پمز کا سانحہ!

حادثے ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے،اس کا کوئی بھی سبب ہو سکتا ہے،اسباب مختلف ہوتے ہیں کچھ کو روکا جا سکتا ہے کچھ کو روکا نہیں جا سکتا،مگر ان حادثات کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے،زلزلے روکے نہیں جا سکتے مگر ان سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے،موسمی تبدیلیوں سے جو حادثات ہوتے ہیں ان کو کم کیا جا سکتا ہے سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کیا جا سکتا ہے، قدرتی آفات آتی رہتی ہیں مگر سائنس دان ان آفات کی شدت کو روکنے اور کم کرنے کے طریقے دریافت کرتے رہتے ہیں جو ادارے ایسی ریسرچ کرتے ہیں حکومتیں ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں اور ان کو فنڈنگ بھی فراہم کرتی ہیں،کچھ این جی اوز بھی ایسے ادروں کی مدد کرتی ہیں،یہ عمل حادثات سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے سانحات وہ ہوتے ہیں جن میں بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے ،یہ ہولناک حادثات ہوتے ہیں ،جیسے 9/11کا سانحہ جس میں تین ہزار معصوم افراد جان کی بازی ہار گئے،ذاتی نقصانات بہت دل خراش ہوتے ہیں وہ کبھی نہیں بھولتے،اور کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ ہم ان غموں کو تازہ رکھنے کے لئے اپنے ہی پرانے زخموں پر جو کھرنڈ آجاتا ہے اس کو چھیل کر زخم کو نیا کر لیتے ہیں ،یہ اذیت پسندی کہیں نہ کہیں ہمیںسکون پہنچاتی ہے کہ ہم اپنے پیاروں کے غم کو بھولے نہیں،وہ ماں جس کے پیٹ میں اس کا بچہ مر جائے وہ اس حادثے کوکیسے بھول سکتی ہے،مگر بحیثیت قوم ہمیں بھول جانے کی عادت ہوتی ہے، ہم بڑے سانحات کو بھی بھول جاتے ہیںایسے سانحات قوم کی سیاسی سماجی معاشرتی اور ثقافتی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ایسے سانحات کی یاد دہانی ضروری ہوتی ہے،غیر محسوس طریقے پر کچھ سول سوسائٹی کی انجمنیں ان سانحات کو بھولنے نہیں دیتیں ،اس دن جب حادثہ ہوا اس دن وہ اس مقام پر پھول رکھنے کا اہتمام کرتی ہیں اور افراد اس میں شامل ہو جاتے ہیں،9/11کے سانحے کودو دہائیاں بیت گئیں مگر World Trade Centerکے مقام پر اب بھی لوگ پھول رکھتے ہیں اخبارات میںاس دن کے حوالے سے کچھ خبریں اور کالم بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں،اس طرح یہ سانحہ یاد رہتا ہے ہماری سوسائٹی پر مذہب کا بہت گہرا اثر ہے،ہم وہ لوگ ہیں اس بات پر بھی مولوی سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہ فلاں کاروبار کیا جائے یا نہیں،استخارے نکالے جاتے ہیں،فال دیکھی جاتی ہے،مذہب کا بیانیہ یہ ہے کہ قدرتی آفات در اصل اللہ کیجانب سے ایک وارننگ یا انتباہ ہوتا ہے کہ معاشرہ میں اللہ کے قوانین کا تمسخر اڑایا جارہا ہے،حکم عدولی کی جارہی ہے،گناہ سرزد ہورہے ہیں ،لہٰذاقدرت تنبیہہ کرتی ہے کہ خدا کی بغاوت سے باز آ جاؤ،لہٰذا کتنا بھی بڑا حادثہ ہو یا کوئی سانحہ اسے مِن جانب اللہ ہی سمجھا جاتا ہے،اور لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ حادثہ یا سانحہ ان کے گناہوں کی سزا ہے ،اور مسجد میں بیٹھے عام لوگ ہی نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ بے شک بے شک کا ورد کرتے رہتے ہیں،اب ایبٹ آباد کا زلزلہ ہو یا 2020 کا سیلاب یا پھر پی اے ایف اسکول کا سانحہ مولوی اس معاملے پرمولوی یا تو یہی باور کراتا ہے کہ یہ سانحہ تمہارے گناہوں کی سزا ہےیا چپ سادھ لیتا ہے ایبٹ آباد زلزلے پر مولوی ٹی وی چینلز پر یہی کہتے نظر آئے کہ یہ گناہوں کی سزا ہے اور زلزلہ اللہ کے حکم سے ہی آیا ہے یہ اور بات کہ کچھ دینی جماعتوں نے امدادی کاموں میں حصہ بھی لیا ،پی اے ایف اسکول جس میں سو زائد بچے مارے گئے اس پر مولوی نے زبان نہیں کھولی کیونکہ مبینہ طور پر یہ طالبان کی کاروائی تھی آج تک مولوی صاحبان نے ملالہ پر گولی چلانے اور اس کو قتل کرنے کی کوشش کی مذمت بھی نہیں کی،بحیثیت قوم ہمیں سانحات کو بھول جانے کی عادت ہے،اور کوئی ایسا میکینزم بھی نہیں کی لوگوں کو سانحے کی یاد دہانی کرا دی جائے اور کہیں کوئی این جی او پھولوں اور موم بتیاں روشن کرنے کا اہتمام کر بھی لیں تو میڈیا طنزیہ انداز میں انہیں موم بتیوں والی آنٹیاں کہتا ہے،عوام کو سانحہ یاد بھی آ جائے تو ایک آہِ سرد بھر کر وہ یہی کہتا ہے یہ سب اللہ کے کام ہیں اور اللہ کے کاموں میں کس کو دخل،کوئی ایڈز،کینسر یا ڈینگی سے اگر کوئی مر جائے تو یہی کہا جاتا ہے کہ بس اس کی آئی تھی سو وہ چلا گیا ہر شخص کی موت کا وقت مقرر ہے کوئی نہیں کہتا کہ یہ medical conditionsتھیں جس کی وجہ سے اس شخص کی موت واقع ہوئی اگر جگر جواب نہ دیتا،اگر گردے فیل نہ ہوتے اگر دل کی شریانیں بند نہ ہوتیں تو وہ شخص زندہ رہتا ،وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو اسی نوے سال کی عمر تک زندہ رہتے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ ان کی medical conditions نہیں ہوتیں جب ہو جاتی ہیں تو وہ مر جاتے ہیں،پمز میں چند دن پہلے ہولناک آتش زدگی میں چودہ نومولود بچے زندہ جل گئے جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں اس وقت بھی میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں یہ دل دوز واقعہ تھا ،چودہ معصوم نو مولود جن کی عمریں چند دن کی تھیں،کلیجہ کانپ جاتا ہے،پمز اسلام آباد کا سرکاری ہسپتال ہے، جس کا بجٹ اربوں روپے ہوتا ہے،ایک بڑا سیٹ اپ ہے اس ہسپتال میں گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر اور کے پی سے لوگ علاج کے لئے آتے ہیں،ان میں عام طور پر غریب لوگ ہوتے ہیںجو پرائیویٹ ہسپتال کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے،خبر کے مطابق صبح سات بجے سے قبل گائینی وارڈ میں آگ لگی اور چند منٹوں میں آگ بہت تیزی سے پھیلی اور دیکھتے دیکھتے چودہ معصوم بچے جل کر راکھ ہو گئے ایک نرس صرف ایک بچہ بچا سکی، اس کو اتنا وقت نہ مل سکا کہ وہ دوسرے بچوں کو بچا سکتی،یہخبر ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی،اور لوگ سکتے میں آ گئے،اسلام آباد میں ایسا بڑا سانحہ،چودہ بچے جل گئے ،کیسے جل گئے، کیوں جل گئے، بچایا کیوں نہ جا سکا،بچانے کے انتظامات کیوں نہ تھے ،کون ذمہ دار ہے،ہسپتال کی انتظامیہ کیا کررہی تھی، آگ بجھانے کے مناسب انتظامات کیوں نہ تھے،خوف و ہراسانی،الیکٹرانک میڈیا کو پرگرام کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ،جن صحافیوں نے کبھی کوئی خبر بریک نہیں کی وہ بھی چیخ رہے تھے،بھانت بھانت کی بولیاں ،میڈیا میںذرائع کی بھر مار،کیونکہ خبروں پر کوئی کنٹرول نہ تھا، بہت سی قیاس آرائیاں،ہزاروں سوال اور سینکڑوںفیک نیوزایک اندازے کے مطابق ستر سے زائد چھوٹے بڑے چینلز نے رات دن پروگرام کئے،ان پروگرامز کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے،،دو پروگرام میری توجہ کا مرکز بنے ایک اے آر وائی پر، معروف اینکر کامران خان کا پروگرام On my radar،کامران خان ایک عرصے سے الیکٹرانک میڈیا سے متعلق ہیں ،کچھ خبریں بھی بریک کیں، حکومت کے بھی منظور ِنظر رہے،حکیم سعید قتل کیس کو ہینڈل کرنے پر ان پر شدید تنقید ہوئی،آج کل اے آر وائی نیوز پر نکتہ کے ڈائیریکٹر ہیں ،انہوں نے اپنے پروگرام میں ڈاکٹر عروج کو مدعوکیا تھا ڈاکٹر نے کہا کہ پمز ہسپتال کا سانحہ سوفی صد preventable تھا ڈاکٹر عروج کچھ اور بھی کہنا چاہ رہے تھے مگر ان کی بات پوری نہیں ہونے دی گئی،اے آر وائی کی ایک اور اینکر ماریہ میمن ہیں،ماریہ میمن نے اپنے پروگرام میں پمز سانحے پر تبصرے تجزئیے کےلئے دو سیاست دانوں کو مدعو کیا، مجھے نہیں معلوم کہ پمز حادثے پر بات کرنے کے لئے سیاست دانوں کو کیوں مدعو کیا کیا َ؟کیا سانحے کو متنازعہ بنانا مقصود تھا ْ ؟یہ وہ میڈیا ہے جو Covid 19 کے زمانے میں pandamicپر بات کرنے کے لئے مولویوں کو بلایا جو عوام کو بتاتے رہے کہ pandamic کا علاج دعاؤں سے کیا جا سکتا ہے ،لہٰذا میڈیا سے کوئی امید نہ رکھی جائے،جیو سمیت متعدد بڑے چینلز نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے انٹر ویوز کئے جن سےتاثر ملا کہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مصطفے کمال بے قصور ہیں،مصطفے کمال نے کہا ہے کہ جیسا ملک چل رہا ہے ویسے ہی ہسپتال چل رہے ہیں،مصطفی کمال نے یہ بھی کہا کہ جب وہ حلف لے رہے تھے اس وقت ان سے کہا گیا تھا کہ پمز کی طرف مت دیکھنا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ پمز کی انتظامیہ کو نہ تو برطرف کر سکتے ہیں نہ کوئی نیا سربراہ مقرر کر سکتے ہیں مصطفی کمال نے یہ بھی کہا کہ سب برے ہیں تو اچھا کہاں سے لاؤں،ایک ویڈیو میں ایک خاتوں سے مصطفی کمال نے بد زبانی بھی کی،مظہر عباس مصطفی کمال کو مارجن دے رہے ہیں کہ مصطفی کمال کا بات چیت کرنے کا یہی ڈھنگ ہے حکومت نے تین تین کمیٹیاں بنا دی ہیں وزیر اعظم نے پمز کے آٹھ افراد کو برطرف نہیں کیا صرف چار ماہ کے لئے معطل کیا ہے،جن میں ڈاکٹر رانا عمران سکندر،ڈاکٹر رضوان تاج،ڈاکٹر اقبال درانی،ڈاکٹر عنیزہ جلیل،اور ڈاکٹر ارم نوید شامل ہیں، یہ سب طاقت ور لوگ ہیں ،سانحہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج غائب ہے ایک گارڈ اور دو نرسوں کو بھی معطل کر دیا گیا حالانکہ کہا گیا کہ ان پر فوجداری مقدمات قائم ہونگے،مگر لگتا ہے کہ سب کو بچا لیا جائیگا، یہ ملک ایلیٹ کا ہے کابینہ میں مبینہ طور پر گندم مافیا، کھادمافیا ،آئل مافیا ، دوا مافیا، شوگر مافیا بیٹھی ہوئی ہے ، سنا ہے دینی جماعتوں نے بھی اس ہسپتال میں درجنوں کارکن ملازم رکھے ہیں،اسی لئے اس سانحے پر مولوی مافیا خاموش ہے اور ہمدردی کا ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکلا، حکومت کو معلوم ہے کہ چار ماہ میں عوام اس سانحے کو بھول جائے گی میڈیا کو منع کر دیا جائے گا کہ اس کیس کا فالو اپ نہیں ہونا چاہیئے،جلنے والے بچے غریبوں کے بچے تھے امیروں کےبچے اس ہسپتال میں نہیں آتے،غریب کب تک شور مچائیں گے۔ سنا ہے کہ حکومت ہر بچے کے وارثین کو پانچ پانچ لاکھ دے گی اور زبانیں بند ہو جائینگی،ایک خبر یہ بھی کہ اعلان ہوا ہے کہ کوئی عورت اگر زچگی کے لئے پمز میں آنا چاہتی ہے تو سارے نتائج کی ذمہ داری اسی کی ہوگی ہسپتال ذمہ دار نہ ہوگا،مصطفی کمال ٹھیک کہتا ہے کہ جیسے یہ ملک چل رہا ہے اسی طرح یہ ہسپتال بھی چل رہے ہیں،سوگ منائیے مگر سوگ بھی کب تک ؟یہ ملک ایلیٹ کا ہے اور ملک کو لوٹنے کا اس کو حق ہے کیونکہ وڈیرہ شاہی میں حکم وڈیرے کا ہی چلتا ہے۔



