مکہ معاہدہ مؤثر سفارت کاری، مضبوط علاقائی تعاون اور فیلڈ مارشل کی دوراندیش قیادت کا مظہر ہے، علامہ طاہر اشرفی

لاہور ( آصف اقبال ) چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے مکہ مکرمہ میں ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو پاکستان کی مؤثر سفارت کاری، مضبوط علاقائی تعاون اور فیلڈ مارشل کی دوراندیش قیادت کا مظہر قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ "بنیانٌ مرصوص” یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند مسلم ممالک کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مکہ معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور باہمی تعاون کی عملی مثال پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی جہت ملنا خطے میں استحکام، مشترکہ سلامتی اور باہمی اعتماد کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں مسلم ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ برادر اسلامی ممالک ہیں اور ان کے درمیان دفاعی و اسٹریٹجک تعاون نہ صرف تینوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ مکہ مکرمہ میں ہونے والا یہ معاہدہ مسلم امہ کے اتحاد اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ پاکستان کی سفارتی کامیابی خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے مؤثر کردار کی بھی واضح علامت ہے۔



