Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

یمن کی آگ، ریاض کی فکر اور اسلام آباد کی ذمہ داری

تجزیہ نمائندہ خصوصی آصف اقبال
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید اتنا کہنا کافی ہوگا کہ یہاں جغرافیہ بھی سیاست کرتا ہے اور تاریخ بھی۔ یہاں پہاڑ خاموش دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے دامن میں صدیوں کی جنگیں دفن ہوتی ہیں۔ یہاں سمندر صرف تجارت کے راستے نہیں، طاقت کے راستے بھی ہیں۔ اور انہی راستوں کے درمیان ایک ملک ہے، یمن… وہ یمن جسے کبھی "عربِ سعید” کہا جاتا تھا، مگر آج دنیا اسے قحط، جنگ اور انسانی المیے کے نام سے پہچانتی ہے۔کہتے ہیں قومیں ایک دن میں برباد نہیں ہوتیں۔ پہلے سیاست کمزور ہوتی ہے، پھر ریاست کمزور ہوتی ہے، اور آخر میں عوام بے بس ہو جاتے ہیں۔ یمن کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ہزاروں برس پہلے سبا کی سلطنت اسی سرزمین پر آباد تھی۔ ملکہ سبا کا تذکرہ مذہبی روایات میں موجود ہے۔ مارب کا بند انجینئرنگ کا شاہکار تھا۔ تجارت کے قافلے یمن سے گزرتے تھے اور دنیا اسے خوشحال عرب کے نام سے جانتی تھی۔ مگر تاریخ کا پہیہ گھوما، سلطنتیں بدلیں، قبائلی اختلافات بڑھے، بیرونی طاقتیں آئیں، اور یمن رفتہ رفتہ استحکام کھوتا چلا گیا۔ادھر سعودی عرب کی داستان مختلف تھی۔ صحرا وہی تھا، موسم وہی تھا، مگر قیادت کا راستہ مختلف نکلا۔ آلِ سعود نے ریاست بنائی، تیل ملا، وسائل کو منصوبہ بندی سے جوڑا، ادارے کھڑے کیے اور ریاض عالمی سیاست کا ایک اہم دارالحکومت بنتا چلا گیا۔ آج مکہ اور مدینہ کی روحانی مرکزیت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب عالمی معیشت اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔مگر تاریخ کا ایک عجیب اصول ہے۔ خوشحالی بھی اپنے پڑوس کی بے چینی سے محفوظ نہیں رہتی۔2011ء کی عرب بہار یمن پہنچی تو لوگوں نے سمجھا کہ شاید تبدیلی آئے گی، مگر تبدیلی کے بجائے انتشار آ گیا۔ اقتدار بدلا، نظام نہ بدلا۔ محرومیاں باقی رہیں۔ حوثی تحریک مضبوط ہوتی گئی، 2014ء میں صنعاء پر قبضہ ہوا اور پھر وہی ہوا جو کمزور ریاستوں کے ساتھ اکثر ہوتا ہے؛ اندر کی لڑائی باہر کی طاقتوں کی جنگ بن گئی۔سعودی عرب اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے میدان میں آیا، ایران پر حوثیوں کی حمایت کے الزامات لگے، عالمی طاقتوں نے اپنے اپنے مفادات کا حساب رکھا، اور یمنیوں نے اپنے بچوں کی قبریں گننا شروع کر دیں۔یہی جنگ کا سب سے بڑا المیہ ہوتا ہے۔ جنگیں کبھی صرف فوجیں نہیں لڑتیں، ان کی قیمت ہمیشہ عام لوگ ادا کرتے ہیں۔مسلم دنیا نے بھی یمن کو اپنی اپنی عینک سے دیکھا۔ کسی نے اسے سلامتی کا مسئلہ کہا، کسی نے فرقہ وارانہ کشمکش قرار دیا، کسی نے علاقائی سیاست کا حصہ سمجھا۔ اجلاس بھی ہوئے، قراردادیں بھی آئیں، امن کی اپیلیں بھی ہوئیں، مگر بارود کی آواز اکثر سفارت کاری کی آواز سے زیادہ بلند رہی۔سوال مگر یہ نہیں کہ کون جیت رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہار کون رہا ہے؟ جواب صرف ایک ہے… یمن۔یہاں ایک اور سوال بھی جنم لیتا ہے۔ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟پاکستان کی خوش قسمتی یا شاید آزمائش یہ ہے کہ اس کے تعلقات ریاض سے بھی برادرانہ ہیں اور تہران سے بھی سفارتی۔ یہی توازن پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ اسلام آباد اگر چاہے تو وہ مسلم دنیا میں مکالمے کی ایک سنجیدہ آواز بن سکتا ہے۔ پاکستان نہ تو کسی جنگ کا فریق بنے اور نہ کسی محاذ کا حصہ؛ بلکہ وہ اس سوچ کا علمبردار بنے کہ مسلمان ملکوں کے اختلافات کا فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہونا چاہیے۔پاکستان کے لیے یہ صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں، یہ اس کے تاریخی کردار کا بھی امتحان ہے۔ جس ملک نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کی بات کی، جس نے اسلامی تعاون تنظیم کے فورم پر مصالحت کی آواز بلند کی، وہ اگر آج بھی خاموش رہے تو یہ خاموشی آنے والی نسلوں کے سوالوں کا جواب نہیں بن سکے گی۔اسلام آباد اگر ریاض اور تہران کے درمیان اعتماد سازی کے ہر ممکن عمل کی حمایت کرے، یمن کے لیے انسانی امداد میں اضافہ کرے، اور مسلم دنیا کو ایک مشترکہ سفارتی لائحۂ عمل پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے، تو شاید یہ اس کا سب سے بڑا سفارتی کارنامہ ہوگا۔ امن صرف ایک نعرہ نہیں، ایک مستقل سفارتی جدوجہد کا نام ہے۔آخر میں بات پھر وہیں آ جاتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقت کے بل پر نہیں ہوتا۔ کبھی تاریخ ان قوموں کو بھی یاد رکھتی ہے جنہوں نے جنگ کے زمانے میں امن کا چراغ جلایا تھا۔یمن آج بھی جل رہا ہے، ریاض آج بھی اپنی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہے، تہران آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے، اور اسلام آباد ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں خاموش رہنا بھی ایک فیصلہ ہے اور بولنا بھی۔کاش مسلم دنیا یہ سمجھ لے کہ فاتح وہ نہیں ہوتا جو دوسروں کے شہر فتح کر لے، فاتح وہ ہوتا ہے جو اپنے ہی لوگوں کے دل جیت لے۔ کیونکہ جنگیں سرحدیں بدل سکتی ہیں، لیکن صرف امن ہی تاریخ بدلتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button