ایک مسلمان امیدوار کی کامیابی

مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے الیکشن میں ڈاکٹر عبدالرحمان السعید کی کامیابی کئی اعتبار سے حیران کن ہے۔ ایک تو وہ مسلمان ہیں‘ دوسرا مشی گن ایک ایسی مڈویسٹرن ریاست ہے جو پروگریسو نظریات کی مخالف ہے اور تیسرا یہ کہ اس الیکشن میں امریکہ کی سب سے بڑی یہودی تنظیم AIPAC نے 30 ملین ڈالر لگا کر انہیں شکست دینے کی کوشش کی۔ یہ AIPAC یعنی امریکن اسرائیل پبلک افیئررز کمیٹی کی کسی بھی الیکشن میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہے۔ ڈاکٹر السعید اپنی انتخابی مہم میں مسلسل یہ کہتے رہے کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے اور وہ سینیٹر بن کر اسے دی جانے والی امریکی امداد پر پابندی لگانے کی کوشش کریں گے۔ اے پیک 1954 میں American Zionist Committee For Public Affairs کے نام سے قائم ہوئی تھی ۔ اس نے ڈاکٹر السعید کو شکست دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تنظیم نے 1959میں اپنا نام تبدیل کر کے AIPAC رکھ لیا تھا۔ اس انتخابی معرکے میں اے پیک نے ڈاکٹر السعید کی مخالف امیدوار Haley Stevens کی بھرپور حمایت کی تھی۔ ڈاکٹر السعید ڈیٹرائٹ کے مضافات میں واقع Rochester Hill میں31اکتوبر 1984 کو پیدا ہوے۔ مشی گن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کو لمبیا یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف میڈیسن کی ڈگری حاصل کی۔ ڈیٹرائٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے دو سال تک ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رہنے کے علاوہ ڈاکٹر السعید نے پبلک ہیلتھ کے موضوع پر تین عدد کتابیں بھی لکھیں ہیں۔ انکا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی کے پروگریسو گروپ سے ہے۔ انکے انتخابی ایجنڈے میں تمام امریکنوں کے لیے مفت ہیلتھ انشورنس‘ اعلی تعلیم‘ اسرائیل کی فوجی امداد پر پابندی اور امیگریشن پولیس ICE کا خاتمہ شامل تھا۔ انکی مد مقابل ہیلی سٹیونز مشی گن سے ڈیمو کریٹک پارٹی کی ایوان نمائندگان میں رکن ہیں۔ وہ ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور کئی انتخابی مقابلے جیت چکی ہیں۔ چار اگست کو ہونیوالے انتخاب میں مشی گن کے گورنر ‘ اٹارنی جنرل اور ڈیموکریٹک پارٹی کی بھرپور حمایت کے باوجود ہیلی سٹیونز کامیابی حاصل نہ سکیں۔ انکی شکست کو ایک طرف ڈیموکریٹک پارٹی کی روایتی سیاست کی شکست کہا جا رہا ہے تو دوسری طرف اسے AIPAC کے لیے بھی ہزیمت اور شرمندگی کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔ مشی گن کی سیاست کو سمجھنے والوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر السعید کی انتھک محنت‘ انرجی‘ شعلہ بیانی‘ پروگریسو ایجنڈا اور ووٹروں سے براہ راست رابطہ انکی کامیابی کی وجوہات ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ڈاکٹر السعید کو Democratic Socialist Of America کا چھپا ہوا ممبر کہا جاتا ہے۔ نیویارک کے مئیر ظہران ممدانی اس جماعت کے سرکردہ ممبروں میں شامل ہیں۔ ممدانی کے والدین یوگنڈا سے امریکہ آئے تھے جبکہ ڈاکٹر السعید کے والدین کا تعلق مصر سے ہے۔ ان دونوں کی کامیابی کی وجہ انکی پر کشش شخصیت کے علاوہ انکی پروگریسو سیاست ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی اسوقت اعتدال پسند اور ترقی پسند دھڑوں میں منقسم ہے۔ جولائی اور اگست میں ہونے والے پرائمری انتخابات میںبائیں بازو کے نظریاتی امیدواروں کی کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ اس پارٹی کے ووٹرز ترقی پسند سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن پارٹی کے اندر ہونے والے انتخابات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ نومبر میں ہونے والے جنرل الیکشن میں بھی یہ گروپ جیت جائے گا۔ وسط مدتی انتخابات کی اپنی حرکیات ہیں ۔ اس میں ریپبلیکن پارٹی کے ارب پتی سرمایہ دار فراخدلی سے اپنے امیدواروں کی مدد کریں گے اور صدر ٹرمپ بھی ریپبلیکن پارٹی کے حق میں اپنی طاقت اور وسائل کا استعمال کریں گے۔ ان انتخابات میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی کے یہودی ووٹروں نے ڈاکٹر السعید کی حمایت نہ کی تو انہیں اپنے ریپبلیکن مد مقابل MIke Rogersکو شکست دینے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ بعض ماہرین کی رائے میں صدر ٹرمپ کے خلاف لوگوں میںاتنا غصہ پایا جاتا ہے کہ نومبر کے انتخابات میں انکے حمایت یافتہ امیدوار کا جیتنا مشکل ہو گا۔
مشی گن میں ڈاکٹر السعید کی کامیابی کے بعد ریپبلیکن پارٹی کا غصہ اور بوکھلاہٹ عروج پر ہے۔ صدر ٹرمپ اور AIPAC تواتر کیساتھ مسلمانوں کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ڈاکٹر السعید کے بارے میں کہا ہے کہ He is a hater of jews and hater of Israel اس نفرت انگیز بیان میں انہوں نے اس پرانے الزام کو بھی دہرایا ہے جو وہ لندن کے مئیر محمد صادق اور نیو یارک کے مئیر ظہران ممدانی پر کئی مرتبہ لگا چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ مسلمان مئیرزاپنے شہروں میں گندگی کے ڈھیر لگانے کے علاوہ جرائم اور تباہی میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔ اے پیک نے اس انتخابی شکست کے بعد یہ کہنا شروع کیا ہے کہ We should defend Judeo-Christian values before it is too late. لگتا ہے کہ ریپبلیکن پارٹی اور یہودی تنظیمیں ڈاکٹر السعید کے خلاف مذہبی بنیادوں پر انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔ اس بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوے ڈاکٹر السعید نے کہا ہے کہ اے پیک اس الیکشن میں تیس ملین ڈالر ضائع کر چکی ہے اور اب وہ دوسرے الیکشن میں ساٹھ ملین ڈالر ضائع کرے گی۔ ایسا اگر ہو جاتا ہے تو امریکی سینٹ میں پہلا مسلمان سینیٹر تمام مسلمانوں کے لیے باعث مسرت و افتخار ہو گا۔



