اٹھائیسویں ترمیم، صوبے اور حکمرانی کا سوال

اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں مجوزہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک بار پھر سرگرمیاں تیز ہونے کی اطلاعات ہیں۔ باخبر حلقوں کے مطابق حکومت اہم سیاسی قوتوں سے مشاورت کر رہی ہے اور ممکنہ آئینی پیکیج کے مختلف پہلوؤں پر انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ زیرِ غور تجاویز میں اٹھارہویں ترمیم کے بعض حصوں پر نظرثانی، کراچی اور گوادر کے لیے وفاقی سطح پر بڑے ترقیاتی منصوبے، صوبوں کی ممکنہ تقسیم کے آئینی طریقۂ کار میں تبدیلی، این ایف سی کے نظام میں بعض مستقل نوعیت کی اصلاحات اور فاٹا کے انضمام سے متعلق فیصلے کا دوبارہ جائزہ جیسے معاملات شامل بتائے جا رہے ہیں۔اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو معاملہ محض ایک اور آئینی ترمیم تک محدود نہیں ہوگا۔ اس کے اثرات مرکز اور صوبوں کے تعلقات، وسائل کی تقسیم، انتظامی اختیارات اور پاکستان کے مجموعی وفاقی ڈھانچے تک جا سکتے ہیں۔ اسی لیے اس بحث کو وقتی سیاسی ضرورت یا کسی جماعت کے مفاد کے بجائے آئینی بصیرت، انتظامی ضرورت اور قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان کا وفاق اس وقت مضبوط نہیں ہوگا جب مرکز ہر اختیار اپنے پاس رکھ لے۔ وفاق اسی وقت مضبوط ہوگا جب مرکز اور صوبے اپنے اپنے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے معاون بنیں۔ اٹھارہویں ترمیم کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے مرکز سے صوبوں کو اختیارات منتقل ہوئے اور صوبائی خودمختاری کو ایک مضبوط آئینی بنیاد ملی۔ اگر اس عمل کے نتیجے میں کہیں عملی مشکلات پیدا ہوئی ہیں تو ان کا جائزہ ضرور لیا جا سکتا ہے۔ قانون کوئی ایسی چیز نہیں جس میں حالات کے مطابق اصلاح کی گنجائش نہ ہو، لیکن اصلاح اور اختیارات واپس لینے میں واضح فرق ہے۔یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔صوبوں کو اختیار دینا ایک بات ہے اور ان اختیارات کو بہتر انداز میں استعمال کرنا دوسری بات۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ بحث اکثر پہلی منزل پر ہی رک جاتی ہے۔ صوبے اختیار مانگتے ہیں، مرکز مرکزیت کی بات کرتا ہے اور سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفادات کے مطابق دلائل پیش کرتی ہیں، لیکن عام آدمی کا سوال وہیں رہ جاتا ہے کہ اسے بہتر تعلیم، صحت، صاف پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی اور امن آخر کب ملے گا؟یہ وہ سوال ہے جس سے کسی حکومت کو فرار نہیں مل سکتا۔صوبائی خودمختاری اپنی جگہ اہم ہے، لیکن صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر کسی صوبے کے پاس اختیار بھی ہو، وسائل بھی ہوں اور آئینی تحفظ بھی، لیکن وہاں کا شہری بنیادی سہولتوں سے محروم رہے تو پھر صوبائی حکومت کو بھی جواب دینا ہوگا۔ اختیار کے ساتھ جواب دہی آتی ہے، اور یہ اصول وفاق اور صوبوں دونوں پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔اسی تناظر میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے حامیوں کی دلیل ہے کہ بڑے صوبے انتظامی، سیاسی اور وسائل کے اعتبار سے غیر معمولی طاقت حاصل کر لیتے ہیں۔ نئے صوبے بننے سے انتظامی اکائیاں نسبتاً چھوٹی ہوں گی، حکومت عوام کے قریب آئے گی، اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے کے امکانات بڑھیں گے، پسماندہ علاقوں کو سیاسی آواز ملے گی اور وسائل کی تقسیم بھی زیادہ متوازن ہو سکتی ہے۔اس دلیل میں وزن موجود ہے۔زیادہ صوبے ہونا لازماً کمزور وفاق کی علامت نہیں۔ اگر نظام درست ہو تو زیادہ انتظامی اکائیاں وفاق کو مزید مؤثر بنا سکتی ہیں۔ لیکن صوبوں کی تعداد بڑھانا صرف سیاسی ضرورت یا اقتدار کی نئی تقسیم کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے عوامی اتفاقِ رائے، انتظامی ضرورت، معاشی استطاعت اور آئینی طریقۂ کار کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔کسی صوبے کی تقسیم محض اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھ کر نہیں ہونی چاہیے۔ جس صوبے کی جغرافیائی، سیاسی اور انتظامی ساخت تبدیل ہونے جا رہی ہو، وہاں کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی رائے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ صوبائی اسمبلیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے ایسا فیصلہ جس سے وفاقی اکائیوں کی ساخت تبدیل ہو، وفاقی اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر انتظامی اصلاح کو صوبائی سیاست کے تابع کر دیا جائے۔ آئین میں ایسا متوازن طریقۂ کار ہونا چاہیے جس میں عوامی نمائندگی، سیاسی اتفاقِ رائے، انتظامی ضرورت اور قومی مفاد سب کو مناسب جگہ ملے۔ نہ مرکز کی بالادستی مطلق ہو اور نہ صوبائی مفاد قومی مفاد پر غالب آئے۔ یہی توازن دراصل وفاق کی روح ہے۔این ایف سی کے نظام میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کو بھی اسی حساسیت کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔ اگر صوبوں کی تعداد بڑھتی ہے، نئے انتظامی یونٹس وجود میں آتے ہیں یا وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے پر غور ہوتا ہے تو اس کے معاشی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ نئے صوبوں کے لیے اسمبلی، سیکریٹریٹ، پولیس، عدلیہ، ترقیاتی ادارے اور دیگر ریاستی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔ اس لیے مالی وسائل کی تقسیم کا ہر فیصلہ شفاف اعداد و شمار، معاشی استطاعت اور تمام متعلقہ اکائیوں کے اعتماد کے ساتھ ہونا چاہیے۔کراچی کے لیے وفاقی سطح پر بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تجویز بھی اہم ہے۔ کراچی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی، نکاسیٔ آب اور شہری منصوبہ بندی جیسے مسائل آج بھی شہریوں کے لیے بڑا مسئلہ ہیں۔اگر وفاق کراچی کے لیے بڑے منصوبے شروع کرنا چاہتا ہے تو اس کا خیرمقدم ہونا چاہیے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ وفاق، صوبہ اور بلدیاتی ادارے مل کر کراچی کے لیے ایک مؤثر اور مستقل نظامِ حکمرانی کب قائم کریں گے؟کراچی کو وفاق کی بھی ضرورت ہے، مضبوط صوبائی انتظام کی بھی اور بااختیار بلدیاتی نظام کی بھی۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے۔ کراچی کے شہری کو اپنی روزمرہ زندگی میں بھی یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔گوادر کے معاملے میں بھی یہی اصول پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ گوادر کی بندرگاہ اور اس سے وابستہ منصوبے قومی معیشت کے لیے اہم ہیں، لیکن گوادر کے مقامی باشندے بھی ترقی کے اتنے ہی حق دار ہیں۔ اگر مقامی آبادی پانی، روزگار، ماہی گیری اور بنیادی سہولتوں سے محروم رہے تو بڑے منصوبوں کے افتتاح سے ترقی کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔پائیدار ترقی وہی ہوتی ہے جس میں مقامی آبادی خود کو ترقی کا حصہ سمجھے، صرف تماشائی نہیں۔فاٹا کے انضمام کا معاملہ بھی جذبات کے بجائے تجربے کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 2018 میں قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا مقصد انہیں قومی دھارے میں لانا تھا۔ اگر اس عمل کے مطلوبہ نتائج پوری طرح حاصل نہیں ہوئے تو اس کا جائزہ ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ مسئلہ انضمام میں تھا یا انضمام کے بعد کیے گئے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے میں؟قبائلی اضلاع میں امن، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل حل کیے بغیر صرف انتظامی حیثیت تبدیل کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ نقشہ بدلنے سے زیادہ ضروری ریاستی کارکردگی کو بدلنا ہے یہی بات بیوروکریسی کے کردار پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ہم نے پاکستان میں سیاسی حکومتوں کی کارکردگی کا احتساب تو بہت کیا، مگر انتظامی مشینری کی کارکردگی کا سوال اکثر پیچھے رہ گیا۔ حکومتیں بدلتی ہیں، وزرا تبدیل ہوتے ہیں، سیاسی ترجیحات بدلتی ہیں، لیکن ریاستی انتظامیہ بڑی حد تک وہی رہتی ہے۔ فائلیں وہی، طریقۂ کار وہی اور کئی جگہ انتظامی سوچ بھی وہی۔ایک حکومت اس وقت تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کے فیصلوں کو زمین پر نافذ کرنے والی مشینری فعال، جواب دہ اور عوام دوست نہ ہو۔ ہمیں ایسی بیوروکریسی کی ضرورت ہے جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر قانون، میرٹ اور عوامی خدمت کے اصول پر کام کرے۔ ایسی انتظامیہ جو صرف فائل آگے بڑھانے کو کامیابی نہ سمجھے بلکہ اپنے فیصلے کے عملی نتائج کی ذمہ داری بھی قبول کرے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے نظام میں بعض اوقات احتجاج کو کنٹرول کرنا، راستے بند کرنا یا طاقت کا استعمال کرنا آسان سمجھا جاتا ہے، لیکن شہری کو بروقت پانی، نکاسیٔ آب، صحت، تعلیم اور بلدیاتی سہولت فراہم کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔یہ ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے۔ریاست کی طاقت کا اصل اظہار شہری پر طاقت استعمال کرنے میں نہیں بلکہ شہری کی زندگی بہتر بنانے میں ہے۔ہماری سیاسی بحث میں بھی ایک عجیب سا عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ کبھی ہر مسئلے کا حل مرکزیت میں تلاش کیا جاتا ہے اور کبھی مکمل صوبائی خودمختاری میں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض مسائل کا حل نہ مکمل طور پر اسلام آباد کے پاس ہے اور نہ صوبائی دارالحکومتوں کے پاس۔کچھ مسائل کا حل صرف بہتر حکمرانی میں ہے۔سیاسی جماعتوں کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی، صوبائی حکومتوں کو بھی، وفاق کو بھی اور بیوروکریسی کو بھی۔ اگر سیاسی جماعتیں صوبائی خودمختاری کی علمبردار ہیں تو انہیں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی بھی بہتر بنانا ہوگی۔ اگر وفاق قومی منصوبوں کی بات کرتا ہے تو اسے صوبوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینا ہوگا۔ اور اگر بیوروکریسی ریاستی نظام کی مستقل مشینری ہے تو اسے بھی اپنی کارکردگی، جواب دہی اور عوامی خدمت کے معیار کو بہتر بنانا ہوگا۔ایک افسر کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ کتنے لوگوں کے مسائل حل کر سکتا ہے۔اسی طرح ایک حکومت کی کامیابی یہ نہیں کہ اس نے کتنی آئینی ترامیم منظور کروائیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے دور میں عام شہری کی زندگی کتنی بہتر ہوئی۔اور ایک وفاق کی طاقت یہ نہیں کہ اس نے صوبوں سے کتنا اختیار واپس لیا۔ وفاق کی اصل طاقت یہ ہے کہ صوبے خود کو وفاق کا برابر کا شریک سمجھیں۔اگر اٹھائیسویں ترمیم واقعی زیرِ غور ہے تو اسے جلد بازی یا سیاسی مفاد کے بجائے ایک وسیع قومی مکالمے کے طور پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعض حصوں پر نظرثانی ہو، صوبوں کی ممکنہ تقسیم کے طریقۂ کار پر غور ہو، این ایف سی کے نظام میں اصلاحات زیرِ بحث آئیں، کراچی اور گوادر کے لیے وفاقی منصوبہ بندی کی جائے یا فاٹا کے انضمام کے نتائج کا جائزہ لیا جائے، ہر معاملے میں پارلیمان کی کھلی بحث، صوبوں کی مشاورت، آئینی ماہرین کی رائے اور عوامی مفاد کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔کیونکہ آئین صرف دفعات کا مجموعہ نہیں۔ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے میں مرکز بھی فریق ہے، صوبے بھی، پارلیمان بھی، سیاسی جماعتیں بھی اور ریاستی انتظامیہ بھی۔شاید پاکستان کو آج صرف ایک اور آئینی ترمیم سے زیادہ ایک نئی حکمرانی کی روایت کی ضرورت ہے۔ایسی روایت جس میں مرکز صوبوں کو حریف نہ سمجھے، صوبے مرکز کو مخالف نہ سمجھیں، سیاسی جماعتیں ہر مسئلے کو طاقت کے زاویے سے نہ دیکھیں اور بیوروکریسی عوام کو محض ایک فائل یا ہجوم کے بجائے شہری سمجھے۔تب شاید ہمیں ہر چند سال بعد یہ سوال نہ کرنا پڑے کہ اختیار کس کے پاس ہے اور وسائل کہاں ہیں۔تب اصل سوال یہ ہوگا:عوام تک کیا پہنچا؟اور شاید جمہوریت، وفاق اور آئین تینوں کی اصل کامیابی بھی یہی ہے۔



