نئے صوبے !

ہم جب بھی گھر میں کوئی نئی چیز لاتے ہیں تو بار بار سوچتے ہیں ،کہ کہاں رکھی جائے گی،کیسی لگے گی visualize کرتے ہیں کچھ احتیاطی تدابیر بھی کی جاتی ہیں،کچھ اور چیزوں کی لوکیشن بھی بدلی جاتی ہے،جو چیز لائی جاتی ہے اسکی specificationsبھی دیکھی جاتی ہیں اس کی warrantiesبھی ،کبھی کبھی ہم وہی چیز لے آتے ہیں جودوسروں کے زیرِ استعمال ہوتی ہے آزمودہ ہوتی ہے یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی چیز خریدنے سے پہلے ہم لوگوں سے مشورہ بھی کر لیتے ہیں ،یہ سب کچھ کر لینے کے بعد بھی کچھ عرصے کے بعد ہم اس چیز کو بدلنے کا ارادہ کر لیتے ہیں محض اس لئےکہ وہ چیز یا تو قابلِ استعمال نہیں رہی یا اس کی ضرورت نہیں رہی یا پھر وہ وہ چیز out dated ہو گئی فیشن میں نہیں رہی، اس سارے عمل میں ہماری نیت کا بہت عمل دخل ہوتا ہے ،کتنی عجیب بات ہے کہ گھر میں فرنیچر کا ایک پیس لانے میں اتنا تردد مگر ملک کے معاملات میں اتنا بھی سوچ و بچار نہیں ،کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں؟ایسا اس لئے کہ پاکستان بنانے میں پاکستان میں شامل علاقوں کا کوئی کردار نہیں تھا ہوا یہی کہ رات کو سوئے صبح جاگے تو آزاد تھے، 1946تک پنجاب فیصلہ نہ کر پایا کہ اسے پاکستان میں شامل ہونا ہے یا بھارتی پنجاب کا ہی حصہ رہنا ہے پھر کسی نے کہا کہ پاکستان میں شامل ہوئے تو حکومت بھی مل سکتی ہے بھارت میں کیا ملے گا چند سیٹیں،پنجابی زمیندار کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور پنجاب پاکستان میں شامل ہو گیا، سندھ کے پاس سندھ اسمبلی کی ایک قرارداد کے سوا کیا تھا، بلوچستان اور قلات کی الگ کہانی ہے بہت متنازعہ، اور یہ تنازع ابھی تک حل نہ ہو سکا ،رہی بات پختون خواہ کی تو اس کے لئے ریفرنڈم کرانا پڑا،ذرا غور کریں کہ پاکستان کے پانچ صوبے اور ان میں سے چار صوبے اپنی اپنی شناخت لئے کھڑے ہیں ،ان میں سب سے زیادہ نمایاں پنجابی CHAUVINISMرہا ہے میں بہت پہلے لکھ چکا ہوں کہ ممتاز دولتانہ نے اس کی بنیاد رکھی اور تاریخ میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ دولتانہ پاکستان کے وزیراعظم کو بھی خاطر میں نہ لاتے تھے،بیوروکریسی علی گڑھ کے طالب علموں سے بھری ہوئی تھی، انہی میں ایک انڈر سکریٹری انور قدوائی تھے بہت مہین اور کملہائے ہوئے سے ،مرنجان مرنج،مگر دماغ کے بہت تیز، دولتانہ سے ڈرتے بھی تھے ان کی جی حضوری بھی کرتے تھے پچھلی صدی کے وسط میںجب نو آبادیاتی نظام ٹوٹ چکا تھا تو بہت سی کتابیں منظر عام پر آئیں ان میں سے ایک کتاب تھی KEYS TO RULE،یہ کتاب ERWIN JOHN کی لکھی ہوئی تھی تقریباًدو سو صفحات پر مشتمل،اس کتاب میں لکھا گیا تھا کہ جو ممالک نو آبادیاتی نظام سے آزاد ہوئے ہیں ان میں آزادی کی تحاریک چلتی رہیں جن کا دورانیہ دہائیوں پر مشتمل تھا ایک نسل بوڑھی ہو رہی ہے تو دوسری جوانی میں قدم رکھ رہی ہے ان کے سینے جذبوں سے بھرے ہوئے ہیں کل تک جو آزادی کے نعرے لگاتے تھے وہ آج اپنے مستقبل کی بات کرینگے،اپنے حقوق کی بات کرینگے اور یہ سارے ممالک اندرونی خلفشار کا شکار ہونگے اور اس اندرونی خلفشار پر قابو پانا بہت مشکل ہوگا،لہٰذا ان پر صرف پولیس اور فوج سے قابو پایا جا سکتا ہے،دولتانہ نے اس کتاب کو پالیسی بنا لیا،بڑی ہوشیاری سے پولیس میں بھرتیاں کی گئیں اور یہ پولیس سارے پاکستان میں پھیل گئی،فوج تو تھی ہی پنجاب کی،پھر وہ کھیل کھیلا گیا جو تاریخ کا حصہ ہے مشرقی پاکستان، اور بلوچستان کو نہ صرف پنجاب پولیس سے شکایات رہیں بلکہ فوج سے بھی شکایات رہیں،عمران کے سوشل میڈیا نے اس وقت بھی ذہنوں میں فوج کے خلاف زہر بھر دیا ہے،چنددن پہلے ہی پختون خواہ میں طلباء نے ایک کرنل کو گھیر لیا اور اس کو پستول نکال کر مجمع کو تتر بتر کرنا پڑا، ورنہ ہجوم فوجی کو مار دیتا، وہ نفرت جو مشرقی پاکستان اور بلوچستان میں تھی اب پختون خواہ اور بلوچستان میں ہے گویا دولتانہ سنڈروم اب ایک وائرس بن چکا ہے ،دولتانہ کی پنجاب سے محبت بے مثال مگر پاکستان سے محبت پر بہت سے سوال ہیں۔ دولتانہ کا یہ وائرس سندھی، بلوچی اور پشتون قوم پرستی بن چکا ہے،اور اس کو بیرونی امداد حاصل ہے،پاکستان بننے سے پہلے بھی یہ چار صوبے تھے یعنی پنجاب سندھ سرحد اور بلوچستان اور اب اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ چار ملک بن چکے ہیں جووفاق کو کمزور کر دینا چاہتے ہیں یا کمزور کر رہے ہیں،افتخار چودھری نے عدلیہ پر آنچ آتی دیکھی تو انیسویں ترمیم بازو مروڑ کر کرالی،فوج کچھ نہ کر سکی، زرداری اپنے کارڈ کھیل گیا ،اب فوج کو احساس ہو رہا ہے کہ یہ سب غلط ہے، مگر سرمایہ دار،وڈیرے اور تاجر کسی صورت اس صورت حال کو بدلنے کےلئے تیار نہیں،محسن نقوی نے کہہ تو دیا کہ نظام ڈھ چکا ہے مگر پی پی پی اور نواز لیگ کسی طور ماننے کے لئے تیار نہیں کہ نظام کو دیمک لگ چکی ہے،پی پی پی کے رہنما کہہ رہے ہیں کہ صوبے بنانے ہیں تو پنجاب میں بناؤ کیونکہ پنجاب کی اسمبلی نے تو نئے صوبے بنانے کی قرار داد منظور کر رکھی ہے ہم نے تو کوئی قرار داد منظور نہیں کی اور نہ کرینگے،پنجاب کے لیڈر کہتے ہیں کہ پنجاب کا نظام سندھ سے بہتر چل رہا ہے ساری بربادی تو سندھ میں ہے جہاں سڑکیں تک ٹوٹی ہوئی ہیں اس لئے سندھ میں صوبے بننے چاہیئے، میڈیا بھی چیخ اٹھا ہر چینل پر ایک ہی سوال کہ یہ منصوبہ کہاں سے آیا ہے محسن نقوی کس کی زبان بول رہے ہیںیعنی بہ الفاظ دیگر یہ کہا جا رہا ہے کہ محسن نقویestablishmentکے آدمی ہیں تو فوج کی ہی زبان بول رہے ہیں ،بہت تنقید کے بعد محسن نقوی نے یہی کہا کہ نظام بوسیدہ ہو چکا ہے وہ اپنے بیان پر قائم ہیں مگر یہی نظام چلے گا گویا محسن نقوی کہہ رہے ہیں کہ وڈیروں اور سرمایہ داروں اور جاگیرداروںکی مرضی یہی ہے کہ یہی نظام چلتا رہے کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ فوج یا establishmentوڈیروں،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں سے خوف زدہ ہے،یا خوف یہ ہے کہ پختون خواہ اور بلوچستان میں حالات پہلے ہی اتنے خراب ہیں سندھ اور پنجاب میں حالات خراب نہیں ہونے چاہیئے،جیسا چل رہا ہے ویسا چلنے دو!!!!
ملک کے گیارہ بڑے چینلز پر نئے صوبوں کے قیام پر پروگرام ہوئے بقول حسن نثار وہی چہرے وہی زبان وہی ذہنی سطح، تو نئی بات کہاں سے آئے،سو ان گیارہ چینلز پر گفتگو کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا،اے آر وائی ملک کا ایک بڑا چینل ہےاس چینل پر معروف صحافی ڈاکٹر مالک نے دو دن دو دو گھنٹے کا پروگرام کیا گویا یہ پروگرام مجموعی طور پر چار گھنٹے دورانیہ کاتھا ،معروف سیاست دان ،صحافی، فافن کے چئیر مین ،اس گفتگو میں شرک تھے مگر اس کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکل سکا،وہی بھانت بھانت کی باتیں ،کہا جا رہا ہے کہ جب تک اس مسئلے پر consensus نہیں ہوگا تب تک اس مسئلے کاحل نہیں نکل سکتا، اور ہمارے خیال میں consensus ہوگا ہی نہیں،جب consensus نہیں ہوگا تو مسئلہ کیسے حل ہوگا ،نظام ایسے ہی چلتا رہے گا وہ نظام جو deliverہی نہیں کر رہا، وڈیرے سرمایہ دار اور جاگیر دار تو یہی کہتے ہیں کہ نظام ڈیلیور کرے نہ کرے ،نظام یہی چلتا رہے گا ،کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایلیٹ کلاس نے ملک ہائی جیک کر لیا ہے ایلیٹ جس میں وڈیرے، زمیندار، تاجر، سرمایہ دار اور جاگیر دار شامل ہیں اور انہی میں مافیاز چھپی بیٹھی ہیں وہ کیوں چاہیں گے کہ نظام بدلے اور ان کا کاروبار ٹھپ ہو جائے ،مظہر عباس جیسے seasonedصحافی نئے صوبوں کے مخالف دکھائی دئے مظہر عباس کہتے ہیں کہ بس بلدیاتی انتخابات کرا دئے جائیں یہ کافی ہیں ،اور ہمیں معلوم ہے کہ بلدیاتی ادارے صوبائی حکومتوں کے زیر اثر رہینگے تو ایسے انتخابات کا کیا فائدہ ،اس کا مطلب ہے کہ بلدیاتی انتخابات محض ایک eye wash ہوگا اور اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکیں گے،یا یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ عوام تک ملکی ترقی کے ثمرات نہیں پہنچانے،وہ جو بلدیاتی اداروں کو مسائل کا حل سمجھتے ہیں ان کو علم ہے کہ نظام وڈیروں ،سرمایہ داروں، جاگیرداروں،تاجروں اور مافیاز کے ہاتھ میں ہی رہے گا ،کچھ ٹاک شوز میں یہ بات کہی گئی کہ نئے انتظامی یونٹ بننے ہوں یا نئے صوبے تو ان کے ذریعے devolution of power ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں کچھ نئے چہرے سامنے آ سکتے ہیں نئی قیادت سامنے آ سکتی ہے، اور دو بڑے خاندانوں کو اسی بات کا ڈر ہے کہ بادشاہت میں گہن لگ جائے گا ،میرے نزدیک دو خاندانوں کی بقا کی خاطر چوبیس کروڑ کے مستقبل کو داؤ پر لگانا اور ملک کی آبادی کے ساٹھ فی صد نوجوانوں کو مایوسی میں دھکیلنا کسی صورت قابلِ فہم نہیں،اور اگر دو خاندانوں کو تحفظ دینے کے لئے عوام کو نظر انداز کیا تو پھر ایسے حادثے ہوتے رہیں گے جو چند دن پہلے پختون خواہ کی ایک یونیورسٹی میں پیش آچکا ہے،سن رہے ہیں کہ نئے صوبوں کے لئے آئین میں ترمیم کرنی ہوگی ،بھائی لوگ کیا دور کی کوڑی لے کر آئے ہیں ،جب عمرانی عدلیہ سے جان چھڑانی ہو تو چھبیسویں اور ستائیسویں ترامیم آ جاتی ہیں جن عوامی فلاح کی بات آئی تو ترمیم کرتے ہوئے موت پڑ رہی ہے عوامی فلاح کے لئے اگر پورا آئین بدلنا پڑے توبدل دیجیے ویسے بھی یہ سوشل کانٹریکٹ عوام کو کچھ بھی دینے کے قابل نہیں رہا،آگ لگائیے ایسے آئین کو جو صرف ایلیٹ کلاس کو تحفظ دیتا ہو ،مجھے نہیں معلوم پچھلی بار کب پارلیمنٹ نے عوامی فلاح کا کوئی بل پاس کیا تھا پارلیمنٹ ایلیٹ کلاس کی رکھیل بن چکی ہے،اور الیکشن دنیا کو خاموش رکھنے کا ایک ذریعہ،دنیا کے سارے انڈکس بتا رہے کہ پاکستان ہر لحاظ سے تنزلی کی پست سطح پر ہے ،مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا ایلیٹ کلاس سے چھٹکارا حاصل کیجیے اور پاکستان عوام کو واپس کریں ۔



