محسن نقوی!

محسن نقوی کا نام زبان پر آتا ہے تو ایک خوب صورت شاعر کی تصویر آنکھوں میں گھوم جاتی ہے جو محبت کی بات کرتا تھا ،گھونگریالے بال،روشن آنکھیں ،کشادہ پیشانی،شعر پڑھتا تو سماں باندھ دیتا،لفظ اس کے منہ میں ٹوٹتے نہیں تھے،لہجہ کسی ندی کی طرح شفاف،ایک خاص رخ کا شاعر تھا،محبت کی جہات کو سمجھنے والا، محبت کو ویسا ہی بیان کرنے والا جیسی محبت ہوتی ہے،محبت کی کوملتا محسن نقوی کے ہاں ایک خاص دھج کے ساتھ موجود ہے، ایسا لگتا ہے کہ محبت محسن نقوی سے اٹکھیلیاں کرتی ہے کبھی اس کے شانے پر، کبھی اس کے گھونگر یالے بالوں میں finger combing،کبھی ماتھے پر بوسہ، کبھی گال پر گال رکھ کر سو جانا،کبھی کانوں میں سرگوشیاں،محسن نقوی ان ساری کیفیات کو شعروں میں ڈھالتا رہا ،بے ضرر مگر کچھ درندوں نے اس کا قتل کر دیا،کیا اس لئے کہ وہ محبت کی بات کرتا تھا، محبت کی بات کرنے والوں کو کیوں مار دیا جاتا ہے، لوگ کہتے ہیں یہ نفرت ہے،نفرت محبت کو مار دیتی ہے، نفرت نے محسن نقوی کو مار دیا مگر محبت اُداس ضرور ہوئی مری نہیں، محبت کہاں مرتی ہے محسن نقوی آج بھی زندہ ہے اپنی کتابوں میں،وہی رسیلی باتیں، وہی عشق کی مدہوشی، وہی محبتوں کا اُچھال، وہی وصل کی بے قراری وہی ہجر کا ملال، سب کچھ وہی،ہاں محسن مر گیا، اور بوجھل دل سے ہم یہی کہتے ہیں کہ محسن نقوی زندہ رہتا تو، تو کچھ اور خوبصورت غزلیں ،لہراتی نظمیں دے جاتا، یہ ملال تو ہے مگر محبت کا سفر کب رکتا ہے یہ بار بار اہلِ دل کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ محبت ازل سے ہے ابد تک رہے گی،Sanda Streemایک hispanic شاعرہ تھی ،اس نے لکھا کہ محبت تبدیلی لاتی ہے اور معاشرہ تبدیلی نہیں چاہتا، Nerauda Pablo کہتا ہے محبت نے ہم کو بدلا تو ہم نے شاعری کی،لوگوںسے محبت سیکھی،ان کا دکھ درد جانا،آنکھ کے آنسو سے لکھی تحریر پڑھی ،بھوک دیکھی تو دل میں دَرد بھر لیا، ظلم دیکھا تو بیڑیاں پہنیں، محبت کا یہ سفر مشکل ہوتا ہے مگر اس کا نشہ کبھی اترتا نہیں،محبت کرنے والا دل نفرت نہیں کر سکتا نفرت کے خلاف لڑ سکتا ہے، پابلو کی بات آئی ہے تو پابلو سے یہ بھی پوچھ لیا جائے کہ نفرت کون کرتا ہے، ایک ترکی لوک کہانی ہے کہ ایک سلطان نے ایک لڑکی اور لڑکے کو اس لئے قتل کرادیا کہ انہوں نے اس کی اجازت کے بغیر محبت کی ،لو سن لوکبھی محبت بھی کسی کی اجازت سے ہوتی ہے کبھی کسی سے پوچھ کر کی جاتی ہے،پابلو کہتا ہے کہ جو لوگ طاقتور ہوتے ہیں وہ ہر چیز پر کنٹرول چاہتے ہیں، جذبات ا ور احساسات پر بھی ،اسی لئے سوچنا گناہ ٹہرا، سوال کرنا گناہ ٹہرا، محمود درویش نے لکھا ہے کہ ہمارا زمیندار جو زمینوں کا ملک ہے وہ خودبخود ہمارے احساسات کا مالک بھی بن جاتا ہے وہ سوچتا ہے کہ آج انہوں نے اپنی مرضی سے محبت کی تو کل اپنی مرضی سے کچھ اور بھی کر سکتے ہیں درویش کہتا ہے کہ میری ماں کو مجھ سے محبت کے لئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں اور یہی سب سے خوبصورت بات ہے، بات کہاں سے کہاں چلی آئی، معاشرے کا جبر ہے تو آپ کو محبت کی اجازت درکار ہوگی مگر معاشرہ نفرت پر اس کا اطلاق ضروری نہیں سمجھتا ،نفرت کی جا سکتی ہے اور بے دریغ کی جا سکتی ہے ،اور آپ طاقت ور ہیں اور کسی سے نفرت کرتے ہیں توکسی کا قتل کر سکتے ہیں کوئی قدغن نہیں،کوئی قانون بھی آپ کو نہیں روکے گا،بس ایک ہی شرط ہے کہ آپ طاقت ور ہوں، طاقت ور ہیں تو قانون بھی آپ کا غلام بن کر رہے گا،colonilization سے پہلے ہندوستان کا نظام بظاہر انگریز چلا رہے تھے مگر جو راج واڑے تھے یا مسلم اسٹیٹ تھیں طاقت ان کے پاس بھی تھی،راج واڑوں میں تو راجہ جی سب کچھ تھے مگر پھر بھی رعیت سے ایک رابطہ تھا مگر مسلم اسٹیٹ میں نوابین بے لگام، ان کا حکم حکمِ شاہی سے کم نہ تھا رام پور کے دربار میں ایک مسخرہ حاضرخدمت تھا لطیفے سنا رہا تھا مگر نواب صاحب کے ہونٹوں پر ہنسی کا نام تک نہیں نواب صاحب اٹھے اور کہا کہ نچلی منزل تک جاتے جاتے اگر تو نے نہ ہنسایا تو تیری گردن مار دی جائے گی،انگریز اپنا کاروبار وڈیروں، پیروں اور زمینداروں کے ذریعے چلا رہے تھے ،ان کو اختیارات بھی دے رکھے تھے۔پاکستان بن تو گیا مگر ساری طاقت وڈیروں، پیروں اور جاگیرداروں کے ہاتھ میں ہی رہی، اور وہی پاکستان کا انتظام چلاتے رہے،ان وڈیروں، پیروں اور جاگیرداروں نے اپنا نام سیاست دان رکھ لیا ،انہوں نے خود بھی حکومت کی اور آمروں اور طالع آزماؤں کے ہاتھ بھی مضبوط کئے،بھٹو نے فیک سوشلزم کا نعرہ لگایا تو انہوں نے زمینیں اپنے خاندان میں بانٹ دیںاور عوام کو بتایا کہ فیوڈلزم ختم کر دیا گیا اور عوام نے اس کو سچ جانا مگر طاقت فیوڈلزکے پاس ہی رہی وہی ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں لوٹ مار جاری رہی اور اب حال یہ ہے کہ غریب کا جینا دوبھر ہو گیا ہے،ان کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، ایک’’ محسن نقوی‘‘ ہمارے وزیر داخلہ ہیں،انہوں نے چند دن پہلے ایک بیان دیا کہ ہمارا نظام ڈھ چکاہے اوابر ہمیں چھوٹے انتظامی یونٹ بنانے کی ضرورت ہے،محسن نقوی کے اس بیان پر الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا اور سوشل میدیا پر مباحث جاری ہیں چھوٹے بڑے بتیس چینلز پر درجنوں تجزیہ نگاروں نے بات کی ہے اور محسن نقوی کو ہدفِ تنقید بنایا ہے،یہ بیان کہاں سے آیا ہے، یہ کوئی سازش ہے، کیا نظام لپیٹا جا رہا ہے، اور پھر محسن نقوی پر ذاتی حملے ،کردار کشی،پہلے یہ سمجھ لیں کہ نظام کیا ہے، کوئی سیاسی نظام عوام کو کچھ چیزیں دینے کا پابند ہے، انصاف، سستی تعلیم، صحت، امن و امان، اور روزگار، بہت زیادہ تفضیلات میں جائے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ بالا چیزیں یہ نظام دینے سے قاصر ہے، انصاف بہت مہنگا، تعلیم بہت مہنگی،سوا دو کروڑ بچے اسکولوں سے باہر،صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر،ڈرگ مافیاز دواؤں کی قیمتیں اپنی مرضی سے بڑھا دیتی ہیں،امن و امان غائب، جان و مال کا تحفظ مفقود، اور نوجوانوں کو روزگار مل نہیں رہا،مہنگائی او رٹیکسوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے،یہ محض اندازے نہیں کھلی حقیقتیں ہیں ان سے انکار ممکن نہیں،گویا نظام ڈیلیور نہیں کر رہا،اب کہا جا رہا ہے کہ محسن نقوی کے بیان پر مکالمہ کر لیا جائے،مکالمہ اچھا ہوتا ہے مگر میڈیا بکا ہوا ہے لہٰذا میڈیا سے امید نہ رکھیں کہ چینلز پر صحت مند مکالمہ ہو سکتا ہے،جولوگ حکومت میں ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ مکالمے کے لئے سب سے بہتر فورم پارلیمنٹ ہے مہذب ممالک میں سنجیدہ گفتگو پارلیمنٹ میں ہی ہوتی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پارلیمنٹ میں جو لوگ اپنے آپ کو منتخب نمائندے کہتے ہیں وہ سب کے سب فیوڈل لارڈز ہیں یا وہ انگوٹھا چھاپ جو فیوڈل لارڈز کے ایجنٹس ہیں، ان کو یا تو ہائے کہنا آتا ہے یا وہ ڈیسک بجا سکتے ہیں،پارلیمنٹ میں مافیاز بھی بیٹھی ہیں،وہ تاجر بیٹھے ہیں جو ٹیکس نہیں دیتے ،وہ اتنے مضبوط ہیں کہ ان کی ناراضی دور کرنے آرمی چیف کو جانا پڑتا ہے،اشرافیہ جو پارلیمنٹ میں بیٹھی ہے وہ اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لئے قراداد یا بل تو لے آتی ہے مگر عوامی بہبود کے لئے گزشتہ تینتیس سال سے کوئی بل نہیں آیا،ہر چند کہ اٹھارویںترمیم میں بلدیاتی انتخابات کی بات موجود ہے مگر اشرافیہ بلدیاتی انتخابات کرانے پر تیار نہیں سٹی گورنمنٹ کے نام سےاشرافیہ کا دم نکلتا ہے،اس صورتِ حال میں یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ پارلیمنٹ سے عوام کو کوئی ریلیف مل سکتا ہے،اشرافیہ کے سترہ سو خاندان جو پیر تسمہ پا کی طرح حکومت سے چمٹے ہوئے ہیں وہ اقتدار چھوڑنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں،مگر لوٹ مار کا بازار گرم ہے،ہر چند کہ فیلڈ مارشل کی بہت عزت ہے مگر فوجی جنرلز اتنے بدنام ہو چکے ہیں کہ جب بھی سیاست دانوں کی کرپشن کی بات ہوتی ہے وہ فوجی جنرلز کی کرپشن کی کتاب کھول کر بیٹھ جاتے ہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ مارشل لاءکا بھی کوئی چانس نہیں،محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ اگر نظام ٹھیک نہ ہوا تو’’کاکروچ ‘‘آئینگے اور سب کچھ بہا کر لے جائینگے،مگر مشکل یہ ہے کہ یہ سارے کاکروچ پی ٹی آئی کا نوجوان ووٹر ہے، ذرا گرفت ڈھیلی ہوئی اور یہ کاکروچ نکل آئینگے، اگر پی ٹی آئی کے ان کاکروچز کے پاس کوئی پروگرام ہوتا تو ان کو نکلنے کا موقع دیا جا سکتا تھا مگر ان کا واحد ایجنڈا تو عمران کی رہائی ہے،ادھر افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کی کاروائیاں، امریکہ ایران جنگ،بھارت کی بلوچستان میں دہشت گردی،پاکستان کی اشرافیہ ان حالات کا فائدہ اٹھاتی ہے،اور بہتری کی ہر امید پر پانی پھیر دیتی ہے،مگر یہ حالات زیادہ دیر تک چل نہیں سکتے،محسن نقوی ایک زیرک انسان ہے،اس نے یہ بیان دے کر نبض ٹٹولی ہے اور با شعور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کے بیان کی صورت میںملٹری قیادت یا establishmentنے سیاست دانوں کے سامنے اپنی بات رکھ دی ہے اور اس کے پیچھے بلدیاتی اداروں کے لئے انتخابات اور این ایف سی ایوارڈز کی reshuffling جیسے مقاصد ہیں ،توقع ہے کہ یہ مقاصد حاصل کر لئے جائینگے، مگر اصل مسئلہ تو دو خاندانوں کی حرص و ہوس کا ہے،زرداری سے جب اٹھارویں ترمیم پر بات ہوئی تو فرمایا بلاول کو وزیر اعظم بنا دو،ادھر میڈیا کہہ رہا ہے کہ مریم نواز prime minister material ہے،موروثیت متبرک ہو چکی ،لیکن ملک میں جو بے چینی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ راستے نکل آئینگے حالات بہتر ہونے کی امید کی جا سکتی ہے،کب؟ اس کا جواب دینا مشکل ہے ۔



