Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

تاریخ کی تذکیر و تانیث اور ناول ’’ہر ایک جنم کی جانما‘‘

شہر بہاولپور دوستوں ،دلداروں اور پیاروں کا شہر ہے ۔ قیام پاکستان سے پہلے یہ ایک خودمختار ریاست ہوا کرتا تھا۔برصغیر کی خود معاملہ ریاستوں کی خود مختاری اگرچہ تاج برطانیہ کی سیاسی حکمت عملیوں اور تاج کے عہدے داروں اور اہلکاروں کی نگاہ غلط انداز کی پابند ہوا کرتی تھی،پھر بھی والیان ریاست کو رعایا کے ساتھ کچھ بھی کر گزرنے کی اجازت اور آزادی عام تھی۔ اس آزادی کا سب سے زیادہ استعمال ریاست کی بوجہ حسن و جمال حرماں نصیب حسیناؤں پر ہوتا تھا کہ جن کو نواب یا والی ریاست کے حرم میں قید کر کے رکھ دیا جاتا تھا۔شاید مرد حکمران اپنے آقاؤں کے ہاتھوں ملنے والی ذلت اور ہزیمت کا انتقام انہی پابند حرم کنیزوں سے لے کر خود کو طاقتور سمجھنے کا نشہ کرتے ہوں اور یوں مسرور ہوتے ہوں۔؟ اب بہاولپور نہ کوئی ریاست ہے اور نہ ہی اب کوئی حرم باقی رہ گیا ہے ۔اب جو کچھ بھی ہے ،وہ تاریخ کے سینے میں بند ، تحریر کے آئینے میں عیاں اور تقریر کے آہنگ میں شنیدہ ہے۔اب بہاولپور صرف ایک شہر ہے، جو اب بھی اپنے ماتھے پر تاریخی محلات،فقید المثال مساجد اور وسیع و عریض تعلیمی اداروں کا جھومر سجائے بیٹھا ہے۔ ریاست بہاولپور کے احوال و واقعات، قصے کہانیاں، کہنیاں اور کہہ مکرنیاں ، سچے جھوٹے مفروضے اور معروضے ؛ سب ایک دھند ، ایک کہر اور کبھی کبھار ایک بڑے بادل کی طرح ریاست بہاولپور کی تاریخ ، تہذیب ، ثقافت اور سیاست پر چھائے رہتے ہیں۔ ریاست بہاولپور کا سیاسی ماڈل تاج کی غیر مشروط اطاعت پر مبنی تھا،اس اطاعت کے بعد ضبط نفس کا اہتمام وہ مقامیوں سے لیتے رہے،والیان ریاست تاج کی نیابت کے عوض ملازمت میں مگن اور خوش تھے۔ریاست بہاولپور کا خود کو سرکار انگلشیہ کے حضور اطاعت کے لیے پیش کرنے کی وجوہ میں ایک طرف سے سندھ تو دوسری طرف سے راجہ رنجیت سنگھ کے پنجاب کی طرف سے لاحق خطرات تھے۔ اور برصغیر کی تاریخ باور کراتی ہے کہ جب انگریز کسی ریاست ، علاقے یا نظریے کی حفاظت کا ذمہ لے لیتے ہیں تو پھر اس ریاست ، علاقے یا نظریے کو سوائے انگریزوں کے ؛ کسی اور سے خطرہ نہیں رہتا۔ محمد حفیظ خان کا ناول’’ہر جنم کی جانما‘‘ ریاست بہاولپور کی تاریخ اور تاریخ سے جنم لینے والی طرز ؛ یعنی ثقافت کا آیئنہ معلوم ہو رہا ہے۔اُردو ناول نگاری تاریخ کو فکشن بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی، یہ بالکل ویسی بات ہے جیسے ہمارے چنیدہ مورخین فکشن کو تاریخ بنانے میں ید طولی ، مہارت تامہ اور دسترس کامل رکھتے ہیں۔لیکن ہر جنم کی جانما ایک مکمل ناول ہے ، جس کے زندہ اور متحرک کردار ،جس کی متوازی کہانیاں اور جس کی فراست آفرینی اس کی معنی خیزی اور ناول کے اندرونی کلچر کو متاثر اور مستحکم کرتی دکھائی ہیں۔ریاست بہاولپور کے بہت سے احوال کا ذکر دوست احباب زیر لب مسکراتے ہوئے کرتے تھے، بعض رسمیں ، بعضے رواج بھی حیران کر دیتے۔ اب اس ساری دھند کو ہٹا کر ، یعنی ناول کو کھول کر ریاست بہاولپور کی سیاست، تاریخ ، تہذیب ،ثقافت اور معیشت و معاشرت کے مناظر اور مظاہر کو دیکھا، سمجھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ ناول نگار حفیظ خان یقینی طور پر بے حد خوش خوراک ہوں گے ،تبھی تو اس ناول میں وہ انواع و اقسام کے ذائقوں سے آشنا اور کمال درجے کے لذت شناس معلوم ہو رہے ہیں۔ عورت کے بیان ِحسن اور انتہائے کشش کو لذت اور ذائقوں کے پیرائے میں بیان کرنا ناول نگار کے مشاہدے کی وسعت اور تجربے کے تنوع کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے۔ایک عورت کے بیانِ حسن کی کیفیت دیکھیں: …حیرت تھی کہ کوئی عورت اتنی چٹی چٹور، اتنی خوشبو دار اور لذیذ بھی ہو سکتی ہے کہ جیسے حسینہ تھی۔ بالکل اُس کھیرنی کی طرح کا ذائقہ تھا کہ جسے اُس کی ماں پوہ ماگھ کی سرد راتوں میں کھانڈ اور کیوڑا ڈال کر گائے کے ملائی والے دودھ میں بناتی اور ساری رات باہر چھکے میں لٹکا کر صبح صبح اُسے کھانے کے لیے دیتی۔ ۔۔ایسے ہی ایک خیال آیا،کہ پوہ ماگھ کی کھیر ،جسے ساری رات چھکے میں لٹکا کر رکھا گیا ہو ؛ وہ تو ٹھنڈی ٹھار ہوتی ہو گی ، اور یہاں ناول نگار کی طرف سے جس ” ڈش” کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے وہ تو گرما گرم ،بلکہ دھواں اٹھ رہا ہو ،تب لطف دیتی ہے۔اور پھر جب اسی بلاخیز عورت کے حسن سے بے زاری ہوئی تو کھٹی دہی کی ہمک بھی اسی حسینہ سے آنے لگی تھی۔ اسی طرح ایک اور جگہ ایک نسائی کردار کے نشیب و فراز کو بیان کرتے ہوئے شکر ملے میدے کو خمیر لگا کر بنائی جانے والی ڈولی کی روٹی کے ذکر و ذائقے کے ساتھ یکساں طور بیان ہو رہا ہے۔…ماں نے تو لڑکیوں کے جسم کو خمیر چڑھنے کی بات بھی کی تھی۔ تو کیا کپڑے بدن کو خمیر چڑھنے کے سبب تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا ہاتھ بے اختیار اپنے سرین پر چلا گیا ، ڈرتے لجاتے ہلکا سا دبایا تو وہ تازہ دھنکی ہوئی روئی سے بھرے ہوئے سرہانے جیسا لگا۔ اُسے ڈولی روٹی یاد آگئی جسے بنانے کے لیے اُس کی اماں شکر ملے میدے کو خمیر کی جاگ لگا کر پہلے پھولنے کے لیے رکھ دیتی اور پھر اُن کی پھولی پھولی سی ڈولیاں گھی میں تل لیتی۔۔۔ناول میں عورت کے حسن کو اتنے مختلف اور متنوع ذائقوں اور پیمانوں سے ناپنے کے باوجود عورت اور اس کا حسن دونوں
محروم ِآرزو دکھائی دیتے ہیں۔کیا عورت ایک ریاست کی علامت ہے؟ یا تاریخ بجائے خود تانیثیت کی دکان ہوا کرتی ہے؟ بظاہر تاریخ کی بے رخی کے مردانہ مظاہر بھی اس کی تانیثیت کو چھپائے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔اس عہد کی حسین عورت: جو اپنے اوپر متصرف کرداروں کی وجہ سے ہمیشہ اپنے حسن کی بلاخیزیوں سے نا آشنا رہتی ہے ؟کیاعورت اپنی اقلیم حسن وجمال کے کلید بردار ، راز دار اور محافظ مرد کے لیے بھی بے سود رہتی ہے؟ …مرد عورت کے لیے جیتا کم اور مرتا زیادہ ہے، مرد کے واسطے موت عورت ہی کا کوئی روپ ہے یا عورت ہی موت کا دوسرا نام ، عورت جتنی حسین ہوگی ، موت اُتنی ہی کریہہ اور اذیت ناک ہوگی ، موت کبھی بدصورت عورت کا روپ نہیں دھارتی، ہمیشہ حسن کے تانیثی لبادے میں گھات لگا کر مارتی ہے۔ یہاں ناول دو طرفہ الم نصیبی کا منظر سامنے پیش کر رہا ہے۔ریاست کی خود رو کلیاں اور ریاست کے تناور درخت کیوں بہار کے موسم کا سامان نہیں بن سکے؟ شاید اس لیے کہ ریاست پر مسلط، متصرف یا قابض حکمرانوں کی نحوست رعایا کے لیے وبال اور حرماں نصیبی کے سامان پیدا کرتی رہتی ہے۔ ہم پاکستانی اپنے والیاں ریاست یا حکمرانوں کے بیشتر اعمال و افعال کے رخ ،جواز اور مآل کو سمجھ نہیں پاتے، وجہ یہ التباس ہے کہ شاید ہم ایک آزاد و خودمختار جمہوری ریاست ہیں۔ ہمیں شاید یہ ادراک نہیں ہے کہ ہم سرکار انگلشیہ سے وفاداری کے پیمان میں آج بھی اتنے ہی پابند ہیں ،جتنی قبل از تقسیم کی بیشتر نام نہاد خودمختار ریاستیں تھیں۔ حفیظ خان کا ناول ہر ایک جنم کی جانما یہی کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔نواب فتح خان کی مسندنشینی کو بمشکل چار برس ہی ہوئے ہوں گے کہ شمالی ہندوستان میں جنگ آزادی چھڑ گئی جسے سرکار انگلشیہ نے غدر کا نام دیا۔ قریب تھا کہ ہندوستانی باشندے سلطنت انگلشیہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں لیکن اس موقع پر سرکار انگلشیہ کے بہی خواہوں نے ہر طریقے سے سرکار کی مدد کی ۔ نہ صرف فوج دی بلکہ بے تحا شا مال و اسباب بھی فراہم کیے۔ پنجاب کے رئیسوں کی خدمات حد سے گزرچکیں تو سپرنٹنڈنٹ سرسہ کا خط نواب فتح خان کو ملا جس میں کچھ مقامات پر فوج کی تعیناتی کے بارے میں کہا گیا۔ اس کے بعد جان لارنس گورنر صاحب بہادر کا خط ملا کہ پانچ سو سوار اور پانچ سو پیادے سرسہ بھجوائے جائیں۔ نواب نے نہ صرف احکامات کی تعمیل کی بلکہ جب دلی کو سرکار نے تسخیر کر لیا تو اس خوشی میں احمد پور اور بہاول پور میں گھی کے چراغ جلائے گئے، توپیں سر ہوئیں اور مبارک بادی کا خریطہ گورنر پنجاب کی خدمت میں ارسال ہوا۔ یہ وہ نواب تھا جو انگریزوں کی ریاستی معاملات میں مداخلت کے باعث اپنے والد سے بغاوت کا مرتکب ہوا تھا۔ خلق خدا سے کچھ بھی اوجھل نہیں تھا۔ اقتدار کا لوبھ، تاریخ کے پنوں میں کالک کے طور پر محفوظ ہوا۔ شاید ہمارے خطے میں تاریخ کے پنوں میں محفوظ لوبھ اور لالچ تلف ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اگر کسی ریاست کا مدارالمہام اپنے شہریوں کے حقوق اور مفادات سے لاتعلق ہو کر ؛محض اپنے اقتدار کے دوام کی خاطر کسی بالادست قوت کے سایہ ہلاکت میں رہنے میں فخر محسوس کرتا ہے ، اور اسی بنیاد پر وہ اپنے شہریوں کو انسان سمجھنے سے انکاری ہے ،تو اسے یقین ہونا چاہیئے کہ اس کا لوبھ اور لالچ تاریخ کے تاریک پنوں سمیت فنا ہو جائے گا ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button