پاکستان کوکون برباد کر رہا ہے؟

پاکستانی بہنوں اور بھائیو! آپ سب کو پاکستان کا یوم آزادی بہت بہت مبارک ہو۔ان 78سالوں میں ، ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اس پر آج غور کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کن حالات میں بنا، یہ آپ بخوبی جانتے ہیں، مگر شاید آپ یہ نہیں جانتے کہ ایک ملک اس کے بننے میں قطعاً خوش نہیں تھا اور وہ بھارت کے علاوہ تھا۔ اس ملک کو پاکستان سے خدا واسطے کا بیر تھا کیونکہ پاکستان اسلامی ریاست بننے والا تھا جو ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔ اسلئے انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ پاکستان میں جمہوریت اور سیاسی استحکام نہیں ہو گا، اسے فوج ہی چلائے گی اور فوج امریکہ کے تابع ہو گی۔ پھر جو ہوا آپ سب نے دیکھا۔ قائد اعظم کو بے توجہی کی موت مارا گیا اور لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا۔ سیاست دانوں نے وہ کیا جس کی ان سے توقع تھی۔ اور چند ہی سالوںمیں فوج کو پاکستان پرمسلط کر دیا گیا۔ فوج خود نہیں آتی تھی، اسے امریکہ سے اشارہ دیا جاتا تھا کہ و ہ سیاستدانوں پرنااہلی کے الزام لگا کر حکومت پر قبضہ کر لے۔ابھی ابھی کسی نے افریقہ کے بارے میں ایک وڈیو بھیجی ہے، جس میں ایک گانا ہے جو ہمارے حسب حال بھی ہے۔ملاحظہ ہو:
’’ہم نے اجنبیوں کا خیر مقدم کیا لیکن ان کی بندوقوں کی طرف دھیان نہیں دیا۔انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھا اور پتھروں کی پیمائش کی۔انہوں نے ہمارے بچوں کو مسکرا کر دیکھا اور ہمارے گھروں میں بیٹھے۔ہم نے ان کی خاطر مدارات پانی اور روٹی سے کی۔لیکن وہ تو اس سونے کا اندازہ لگا رہے تھے جو ہمارے قدموں کے نیچے تھا۔یہ ایک نفسیاتی جنگ تھی جو دوستی کے لبادے میں تھی۔یہ اس کہانی کی شروعات تھیں جس کے انجام کا ہمیں پتہ نہیں تھا۔ان کھوجیوں نے پہاڑوں کے نقشہ بنائے اور ان کے اندر چھپی معدنیات کے تخمینے لگائے اور ان کے ساتھ آئے ہوے پادریوں نے ہماری روحوں اور دماغوں کو ٹٹولا۔ان کے ساتھی بیوپاریوں نے مارکیٹ اور سرمایہ کا اندازہ لگایا۔اور ہمارے آبائو اجداد کی دی آزادیوں کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔انہوں نے ہمیں کہا کہ اوپر آسمان کی طرف دیکھیں اور اپنی پریشانیوں کو بھول جائیں۔اور جب وہ مٹی میں سے ہر کام کی چیز نکال کر لے گئے، اور ہمیں کہا کہ اپنا دوسرا گال پیش کرو اور آنے والی سلطنت کا انتظار کرو۔تو ہم نے آنکھیں بند کر لیں اور وہ ہمارے نیچے سے ریت بھی لے گئے۔نہیں نہیں ہمارے اجداد کا قصور نہیں تھا، ان کو مذہبی رواداری نے لوٹ لیا۔وہ ایک پُر امن مقام میں مسکراتے ہوئے جنگ لائے، پیشتر اس کے کہ ہم آمین بھی کہتے، مردوں کے ہاتھ زنجیروں میں بندھ چکے تھے۔‘‘یہ بات انیسویں صدی سے پہلے کی تھی۔ ہندوستان میں جب انگریز آبادکار آئے، ان کی نیتیں بھی ایسی ہی تھیں۔ہندوستان جو ایک خاصا متمول ملک تھا، اس کی دولت لوٹ کر انگلینڈ پہنچا دی گئی۔فرق تھا تو یہ کہ بہت سے ہندوستانی انگلینڈ سے پڑھ کر آئے تھے اور وہ ان کی چالوں کو سمجھتے تھے۔ اس لیے نو آباد کاروں نے کچھ اپنی ضروت کے لیے اور کچھ اپنا تاثر بنانے کے لیے کچھ تعلیمی نظام بنایا، اور کچھ حفظ عامہ کے اقدامات کئے کیونکہ وہ خود بھی اسی ماحول میں رہتے تھے۔قصہ مختصر کہ ترقی یافتہ اقوام نے جب بھی غریب ملکوں کو دیکھا تو اس نظر سے کہ وہ کیا فائدہ اٹھا سکتے تھے؟ اور غریب ملک سمجھتے تھے کہ وہ ان کے بڑے خیر خواہ ہیں۔جب بر صغیر میں ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے کی بات چل رہی تھی، تو صہیونیوں کو اس بات کا بڑا افسوس تھا کہ مسلما نوں کا ایک اور ملک ظہور پذیر ہو رہا تھا۔ وہ اس کے سخت خلاف تھے لیکن اس تقسیم کو روک نہیں سکے۔اس لیے انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ پاکستان تو بن ہی جائے گا لیکن اس کو ایک کمزور ریاست بننا ہو گا۔ اس کے عوام کو تعلیم سے محروم رکھا جائے گا۔ اس کے بچے لاغر اور مناسب خوراک سے محروم۔ اس کی عورتوں کو چار دیواری کے اندر مقید۔ اس کے نو جوانوں کو ہنر سیکھنے کے مواقع نہیں ہوں گے۔ سب سےبڑی بات کہ جمہوریت کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور مطلق العنان حکمران ہوں گے جن سے بات کرنا آسان ہوتا ہے اور بات منوانا بھی۔اس لیے فیصلہ ہوا کہ جہاں تک ممکن ہو فوجی حکومتیں آئیں۔اور ان کے سپہ سالاروں کو امریکہ میں بلا کر تربیت دی جائے، ان کے بچوں کو امریکی یونیورسٹیوں میں سکالرشپ دے کر پڑھایا جائے۔ پاکستان کو ہمیشہ قرضوں پر ملک چلانے کی سہولت دی جائے۔کرپشن جتنی زیادہ ہو اتنی ہی اچھا ہے۔اگر قارئین آپ غور کریں تو آپ کوخود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ صہیونیوں کو اس منصوبہ میں کتنی کامیابی ہوئی۔ صرف دو اہم معاملات میں ناکامی ہوئی۔ ایک تو وہ عزرائیل کی ریاست کو تسلیم نہیں کروا سکے اور دوم پاکستان کو ایٹم بنانے سے نہیں روک سکے۔ یہ بڑی ناکامیاں تھیں۔آج 78 سال کے بعد آپ دیکھئے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے صہیونیوں کے منصوبے پر کتنا عمل کیا؟انہوں نے جس قدر ہو سکتا تھا اتنا کیا۔اب ذرا حقائق کی روشنی میں پاکستان کی معیشت اور حالات پر نظر ڈالیں۔پاکستان کی سالانہ اقتصادی حالت کی سرکاری رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے کل بیرونی قرضے$2.92 بلین تھے، جن میں سے $42 5. بلین عالمی مالیاتی اداروں کے تھے، جن میں آئی ایم ایف کو پاکستان نے $9.9 بلین دینے ہیں۔اور مختلف ملکوں سے جو قرضے لیے گئے ان کا حجم $19 بلین تھا۔ اگر آپ نے ایک بلین ڈالر کا اندازہ لگانا ہو تو سوچیے کہ پاکستان کو صرف ایک بلین ڈالر آئی ایم ایف سے لینے کے لینے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ان سب قرضوں کا ایک بڑا حصہ چین اور اس کے مالیاتی اداروں سے لیا گیا۔تعلیم سے متعلق جو معلومات دی گئی ہیں، پاکستان میں خواندگی میں ذرا سا اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ برس 16فیصد لوگ خواندہ تھے اوراس سال 63 فیصد۔ دوسرے لفظوں میں، پاکستان کے 37فیصد عوام اب بھی نا خواندہ ہیں۔یہ ہے ہماری 78سال کی کارکردگی۔پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ سکول کی عمر کے بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ہے نہ کتنی کامیابی؟ جو بچے سکولوں میںچلے بھی جاتے ہیں وہاں معیار تعلیم اتنا نا قص ہے کہ تعلیم برائے نام ہی ہوتی ہے۔یہ بھی اسی منصوبہ کے مطابق ہے۔در اصل اگر پاکستانی بچوں نے کچھ اچھی تعلیم لی بھی ہے تو ا س وجہ سے کہ بیرون ملک جانے والے جفا کشوں نے باہر سے اپنے خاندان کو رقمیں بھجوائیں کہ ان کے بچوں کو اچھے سکولوں میں پڑھایا جائے۔اسی وجہ سے دور دراز علاقوں میںآپ کو انگلش میڈیم سکول نظر آئیں گے۔صحت کے شعبہ میں، ہماری توقع حیات صرف 67.8 سال ہے۔ اور بچوں میں حفاظتی ٹیکے صرف 73فیصد آبادی کو لگ سکے ہیں۔بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے کئی کنبے مناسب خوراک نہیں حاصل کر سکے۔مناسب خوراک کی کمی کی وجہ سے بچوں میں پستہ قد کا رحجان بڑھ رہا ہے۔یہ بھی منصوبہ کا حصہ ہے۔کیونکہ حکومت اس ضروری آبادی کو نظر انداز کر چکی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، 2025 میںپاکستان کی آبادی پچیس کروڑ اکیس لاکھ ہو چکی ہے۔ اور ابھی بھی بڑھ رہی ہے۔ اس آبادی کا 26.56 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے یعنی وہ جو 15-29 سال کی عمر میں ہیں۔ یہ تعداد اس بات کی ضامن ہے کہ آبادی ابھی بڑھتی رہے گی۔ اور یاد رہے کہ ملک میںبے روزگاروں کی تعداد گذشتہ برس کی نسبت او ربڑھ گئی ہے۔ یعنی 45 لاکھ سے بڑھ کر 59لاکھ۔ پاکستان میں غریبوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں مزید ایک کروڑ تیس لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے۔کل 45فیصد پاکستانی غربت کی لکیر کے نیچے آ گئے ہیں۔یہ اعداد و شمار یا سرکاری ہیں یا عالمی اداروں کے ہیں۔ اس لیے کسی بھی با شعور پاکستانی کے ہوش اڑانے کے لیے کافی ہیں۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت اپنے اللے تللے کم کرنے پر تیار نہیں۔ وزیر اعظم اور ان کا پورا خانوادہ، سیاسی ٹولہ ہر دوسرے دن ہوائی سفر پر جاتا ہے۔ اعلیٰ ہوٹلوں میں قیام کرتا ہے اور ڈالروں میں سفر خرچ کا بھتہ وصول کرتا ہے۔ اکثر سفر غیر ضروری ہوتے ہیں۔ جیسے وزیر اعظم قرضے مانگنے جاتے ہیں اور خالی ہاتھ واپس آ جاتے ہیں۔ اب کچھ عرصہ سے اپنے ساتھ فیلڈ مارشل کو بھی ساتھ لئے پھرتے ہیں،کہ شاید ان کو بھی سیر و تفریح سے خوش رکھیں۔صرف ایران اور امریکہ میں جنگ میں مصالحتی کا کردار ادا کرنے میں یہ پاکستانی خزانہ کو لاکھوں ڈالروں کا چونا لگا چکے ہیں اور ٹرمپ بہادر نے انہیں ایک سینٹ بھی نہیں دیا ہے۔اب آپ اس تناظر میں عمران خان کی قید کو دیکھیے۔ عمران خان کو ہماری رائے میں تین وجوہات پر پابندِ سلاسل کیا گیا ہے جو عوام نہیں سمجھتے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ عمران خان نے اسلامی برادری کی قیادت سنبھالنے کی کوشش کی۔ مثلاً انہوں نے سعودی عرب کی قیادت میں او آئی سی کے بجائے ملائشیا کے وزیر اعظم کے ساتھ مل کر ایک نئی تنظیم بنانا چاہی۔خود عمران خان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسلمانوں کی کامیاب وکالت کی،جس سے ساری دنیا کے مسلمان متاثر ہوئے۔یہ معاملات انکو بالکل نہیں پسند آئے۔میں ان کی بات کر رہا ہوں جو پاکستان کے خلاف منصوبہ چلا رہے ہیں۔دوسری وجہ غالباً یہ ہے کہ ایک طویل مدت کے بعد عمران خان ایک پہلا قائد آیا جس نے تھوڑے عرصہ میں ثابت کر دیا کہ وہ واقعی پاکستان کو ترقی کی راہ پر چلا سکتا ہے۔ اورہمارا دشمن یہ ہر گز نہیں چاہتا کیوں کہ یہ اس کے منصوبے کہ خلاف جاتا ہے۔تیسری وجہ یہ ہے کہ عمران خان ملک سے کرپشن ختم کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ مفروضہ صحیح ہے تو قارئین آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستان میں نکمے، راشی اورلالچی سیاستدان کیوں کامیابی سے حکومت کرتے رہے، اور اچھے ، قابل اور محب وطن سیاستدان کیوں کامیاب نہیں ہوئے ۔اسی لیے کہ ہمارے دشمن نہیں چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کرے اور اس کے حالات بدلیں۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ جو ملک پاکستان کے ساتھ آزاد ہوئے وہ اتنی ترقی کر کے کہیں کے کہیں پہنچ گئے، جیسے جنوبی کوریا۔ملائشیا۔ اب یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ کیوں پاکستان اور نائجیریا دنیا کے کرپٹ ترین ملک ہیں اور دونوں کے حالات ایک جیسے کیوں ہیں؟ یہ دونوں مسلمان ریاستیں ہیں اور آبادی کے لحاظ سے بڑے ملک ہیں ۔یہ اس لیے ترقی نہیں کر سکے کہ ان کو ترقی کرنے نہیں دیا گیا۔اگر کسی کو اس سے بہتر توجیہہ معلوم ہو تو ضرور بتائے۔پاکستانیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک پاکستان کی فوجی قیادت محب وطن جرنیلوں کے ہاتھ میں نہیں آئے گی جو پاکستان کا فائدہ پہلے سوچیں گے اور امریکہ کا بعد میں، پاکستان ان حالات سے باہر نہیں نکل سکتا۔



