Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

وہ پاکستان کہاں گیا؟

کبھی کبھی قوموں کی تاریخ میں ایک ایسا موڑ آتا ہے جہاں ماضی آئینے کی طرح سامنے کھڑا ہو کر سوال کرتا ہے: آخر تم نے خود اپنے ساتھ کیا کیا؟ پاکستان کی معاشی تاریخ بھی کچھ ایسا ہی سوال کرتی ہے۔ آج جب ہم قرضوں، مہنگائی، کمزور صنعت، بے روزگاری اور گرتے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی بات کرتے ہیں تو یقین کرنا مشکل لگتا ہے کہ یہی پاکستان ایک وقت ایشیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شمار ہوتا تھا۔انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی اوسط سالانہ جی ڈی پی گروتھ چھ فیصد سے بھی زیادہ تھی۔ زراعت میں سبز انقلاب کی خوشبو تھی، صنعت میں نئی فیکٹریاں لگ رہی تھیں، ٹیکسٹائل دنیا کی منڈیوں میں جگہ بنا رہا تھا، اور کراچی سے لے کر ڈھاکہ تک کاروبار کی رونقیں آباد تھیں۔ اس وقت کا مشرقی پاکستان، یعنی آج کا بنگلہ دیش، صرف زرعی خطہ نہیں تھا بلکہ وہاں صنعت، تجارت اور برآمدات بھی تیزی سے ترقی کر رہی تھیں۔دنیا پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت کے طور پر دیکھ رہی تھی۔ غیر ملکی ماہرین یہاں آ کر معیشت کا مطالعہ کرتے تھے۔ بین الاقوامی ادارے پاکستان کے ترقیاتی ماڈل کو دلچسپی سے دیکھتے تھے، جبکہ ایشیا کے کئی ممالک، جن میں جنوبی کوریا، ملائیشیا، انڈونیشیا اور بعد میں خلیجی ریاستیں بھی شامل ہوئیں، اپنی ترقی کی راہیں تلاش کر رہے تھے۔ اس دور میں پاکستان کو امید کی علامت سمجھا جاتا تھا۔مگر پھر تاریخ نے رخ بدلا۔1965ء کی جنگ نے قومی وسائل کا رخ بدل دیا۔ جو سرمایہ تعلیم، صنعت، تحقیق اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہونا چاہیے تھا، وہ ہم نہیں کر سکے پھر 1971ء کا سانحہ پیش آیا۔ ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ صرف جغرافیہ نہیں ٹوٹا، معیشت بھی بکھر گئی۔ مشرقی پاکستان کی صنعت، جیوٹ کی برآمدات اور لاکھوں افراد کی معاشی سرگرمیاں ایک لمحے میں پاکستان کی معیشت سے الگ ہو گئیں۔ یہ نقصان صرف اعداد و شمار کا نہیں تھا بلکہ قومی اعتماد کا بھی تھا۔اس کے بعد 1970ء کی دہائی میں قومیانے کی پالیسی آئی۔ نیت شاید معاشی مساوات پیدا کرنے کی تھی، مگر نتائج اس کے برعکس نکلے۔ نجی صنعت کار سرمایہ کاری سے ہچکچانے لگے، کاروباری اعتماد مجروح ہوا، پیداواری صلاحیت کم ہوئی اور معیشت سرکاری اداروں کے بوجھ تلے دبتی چلی گئی۔ جس نجی شعبے نے ترقی کی بنیاد رکھی تھی، وہی غیر یقینی کا شکار ہو گیا۔1980ء کی دہائی میں افغان جنگ نے ایک اور موڑ پیدا کیا۔ پاکستان ایک بڑی عالمی جنگ کا اگلا مورچہ بن گیا۔ ریاست کی ترجیحات پھر بدل گئیں۔ دہشت گردی، اسلحہ، منشیات اور علاقائی کشیدگی نے معیشت پر گہرے اثرات چھوڑے۔ اس دوران وقتی مالی امداد تو ملی، مگر پائیدار اقتصادی اصلاحات پس منظر میں چلی گئیں۔اس کے بعد بھی سلسلہ نہ رکا۔ کبھی سیاسی عدم استحکام، کبھی فوجی حکومتیں، کبھی کمزور جمہوری ادوار، کبھی قرضوں پر انحصار، کبھی توانائی کا بحران، کبھی دہشت گردی اور کبھی پالیسیوں کا بار بار بدل جانا۔ ہر دہائی نے پاکستان کو ایک نیا جھٹکا دیا۔لیکن سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا پاکستان میں صلاحیت نہیں تھی؟جواب صاف ہے۔ صلاحیت تھی، ہے اور رہے گی۔پاکستان کی زمین آج بھی زرخیز ہے، نوجوان آبادی آج بھی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، معدنی وسائل موجود ہیں، جغرافیہ دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے، محنتی افرادی قوت بھی موجود ہے۔ مسئلہ وسائل کا نہیں، ان وسائل کے درست استعمال کا ہے۔ مسئلہ قابلیت کا نہیں، قیادت، تسلسل اور فیصلوں کا ہے۔دنیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جنوبی کوریا جنگ کے بعد کھنڈرات سے اٹھ کر دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو گیا۔ سنگاپور نے قدرتی وسائل کے بغیر ترقی کی داستان لکھی۔ ملائیشیا نے صنعتی انقلاب برپا کیا۔ بنگلہ دیش، جو کبھی پاکستان سے پیچھے سمجھا جاتا تھا، آج برآمدات اور سماجی ترقی کے کئی اشاریوں میں آگے نکل چکا ہے۔ان ممالک نے کوئی جادو نہیں کیا۔ انہوں نے پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا، تعلیم پر سرمایہ کاری کی، صنعت کو فروغ دیا، برآمدات بڑھائیں، قانون کی حکمرانی کو مضبوط کیا اور قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دی۔پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ہر چند سال بعد اپنی سمت بدل دیتے ہیں۔ ایک حکومت آتی ہے تو پچھلی پالیسی ختم کر دیتی ہے، دوسری آتی ہے تو نئی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ معیشت تجربہ گاہ نہیں ہوتی، اسے استحکام چاہیے، اعتماد چاہیے اور مسلسل سفر چاہیے۔پارلیمان کو بھی یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم آنے والی نسلوں کے لیے وہی فیصلے کر رہے ہیں جن پر تاریخ ہمیں سرخرو کرے گی؟ یا ہم آج بھی وقتی سیاست، ذاتی مفادات اور اقتدار کی کشمکش میں مستقبل گروی رکھ رہے ہیں؟پاکستان دوبارہ ترقی کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی معجزے کی ضرورت نہیں، صرف سچ کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قومیں نعروں سے نہیں، درست فیصلوں سے بنتی ہیں۔ معیشت تقریروں سے نہیں، پالیسیوں سے چلتی ہے۔ سرمایہ اعتماد کے پیچھے آتا ہے اور اعتماد صرف انصاف، استحکام اور تسلسل سے پیدا ہوتا ہے۔شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی پر فخر کرنے کے بجائے اس سے سبق سیکھیں۔ 1960ء کا پاکستان تاریخ کی ایک تصویر ضرور ہے، مگر مستقبل کی منزل نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ وہ پاکستان کہاں گیا؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آج کا پاکستان دوبارہ وہ بننے کا حوصلہ، بصیرت اور دیانت رکھتا ہے؟اگر جواب "ہاں” ہے تو پھر تاریخ گواہ ہے کہ قومیں دوبارہ اٹھتی ہیں۔ لیکن اگر ہم نے فیصلوں کی غلطیاں نہ بدلیں تو صلاحیت ہونے کے باوجود منزل پھر دور ہی رہے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button