Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا !

اپنے اس لافانی شعر کے دوسرے مصرعہ میں، جس کا پہلا مصرعہ آج کے کالم کا سرنامہ یا عنوان ہے، میرزا اسد اللہ غالب نے اس دنیا میں ہر شئے، ہر وجود کے فانی ہونے کے مضمون کو یوں باندھا تھا:
’’نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا‘‘
غالب کو تو بقاء اور فنا کا فرق معلوم تھا، ان کو اس کا بھرپور شعور اور ادراک تھا، لیکن ہمارے وطن پر سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے قابض عسکری طالع آزماؤں اور ان کے دل پسند اور مرغوب بد دیانت اور بدطینت سیاسی گماشتوں اور کٹھ پتلیوں کو لگتا ہے جیسے کامل یقین ہو کہ انہیں فنا نہیں ہے اور وہ ہمیشہ مسندِ اقتدار پہ قابض رہیںگے!اس کائنات کا بنانے والا، اور اسے تنظیم و نظم و ضبط سے چلانے والا، خدا تو اپنی کتابِ مبین میں یہ کہہ رہا ہے کہ جو بھی اس زمین پر ہے، یا آیا ہے، اسے فنا ہے اور بقاء ہے تو صرف اور صرف اس مالک الملک کو جس کے قبضہ میں حیات و موت ہے!اللہ کا جو فرمان ہے وہی تاریخ کا سبق بھی ہے لیکن جیسے ارضی خداؤں کو طاقت مل جانے اور اقتدار پہ قابض ہوجانے کے بعد اللہ یاد رہتا ہے نہ اس کا فرمان اسی طرح تاریخ کا سبق بھی یاد نہیں رہتا۔ لیکن تاریخ یہ بھی سبق دیتی ہے کہ جس کسی کو بھی، چاہے وہ فرد ہو یا قوم ہو، اپنی غلطیاں یاد نہیں رہتیں اور وہ ان سے سبق نہیں لیتا، یا لیتی، تو پھر تاریخ اس سے انتقام لیتی ہے اور انتقام ایسے لیتی ہے کہ فرد یا قوم اپنی تاریخ دہراتی رہتی ہے اور بار بار وہی غلطی یا غلطیاں کرتی رہتی ہے جن سے کائنات کے خالق کے اس فرمان کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ فنا اس کا مقدر ہوتی ہے!لیکن طاقت اور اقتداران ہاتھوں میں ہونا جو اس کے حقدار نہیں ہوتے اس کی بھی اپنی تاریخ ہے اور ہمارے وطنِ عزیز میں یہ تاریخ بار بار دہرائی جاتی رہی ہے اور فی زمانہ بھی دہرائی جارہی ہے ! ایک دانا کا معروف قول ہے جسے ہم نے اپنے اسکول کے زمانہ میں سنا تھا اور وہ ہمارے ذہن سے ۔ ہماری یاد دا شت سے آج تک محو نہیں ہوا ،طاقت کرپٹ کردیتی ہے اور طاقت کا بے انتہا ہونا بے انتہا کرپٹ کردیتا ہے!اور یہی ہمارے وطنِ مرحوم کی تاریخ کا سرنامہ بن گیا ہے کہ جس دن سے پاکستان کے پہلے عسکری طالع آزما ، جرنیل ایوب خان نے ،جو بعد میں خود ساختہ ؛فیلڈ مارشل ہوگئے تھے بالکل اسی طرح جیسے آج کے عسکری طالع آزما ، عاصم منیر نے راتوں رات اپنے سر پرفیلڈ مارشل کا تاج سجالیا ہے اور پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے ہیں، سیاست اور سیاسی اقتدار کے ایوان پر شبخون مار تھا اس دن سے پاکستان میں عسکری طالع آزمائی کی تاریخ نہیں بدلی اوراس کے ساتھ ساتھ نہ ہی اقتدار کی کیمیا میں سرِ مو بھی فرق آیا ہے !ہمارے ملک کی بدنصیب تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ستر برس سے زیادہ کے عرصہ میں ہر عسکری طالع آزما نے اقتدار پہ شبخون اس طمطراق کے ساتھ مارا جیسے اسے کامل یقین ہو کہ اس کے اقتدار کا سورج ہمیشہ نصف النہار پہ رہے گا اور اسے کبھی زوال نہیں ہوگا!لیکن ہماری تاریخ نے یہ سبق دیا کہ ہر طالع آزما ذلیل و خوار ہوا!ایوب خاں کو عوامی احتجاج کے بعد ان کے اپنے پسندیدہ جنرل یحییٰ نے اقتدار سے محروم کیا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے سانحہ کے بعد یحییٰ، جن کا تکبر اس مقام پہ تھا کہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ بنگالیوں کی نسل بدل دینگے، کو ان ہی کے شریکِ جرم، ذولفقار بھٹو، نے ذلت کے ساتھ ایوانِ اقتدار سے نکالا اور یحییٰ تا حیات گھر میں نظر بند رہے اور وہیں انتقال کرگئے!جنرل ضیا الحق کی موت ان کے طیارہ کے اس حادثہ میں ہوئی جس کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ اسے ان بیرونی طاقتوں کی سازش سے اڑایا گیا جن کیلئے انہوں نے پاکستان کو افغان جہاد میں آلہء کار بنایا تھا !جنرل مشرف وطن سے ذلیل و خوار ہوکے نکلے اور دبئی میں ان کی ہلاکت ایسی بیماری سے ہوئی جو لاکھوں میں کسی ایک کو لاحق ہوتی ہے !لیکن طالع آزماؤں پر قدرت کی یہ بھی لعنت ہے کہ ہر طالع آزما اس گمان کا شکار رہتا ہے کہ جو عبرتناک انجام اس کے پیشرو کا ہوا وہ اس کا انجام نہیں ہوگا !لیکن طالع آزما سے دو ہاتھ اقتدار کی بندر بانٹ میں وہ سیاسی گماشتے رہتے ہیں، اور ہماری تاریخ اس کی گواہ ہے، جنہیں عسکری آمر اپنی سہولت کیلئے مسندِ اقتدارپہ بٹھاتا ہے لیکن پردہ کے پیچھے جن کی ڈوریاں اس کے اپنے ہاتھ میں رہتی ہیں اور وہ اپنی سہولت کیلئے ان ڈوریوں کو بوقتِ ضرورت ہلاتا رہتا ہے !عصرِ حاضر کے عسکری طالع آزما، عاصم منیر، کی ہوس اقتدار کی نشاط کی کیا صورت ہے اور کیا حد ہے اس کا انداذہ تو اسی سے ہوجاتا ہے کہ انہوں نے کوئی کارنام سر انجام دئیے بغیر اپنے سر پہ فیلڈ مارشل کا تاج سجالیا۔ ان کی ہوسِ اقتدار کے یہ بھی کرشمے حالیہ زمانہ میں یہ بھی دیکھنے کو ملے کہ جب سے سامراجی گرو گھنٹال نے اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے، اور پاکستان کو ایک بار پھر ٹشو پیپر کی مانند استعمال کرنے کیلئے ان کی تعریف کی ہے وہ آپے سے باہر ہی ہوگئے ہیں اور اس کے بعد سے پاکستان کی سفارتکاری کی ذمہ داری یا توانہوں نے خود سنبھال لی ہے یا ان کا گماشتہ، محسن نقوی، جس کے ماضی پر بہت سے ٹاٹ کے پردے پڑے ہوئے ہیں، وہ اب پاکستان کے ہنری کسنجر کے روپ میں نظرآتے ہیں !عاصم منیر نے جس طرح راتوں رات 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات کا نتیجہ بدلا اور عوام کے مقبول رہنما عمران خان کو جس دیدہ دلیری کے ساتھ انہوں نے اپنے انتقام کا نشانہ بنایا ہوا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں کامل اطمینان ہے ، اطمینان ہی نہیں بلکہ یقینِ کامل ہے کہ ان کے اقتدار کا سورج بھی ہمیشہ جگمگاتا رہے گا اور اسے زوال نہیں ہوگا !عاصم منیر اپنی دانست میں اپنے پیشروؤں کی ان غلطیوں کا اعادہ نہیں کرنا چاہتے جو ان سے پہلے کے طالع آزماؤں کے زوال کا باعث بنے !مثال کے طور پہ وہ ان سیاسی کٹھ پتلیوں پہ قطعا” اعتبار نہیں کرتے جنہیں انہوں نے اپنے اقتدار کے اسٹیج پر نچانے کیلئے منتخب کیا ہے۔ اپنے وزیرِ اعظم، جن کی شہرت اور اختیار کے متعلق ایک عام پاکستانی کا بھی کہنا یہ ہے کہ ان کے پاس وہ اختیار بھی نہیں جو ایک چپراسی کا ہوتا ہے، ان کو اتنی آزادی بھی نہیں کہ وہ کہیں بیرونِ ملک کا دورہ تنِ تنہا کرلیں۔ عاصم منیر ہر جگہ، ہر بیرونی دورے پر، سائے کی طرح ان کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور شہباز کی ہر بات پر، ہر حرکت، پر عاصم منیر کی کڑی نظر رہتی ہے !لیکن چوروں کا ٹولہ جو عسکری طالع آزما کے زیرِ سایہ اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے اور اپنی تجوریاں پاکستان کو کنگال کرکے بھر رہا ہے، اس کی امنگوں کی کوئی حد نہیں ہے !فی زمانہ پاکستان کے ریاستی حلقوں میں اس بل کی بہت گونج ہے جسے سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے بغیر اس کے مضمرات پر غور و خوض کئے ہوئے اپنی منظوری سے نوازا ہے !اس بل کے تحت پاکستان کے سرکاری، نیلے پاسپورٹ، پر بھرپور چھاپہ مارنے کی نیت ہے۔ نیلا سرکاری پاسپورٹ بہت فراوانی کے ساتھ طاقتور افراد اور ہم جیسے سابقہ بیرو کریٹس کو، جو 22 گریڈ میں ریٹائر ہوئے ہوں، دیا جاتا ہے لیکن حکومت کی فیاضی کی انتہا یہ ہے کہ سابقہ اراکین پارلیمان کو بھی یہ سہولت دی جاتی رہی ہے !لیکن وہ جو غالب نے کہا تھا کہ’’ ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا‘‘ تو ہوس گزیدوں کی ہوس اب یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ سابقہ اراکینِ پارلیمان کے ان بچوں کو بھی یہ سہولت فراہم کرنے کیلئے ڈول ڈالا جا رہا ہے جن کی عمر 28 برس سے کم ہو !آپ نے غور کیا کہ یہ اٹھائیس برس کے عہدِ شباب تک کی حد کیوں مقرر کرنے کی نیت ہے ؟نیت یوں ہے کہ تعلیم تو اکیس بائیس کی عمر تک پوری ہوجاتی ہے تو ہدف یہ ہے کہ کیونکہ سرکاری نیلے پاسپورٹ کے ذریعہ دنیا کے 55 ممالک میں بغیر ویزا کے داخلہ کی سہولت حاصل ہوتی ہے اسلئے پاکستان کے بد دیانت سیاستداں، جن کیلئے سیاست تجارت کے معنی رکھتے ہیں اور سیاست میں دخیل ہونا قوم و ملک کی خدمت کے جذبہ کے تحت نہیں بلکہ اپنے مفادات کے فروغ کیلئے ہوتا ہے، نیلے پاسپورٹ کی سہولت کے ذریعہ ان ممالک میں اپنے نالائق بیٹوں کو داخل کرواسکیں جن کے ویزا کا حصول عام پاکستانی پاسپورٹ پر تقریباً ناممکن ہوتا ہے !اب آپ بخوبی سمجھ سکیں گے کہ پاکستان کے عسکری طالع آزما کی سرپرستی میں طاقت کے کھیل میں ملوث گماشتے کیوں بے چین ہیں کہ ان کی اولاد نیلے سرکاری پاسپورٹ پر سفر کرے اور اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرے !یہ ہے وہ کوڑی جو وہ پانا چاہتے ہیں! ملک کا کوئی حشر ہو، اس میں غربت بڑھتی رہے، اس پر بیرونی قرضوں کا بوجھ معیشت کی کمر توڑ دے لیکن ان کی اولاد تو بیرونِ ملک سبزہ زاروں میں رہے اور خوشہ چینی کرے !لیکن عسکری طالع آزما کو ان گماشتوں اور سیاسی مہروں سے کوئی گلہ شکوہ نہیں جب تک ان کے اپنے سر پر اقتدار کا سورج جگمگا رہا ہے !یہ چار مصرعے ہم نے اسی پس منظر میں آج کہے ہیں جو آپ کی نذر ہیں :
زمیں پہ فتح کے جھنڈے ہے گاڑنا آساں
دلوں کو جیتنا سب سے بڑی شجاعت ہے
یہ وہ سبق ہے جو تاریخ نے پڑھایا ہے
اسے نہ بھولنا اس میں بڑی کرامت ہے !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button