ملک نہیں ہوتا جس کے پاس بڑے ہتھیار ہوں؛ بعض اوقات طاقتور وہ ملک ہوتا ہے جس کی بات جنگ کے وقت دونوں فریق سننے پر آمادہ ہوں۔اگر اسلام آباد ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کردار ادا کرتا ہے تو اس کا فائدہ صرف پاکستان کو نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کو ہوگا۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت ایک بڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔قومیں صرف جنگیں جیت کر تاریخ نہیں بناتیں؛ بعض اوقات جنگ کو روکنے کی کوشش بھی تاریخ کا رخ بدل دیتی ہے۔پاکستان کو آج کسی ایک فریق کی جنگ لڑنے کے بجائے امن کا فریق بننے کی ضرورت ہے۔ ہماری معیشت پہلے ہی بیرونی جھٹکوں سے متاثر ہوتی ہے، ہماری توانائی کی ضروریات بڑی ہیں اور خطے میں کسی طویل جنگ کے اثرات ہم سے دور نہیں رہ سکتے۔ اس لیے پاکستان کا قومی مفاد یہی ہے کہ جنگ کے بجائے مذاکرات، محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری اور تصادم کے بجائے علاقائی استحکام کو ترجیح دی جائے۔اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان اپنی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتا ہے اور ایران، امریکہ، خلیجی ممالک سمیت دیگر متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کی میز تک لانے میں کوئی مؤثر کردار ادا کرتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی ہوگی۔تب دنیا شاید پاکستان کو صرف ایک دفاعی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار علاقائی طاقت اور امن کے ممکنہ پل کے طور پر دیکھے گی۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک ایسے کثیر قطبی مالیاتی اور سیاسی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ایک ہی طاقت، ایک ہی کرنسی اور ایک ہی مرکز عالمی فیصلوں پر مکمل حاوی نہ ہو؟آبنائے ہرمز کا بحران اسی بڑی تبدیلی کی ایک علامت ہے۔یہ پانی کی ایک تنگ گزرگاہ ضرور ہے، مگر اس کے دونوں کناروں پر دنیا کی توانائی، تجارت، معیشت اور جغرافیائی سیاست کھڑی ہے۔اور اگر پاکستان اس نازک لمحے میں جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی یہ کوشش صرف ایک سفارتی قدم نہیں ہوگی؛ یہ پاکستان کے اس نئے کردار کا آغاز ہو سکتی ہے جس میں اسلام آباد دوسروں کی جنگ کا میدان بننے کے بجائے دوسروں کے درمیان امن کا راستہ بناتا ہے۔آخرکار اصل طاقت جنگ شروع کرنے میں نہیں، جنگ روکنے میں ہوتی ہے۔اور تاریخ شاید آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ کرے کہ آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران پاکستان نے صرف اپنے مفادات کا دفاع کیا تھا، یا امن کے لیے ایک ایسا کردار ادا کیا تھا جسے دنیا نے بھی تسلیم کیا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button