جنگ کیو ں روکی؟؟؟

تقریباً 5ماہ سے مشرقِ وسطیٰ عالمی سیاست کا مرکز بناہواہے ۔ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لا کر کھڑا کردیا۔ فضائی حملے، میزائل کارروائیاں، ڈرون حملے اور سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ صورتحال کسی بھی وقت ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اب شدید فضائی حملوںاور جوابی حملوں کے بعد سوال یہ پیدا ہوگیاکہ اگر جنگ اتنی شدت اختیار کر چکی تھی تو پھر اسے محدود کرنے یا روکنے کی کوشش کیوں کی گئی؟مسلسل فضائی حملے، میزائل دفاع اور بحری کارروائیوں نے دونوں جانب بڑے مالی اور عسکری وسائل استعمال کئے، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد بھی کئی مواقعوں پر لڑائی میں وقفہ یا جنگ بندی کی کوششیں سامنے آئیں۔ اگرچہ مختلف اوقات میں فائر بندی یا حملوں میں عارضی کمی دیکھی گئی لیکن کئی بار یہ معاہدے ٹوٹ بھی گئے۔ عالمی معیشت پر دباؤاور آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی تیل کی منڈیوں کو متاثر کیا،مہنگائی میں اضافہ اور توانائی کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ نے عالمی طاقتوں کو جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر مجبور کیااور پھربین الاقوامی ثالثوں نے متعدد مواقع پر مذاکرات کی کوشش کی تاکہ جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ میں نہ پھیل جائے۔ اسی وجہ سے بعض اوقات حملوں میں وقفہ اور عارضی جنگ بندی دیکھنے میں آئی تھی، اگرچہ کہ بنیادی اختلافات اپنی جگہ بدسطوربرقرار رہے۔
مسلسل دھمکیوں اور بیانات کے بعد اچانک صدر ٹرمپ نے جنگ مؤخر کردی اور دوسری طرف ’’پنسلوانیا ڈیفنس اینڈ انوویشن سمٹ‘‘ جس میں امریکہ کی چند بڑی دفاعی کمپنیوں کے اعلیٰ ترین عہدیدار موجود تھےخطاب کیا اور کہا’’مزید ہتھیار بناؤ، اور جلدی بناؤ‘‘اس موقع پرصدر ٹرمپ نے امریکی دفاعی کمپنیوں پر زور دیا کہ’ ’تھوڑی اور زیادہ رفتار درکار ہے‘‘۔امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے مگر جدید جنگیں صرف طاقت سے نہیں جیتی جاتیں۔ ایک جدید میزائل، فضائی دفاعی نظام یا جنگی طیارے کی ہر کارروائی پر لاکھوں بلکہ بعض صورتوں میں کروڑوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق مسلسل حملوں سے نہ صرف اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ جدید ہتھیاروں کے ذخائر بھی تیزی سے استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی دوبارہ تیاری میں مہینوں یا بعض اوقات کئی سال لگ سکتے ہیں۔امریکہ میں میزائلوں کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے نافذ ہونے تک امریکی افواج ایران بھر میں 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکی تھیں۔ اسی عرصے کے دوران امریکی فضائی دفاع کے نظاموں نے 1700 سے زیادہ ایرانی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا۔ اندازے کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران 1000 سے زیادہ ٹوماہاک میزائل فائر کیے گئے اور امکان ہے کہ سنہ 2031 تک اُن کا ذخیرہ ایران جنگ سے پہلی والی سطح پر واپس نہیں آ سکے گا۔سی ایس آئی ایس کے مطابق ٹی ایل اے ایم کے جدید ترین ماڈلز کی قیمت تقریبا 26 لاکھ ڈالر فی میزائل ہے۔جنگ میں استعمال ہونے والے فضائی دفاع کے نظاموں میں سب سے زیادہ استعمال پیٹریاٹ کا ہوا ہےیہ زمین سے فائر کیا جانے والا میزائل ہے جو طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور کروز میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔تنازع کے دوران تقریباً 1430 پیٹریاٹ میزائل استعمال کیے گئے جبکہ جنگ سے پہلے اُن کا ذخیرہ تقریباً 2330 میزائلوں پر مشتمل تھا۔ ایک پیٹریاٹ انٹرسیپٹر کی قیمت تقریباً 40 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ یہ ایک مہنگا لیکن مؤثر ذریعہ ہے جسے بارہا اُن ایرانی ڈرونز کو مار گرانے کے لیے استعمال کیا گیا، جن کی قیمت محض 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان تھے۔
اب امریکہ نے مذاکرات کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کے لیے ایران پر حملے روک دیئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو مشورہ دیا گیا تھا کہ تنازعہ کو مزید بڑھانے کے منصوبے ترک کر دیئے جائیں کیونکہ اس سے امریکی گولہ باردو کے ذخائر مزید کم ہو جائیںگے۔
سی ایس آئی ایس کے سینئر مشیر مارک کینسیان کہتے ہیں کہ ’یہ گولہ بارود کی نوعیت پر منحصر ہے لیکن ایک میزائل بنانے میں ایک سے پانچ سال لگ سکتے ہیں اور اس عمل کو تیز کرنے کے لیے آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔انھوں نے کہاایک میزائل تیار کرنے میں کئی سال لگتے ہیں۔ اگر آپ آج سرمایہ لگائیں تو بھی آپ کو تین یا چار سال تک میزائل نہیں ملے گا، کبھی کبھی پانچ سال بھی لگ سکتے ہیں۔ جو میزائل ہمیں اب مل رہے ہیں، ان کے لیے سرمایہ سنہ 2023 میں فراہم کیا گیا تھا۔‘کینسیان ہتھیاروں کے ذخائر میں اس کمی کو کمزوری قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر بحرالکاہل میں تنازع پیدا ہو جائے تو امریکہ کے پاس مطلوبہ گولہ بارود کی مناسب مقدار نہیں ہو گی۔تاہم صدرٹرمپ نے اس بات کی تردید کی کہ امریکی اسلحے کے ذخائر میں کوئی کمی نہیںآئی ہے۔ انھوں نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کی’’ہمارے پاس دنیا میں کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ گولہ بارود موجود ہے، جوہماری ضرورت سے بھی کہیں زیادہ ہے۔‘‘
متعدد معتبر تجزیوں کے مطابق امریکہ کے بعض اہم میزائلوں کا ذخیرہ دباؤ میںضرور آیا ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ امریکہ کے پاس میزائل ختم ہو رہے ہیں۔بعض دفاعی ماہرین کی رائے ہے کہ اصل تشویش یہ ہے کہ اگر بیک وقت ایک اور بڑا تنازعہ بحرالکاہل کے خطے میں پیدا ہو جائے تو محدود ذخائر دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ ان جدید میزائلوں کی تیاری میں برسوں لگ سکتے ہیں۔اس لیے نتیجہ یہ ہے کہ امریکی میزائلوں کا ذخیرہ کم ضرور ہوا ہے لیکن امریکہ کے پاس اب بھی خاطر خواہ صلاحیت موجود ہے جبکہ ساتھ ہی وہ تیزی سے پیداوار بڑھانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
اگر دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں براہِ راست سفارتی مذاکرات میں پیش رفت ہو تو خطے میں نسبتاً استحکام پیدا ہوگابصورتِ دیگر معمولی واقعہ بھی ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت پر مرتب ہوں ۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ اس لیے موجودہ سکون کو مستقل امن قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی نازک ہے اور آنے والے مہینوں میں سفارت کاری، علاقائی سیاست اور عالمی طاقتوں کے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ تنازعہ مذاکرات کی میز تک پہنچتا ہے یا ایک بار پھر میدانِ جنگ کا رخ کرتا ہے۔ کیونکہ جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سفارت کاری اور عام شہریوں کی زندگیوں تک پہنچتے ہیں اسی لیے دنیا کی بڑی طاقتیں بڑی جنگو ں سے دو ر رہنے کی کوشش کرتی ہیں۔



