پاکستان کی زین جی: آنکھوں پر پٹی، پاؤں میں دائرہ ایک نسل کیوں اور کیسے فکس کر دی گئی؟

ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کریں۔ایک بچی کا تصور کریں جو صبح چار بجے اٹھتی ہے۔ اندھیرا ابھی گہرا ہے۔ گھر میں سب سو رہے ہیں۔ وہ کچن میں جاتی ہے، پانی پیتی ہے، اپنی کتابیں کھولتی ہے اور پڑھنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ کوئی ایک دن کی بات نہیں۔ یہ تین سال کا معمول ہے۔ تین سال کی وہ محنت جو خواب سے نہیں بلکہ لہو سے بنتی ہے۔ اس کے والد نے اپنی پنشن لگائی، ماں نے زیور بیچا، بھائی نے اپنی ضرورتیں مار لیں تاکہ یہ ایک امتحان دے سکے، ایک امتحان جو ڈاکٹر بنائے گا، جو اس پورے گھرانے کی تقدیر بدل دے گا، جو اسے صرف اپنے شہر نہیں بلکہ دنیا کے دروازے تک پہنچائے گا۔اور پھر نتیجہ آیا۔اور نتیجے میں پتہ چلا کہ جو سوالات اس نے ان تین سالوں میں حل کیے تھے وہ کسی نے پہلے ہی خرید لیے تھے۔ پیسوں میں۔ رات کی تاریکی میں۔ کسی کے گھر کی روشنی بچھانے والی نے جو پیسے کمائے وہ کسی اور کی تاریکی خریدنے میں خرچ ہو گئے۔یہ صرف ایک بچی کی کہانی نہیں ہے۔ یہ بیس لاکھ کہانیوں کا خون ہے جو جولائی 2024 میں بھارت کی سڑکوں پر بکھر گیا۔میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، اور یہ سوال میں خاص طور پر پاکستان کے اس نوجوان سے پوچھنا چاہتا ہوں جو یہ سطریں پڑھ رہا ہے۔کیا آپ نے کبھی غصہ محسوس کیا ہے؟وہ غصہ جو اس وقت آتا ہے جب آپ جانتے ہیں کہ ظلم ہو رہا ہے مگر آپ کچھ نہیں کر سکتے؟ وہ غصہ جو اس وقت آتا ہے جب آپ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے محنت کی وہ ہارتے ہیں اور جن لوگوں نے جگاڑ لگائی وہ جیتتے ہیں؟ وہ غصہ جو اس وقت آتا ہے جب آپ سمجھتے ہیں کہ یہ نظام ہمیں نہیں بدلنا چاہتا کیونکہ اگر یہ بدل گیا تو وہ لوگ کیا کریں گے جن کی پوری طاقت اسی نظام کی خرابی پر قائم ہے؟یہ غصہ آپ کو کمزور نہیں بناتا۔ یہ غصہ وہ شعلہ ہے جس سے تاریخ بدلتی ہے۔بھارت کے نوجوانوں نے وہ شعلہ روشن کر دیا ہے۔بھارت میں نیٹ کا امتحان صرف ایک امتحان نہیں ہے۔ یہ کروڑوں خوابوں کا دروازہ ہے۔ بیس لاکھ نوجوان ہر سال یہ امتحان دیتے ہیں۔ ان بیس لاکھ میں سے صرف ایک لاکھ کو منزل ملتی ہے۔ اور اس ایک لاکھ کا حاصل ہونا پورے گھرانے کی زندگی بدل دیتا ہے۔ یہ پاکستان کے سی ایس ایس جیسا ہی معاملہ ہے مگر کہیں زیادہ وسیع، کہیں زیادہ گہرا کیونکہ یہ صرف سرکاری نوکری کا نہیں بلکہ کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، یورپ جانے کا پاسپورٹ بھی ہے۔ایک ڈاکٹر بیٹا یا بیٹی پورے خاندان کا مستقبل بدل دیتی ہے۔ بھائیوں کی تعلیم، بہنوں کی شادی، والدین کا بڑھاپا، سب کچھ اس ایک امتحان سے وابستہ ہوتا ہے۔اور جب پتہ چلا کہ یہ امتحان بک گیا ہے، کہ جن لوگوں کے پاس پیسے تھے انہوں نے سوالات خرید لیے، کہ میرٹ نہیں مال کام آیا، تو وہ آواز اٹھی جو صدیوں میں ایک بار اٹھتی ہے۔وہ آواز کروڑوں سینوں سے ایک ساتھ نکلی۔اور پھر وہ ہوا جوالفاظ بعض اوقات ہتھیار بن جاتے ہیں اور بعض اوقات وہی الفاظ بومرنگ بن کر پھینکنے والے کے سینے میں واپس آ لگتے ہیں۔ بھارت میں کسی نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو حقارت سے کاکروچ کہا ہوگا، ان کیڑوں سے تشبیہ دی ہوگی جو اندھیرے میں چھپتے ہیں اور روشنی سے ڈرتے ہیں۔ اور نوجوانوں نے وہی لفظ اٹھایا، اپنے سینے پر سجایا، اپنی تحریک کا نام بنا لیا، اور پھر ثابت کر دیا کہ کاکروچ اندھیرے میں چھپتے ضرور ہیں مگر جب وہ روشنی میں نکل آئیں تو انہیں کچلنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔آج، جب دنیا کی سب سے بڑی خبر رساں ایجنسیوں، رائٹرز، بی بی سی، اے پی اور انڈیپینڈنٹ کی صف اول کی سرخی یہ ہے کہ بھارت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے کاکروچ احتجاج کے سامنے سر جھکا کر استعفیٰ دے دیا، تو یہ خبر صرف ایک وزیر کے جانے کی خبر نہیں۔ یہ ایک نسل کے ابھرنے کی خبر ہے۔اس کہانی کی جڑیں مئی 2026 میں ہیں، جب بھارت کے میڈیکل انٹرینس امتحان نیٹ کا پرچہ لیک ہوا۔ لاکھوں طلبا جنہوں نے سالوں تک محنت کی، جن کے گھرانوں نے اپنی جمع پونجی لگائی، وہ ایک ایسی بدعنوانی کا شکار ہوئے جس نے ان کے مستقبل کا سودا کچھ پیسوں کے بدلے کر دیا۔ حکومت کا جواب تکبرانہ تھا، سب کو دوبارہ امتحان دینا ہوگا۔ نہ کسی سے معافی مانگی گئی، نہ کسی نے ذمہ داری قبول کی۔جب ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی تو غم غصے میں بدل جاتا ہے۔ اور جب کہا جاتا ہے کہ اکیس طلبا نے ڈپریشن اور اسٹریس میں خودکشی کر لی، چاہے یہ تعداد متنازع ہو، تو غصہ صرف احتجاج نہیں رہتا، وہ ایک قوم کے ضمیر کا سوال بن جاتا ہے پھر سونم وانگچک نامی ایک ماہر تعلیم نے بھوک ہڑتال شروع کی۔ بیس دن گزرے تو طلبا اس تحریک کا حصہ بن گئے۔ اور جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے، جب عوامی غصہ ایک حد سے بڑھ جائے تو سیاسی جماعتیں اس کے پیچھے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ کانگریس، عام آدمی پارٹی، سماجوادی پارٹی، سب شامل ہو گئیں۔مگر اصل کہانی وہ نہیں جو دہلی کے ایوانوں میں لکھی گئی۔ اصل کہانی وہ ہے جو نجم سیٹھی نے اپنے تجزیے میں بیان کی، اور جس نے مجھے ایک لمحے کے لیے رکنے پر مجبور کر دیابھارت کے یونین وزیر، جن کی حیثیت طاقتور ترین سمجھی جاتی ہے، طلبا رہنماؤں کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ سوچیں اس منظر کو۔ ایک ایسے ملک کے طاقتور ترین وزراء، جنہیں کبھی خود سے ملاقات کے لیے لوگ گھنٹوں انتظار کرواتے ہیں، وہ نوجوان طلبا سے ملاقات کی درخواست لے کر ان کے پیچھے پیچھے پھر رہے تھے۔ اور طلبا نے شرط رکھی کہ ہم آپ کے دفتر نہیں آئیں گے، آپ کے گھر نہیں جائیں گے، اگر ملنا ہے تو کسی غیر جانبدار جگہ پر ملیں گے۔یہ صرف ایک مذاکراتی حکمت عملی نہیں تھی۔ یہ طاقت کے پرانے فارمولے کو الٹنے کا اعلان تھا۔ صدیوں سے یہی اصول رہا ہے کہ چھوٹا بڑے کے دروازے پر جاتا ہے، رعایا حاکم کے دربار میں حاضری دیتی ہے۔ مگر جب طلبا نے کہا کہ ہم آپ کے دروازے پر نہیں آئیں گے، آپ ہمارے مقام پر آئیں، تو یہ صرف ایک شرط نہیں تھی، یہ ایک نئے دور کا اعلان تھا اور نریندر مودی، جو ستر فیصد ووٹ لے کر جیتنے والے لیڈر ہیں، جن کی مقبولیت کا گراف کبھی کسی نے چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کی، انہوں نے پہلے ٹویٹ کی، پھر انسٹاگرام پر ویڈیو بنائی، فاسٹ ٹریک عدالتوں کا وعدہ کیا، نیا قانون بنانے کی بات کی۔ مگر طلبا نے کہا، یہ کافی نہیں۔ اور آخرکار، چند گھنٹے پہلے، دھرمیندر پردھان نے ٹوئٹر پر خود اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ حکومتیں جو بندوق اور طاقت کے زور پر قائم ہوتی ہیں وہ ہمیشہ خوفزدہ اور کمزور ہوتی ہیں۔ مگر جمہوری حکومتوں میں ایک لچک ہوتی ہے، ایک اخلاقی جرأت ہوتی ہے کیونکہ ان کا اقتدار عوام کی محبت پر قائم ہے نہ کہ ان کے خوف پر۔یہی وہ فرق ہے جو پاکستان اور بھارت کے احتجاج کے درمیان کھڑا ہے۔ پاکستان میں پندرہ لوگ اکٹھے ہوں تو حکومت کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ نومبر 2024 میں اسلام آباد میں جو کچھ ہوا وہ اسی خوف کا نتیجہ تھا کہ اگر مظاہرین ریڈ زون تک پہنچ گئے تو حکومت گر جائے گی۔ یہ خوف صرف طاقت کے ناجائز ہونے کی علامت ہے۔بھارت وہ واحد ملک ہے جہاں ستتر سال سے مسلسل جمہوریت قائم ہے۔ جہاں وقت پر انتخابات ہوتے ہیں، جہاں نتائج تسلیم کیے جاتے ہیں، جہاں طاقت پرامن طریقے سے منتقل ہوتی ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہمیں، بحیثیت جنوبی ایشیائی، رکنا چاہیے اور سوچنا چاہیے۔ ہم اکثر بھارت پر تنقید کرتے ہیں اور اس کی بہت سی وجوہات درست بھی ہیں، مگر جمہوری اداروں کی مضبوطی، عوامی احتساب کا نظام، اور یہ صلاحیت کہ عام طلبا مل کر ایک طاقتور وزیر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیں، یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا فقدان خطے کے بیشتر ممالک میں ہے۔اور یہاں سے وہ سوال شروع ہوتا ہے جس کا جواب ہمیں خود سے مانگنا ہے۔کیا پاکستان میں کبھی ایسا ممکن ہے کہ طلبا کسی وزیر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیں؟ کیا پاکستان میں کبھی وہ دن آئے گا جب طاقتور ترین لوگ نوجوانوں کے پیچھے دوڑیں، نہ کہ نوجوان ان کے دروازے پر قطار لگائیں؟جواب فی الحال نہیں میں ہے۔ اور اس نہیں کی وجہ ضیاء الحق کے دور میں پورے معاشرے کی تقسیم اور طلبا سیاست پر پابندی ہے، وہ زنجیر جو چار دہائیوں سے ہمارے نوجوانوں کے ذہن سے سیاسی شعور چھین رہی ہے۔میں نے اپنی صحافت کے چار عشروں میں کئی سوال سنے ہیں، مگر کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو کان سے نہیں، سینے سے ٹکراتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سوال ان دنوں میرے کئی دوستوں نے مجھ سے پوچھا ہے کہو راجہ صاحب، ہمارے پڑوس میں جب ایک منصفِ اعلیٰ نے نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا، تو امریکہ میں بیٹھے ایک نوجوان نے انسٹاگرام پر ایک صفحہ کھولا، وطن لوٹا، اور اُس لمحے کا انتظار کیا جب کونوں کھدروں میں چھپے ان “کاکروچوں” کو پکارا جائے۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جن لڑکوں لڑکیوں کو حشرات سے تشبیہ دی گئی تھی، وہ سڑکوں پر ایک سیلاب کی طرح اترے اور طاقت کے ایوانوں سے لے کر گودی میڈیا تک سب کچھ ہلا کر رکھ دیا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکا؟ ہمارا نوجوان کیوں خاموش ہے؟ اسے کس نے فکس کر دیا؟میں اس سوال کا جواب دینے سے پہلے تھوڑا پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہتا ہوں، کیونکہ قوموں کے زخم سمجھنے کے لیے ان کی تاریخ کے ٹانکے کھولنے پڑتے ہیں۔آپ سب نے سنا ہو گا کہ انگریز جب برصغیر پاک و ہند پر حکمران تھا تو اس کی حکومت کا ایک ہی زریں اصول تھا لڑاؤ اور حکومت کرو۔ ہم نے یہ فقرہ سنا، پڑھا، امتحانوں میں لکھا، مگر اس سے کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکالا۔ انگریز چلا گیا مگر اپنا فارمولا چھوڑ گیا، اور آج ڈیڑھ صدی بعد بھی وہی نسخہ ہمارے بدن میں سرنگ کی طرح اتارا جا رہا ہے۔ آج پاکستانی قوم کا نوجوان اسی پرانی تقسیم کے نئے خانوں میں بٹا ہوا ہے کوئی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے تو کوئی نواز شریف کے ساتھ، کوئی عمران خان کا سپاہی ہے؛ کوئی شیعہ ہے تو کوئی سنی، اور سنیوں میں بھی کوئی دیوبندی، کوئی بریلوی؛ کوئی سندھی ہے، کوئی پنجابی، کوئی بلوچ، کوئی پشتون، کوئی مہاجر۔مگر ٹھہریئے۔ ذرا آنکھ بند کر کے سوچیئے دشمن تو ایک ہی ہے۔ وہی ایک ہاتھ، جس نے تمہارے اتحاد کو پارہ پارہ کیا، تمہیں گروہوں میں بانٹا، تمہارے نعرے الگ کیے، تمہارے پرچم الگ کیے، اور پھر دور کھڑا ہو کر مسکراتا رہا۔ تم ایک رسی تھے اور رسی کی طاقت اس کے دھاگوں کی یکجائی میں ہوتی ہے۔ جب تک دھاگے بٹے ہوئے ہیں، رسی پہاڑ کھینچ لیتی ہے؛ اور جب دھاگے الگ الگ کر دیئے جائیں تو وہی رسی ایک بچے کے ہاتھ سے بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ آج تم وہ کھلے ہوئے دھاگے ہو۔ تمہاری کمزوری تمہاری تعداد نہیں، تمہاری تقسیم ہے۔میں امریکہ میں رہتا ہوں، اور یہاں کی مٹی نے مجھے ایک سبق دیا ہے۔ یہاں بھی تقسیم کی سیاست کی گئی، رنگ اور نسل کے نام پر دیواریں اٹھائی گئیں، مگر یہاں کے لوگ اب سمجھنے لگے ہیں، اور ایوانوں تک میں تبدیلی کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔ آپ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس ہی کو دیکھ لیجیئے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اسرائیل سے متعلق سب کچھ کھول کر رکھ دیا۔ امریکی عوام کی اکثریت، جس میں یہی زین جی نسل شامل ہے، اب یہ ادراک کر رہی ہے کہ امریکہ کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب شعور جاگتا ہے تو اقتدار کے ایوان بھی کروٹ لیتے ہیں یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔اور اسی گواہی کو سمیٹنے کے لیے میں نے حال ہی میں اپنی کتاب لکھی ہے “خوف اور آزادی کے درمیان: جدید جمہوریتوں میں طاقت کے خفیہ ہاتھ جمہوریت کے عروج و زوال کا ایک صحافی گواہ۔ یہ کتاب کسی ملک یا کسی جماعت کے خلاف نہیں؛ یہ جنوبی ایشیا سے امریکہ تک پھیلے اس خفیہ کھیل کا احاطہ کرتی ہے جو نسلوں کی آنکھوں سے اوجھل رکھا جاتا ہے۔ میں نے طاقت کے اُن غیر مرئی طریقوں کو سمجھنے کی کوشش، جنہیں اکثر عام شہری محسوس تو کرتے ہیں، مگر الفاظ نہیں دے پاتے۔میری خواہش ہے کہ آج کا نوجوان، اور آنے والی نسلیں، اسے صرف ایک کتاب نہ سمجھیں…بلکہ ایک مکالمہ سمجھیں، ایک سوال سمجھیں، اور شاید ایک آئینہ بھی میںں نے یہ کتاب اس لیے لکھی کہ جو کچھ میرے سینے میں دفن ہے، وہ آنے والی نسلوں کے حوالے کر دوں کہ کل کوئی نوجوان اندھیرے میں راستہ ٹٹولے تو اس کے ہاتھ میں کم از کم ایک چراغ ہو۔اب میں واپس اس سوال کی طرف آتا ہوں جو میرے دوستوں نے پوچھا تھا۔ پاکستان میں زین جی کیوں فکس ہے؟ اس لیے کہ ہمیں انگریز کے اسی پرانے فارمولے کے تحت آپس میں لڑایا جا رہا ہے تاکہ ہم کمزور رہیں۔ ہمارے ہاں ناخواندگی ہے، اور لوگ اکثر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ ہم اس کولہو کے بیل بنا دیئے گئے ہیں جو صبح سے شام چلتا رہتا ہے، پسینے میں شرابور، قدم پر قدم اٹھاتا ہوا مگر شام کو وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں سے اس نے صبح سفر شروع کیا تھا۔ کولہو کے بیل کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے تاکہ اسے یہ خبر نہ ہو کہ وہ دائرے میں گھوم رہا ہے۔ ہماری قوم کی آنکھوں پر بھی پٹیاں بندھی ہیں کسی کی پٹی لسانیت کی ہے، کسی کی جماعت کی، کسی کی مذہبی تفرقہ بازی کی۔ پٹیوں کے رنگ الگ ہیں، مگر اندھیرا ایک ہے۔اور جب تک ہم قوم بن کر نہیں سوچیں گے، دائروں کا یہ سفر یونہی چلتا رہے گا۔ لیڈر بکتے رہیں گے، وفاداریاں نیلام ہوتی رہیں گی، اور جو کوئی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی جرأت کرے گا، وہ راستے سے ہٹا دیا جائے گا اور قوم منزل سے دور، اور دور، اور دور ہوتی چلی جائے گی۔تو اے میرے وطن کے نوجوانوں تم سے، ہاں تم ہی سے مخاطب ہوں۔ تم جس بھی ملک اور قوم کا حصہ ہو، اس کے مکمل بن جاؤ۔ اپنی شناخت کو وسیع کرو، نہ نسلی منافرت کرو، نہ رنگ اور مذہب کی۔ اپنی جماعت سے محبت کیجیے، مگر قوم سے زیادہ نہیں، اپنے مسلک کا احترام کیجیے، مگر انسانیت سے اوپر نہیں، اپنی زبان پر فخر کیجیے، مگر دوسری زبان سے نفرت نہ کرو۔کیونکہ قومیں نفرت سے نہیں بنتیں…قومیں مشترکہ مقصد، مشترکہ قانون اور مشترکہ شعور سے بنتی ہیںامریکہ کی کامیابی کا راز اس کی دولت نہیں، اس کا وہ ایک قانون ہے جو رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق سے سب کو بلند کر دیتا ہے۔ یہاں لیڈر مسند پر آتے جاتے رہتے ہیں، مگر قانون سب کا سانجھا ہے اور سب اس کا احترام کرتے ہیں۔ ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہیں، اور جب کبھی کوئی اس حد کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ نظام اس کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔تم بھی ایسا کرو۔ اصل جمہوری نظام کو مضبوط کرو۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ جمہوریت کو کمزور کرنے والے ہمیشہ باہر سے حملہ آور نہیں ہوتے وہ اکثر اسی نظام کا لبادہ اوڑھ کر اندر آتے ہیں۔ جب وہ حد سے تجاوز کریں تو ہر نسل کا یہ فرض ہے کہ وہ اس نظام کی حفاظت کرے۔ کیونکہ سنو اگر تم نے آج اس نظام کی حفاظت نہ کی تو کل تمہاری اولادیں اسی بھرشٹاچار سے لڑیں گی جس سے تم آج آنکھیں چرا رہے ہو، اور انہیں اپنے حقوق کے لیے وہ قربانیاں دینی ہوں گی جن کا بوجھ اٹھانا آج تمہارے حصے میں آیا تھا۔پٹی اتارو۔ دائرے سے نکلو۔ دھاگوں کو پھر سے رسی بننے دو۔ تاریخ ان قوموں کو یاد نہیں رکھتی جو کولہو کے گرد گھومتی رہیں تاریخ ان کاروانوں کو یاد رکھتی ہے جو منزل کی طرف چل پڑے، جو اپنے وقت کے شور میں بھی سچ سننے، سچ سمجھنے اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں! مگر تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ کوئی زنجیر ہمیشہ نہیں رہتی۔ نیپال میں طلبا اٹھے تو وزیر اعظم کو جانا پڑا۔ بنگلہ دیش میں طلبا اٹھے تو پندرہ سالہ اقتدار ختم ہوا۔ سری لنکا میں عوام اٹھے تو صدر کو ملک چھوڑنا پڑا۔ اور اب بھارت میں طلبا اٹھے تو ایک وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا۔یہ سب کچھ ایک لہر ہے، جنوبی ایشیا میں جنریشن زی کا سونامی، جو ایک ملک سے دوسرے ملک میں پھیل رہا ہے۔اور جس دن پاکستان کا نوجوان یہ فیصلہ کر لے گا کہ خاموشی سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ خاموشی ہمیشہ رہے، اس دن یہ لہر یہاں بھی پہنچے گی۔سوال یہ نہیں کہ کیا وہ دن آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس دن کے لیے کتنے تیار ہیں۔



