خوف کے سائے میں سفر!

صدرٹرمپ کوگذشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر میڈیا کے نمائندوں اور وائٹ ہاؤس کے بیشتر عملے کو صدارتی طیارے ’’ایئر فورس ون‘‘ پر سوار کروایا گیا، اس کے بعد خفیہ طور پر دوسرامتبادل طیارہ استعمال کیا گیا، صدر ٹرمپ اور عملے کو ایئرفورس ون پر سوار ہونے کے بعد ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا اور بعدازاں لینڈنگ کے بعد انھیں دوبارہ اُسی طیارے پر سوار کروا دیا گیا، دشمن کو دھوکا دینے کےلئےیہ ایک چال تھی۔یہ خبر پورادن خبروں کی زینت بنی رہی۔اطلاعات کے مطابق یہ اقدام ایک انٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایئر فورس ون پرایرانی میزائل حملہ ہو سکتا ہے۔
ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی دھمکیوںسےامریکی انٹیلی جنس یہ سمجھتے ہیں کہ صدرٹرمپ کو سب سے بڑا اور فوری خطرہ ایران اور اس سے منسلک پراکسی گروہوں سے ہے۔2020ء میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد سے ایرانی حکام اور مسلح گروپس ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں۔مشرق وسطیٰ میں حالیہ ملٹری تناؤ اور کشیدگی کے باعث یہ خطرات مزید شدید ہو گئے ہیں۔ ماضی کے قاتلانہ حملے بھی اسی سوچ کے دائرے میں آتے ہیںڈونلڈ ٹرمپ پر امریکہ کے اندر پنسلوانیا اور فلوریڈا میں بھی قاتلانہ حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے امریکی سکیورٹی ادارے ان کی بین الاقوامی پروازوں اور عوامی دوروں کے دوران کسی بھی خطرے کا Risk نہیں لے سکتے۔ جولائی 2024 میں پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں ایک انتخابی جلسے کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں صدر ٹرمپ زخمی ہوئے تھے۔اسکےدو ماہ بعد فلوریڈا میں ایک مسلح شخص کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے اسے اس مقام کے قریب درختوں میں چھپا ہوا دیکھا جہاں ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے۔ویسے بھی امریکی صدر کی حفاظت دنیا کے مشکل ترین سکیورٹی آپریشنز میں شمار ہوتی ہے۔ صدر جہاں بھی جائیں، ان کے سفر کا راستہ، طیارہ، رہائش گاہ اور نقل و حرکت ممکنہ حملہ آوروں کےلئےاہم ہدف بن سکتی ہے۔ اسی لیے امریکی خفیہ ادارہ سیکریٹ سروس اور امریکی فوج صدر کے سفر کے لیے متبادل طیارے، خفیہ راستے، جنگی طیاروں کی نگرانی اور بعض اوقات ایسے انتظامات کرتے ہیں جن کی تفصیلات عوام کو برسوں بعد معلوم ہوتی ہیں۔کیونکہ یہ معلومات خفیہ رکھی جاتی ہیں۔
جولائی 2026 میں ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے انقرہ گئے تھے۔ اس سفر کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی بھی موجود تھی۔ابتدائی طور پر صدر ٹرمپ نے قطر سے ملنے والے نئے Boeing 747-8 پر سفر کیا، لیکن ترکیہ سے اگلے مرحلے کے لئے اچانک پرانے Air Force One کو استعمال کیا گیا۔ اس تبدیلی کے بارے میں اس وقت سکیورٹی خدشات کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ امریکی حکام نے بعد میں بتایا کہ صدر کے خلاف ایک مستند خطرے کے باعث طیارہ تبدیل کیا گیا تھا۔بعد میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق معاملہ اس سے بھی زیادہ غیر معمولی تھا۔ ٹرمپ Air Force One پر سوار ہونے کے بعد ایک ایئرپورٹ catering truck کے ذریعے خفیہ طور پر دوسرے فوجی طیارے تک پہنچے۔ Air Force One پر وائٹ ہاؤس کے اہلکار، سکیورٹی عملہ اور صحافی موجود رہے اور وہ طیارہ بطور decoy آگے روانہ ہوا۔
طیارہ decoy کرنے کا مطلب یہ ہوتاہے کہ چونکہ صدر کے طیارے کی شناخت ایک سکیورٹی خطرہ بن سکتی ہے،اس لئے اصل جہاز جس میں صدر سوار ہیں کو نشانہ بننے سے بچانے کےلئے جہاز Decoy کیاجاتا ہے یہ ایک طرح کا جھوٹا ہدف یا سگنل ہوتا ہے۔ جہاز ایسی حرارت یا ریڈار عکاسی پیدا کرنے والا آلہ چھوڑ تاہے جس سے میزائل کو لگے کہ اصل ہدف وہی ہےاور دشمن کا میزائل یا ریڈار اصل جہاز کے بجائے ڈیکوئے کی طرف مڑ جاتا ہے۔یہ دفاعی نظام اس لئے اہم ہوتا ہے کہ دشمن کے میزائل کو اصل جہاز سے دور کیا جا سکےاورجہاز کو نشانہ بننے سے بچائیں ۔خاص طور پر جنگی حالات میں صدر کے جہاز کی بقا اور حفاظت ضروری ہوتی ہے، غیر معمولی حالات میں جب کسی صدر کو فضائی حملے کا خدشہ ہو، توڈیکوائے طریقۂ کار اپنایا جاتا ہے،دشمن یا حملہ آوروں کو دھوکہ دینے کے لیے مرکزی طیارہ بظاہر معمول کے مطابق روانہ کیا جاتا ہے جس میں صحافی یا عملہ سوار ہوتا ہے بعد میں طیارہ تبدیل کردیا جاتا ہے،تاہم صدر کے سفر کی عملی سکیورٹی تفصیلات انتہائی حساس ہوتی ہیں، اس لیے ان کے تمام طریقے عوامی طور پر معلوم نہیں کئے جاتے۔
صدر ٹرمپ کاطیارہ تبدیل کرنا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ امریکی صدور کی تاریخ میں خفیہ سفر، متبادل طیاروں، ڈیکوئے ایئر کرافٹ اور اچانک راستہ تبدیل کرنے کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ماضی میں امریکی صدور افغانستان، عراق اور یوکرین جیسے جنگ زدہ علاقوں کا خفیہ انداز میں سفر کر چکے ہیں۔ سابق صدر بل کلنٹن کا پاکستان کاسفر سب کو یاد ہوگاہے۔ صدرٹرمپ کے موجودہ واقعے کی سب سے اہم تاریخی مثال سابق صدر Bill Clinton کا 2000 میں پاکستان کا سفر ہے۔مارچ 2000 میں کلنٹن نے جنوبی ایشیا کا دورہ کیا تھا۔ پاکستان اس وقت انتہائی حساس سکیورٹی ماحول میں تھا اور امریکی صدر کے اسلام آباد جانے کے حوالے سے سکیورٹی خدشات موجود تھے۔کلنٹن کے لیے ایک غیر نمایاں گلف اسٹریم 3طیارہ استعمال کیا گیا جبکہ ایک دوسرے طیارے نے Air Force One کے طور پر سفر جاری رکھا۔ اس طرح یہ معلوم کرنا مشکل تھا کہ صدر حقیقت میں کس طیارے میں موجود ہیں۔
امریکی صدور کےلئے جنگی علاقوں کے دوروں میں بھی خفیہ سفری انتظامات کئے گئےہیں۔ صدرٹرمپ کا حالیہ واقعہ بھی تاریخی مثالوں سے ملتا ہے۔ صدر ایک طیارے کے بجائے دوسرے طیارے میں سفر کریںتوبذاتِ خود یہ خطرے کا ثبوت نہیں۔ اصل غیر معمولی بات تب ہوتی ہے جب طیارہ کسی مخصوص انٹیلی جنس خطرے کی وجہ سے آخری لمحے میں تبدیل کیا جائے اور اس تبدیلی کو خفیہ رکھا جائے۔
ٹرمپ کا 2026 کا واقعہ اس سلسلے کی جدید ترین اور شاید سب سے غیر معمولی مثالوں میں سے ایک ہے۔ یہاں صدر کو Air Force One سے خفیہ طور پر ایک دوسرے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا جبکہ Air Force One کو decoy کے طور پر آگے بھیجا گیا۔
صدرٹرمپ کے لیے خود ایران اور مسلسل خطرے میں ہونے کا احساس ایک مستقل حقیقت ہے۔خبروں کی ویب سائٹ ’’سیمافور ‘‘کے مطابق صدر اکثر اس بات پر غور کرتے ہیں اور مذاق بھی کرتے ہیں کہ وہ قتل ہو سکتے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرمپ نے کہا تھا کہ’ ’کسی نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ صدر بننا اتنا خطرناک ہے اور اگر بتایا ہوتا تو شاید میں انتخاب ہی نہ لڑتا ‘‘!!!!!!



