Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

بے حسی اور منافقت کی انتہا !

دو ہفتے کے نوجوان طلباء کے مسلسل احتجاج نے دلی میں مودی سرکار کی چولیں ہلاکے اسے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا !بھارتی نوجوانوں کا احتجاج شروع اس سے ہوا تھا کہ مودی سرکار کے وزراء اپنی سرپرستی میں میڈیکل کالجوں میں داخلہ کیلئے مقابلہ کے امتحان کے پرچے امتحان سے پہلے ہی اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حق میں آؤٹ کر رہے تھے۔ ان کے پسندیدہ امیدوار وہ نالائق طالبعلم تھے جو بھارتی جنتا پارٹی کے نیتاؤں کی اولاد تھے اور لیاقت اور استعداد کی بنیاد پر میڈیکل کالجوں میں ان کا داخلہ ممکن نہیں تھا لیکن چونکہ مودی سرکار کی آنکھوں کے تارے تھے لہٰذا لائق طلباء کی حق تلفی کرکے انہیں میڈیکل کالجوں میں داخلہ مل رہا تھا!ہمارے وطنِ مرحوم، پاکستان کے کم از کم ایک صوبے، صوبہ سندھ ، کے متعلق تو دستاویزی اور ویڈیو شہادتیں ہیں کہ وہاں ڈکیت زرداری کے چور وزیروں کی سرپرستی میں کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں یہ کام بڑی باقاعدگی سے ہورہا ہے لیکن ہمارے طلباء یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئےبھی نہ زبانی احتجاج کرتے ہیں نہ بھارتی طلباء کی طرح اپنے حقوق پر ڈاکہ پڑتے دیکھ کر سڑکوں پر نکلتے ہیں!بھارت کے نوجوان طلباء میں غیرت ہے، ان کی حس بیدار ہے اور وہ اپنے حقوق کیلئے ہر جدو جہد کرنے کیلئے آمادہء پیکار ہیں۔مودی سرکار نے بھی ہر ظالم حکومت کی طرح نوجوانوں کے احتجاج کو طاقت سے کچلنا چاہا تھا لیکن نوجوان اس طاقت سے نہ مرعوب ہوئے نہ انہوں نے اپنے احتجاج کو دھیما کیا بلکہ سرکار کی لاٹھیوں، گولیوں اور آنسو گیس نے ان کے عزم و حوصلہ کو مہمیز دی، اسے اور طاقت عطا کی اور وہ اپنے موقف پہ ڈٹے رہے!اپنا حق منوانے کیلئے قربانی دینی پڑتی ہے۔ بغیر خون بہائے کوئی تحریک کامرانی سے سرفراز نہیں ہوتی اور یہی وہ کلیدی نکتہ ہے جو آج تک ہمارے نوجوانوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ یا ممکن ہے کہ ان کے فہم میں یہ بنیادی حقیقت ہو لیکن اس منزل کو پالینے کا حوصلہ ان میں نہیں ہے۔ اور حوصلہ یوں نہیں ہے کہ ان میں قربانی کا فقدان ہے !ہمارے نوجوانوں کے سامنے بنگلہ دیش کے نوجوانوں کی تازہ مثال ہے جنہوں نے دو برس پہلے حسینہ واجد کی ظالم حکومت کو دس دن کے پُرعزم احتجاج سے شکست دی تھی اور اسے بھاگنے پہ مجبور کردیا تھا۔سری لنکا کے نوجوانوں نے بھی اس سے پہلے یہی ہدف حاصل کیا تھا کہ انہوں نے اپنے احتجاج اور قربانیوں سے ایک کرپٹ حکومت کو تار و پود سے اکھاڑ پھینکا تھا!ہماری اپنی قومی تاریخ کی مثال ہے کہ بنگلہ دیش، جو 1971ء تک ہمارا مشرقی بازو تھا، مشرقی پاکستان تھا، وہاں ہمارے بدمست عسکری طالع آزماؤں نے طاقت کے نشہ میں یہ نعرہء مستانہ لگایا تھا کہ وہ بنگالیوں کی نسل بدل دینگے جس کے جواب میں مشرقی پاکستان میں مکتی باہینی نام کی مسلح تنظیم نے جنم لیا۔ آج بھی ہمارے دیس پر عسکری طالع آزماء مسلط ہیں اور 1971ء کے مقابلہ پر یہ ٹولہ کہیں زیادہ بدمست ہے، اس کو طاقت کا نشہء کہیں زیادہ ہے لیکن ہمارے عوام میں وہ حس بیدار نہیں ہے جو ایک قوم کو اپنے حقوق کے تحفظ میں ہر قربانی کی ترغیب دیتی ہے !آج ہمارے اسکول اور کالج کے نصاب میں نوجوان ذہنوں میں یہ زہر بھرا جارہا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدہ ہونے کا قصور تمام تر بنگالیوں کا تھا، مجیب الرحمان کا تھا، عوامی لیگ کا تھا، مکتی باہنی کا تھا اور بھارت کا تھا ! ہمارے عسکری طالع آزماؤں کا کوئی قصور نہیں تھا، کوئی ذمہ داری نہیں تھی، وہ تو پاکستان کی اکائی کو بچانا چاہتے تھے اور طاقت کے استعمال کیلئے انہیں بنگالیوں نے مجبور کیا تھا !ہمارے معصوم طالع آزماء تو آج بھی طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے لیکن بلوچستان کے حریت پرست، جو اپنے حقوق منوانے کیلئے برسوں سے جد و جہد کر رہے ہیں، انہیں مجبور کررہے ہیں کہ وہ طاقت کا ہتھیار استعمال کریں اور ویسے ہی بادلِ ناخواستہ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کیلئے طاقت کے استعمال کو مذاکرات پہ ترجیح دیں جیسے بدمست طالع آزماء جنرل یحییٰ نے مجبور ہوکے طاقت کے استعمال سے بنگالیوں کی نسل بدل دینے کی دھمکی دی تھی لیکن اس کےتکبر نے مشرقی پاکستان گنوادیا !آج کا عصری طالع آزماء ، جس نے اپنے آپ کو فیلڈ مارشل کے عہدہ پر ترقی دے لی ہے، یحییٰ خان کے مقابلہ پہ کہیں زیادہ نخوت کا شکار ہے۔ جیسے یحییٰ مجیب الرحمان سے کوئی بات چیت نہیں کرنا چاتا تھا اسی کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے اپنے شکار عمران خان کے ساتھ یہ عاصم منیر کوئی بات چیت کرنے سے انکاری ہے !لیکن جو کام یحییٰ نے نہیں کیا تھا عاصم منیر وہ کر رہا ہے۔ اس کے تکبر نے آزاد جموں اور کشمیر کے حریت پرستوں کو مجبور کردیاہے کہ وہ اپنے حقوق منوانے کیلئے سڑکوں پہ احتجاج کریں۔ یہ وہ کام ہے جس کی توفیق آج تک پاکستانی عوام کو نصیب نہیں ہوئی جس سے عاصم منیر اور اس کے بزدل جرنیل بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں اور کشمیری حریت پسندوں کو وہ طاقت سے دبانے کا وہی حربہ استعمال کر رہے ہیں جو مشرقی پاکستان کی پاکستان سے الگ ہوجانے کا سبب بنا تھا !بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے عوام میں بیداری ہے لیکن دو بڑے صوبوں کے عوام اور نوجوان نسل کی مثالی بے حسی اور غیرت کا فقدان طالع آزماؤں کے حوصلوں کو ہوا دے رہا ہے اوروہ اسی سے فائدہ اٹھاکر پورے پاکستان پر مسلط ہیں اور اس کی بیخ کنی کر رہے ہیں۔
اسی طالع آزمائی نے ہمیں یہ قطعہ کہنے پہ اکسایا :
اپنا مفاد قوم سے بڑھکر مفاد ہے
فعلِ حشم میں، قول میں واضح تضاد ہے
جو انتشار قوم ہے اس کے طفیل ہے
معمول بن گیا ہے جو دنگا فساد ہے !
عاصم منیر قوم کی بے حسی سے اپنی ظلم و جور کی چکی کو آنکھ بند کرکے چلا رہا ہے اسلئے اور بھی کہ اسے کامل یقین ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا دستِ شفقت اس کے سر پر ہے اور جب تک سامراجی گرو گھنٹال کی سرپرستی اسے حاصل ہے اسے اطمینان ہے کہ پاکستانی عوام نہ اس کا احتساب کرنے کی جرا ٔت رکھتے ہیں نہ اس نے جور و ستم کا جو نظام اپنی آمریت کو دوام دینے کیلئے وضع کیا ہے اس کے تحت کوئی عدالت یہ جرأت رندانہ کرسکے گی کہ اس کو قانون کے کٹہرہ میں کھڑا کرنے کا سوچ بھی سکے!ادھر عاصم منیر پاکستانی قوم کی مثالی بے حسی کی بہتی گنگا میں نہ صرف ہاتھ دھورہا ہے بلکہ گنگا اشنان بھی کر رہا ہے اور دوسری طرفٖ اس کا سرپرستِ اعلیٰ، سامراج اور استعمار کا فی زمانہ سب سے بڑا نقیب، اپنی دوغلی پالیسی اور منافقت کے بامِ عروج پر بیٹھا ہوا ہے !جب سے ٹرمپ نے اپنے صیہونی رفیقِ کار اسرائیل کے نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران پر یلغار کی ہے اس کا ہر روز کا یہی وظیفہ ہے کہ اس نے ایران کے دفائی نظام کو تہس نہس کردیا ہے اور وہ یہ سب کچھ کرنے پر یوں مجبور ہے کہ ایران کو جوہری بم بنانے اور جوہری ہٹھیار اپنے اسلحہ میں شامل کرنے سے باز رکھ سکے !لیکن ٹرمپ کو اپنے یارِ غار اسرائیل کے جوہری بموں اور اثاثوں سے کوئی پریشانی نہیں اور پریشانی یوں نہیں ہے کہ امریکہ کی منافقت اس کیلئے گنجائش پیدا کرتی ہے !لیکن ٹرمپ نے منافقت کے بام کو بھی پار کرلیا جب اس نے دو تین دن پہلے اس کا اعلان کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کا باقاعدہ معاہدہ ہوگیا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو جوہری توانائی کے پر امن استعمال کیلئے اپنی مہارت فراہم کرے گا!ایران کا موقف بھی تو یہی ہے کہ وہ جوہری توانائی کو ان کاموں کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہے جو جوہری توانائی کے پر امن استعمال کے زمرہ میں آتے ہیں لیکن ٹرمپ کا اصرار ہے ایران کو اس کا حق بھی وہ دینے کیلئے آمادہ نہیں ہے!پھر سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی کے پر امن استعمال کے معاہدہ کے دوسرے ہی دن ٹرمپ کی طرف سے یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ سعودی عرب کو یہ سہولت اس شرط پر ملے گی کہ وہ ٹرمپ کے ابراہام منصوبہ کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرلے !ظاہر ہے کہ منافقت کی یہ قلابازی ٹرمپ نے اس واویلا کے بعد لگائی جو اسرائیل کی حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کے اعلان کے رد عمل میں لگایا تھا۔سعودی حکمرانوں کو اگر ٹرمپ کی منافقت کے بارے میں کوئی بھی خوش فہمی تھی تو وہ ٹرمپ کی اس قلابازی سے دور ہوجانی چاہئے لیکن خلیج کی ریاستوں کاتو وہی عالم ہے جس کے متعلق شاعر نے کہا تھا
کہ جو مزاجِ یار میں آئے وہی ہماری بھی رضا ہے !
اب اس مرض کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں ہے !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button