نیا جال لایا پرانا شکاری ؟!

اندرونِ پاکستان ملک کے دوسرے بڑے مردِ آہن چھٹ بھئیے محسن نقوی کے اس بیان نے کہ ریاستی ڈھانچہ بالکل ڈھے چکا ہے، بیٹھ چکا ہے، تہلکہ مچایا ہوا ہے اور ملک کے خارجہ تعلقات کے ضمن میں اس سہ فریقی دفاعی معاہدہ نے ہاہاکار مچائی ہوئی ہے جس میں پاکستان کے علاوہ ترکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں!یہ دفاعی معاہدہ ایسے وقت ہوا ہے جب ایران پر امریکی سامراجی اور صیہونی جارحیت چھٹے مہینے میں داخل ہوچکی ہے!خلیج کے عرب ممالک کی، جن میں سعودی عرب سرِ فہرست ہے ایک تاریخ ہے جس کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل میں پہلی عالمی جنگ کے دوران ہوا تھا۔ خلیجی ممالک کی سامراجی تابعداری کا آغاز اس بغاوت سے ہوا تھا جو ترکوں کی خلافتِ عثمانیہ کے خلاف برطانیہ کی شہ پر عرب قبائل نے کی تھی۔ سعودی عرب کا جنم برطانیہ کے سایہء شفقت سےہوا تھا اور اسی طرح خلیج کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی اپنے وجود کیلئے برطانیہ کی مرہونِ منت تھیں!دوسری جنگِ عظیم نے برطانیہ کی کمر توڑ دی تھی اور وہ عالمی سلطنت جس پر جنگ سے پہلے سورج غروب نہیں ہوا تھا ایک ایک ملک کرکے برطانیہ کے غروبِ آفتاب کے ساتھ ڈوب گئی!برطانیہ کی جگہ نئی استعماری اور سامراجی طاقت امریکہ نے لے لی تھی اور اسی اعتبار سے خلیج کے تمام ممالک امریکی تسلط میں چلے گئے اور ہر ملک کی سرزمین پر امریکہ بہادر نے اپنے فوجی اڈے تعمیر کرلئے۔امریکہ کو اپنے فوجی اڈے بنانے کا جنون ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں امریکہ کے کتنے فوجی اڈے ہیں؟
آپ یہ جان کر حیران، بلکہ دنگ، رہ جائینگے کہ دنیا بھر میں امریکہ کے فوجی اڈوں کی تعداد آٹھ سو، جی ہاں آٹھ سو (800) ہے اور جو سرد جنگ کے زمانے میں اس کا حریف تھا، کل کا سوویت یونین اور آج کا روس، اس کے روس سے باہر گوجی اڈوں کی کل تعداد پانچ (5) ہے!سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے، جو امریکہ کی استعماری طاقت کیلئے تقویت کا اثاثہ ہیں، خلیج کے عرب ممالک کی سرزمینوں پر ہیں۔ اور دنیا بھر میں سب سے بڑا فوجی اڈہ اس قطر کی سرزمین پر موجود ہے جو حال جاری ایران- امریکی جنگ میں پاکستان کے ہمراہ ان دونوں ممالک کے درمیان صلح کروانے کی کاوشوں میں پیش پیش رہا ہے !برطانیہ عظمیٰ کی استعماری طاقت کو ڈھانے میں دوسری عالمی جنگ کا کلیدی کردار تھا لیکن امریکی استعمار کو ایران نے اپنی مردانہ وار مزاحمت سے جو زک پہنچائی ہے اس نے امریکہ کے طاقت کے غرور اور گھمنڈ کے بت کو پاش پاش کردیا ہے!برطانیہ کا سر کچلنے میں تو بہت سے ممالک شریک تھے لیکن امریکی استعمار کو تنِ تنہا ایران نے جو سبق پڑھایا ہے اس نے سامراج کے دانت کھٹے کردئیے ہیں! امریکہ کے صدر ٹرمپ جو بھی روز شیخی بگھارتے رہیں اسلئے کہ کہ ان کی تو عادت ہے اپنے آپ کو دنیا میں سب سے زیرک، عقلمند اور طاقتور ظاہر کرنے کی لیکن دنیا پر ان کے کردار کا یہ روپ اب اتنی اچھی طرح سے سامنے آچکا ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ہو جو ان کی ڈینگوں کو سنجیدگی سے سنتا ہو۔ ان کی ہرزہ سرائی سے متاثر ہونا تو بہت دور کی بات ہے!خلیج کے عرب ممالک کے سربراہان نے ایران کے خلاف ننگی امریکی اور صیہونی جارحیت سے پہلے امریکہ کی اپنے سر پر دفاعی چھتری پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کیا تھا۔ لیکن ایران نےجس طرح اپنی اعلیٰ اور مثالی مزاحمت سے اپنی سرزمین کا دفاع کیا اور اس کے ساتھ ساتھ جس طرح ان خلیجی ممالک پر موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اس نے ان عرب سربراہان کو یہ سوچنے پہ مجبور کردیا کہ کیا وہ امریکی سرپرستی پر بھروسہ کرسکتے ہیں؟!انہوں نے دیکھ لیا کہ امریکہ کی دفاعی تنصیبات ان کی سرزمین پر ان کیلئے اثاثہ نہیں ثابت ہوئیں بلکہ ایران کیلئے وہ سرخ جھنڈی بن گئیں جس کو دیکھ کر بیل اپنے شکار پہ حملہ کردیتا ہے!ان ممالک نے یہ بھی اچھی طرح سے دیکھ لیا کہ ان کی سرزمین پر امریکی اڈے ان کی حفاظت کیلئے نہیں کام آئے۔ کام آئے تو صرف اور صرف صیہونی ریاست اسرائیل کے دفاع کیلئے!ان مغربی ممالک کو اس کے بعد اس تشویش کا ہونا ایک فطری اور قدرتی عمل تھا کہ امریکہ کی سرپرستی ان کیلئے خطرہ کی گھنٹی بن گئی ہے اور اس خطرہ کو کم کرنے کیلئے ان کو کسی اور حمایت، کسی اور چھتری کی ضرورت ہے۔خلیجی ممالک میں سب سے بڑا سعودی عرب ہے اور سعودی حکمرانوں کو اپنی نئی دفاعی ضرورت کا احساس بھی سب سے پہلے ہوا۔ سعودی احساس کو گذشتہ برس جون کے مہینے میں ایران کے خلاف اس امریکی اور صیہونی جارحیت سے مہمیز ملی جو بارہ روز تک جاری رہی۔ اس کے فوری بعد ، ستمبر میں سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ اس دفاعی معاہدہ پر دستخط کئے جس میں پاکستان یا سعودی عرب کے خلاف کوئی بھی جارحیت دونوں ممالک پر جارحیت تصور کی جائیگی!اب یہ جو سہ فریقی معاہدہ ہوا ہے، جس میں ان دونوں ممالک کے ساتھ ترکیہ بھی تیسرا فریق ہے پھر اس امر کا اعادہ کیا گیا ہے کہ کسی فریق ملک کے خلاف جارحیت تینوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائیگی اور تینوں فریق اس جارحیت کا مل کے مقابلہ کرینگے!معاہدوں میں جو کاغذ پہ تحریر ہوتا ہے اس سے زیادہ اہم وہ حقیقت ہوتی ہے جسے تحریر میں لانا مقصود نہیں ہوتا یا تحریر میں لانا ممکن نہیں سمجھا جاتا۔اب اس معاہدہ کو لے لیجئے۔ یہ تصور امرِ محال ہے کہ اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے، جس کا امکان ہر وقت رہتا ہے، تو سعودی عرب اس کی مدد کو آجائے گااصل میں سعودی عرب کا دفاع کرنا اولین ترجیح ہے اسلئے کہ سعودیہ نے اپنے پڑوسی ملکوں ، خاص طور پہ یمن اور ایران کے ساتھ وہ تعلقات قائم نہیں کئے جن سے اس کے دفاع کی ضمانت فراہم ہوسکے۔سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے جس کا آغاز 1979ء میں اس وقت ہوا تھا جب دہشت گرد مذہبی جنونیوں نے مکہ میں مسجد الحرام پر قبضہ کرلیا تھا اور اس قبضہ کو پاکستان کے دفاعی کمانڈوز نے ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن پاکستان نے اپنی دفاعی مہارت سے نہ صرف سعودی افواج کی تربیت کی ہے بلکہ پاکستان کے فوجی دستے ایک طویل عرصہ تک سعودی سرزمین پر اس کی حفاظت کی ضمانت فراہم کرتے رہے ہیں۔ اب بھی ایران نے جب امریکی اور صیہونی جارحیت کے دفاع میں سعودی سرزمین پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اس کے بعد پاکستانی فضائیہ کے طیارے، اپنے دستوں کے ساتھ سعودی عرب کے دفاع کی ضمانت کیلئے وہاں تعینات کئے گئے اور وہ وہاں اب تک موجود ہیں !ترکیہ کا سعودی- پاکستانی اشتراک میں شامل ہونا اس دفاعی کینوس کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ کئی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے !سرد جنگ کے عروج کے دوران جب امریکہ کو دنیا بھر میں اتحادیوں کی تلاش تھی تو پچاس کی دہائی میں امریکہ اور برطانیہ کی شرکت کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ ہوا تھا، 1955ء میں، جسے بغداد پیکٹ کا نام دیا گیا تھا اسلئے کہ اس معاہدہ پر دستخط بغداد میں ہوئے تھے جب وہاں ہاشمی سلطنت تھی۔ دیگر فریق پاکستان، ایران اور ترکی تھے۔ 1958ء میں عراق میں بادشاہت کے خلاف جب انقلاب آیا تو عراق اس معاہدہ سے خارج ہوگیا جس کے بعد اس معاہدہ کو ایک نیا نام دیا گیا، سینٹو!
پاکستان سینٹو کے علاوہ ایک اور امریکی- برطانوی معاہدہ میں فریق تھا جس کا نام سیٹو تھا اور وہ معاہدہ چین کے خلاف تھا جس میں فلپائن اور تھائی لینڈ بھی شریک تھے!پاکستان کے عسکری طالع آزما اور جرنیلوں کیلئے واشنگٹن ہمیشہ سے قبلہ و کعبہ رہا ہے اور ان عسکری عقل کے اندھوں نے آج تک امریکہ کے ہر فرمان پر آنکھ بند کرکے عمل کیا ہے۔ پاکستان کو سینٹو اور سیٹو سے نکالنے کا کام بھی بھٹو نے اپنے اقتدار کے زمانے میں کیا تھا ورنہ بد مست جرنیلوں کی کیا مجال کہ اپنے سامراجی آقا کے فرمان کے خلاف جانے کی جسارت کریں!تو اس سہ فریقی معاہدہ سے اگر بغداد پیکٹ کی کچھ مبصرین کو بو آرہی ہے تو ان کے شکوک کو غیر متعلق سمجھنا سراسر زیادتی ہوگی!یہ تصور محال ہے کہ یہ تینوں ممالک، جو امریکہ کے پرانے حلیف ہیں، کوئی ایسی جسارت کرینگے جو امریکی مفادات کے مترادف ہولہٰذا یہ خام خیالی ہوگی کہ یہ تینوں ممالک کوئی ایسی کارروائی کرسکیں گے جو اس خطہ میں امریکہ کے پالن ہار اسرائیل کے خلاف ہو۔ اسرائیل کو اس معاہدہ سے کوئی تشویش نہیں ہے اسلئے کہ اسے کامل یقین ہے امریکہ اس کی جیب میں، اس کی مٹھی میں ہے اور اس یقین کے تقویت کا اظہار ہی ہے کہ اسرائیل کے صیہونی وزیر اعظم نے اس پندرہ نکاتی منصوبہ کو کمال گھمنڈ سے مسترد کردیا ہے جو ٹرمپ نے غزہ میں امن کیلئے تجویز کیا تھا۔ اس کا اصرار ہے کہ پہلے حماس اپنے ہتھیار ڈال کر اسرائیل کے رحم و کرم پہ ہوجائےاس کے بعد ہی اسرائیل اسے قبول کرنے کے متعلق سوچےگا !ہاں، ایران کے خلاف یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ عملی کارروائی کرسکتا ہے اور اس امکان کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی عرب کو بھی ایران اپنا دشمن نظر آتا ہے اور پاکستان کے کوتاہ اندیش جرنیلوں کا ملجا و ماویٰ ان کی لالچِ زر ہے بالکل اسی طرح جس طرح ان کا قبلہ و کعبہ واشنگٹن ہے!ایران کے خلاف کوئی بھی دفاعی کارروائی پاکستان کے حق میں زہر ہوگی یہ تاریخ اور حالاتِ حاضرہ کا ایک ادنیٰ طالبعلم بھی خوب جانتا ہے لیکن پاکستان پر مسلط بدمست جرنیلی ٹولہ، اپنے آمر عاصم منیر کی قیادت میں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے قطعاً محروم ہے۔ایران کے خلاف کسی بھی دفاعی حرکت کا پاکستان کے حالات پر کیا اثر ہوگا اس کو پاکستان کو اپنی موروثی جاگیر گرداننے والے جرنیلوں کو اسی طرح کوئی احساس نہیں ہے جس طرح ملک پر اپنے کٹھ پتلی، کرپٹ، سیاسی گماشتوں کو مسلط کرکے انہوں نے پاکستانی ریاست کے نظام کو کس بیدردی سے ڈھایا ہے اس پر ان کی موٹی گردنوں پر کوئی جو نہیں رینگتی !عاصم منیر کو صرف اس سے غرض ہے کہ اس کا سامراجی آقا اس سے نہ روٹھ جائے اسلئے کہ اس کا دستِ شفقت اس عسکری طالع آزما کیلئے دنیا میں سب سے بڑا سہارا ہے جس کے آسرے پر وہ پاکستان کو تباہی کی سمت لئے جارہا ہے اور اس کے گماشتے، محسن نقوی جیسے بھانڈ، یہ بھاشن دے رہے ہیں کہ ملک کا نظام ڈھے چکا ہے!ڈھئے گا نہیں تو کیا تعمیر ہوگا ایسا گھر جس کی بنیادیں کھود دی گئی ہوں؟پاکستان کو دولخت کرنے والے بھی یہی عسکری طالع آزما تھے اور بچا کھچا پاکستان بھی ان کی دست درازیوں تلے کراہ رہا ہے اور ڈگمگا رہا ہے۔کیا مذاق ہے کہ عاصم منیر، ٹرمپ کا پسندیدہ گماشتہ، باہر کی دنیا میں امن اور صلح کا نقیب بنا اتراتا پھرتا ہے جب کہ اس کے گھر کی چولیں ہل چکی ہیں۔
غیروں کے واسطے ہے بنا صلح کا نقیب
اپنوں کے حق میں وہ جو خدا کا عذاب ہے
ان عسکری خداؤں کی ہے کیمیاء الگ
حیرت ہو کیوں جو ملک کی حالت خراب ہے !



