مکہ معاہدے کے محرکات!

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان 7اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں ایک ’’مکہ معاہدہ ‘‘ہوا جسے ڈیفنس ایگریمنٹ بھی کہتے ہیںپر دستخط ہوئے ۔اس کے تحت ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ملکوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کو تینوں ممالک نے دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے جبکہ اس میں مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی منتقلی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ نظام جیسے شعبوں میں تعاون کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فرقہ واریت اور عدم برداشت کا خاتمہ ،مختلف مسالک اور مکاتبِ فکر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلاف اور کشیدگی کو کم کر کے باہمی احترام اور رواداری کو فروغ دینا اور دنیا بھر میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور دیگر مذاہب و ثقافتوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانا اورعالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پھیلی ہوئی غلط فہمیوں اور منفی تاثر کو حکمت اور دلائل کے ساتھ زائل کرنا بھی ہے۔چند تجزیوں کے مطابق مکہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں تنازعہ اور امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا ردعمل ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مکہ مکرمہ میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ متحد ہو رہا ہے اور یہ بھی کہ کیسے آخرکار ممالک معنی خیز انداز میں اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ٹروتھ سوشل میڈیاپر صدر ٹرمپ نے مختصر تحریر میں لکھا کہ ’یہ بڑا، دلیرانہ اور اہم پہلا قدم ہے۔انھوں نے تینوں ملکوں کی قیادت کو مبارک باد بھی دی۔اس کے جواب میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی مل کر ،اپنے اور پورے خطے کے دفاع کو یقینی بنانے میں تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے، مزید لکھا کہ میں ایک بار پھر صدر ٹرمپ کی جرأت مندانہ اور فیصلہ کن قیادت کو سراہنا چاہوں گا جس نے جنوبی ایشیا میں ایک جوہری تباہی کو ٹالنے اور لاکھوں جانیں بچانے میں مدد دی اور یہ بھی کہ عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے پائیدار امن ہی سب سے پہلی بنیادی شرط ہے۔
ڈینیئل مارکی امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر سے وابستہ ہیں اور وہ جنوبی ایشیائی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ بین الاقوامی سلامتی کے معاملے میں ’’بوجھ کو تقسیم کرنے‘ ‘میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مکہ معاہدہ اس سے مطابقت رکھتا ہے۔ان کے مطابق صدر ٹرمپ ،علاقائی طاقتوں کو اپنے اپنے خطوں میں استحکام برقرار رکھنے میں زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں، بجائے اس کے یہ توقع کی جائے کہ امریکہ مستقل فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔ بروکنگز انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ایشلی اید نتش بھی اسی رائے سے متفق ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ واشنگٹن اس بات کا خواہاں ہے کہ اتحادی ممالک علاقائی معاملات کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی صلاحیت پیدا کریں تاکہ امریکہ پر سکیورٹی کا بوجھ کم ہو سکے، خواہ وہ یورپ ہو، مشرقِ وسطیٰ ہو یا دیگر خطے۔ اس سے قبل اٹلانٹک کونسل سے وابستہ جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین ہندوستان ٹائمز کے لیے اپنے کالم میں اسی بارے میں لکھ چکے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی مفادات کی روشنی میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے بوجھ تقسیم کرنا چاہتی ہے جو کہ اس اتحاد سے ممکن ہوتا ہے۔
مکہ معاہدے کے تحت تینوں شریک ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ایسے میں یہ معاہدہ مختلف تجزیوں اور قیاس آرائیوں کی زد میں ہے اور اسے ’سنی اتحاد‘، ’مسلم نیٹو‘ جیسے نام بھی دیئے جا رہے ہیں۔ چند تجزیہ کاروں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یہ اتحاد اسرائیل اور ایران کے خلاف ہے۔تاہم ترکی کے صدر رجب طیب اُردوگان نے حال ہی میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ ایسے تمام ممالک اس میں شامل ہو سکتے ہیں جو خطے میں استحکام، امن اور ترقی کے خواہاں ہیں،حالیہ انٹرویو میں صدر اُردوگان نے کہا ہے کہ مصر اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ تاہم ناقدین یہ بھی کہاہے کہ تینوں ممالک کے قومی مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ چند ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاہدے کا تحریری متن سامنے نہ آنے کی وجہ سے سوالوں اور چہ مگوئیوں نے جنم لیا ۔
اس اتحاد کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ تینوں ممالک ایک دوسرے کی مختلف طاقتوں کو مکمل کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت، بڑی عسکری قوت اور جنگی تجربہ ہے، ترکیہ کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز، الیکٹرانک وارفیئر اور مضبوط دفاعی صنعت ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس وسیع مالی وسائل، توانائی کی دولت اور خلیج میں غیر معمولی سیاسی و معاشی اثرورسوخ ہے۔ گذشتہ ہفتے ترک وزارتِ دفاع نے بھی کہا تھا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب اس معاہدے کے تحت سیاسی اور فوجی نظام تشکیل دیں گے۔ وزارتِ دفاع نے مزید کہا تھا کہ یہ اتحاد دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کو بھی مزیدمضبوط کرے گا۔پاکستان کے لیے سب سے بڑا فائدہ اس کا خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتا ہوا تزویراتی کردار ہے۔ یوں بھی جوہری طاقت ہونے کی وجہ سے پاکستان کی دفاعی حیثیت بھی منفرد ہے۔
مکہ معاہدے کا سب سے بڑا ممکنہ فائدہ کسی ایک ملک کے بجائے تینوں کے باہمی امتزاج میں ہے۔ پاکستان کو خلیج میں تزویراتی اہمیت اور اقتصادی مواقع، ترکیہ کو دفاعی ٹیکنالوجی اور صنعتی منڈی، جبکہ سعودی عرب کو دفاعی تحفظ اور جدید عسکری شراکت داری مل سکتی ہے۔ اگر تینوں ممالک سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ تحقیق، دفاعی پیداوار، تربیت، تجارت اور سرمایہ کاری کو عملی شکل دیتے ہیں تو یہ معاہدہ خطے کے طاقت کے توازن پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا اصل امتحان اعلانات نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں مشترکہ منصوبوں اور عملی دفاعی تعاون کا معیار ہوگا۔ ترکیہ اس اتحاد میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا اہم ستون بن سکتا ہے۔ ترک دفاعی صنعت ڈرونز، بغیر پائلٹ نظام، الیکٹرانک جنگ، فضائی دفاع اور دیگر جدید شعبوں میں نمایاں صلاحیت رکھتی ہے۔ مکہ معاہدے میں مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور ترکیہ کے لیے اپنی دفاعی مصنوعات اور صنعتی تجربے کو دو اہم شراکت داروں تک پہنچانے کا موقع ہے۔
اگر اس اتحاد کو ایک مثلث سمجھا جائے تو پاکستان اس کی دفاعی اور تزویراتی طاقت، ترکیہ اس کی ٹیکنالوجی اور صنعتی طاقت، جبکہ سعودی عرب اس کی مالی اور معاشی طاقت ہے۔ یہی امتزاج اسے محض ایک روایتی فوجی معاہدے سے زیادہ اہم بنا سکتا ہے۔تاہم اس اتحاد کو فوری طور پر نیٹو جیسا مضبوط دفاعی اتحاد سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ معاہدے کی عملی تفصیلات، کمانڈ کا نظام، مشترکہ کارروائیوں کا طریقہ اور ہر رکن کی ذمہ داریاں ابھی پوری طرح واضح نہیں۔ ماہرین بھی اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ محض ’’ایک پر حملہ، سب پر حملہ‘‘ کی شق کسی اتحاد کو خودکار طور پر نیٹو نہیں بنا دیتی۔ اگر تینوں ممالک سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ تحقیق، دفاعی پیداوار، تربیت، تجارت اور سرمایہ کاری کو عملی شکل دیتے ہیں تو یہ معاہدہ خطے کے طاقت کے توازن پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا اصل امتحان اعلانات نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں مشترکہ منصوبوں اور عملی دفاعی تعاون کا معیار ہوگا۔



