گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب!

بیرون ملک مقیم ایک دوست نے ٹیلی فون پر پاکستان کا حال احوال پوچھا۔ریت ، رسم ، رواج اور تربیت کے مطابق بتایا کہ سب خیریت ہے۔ ملک بھر میں بارش کے پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ پوری قوم سیل فون کی اسکرین پر نگاہیں جمائے بیٹھی ہے۔ ملک چلانے والے ملک کی چلتی گاڑی کا سسٹم خراب ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔انجن تبدیل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔باقی سب خیریت ہے ۔ہاں بس اندرون ملک ہماری سول اور آرمڈ فورسز کے جوانوں کو گمنام دہشت گردوں سے شدید خطرات لاحق ہیں۔دہشت گرد چھپ کر اچانک حملہ کرتے ہیں۔جس سے اچھا خاصا جانی نقصان بھی ہو جاتا ہے۔بس ایسی وارداتوں پر دل دکھتا ہے،باقی سب خیریت ہے۔پوچھنے والے نے پوچھا کہ یہ جو پچھلے دنوں زیارت میں پولیس پر منظم دہشت گردوں نے حملہ کیا ،اس کا کیا؟ یار وہاں پولیس کو دہشت گردوں نے گھیر لیا تھا۔لیکن بہادر پولیس والوں نے مزاحمت کی،معزز دہشت گردوں سے مقابلہ کیا، ان سے لڑتے رہے، گولیاں ختم ہونے لگیں تو کمک اور مدد مانگنے لگے۔اگر پولیس والے کامیاب ہو جاتے تو سوچیئے کہ باہر سے آئے مہمان دہشت گردوں پر کتنا برا اثر پڑتا۔پھر کیا ،سنا ہے اس طرح کے بدتمیز مگر ہلاکت خیز دہشتگرد حملوں میں کچھ دائیں بائیں کے ممالک شامل ہوتے ہیں۔اور یہ کہ ’’ہمیں ‘‘پہلے سے ہی ایسے حملوں کی اطلاعات ہوتی ہیں۔ دوست غصے میں آگیا بولا اطلاعات کی ایسی کی تیسی،اگر یہ سب پتہ ہے تو پھر اتنے بڑے سانحے کس طرح رونما ہو جاتے ہیں؟ شکائتیں لگانے اور وضاحتیں پیش کرنے کے سوا آپ کر کیا رہے ہیں؟ اب تک کی نااہلی پر اداروں کے کتنے عہدے دار ہٹائے اور سزائے گئے ہیں؟ حکومتی عہدیدار آنکھیں ملتے ہوئے شکوے کیوں کرتے ہیں۔یہ اِس نے کیا ،وہ اُس نے کیا۔تو بتایا یہ جائے کہ جن لوگوں کی ڈیوٹی ہی ایسی وارداتوں کو منصوبہ بندی کی سطح پر روکنا ہے،وہ بھنگ پی کر کیوں سوئے رہتے ہیں۔؟ طرح طرح کی کہانیاں(یا واقعات) پہلے بھی سنے ہوئے ہیں۔ کسی فلاں مولوی کے تربیت یافتہ دہشتگرد آرام سے پاکستان آتے ہیں،یہاں ان کے سہولت کار ان کی مدد کرتے ہیں اور بڑی واردات ہو جاتی ہے۔جب آج تک طریقہ واردات نہیں بدلا، تو ہماری دیوار کے پار دیکھنے والی ایجنسیاں بے خبر کیوں رہتی ہیں۔ دہشت گردی کی ایسی وارداتوں کو منصوبہ بندی کی سطح پر کچلنا چاہیئے۔ اب کیا جواب دیتا؟ بس بتایا کہ بھنگ کا پودا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا خود رو پودا ہے اور اسلام آباد کی ہر خالی جگہ پر اُگا ہوا ہے۔لیکن اسلام آباد میں بھنگ پینے کا کوئی رواج نہیں۔یہاں پینے اور جینے کے سلیقے الگ ہیں۔ دوست نے میری بات پر توجہ دینے یا کھی کھی کر کے ہنسنے کی بجائے اپنا سوال جاری رکھا، پوچھنے لگا کہ آخر کب تک بھارت دشمنی بیچی جائے گی؟ افواج پاکستان کا حجم اور بجٹ بھارت دشمنی کا تدارک کرنے کے لیے ہے۔آج تک یہ ہدف حاصل کیوں نہیں کیا جا سکا؟ اگر بلوچستان میں بھارت مداخلت کر رہا ہے تو جنرل باجوہ نے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا استحقاق ٹھنڈے پیٹوں کیوں برداشت کر لیا تھا؟ اگر بھارت پلواما میں دہشت گردی کا جھوٹا الزام لگا کر پاکستان پر بھرپور حملہ کر سکتا ہے۔تو پھر پاکستان کے پاس اگر بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے پکے ثبوت موجود ہیں تو عوام کے سامنے شکائتیں لگانے کی بجائے بھارت میں موجود دہشت گردی کے انفراسٹرکچر پر حملے کیوں نہیں کئے جاتے؟ یار دیکھو پاکستان کس کس کام کی طرف توجہ دے ۔دیکھو پاکستان کی سفارتی کامیابیاں، سفارت کاریاں ،ثالثیاں۔دوست چلا کر بولا بھاڑ میں جائیں ثالثیاں اور سفارت کاریاں۔۔وطن کی فکر کر ناداں،مصیبت آنے والی ہے ،کچھ ہوش کریں۔ ثالثیاں بند کریں، اور بھاڑ میں جائے امریکہ کی نوکریاں چاکریاں۔۔۔۔کشمیر کا خیال کریں۔یاد رکھیں کہ راولا کوٹ غزہ نہیں ہے ،اس لیے اسرائیل بننے کی کوشش نہ کریں۔نہتے لوگوں پر گولیاں چلانے اور قتل عام چھپانے کا سلسلہ کب تک چلے گا؟ ہوش میں آو جاہلو۔۔۔۔افسوس اپنے ملک میں احتجاج کرنے والے نہتے لوگوں کو سیدھے گولیاں مارنا تو یہاں ایک نیا چلن بن کر سامنے آ رہا ہے۔سوائے اسرائیل کے ،کون نہتے لوگوں پر اس طرح سے گولیاں برساتا ہے؟ لوگوں کا ایک مطالبہ بھی غلط نہیں ہے ، حکومت وعدے کے باوجود معاہدے پر عمل نہیں کیا۔محض اس لیے کہ ہمارے لیے اپنی مراعات چھوڑنے کی نسبت احتجاج کرنے والے نہتے لوگوں کو گولی مارنا آسان کام ہے۔ہم تو جنگوں کی ثالثی کرانے والے مقدس لوگ ہیں،اور ہمیں اپنے ملک میں کچھ بھی کر گزرنے کی اجازت ہے ۔نہیں۔۔۔بالکل نہیں۔اور ہاں سنو! میری بات سنو ہر بڑی واردات کے بعد پہلے سے تیار شدہ آپریشن ایک عربی نام رکھ کر شروع کر دیا جاتا ہے۔ایسا کیوں ہے؟ اگر ایجنسیوں کو پہلے ہی سے معلوم تھا تو کسی عربی نام کے آپریشن کی فائل تیار کرنے کی بجائے دہشت گردی روکنے کی طرف توجہ کیوں نہیں دی جاتی؟میری تو رائے ہے کہ ، چھوٹے بڑے فوجی آپریشنز کے لیے عربی ، مذہبی اور تاریخی اصطلاحات کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیئے۔ہمیشہ یہ آپریشن سنگین ترین واردات ہو جانے کے بعد ہی کیوں کئے یا بتائے جاتے ہیں۔؟ تنگ آ کر (دراصل گھبرا کر) میں نے کہا یار کوئی اور بات کرو ،اپنی خیر خیریت بتاو۔یہ۔ملکوں کے مسٔلے ہیں ۔ہم صرف خبریں سن کر تبصرے کر سکتے ہیں۔اور ہمارے تبصروں سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوست بات بدلنے پر تیار نہیں تھا۔بولا اچھا سنو پاکستان کے فیصلہ سازوں کو بتا اور سمجھا دو کہ انسان بنیں اور اپنے ملک کی سوچیں۔ اس بات پر میں سمجھ گیا کہ میرے دوست کی ذہنی صحت پر کچھ اثر پڑا ہے۔شاید بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان سے آنے والی خبروں نے اس کے دماغی توازن کو متاثر کیا ہو۔اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کبھی مجھ جیسے انسان کو یہ نہ کہتا کہ پاکستان کے فیصلہ سازوں کو بتا اور سمجھا دو ۔بھئی جس بندے کی خود اپنے گھر میں کوئی سنتا مانتا نہیں ،وہ پاکستان کے فیصلہ سازوں کو سمجھائے گا۔بہرحال میں نے بات ختم کرنے کے لیے کہا کہ ہاں یار بتاو کیا بتانا اور سمجھانا ہے فیصلہ سازوں کو؟نہایت سنجیدگی سے کہنے لگا کہ، پاکستان کو واضح طور پر اعلان کرنا چاہیئے کہ وہ، دو مسلمان ممالک کی آپس میں جنگ کی صورت میں فریق بننے کی بجائے غیر جانبدار رہے گا ۔اور تنازع کو حل کرنے کے لیے معاونت کرنے پر تیار رہے گا۔ پاکستان نہ تو کسی معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بنے گااور نہ ہی کبھی اور کسی صورت میں اسرائیل کو تسلیم کرے گا۔پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو امریکی احکامات کے دائرے سے نکال کر ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر ترتیب دے گا۔ جن عرب ممالک نے بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔وہ اپنے دفاع کے لیے بھارت سے درخواست کیوں نہیں کرتے؟؟؟ تجارت بھارت کے ساتھ اور لڑنے کے لیے فوجی پاکستان سے؟ پاکستان کی افواج اپنا کردار بین الاقوامی بنانے کی بجائے صرف ملکی دفاع تک محدود کریں۔اسی طرح ایران کے ساتھ تعلقات کو باہمی تجارت لیکن ایران کے بھارت کے ساتھ تعلقات کی گہرائی کے تناسب سے مرتب کرے۔ میں نے ستم گر دوست کو ٹوکا اور کہا کہ رکو ،رکو سنو فی الحال اتنے احکامات کافی ہیں۔ اب ایسے سادہ دل اور بیرون ملک بیٹھ کر اپنے ملک سے سچا پیار کرنے والے دوست سے بندہ کیا کہے۔اپنے دوست کو سادہ دل اس لیے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے فیصلہ سازوں کے لیے اتنے خطرناک قسم کے پیغامات اور سفارشات میرے ذریعے بھیج رہا ہے ۔خود اندازہ کر لیں کہ جس دوست کو یہ علم اور شعور نہ ہو کہ کون سی بات کس کے ساتھ اور کون سی بات کس کے ذریعے کرنی چاہیئے ،وہ خود کتنا عقلمند ہوگا۔ چلئے میں یہ اعتراف بھی کر لیتا ہوں کہ میں دیکھنے میں کچھ بے وقوف سا لگتا ہوں۔پر صرف اسی ایک وجہ سے میں بے وقوف تو نہیں بن سکتا ۔اس گفتگو کے بعد مرزا غالب کا ایک شعر دھیان میں آ رہا ہے۔
گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا!



