Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

گُدڑی کے لعل اور ہماری آرام طلبیاں!

محترمہ انجم خلیل صاحبہ کے کالم ’’گُدڑی میں لعل ایسے ہوتے ہیں!‘‘ میں لامین یامال کی محنت، جدوجہد اور کامیابی کی داستان پڑھی تو یقین آیا کہ دُنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو مشکلات کے اندھیروں سے نکل کر کامیابی کے چراغ روشن کر دیتے ہیں۔ مگر ہمارے ذہن نے فوراً اپنی گُدڑی کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ بہت تلاش کے بعد بھی کوئی لعل تو نہ ملا، البتہ ایک پرانا رومال، ٹوٹی ہوئی گھڑی، دو بے جوڑ موزے اور وہ کاغذ ضرور نکل آیا جس پر ہم نے دس سال پہلے ’’نئے سال کے ارادے‘‘ لکھے تھے۔ تب سمجھ آیا کہ ہر گُدڑی میں لعل نہیں ہوتے، کچھ گُدڑیاں صرف پرانی یادوں، ادھورے منصوبوں اور بھولے ہوئے ارادوں کا خزانہ سنبھالے رکھتی ہیں۔لامین یامال نے کم عمری میں میدانوں میں پسینہ بہایا، مسلسل مشق کی اور اپنی صلاحیت کو دُنیا کے سامنے ثابت کر دیا۔ ادھر ہماری سب سے بڑی جسمانی جدوجہد یہ ہوتی ہے کہ صبح الارم بجنے کے بعد بستر چھوڑنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ الارم بھی عجیب مخلوق ہے، روزانہ پوری اُمید سے ہمیں جگانے آتا ہے اور ہم پوری مہارت سے اسے خاموش کر دیتے ہیں۔ کبھی پانچ منٹ مزید آرام کے نام پر آدھا گھنٹہ گزر جاتا ہے، کبھی ’’بس آنکھیں بند کر رہا ہوں‘‘ کہتے کہتے وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ ہم نے آرام کو ایسی عزت دے رکھی ہے کہ اگر اسے کوئی عہدہ مل جائے تو شاید ہمارا مشیر بن جائے۔دُنیا کے کامیاب کھلاڑی اپنی فٹنس کیلئے دوڑتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں دوڑنے کا سب سے بڑا موقع تب آتا ہے جب چائے کا کپ میز پر رکھا ہو اور ہمیں یاد آئے کہ موبائل دوسرے کمرے میں رہ گیا ہے۔ ہم نے بھی ورزش کے کئی منصوبے بنائے ہیں۔ کبھی صبح کی سیر کا پروگرام بنایا، کبھی جم جانے کا سوچا، کبھی گھر میں ورزش کی جگہ منتخب کر لی۔ مگر ہر منصوبے کے راستے میں ایک طاقتور رکاوٹ آ جاتی ہے جس کا نام ’’آرام‘‘ ہے۔ یہ آرام بھی بڑا سمجھدار ہے، ہمیشہ اسی وقت آتا ہے جب ہم کوئی اچھا کام شروع کرنے لگتے ہیں۔ پھر ہم خود کو تسلی دیتے ہیں کہ اچانک تبدیلی صحت کیلئے اچھی نہیں، آہستہ آہستہ آغاز کرنا چاہیے۔کامیابی کیلئے نظم و ضبط بہت ضروری ہے، مگر ہمارا نظم و ضبط بھی اپنی الگ دُنیا رکھتا ہے۔ ہم نے وقت کی پابندی کا ایک منفرد انداز ایجاد کر رکھا ہے۔ اگر کسی تقریب کا وقت سات بجے ہو تو ہم ساڑھے سات بجے پہنچ کر کہتے ہیں کہ ’’راستے میں بہت رش تھا۔‘‘ حالانکہ راستہ صرف گھر کے دروازے سے گاڑی تک ہوتا ہے جہاں ہم بیس منٹ تک چابی، موبائل اور چشمہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری چیزیں بھی کمال کی ہیں، ہمیشہ ایسی جگہ چھپتی ہیں جہاں ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہم نے وہاں نہیں رکھا ہوگا۔ پھر ہم اعلان کرتے ہیں کہ گھر میں کوئی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہتی۔شہرت بھی ایک دلچسپ معاملہ ہے۔ دُنیا کے بڑے ستارے شہرت کے باوجود عاجزی اختیار کرتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں اگر کسی کی تصویر محلے کے کسی پروگرام میں آ جائے تو وہ چند دن کیلئے مقامی شخصیت بن جاتا ہے۔ پہلے جو شخص خود چائے بنا کر پی لیتا تھا، اب آواز لگاتا ہے کہ ’’ذرا کوئی بنا دے۔‘‘ پہلے جو ہر محفل میں عام آدمی کی طرح بیٹھتا تھا، اب خاص جگہ تلاش کرتا ہے۔ اگر اسے مائیک مل جائے تو تقریر کا آغاز ہمیشہ ’’میں زیادہ وقت نہیں لوں گا‘‘ سے ہوتا ہے، مگر سننے والے جانتے ہیں کہ اب وقت بھی جائیگا اور چائے بھی ٹھنڈی ہوگی۔ہم دُوسروں کی کامیابی کی کہانیاں بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔ کسی عظیم انسان کی محنت کا ذکر آئے تو فوراً متاثر ہو جاتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ اب اپنی زندگی بدلنی چاہیے۔ اگلے دِن نیا جوش، نئی فہرست اور نئے منصوبے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر چند دِن بعد وہی فہرست کسی دراز میں آرام کر رہی ہوتی ہے اور ہم اس کے اوپر نئے کاغذات رکھ دیتے ہیں۔ ہماری منصوبہ بندی بھی عجیب ہے، ہم کام شروع کرنے سے پہلے تیاری کی اتنی تیاری کرتے ہیں کہ اصل کام کا وقت نہیں بچتا۔ یوں ہماری محنت کا بڑا حصہ محنت کرنے کی تیاری میں صرف ہو جاتا ہے۔ہماری ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ہم حالات کو سمجھانے میں ماہر ہیں۔ کسی کی کامیابی دیکھ کر فوراً کہتے ہیں کہ ’’اس کی قسمت اچھی تھی۔‘‘ اپنی ناکامی آئے تو موسم، مصروفیات، وقت کی کمی، مہنگائی اور مصروف زندگی سب کو ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔ ہم نے بہانے بنانے میں اتنی ترقی کر لی ہے کہ اگر کبھی بہانوں کی عالمی نمائش لگے تو ہمارے پاس سب سے بڑا اسٹال ہو سکتا ہے۔ البتہ وہاں پہنچنے کے لیے بھی ہم شاید کل آنے کا وعدہ کریں، کیونکہ آج تو ضروری کام ہیں، جن میں آرام کرنا، چائے پینا اور کامیاب لوگوں کی کہانیاں پڑھنا شامل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ گُدڑی کے لعل وہی بنتے ہیں جو محنت، مستقل مزاجی اور ہمت سے اپنے خوابوں کو حقیقت بناتے ہیں۔ لامین یامال جیسے نوجوان ہمیں بتاتے ہیں کہ کامیابی کے لیے میدان میں اُترنا پڑتا ہے، صرف دُوسروں کی کامیابی پر تالیاں بجانے سے بات نہیں بنتی۔ ہمیں بھی اپنی گُدڑی میں چھپے لعل تلاش کرنے چاہییں، مگر اس کے لیے پہلے اپنی آرام طلبی سے دوستی کم کرنا ہوگی۔ ہم نے بھی ارادہ کر لیا ہے کہ اب صبح جلدی اُٹھیں گے، ورزش کرینگے اور محنت کا آغاز کرینگے۔ بس ایک مسئلہ ہے، آرام نے ابھی آخری بار بلایا ہے اور اس کی آواز میں اِتنی مٹھاس ہے کہ انکار کرنا آسان نہیں۔ آخر کامیابی کی طرف بڑھنے سے پہلے تھوڑا آرام بھی تو ضروری ہے! ہے نا!!!!

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button