Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

دولت جب وطن چھوڑ دے

پاکستان آخر غریب کیوں ہے؟ یہ سوال ہم دہائیوں سے پوچھ رہے ہیں۔ کبھی جواب آبادی میں تلاش کیا جاتا ہے، کبھی وسائل کی کمی میں، کبھی قرضوں میں، کبھی بیرونی سازشوں میں، اور کبھی بدعنوانی میں۔ مگر شاید ایک سوال ہم خود سے کم پوچھتے ہیں: وہ دولت کہاں ہے جو اس ملک میں پیدا ہوتی ہے؟یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں دولت پیدا بھی ہوتی ہے اور کم بھی نہیں ہوتی۔ ہمارے صنعت کار ہیں، تاجر ہیں، جاگیردار ہیں، سرمایہ کار ہیں، سیاست دان ہیں، اعلیٰ سرکاری افسر ہیں۔ مسئلہ دولت کی کمی نہیں، مسئلہ دولت کے سفر کا ہے۔ یہ دولت اکثر پاکستان میں جنم لیتی ہے، مگر اس کی جوانی دبئی میں گزرتی ہے، بڑھاپا لندن میں آتا ہے اور اس کی حفاظت سوئٹزرلینڈ یا دوسرے مالیاتی مراکز میں ہوتی ہے۔بین الاقوامی اداروں کی مختلف رپورٹس میں برسوں سے اس خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک سے غیر قانونی سرمایہ بیرونِ ملک منتقل ہوتا ہے، اور پاکستان بھی اس مسئلے سے متاثرہ ممالک میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں گلوبل فنانشل انٹیگریٹی جیسے اداروں نے اندازے پیش کیے کہ پاکستان سے ہر سال اربوں ڈالر کی غیر قانونی مالی منتقلی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ اندازے مختلف طریقۂ کار پر مبنی ہوتے ہیں اور ان پر بحث بھی ہوتی ہے، مگر اصل سوال اپنی جگہ موجود ہے: سرمایہ ملک سے باہر کیوں جاتا ہے؟پھر پاناما پیپرز آئے۔ اس کے بعد پنڈورا پیپرز منظرِ عام پر آئے۔ ان میں دنیا بھر کی بااثر شخصیات کے ساتھ متعدد پاکستانیوں کے نام بھی سامنے آئے۔ صرف نام آ جانا جرم کا ثبوت نہیں ہوتا، اور ہر بیرونِ ملک اثاثہ غیر قانونی بھی نہیں ہوتا۔ لیکن ان انکشافات نے ایک بڑی بحث ضرور چھیڑی کہ آخر ہمارے حکمران طبقے، کاروباری اشرافیہ اور صاحبِ ثروت افراد کی اتنی بڑی تعداد اپنی دولت ملک سے باہر رکھنے کو زیادہ محفوظ کیوں سمجھتی ہے؟یہ سوال صرف قانون کا نہیں، اعتماد کا بھی ہے سرمایہ ہمیشہ وہاں جاتا ہے جہاں اسے تحفظ، استحکام اور پیش گوئی کا یقین ہو۔ اگر ایک سرمایہ دار اپنے ہی ملک میں اپنے سرمائے کو غیر محفوظ سمجھے، اگر اسے ہر نئی حکومت کے ساتھ نئے قوانین، نئے ٹیکس، نئی تحقیقات اور نئی غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہو، تو وہ اپنے اثاثوں کو ایسی جگہ منتقل کرنے کی کوشش کرے گا جہاں نظام زیادہ مستحکم ہو۔یہ دلیل اپنی جگہ، مگر اس کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی تلخ ہے۔جب سرمایہ وطن چھوڑ دیتا ہے تو صرف ڈالر نہیں جاتے، روزگار بھی جاتا ہے، صنعت بھی جاتی ہے، ٹیکنالوجی بھی جاتی ہے، ترقی کے امکانات بھی ساتھ چلے جاتے ہیں۔سوچیے، اگر یہی سرمایہ پاکستان کی صنعتوں میں لگتا، تو کتنے کارخانے قائم ہوتے۔ اگر یہی دولت تعلیمی اداروں میں لگتی، تو کتنے اسکول اور یونیورسٹیاں بنتیں۔ اگر یہی وسائل صحت کے شعبے میں خرچ ہوتے، تو کتنے اسپتال جدید سہولتوں سے آراستہ ہوتے۔ کتنی سڑکیں بنتیں، کتنے ڈیم تعمیر ہوتے، کتنے نوجوانوں کو روزگار ملتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان قرض لیتا ہے، جبکہ پاکستانی سرمایہ دنیا کے دوسرے ممالک کی معیشت مضبوط کرتا ہے۔ ہمارے ڈالر باہر کی جائیدادوں کی قیمت بڑھاتے ہیں، دوسرے ملکوں کے بینک مضبوط کرتے ہیں، ان کی تعمیرات کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں بجٹ خسارہ، زرمبادلہ کی کمی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کا بحران برقرار رہتا ہے۔اصل المیہ صرف سرمایہ کا باہر جانا نہیں، بلکہ اس کا واپس نہ آنا ہے۔جو سرمایہ ایک بار بیرونِ ملک چلا جائے، وہ آسانی سے واپس نہیں آتا۔ وہاں اسے بہتر منافع، بہتر تحفظ اور زیادہ یقینی ماحول ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی حکومت سرمایہ واپس لانے کا وعدہ تو کرتی ہے، مگر کامیابی کم ہی ملتی ہے۔اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ دولت باہر کیوں گئی؛ اصل سوال یہ ہے کہ ایسا کون سا نظام بنایا جائے کہ دولت کو باہر جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔قانون سب کے لیے برابر ہو۔ احتساب بلاامتیاز ہو۔ ٹیکس کا نظام منصفانہ ہو۔ پالیسیوں میں تسلسل ہو۔ عدالتی نظام تیز اور قابلِ اعتماد ہو۔ سرمایہ کار کو یقین ہو کہ اس کا سرمایہ محفوظ ہے اور اس کے ساتھ انصاف ہوگا۔معیشت صرف بجٹ سے نہیں چلتی، اعتماد سے چلتی ہے۔ اور اعتماد صرف تقریروں سے نہیں بنتا، اداروں کی ساکھ سے بنتا ہے۔پاکستان کو صرف نئے قرضوں کی نہیں، نئے اعتماد کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب تک اس ملک کا سرمایہ اپنے وطن کو محفوظ پناہ گاہ نہیں سمجھے گا، تب تک دولت کی پرواز جاری رہے گی، اور قوم ترقی کے خواب دیکھتی رہے گی۔آخر میں سوال وہی ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں ہے: کیا ہم ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جہاں دولت کو ملک چھوڑنے کے بجائے، وطن میں رہ کر مستقبل بنانے پر یقین ہو؟ یہی سوال ہماری سیاست، ہماری معیشت اور ہمارے قومی ضمیر کے سامنے سب سے بڑا امتحان ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button