Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

وہ لمحہ جو صرف ان کا تھا جب اقتدار اسٹیج چھوڑنا بھول گیا !

کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ اپنے سینے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتی ہے۔ وہ لمحے جن میں پسینہ، آنسو، رات کی تھکاوٹ، گھر سے دوری، چوٹیں، ناکامیاں اور پھر سالوں کی ان تھک محنت ایک ایسے نقطے پر آ کر ملتی ہیں جب ایک ٹرافی کا سونے کا رنگ آنکھوں میں بھر جاتا ہے اور لفظ کافی نہیں ہوتے۔ انیس جولائی 2026 کی رات میٹ لائف اسٹیڈیم، ایسٹردرفورڈ، نیو جرسی میں ایسا ہی ایک لمحہ آیا۔ اسپین نے فیفا ورلڈ کپ جیت لیا۔ ارجنٹینا کو ایک صفر سے شکست دی۔ اور وہ لمحہ، وہ مقدس لمحہ جب کپتان روڈری کے ہاتھ اس سنہری پیالے کو اٹھانے کے لیے بڑھنے والے تھے، صرف اور صرف اسپین کے ان کھلاڑیوں کا تھا جنہوں نے اپنی زندگیاں اس ایک لمحے کے لیے وقف کر دی تھیں۔مگر تاریخ کا شاید یہی المیہ ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ فریم میں رہنا چاہتے ہیں، چاہے فریم ان کا ہو یا نہ ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار کہا تھا، میں ہارنے والوں کو نہیں، جیتنے والوں کو پسند کرتا ہوں۔ اور شاید اسی فلسفے کی ایک عجیب جھلک اس رات میٹ لائف کے اسٹیج پر بھی نظر آئی۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ جملہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ان کی شخصیت اور سیاست کے ایک ایسے پہلو کی نمائندگی کرتا ہے جس میں فتح صرف حاصل نہیں کی جاتی بلکہ اسے دکھایا بھی جاتا ہے۔ کامیابی صرف کامیابی نہیں رہتی بلکہ ایک منظر بن جاتی ہے اور اس منظر کے مرکز میں کھڑا ہونا شاید خود کامیابی سے بھی زیادہ اہم محسوس ہونے لگتا ہے۔ نیو جرسی کے ایسٹردرفورڈ میں واقع عظیم الشان اسٹیڈیم میں جب اسپین نے ارجنٹائن کو ایک صفر سے شکست دے کر دوسری مرتبہ فٹبال کی دنیا کا تاج اپنے سر پر سجایا تو وہ رات صرف ایک میچ کے اختتام کی رات نہیں تھی۔ وہ برسوں کی محنت کا نقطۂ عروج تھی۔ وہ ان کھلاڑیوں کے خوابوں کی تعبیر تھی جنہوں نے بچپن کے میدانوں سے عالمی اسٹیڈیم تک پہنچنے کے لیے اپنے جسم اور وقت اور جوانی کا ایک بڑا حصہ اس کھیل کے نام کر دیا تھا۔ وہ ان ماؤں اور باپوں کی قربانیوں کا لمحہ تھا جنہوں نے اپنے بچوں کو بارش اور سردی اور گرمی میں مشق کے لیے پہنچایا۔ وہ ان کوچز کے یقین کا صلہ تھا جنہوں نے شکست کے بعد کھلاڑیوں کو دوبارہ اٹھنا سکھایا۔ وہ ان لاکھوں شائقین کی خوشی تھی جنہوں نے اپنی قومی ٹیم کے ساتھ امید اور مایوسی کے کئی موسم گزارے تھے۔ ورلڈ کپ کی ٹرافی سونے اور دھات سے بنی ہوئی ایک شے ضرور ہے مگر اس کے اندر پسینے کی خوشبو اور شکستوں کا دکھ اور زخمی جسموں کی تکلیف اور نہ ختم ہونے والی ریاضت کی پوری داستان محفوظ ہوتی ہے۔ جب کوئی کپتان اسے آسمان کی طرف بلند کرتا ہے تو وہ محض ایک ٹرافی نہیں اٹھاتا بلکہ اپنی قوم کی امیدوں اور اپنے ساتھیوں کی قربانیوں کو تاریخ کے سامنے بلند کرتا ہے۔ ایسے لمحے اصل میں ان لوگوں کے ہوتے ہیں جنہوں نے میدان میں دوڑ لگائی ہو۔ جن کے پاؤں زخمی ہوئے ہوں۔ جنہوں نے ہار کے خوف پر قابو پایا ہو۔ جنہوں نے ایک دوسرے کے لیے اپنی سانسیں اور قوت بچا کر رکھی ہو۔ ان لمحات میں سیاست دان مہمان ہوتے ہیں۔ تاریخ کے اصل کردار کھلاڑی ہوتے ہیں۔ لیکن اس رات منظر کچھ دیر کے لیے بدل گیا۔ میچ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ زیادہ تر ایک محفوظ شیشے کے وی آئی پی باکس میں بیٹھے رہے۔ ان کے ساتھ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو موجود تھے۔ اسپین کے بادشاہ فیلپ ششم بھی وہاں تھے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام بھی موجود تھیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ بھی اسی تقریب کا حصہ تھے۔ میدان کے دوسری جانب ایک سو بیس منٹ تک سخت جسمانی اور اعصاب شکن فٹبال کھیلی گئی۔ کھلاڑی تھکن کے باوجود دوڑتے رہے۔ ہر پاس کے ساتھ ایک قوم کی سانس بند ہوتی رہی۔ ہر حملے کے ساتھ ہزاروں دل دھڑکتے رہے۔ میچ کے دوران اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین پر جب ٹرمپ کی تصویر دکھائی گئی تو مختلف حصوں سے ناپسندیدگی کی آوازیں سنائی دیں۔ بعد میں جب وہ ٹرافی کی تقریب کے لیے میدان میں اترے تو ہوٹنگ زیادہ واضح اور زیادہ بلند تھی۔ مگر کھیل کے اس شور میں بھی اصل کہانی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے دیگر شخصیات کے ساتھ پہلے ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کو چاندی کے تمغے دیئے۔ پھر اسپین کے کھلاڑیوں کو طلائی تمغے پہنائے۔ وہ کھلاڑیوں سے مصافحہ کرتے رہے۔ کسی کو مبارک باد دی۔ کسی سے چند الفاظ کہے۔ اس مرحلے تک سب کچھ ایک عالمی کھیل کی رسمی تقریب کے مطابق تھا۔ پھر وہ لمحہ آیا جس کا انتظار اسپین کے کھلاڑی کر رہے تھے۔ ٹرمپ اور انفانٹینو نے مل کر ورلڈ کپ کی ٹرافی اسپین کے کپتان روڈری کے حوالے کی۔ انفانٹینو نے اپنا کردار مکمل کیا اور فوراً ایک طرف ہٹ گئے تاکہ فاتح ٹیم اپنے لمحے کو پوری آزادی کے ساتھ جی سکے۔ لیکن ٹرمپ وہیں کھڑے رہے۔ روڈری نے ان سے مصافحہ کیا اور بظاہر اپنے ہاتھ اور جسم کے اشارے سے انہیں اسٹیج کے ایک جانب جانے کا راستہ دکھایا۔ ٹرمپ نے چند قدم اس طرح بڑھائے جیسے اب وہ وہاں سے ہٹ جائیں گے۔ مگر وہ مکمل طور پر اسٹیج سے نہ اترے۔ انہوں نے چند اور کھلاڑیوں سے ہاتھ ملایا۔ کچھ دیر گفتگو کی۔ پھر ٹیم کے بالکل قریب کھڑے ہو گئے۔ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو جو پہلے ہی ایک جانب جا چکے تھے اچانک تیزی سے واپس آئے۔ ان کی حرکات سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ امریکی صدر کو اس فریم سے باہر لے جانا چاہتے ہوں جس میں چند لمحوں بعد اسپین کی تاریخ رقم ہونے والی تھی۔ شاید وہ یہ بھی جانتے تھے کہ دنیا کے طاقتور ترین شخص کو ہاتھ سے پکڑ کر اسٹیج سے ہٹانا پروٹوکول سے زیادہ سیاست کا معاملہ بن سکتا ہے۔ شاید انہیں گزشتہ برس کا منظر بھی یاد تھا جب چیلسی کے کھلاڑی کلب ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھانے کے لیے بے تاب کھڑے تھے اور ٹرمپ اسی طرح ان کے درمیان موجود رہے تھے۔ اس وقت بھی کھلاڑیوں کے چہروں پر حیرت نظر آئی تھی۔ اس وقت بھی فیفا کے صدر ایک طرف ہٹ گئے تھے مگر امریکی صدر فاتح ٹیم کے ساتھ کھڑے رہے تھے۔ ایک سال بعد وہی اسٹیڈیم تھا۔ وہی ٹرافی پیش کرنے کا انداز تھا۔ وہی فیفا صدر تھا۔ وہی امریکی صدر تھا۔ یہاں تک کہ اسپین کے کھلاڑی مارک کوکوریلا بھی دونوں تقریبات میں اسٹیج پر موجود تھے۔ پہلے چیلسی کے کھلاڑی کی حیثیت سے اور اب اسپین کے عالمی چیمپئن کی حیثیت سے۔ تاریخ نے خود کو محض دہرایا نہیں بلکہ تقریباً اسی ترتیب کے ساتھ دوبارہ پیش کیا۔ روڈری نے ٹرافی فضا میں بلند کی۔ سنہری کنفیٹی توپوں سے نکلی اور آسمان سے برستی ہوئی میدان پر پھیل گئی۔ اسپین کے کھلاڑی چیخے اور اچھلے اور ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ ایک قوم نے جشن منایا۔ مگر اس لمحے کی ابتدائی تصویروں میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی دکھائی دیے۔ وہ مسکرا رہے تھے اور تالیاں بجا رہے تھے۔ پھر کچھ دیر بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔ وہ اتنی دیر نہیں رکے کہ پورا جشن ان کی موجودگی میں ہو۔ مگر اتنی دیر ضرور رکے کہ ٹرافی بلند کیے جانے کے تاریخی فریم میں شامل ہو جائیں۔ شاید یہی چند سیکنڈ اس واقعے کی اصل معنویت تھے۔ انسان کبھی کبھی برسوں کی سیاست سے نہیں بلکہ چند بے اختیار حرکات سے پہچانا جاتا ہے۔ ایک قدم جو بروقت پیچھے نہ ہٹے وہ بعض اوقات ایک پوری شخصیت کی علامت بن جاتا ہے۔ اقتدار کی سب سے عجیب خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسان کو صرف فیصلوں کا اختیار نہیں دیتا۔ وہ اسے روشنی کی عادت بھی ڈال دیتا ہے۔ جب ہر دروازہ آپ کے لیے کھلے۔ جب ہر شخص آپ کے آنے پر کھڑا ہو۔ جب کیمرے آپ کی طرف مڑ جائیں۔ جب آپ کے ایک جملے سے دنیا بھر کی منڈیاں اور سفارت کاری اور خبرنامے حرکت میں آ جائیں تو شاید آہستہ آہستہ انسان یہ بھولنے لگتا ہے کہ کچھ روشنی کسی اور کے لیے بھی ہوتی ہے۔ اقتدار پہلے انسان کو اسٹیج پر لے جاتا ہے۔ پھر اسے اسٹیج کا عادی بنا دیتا ہے۔ آخر میں اسے یہ احساس بھی چھین لیتا ہے کہ کب اسٹیج چھوڑ دینا چاہیے۔ شاید اسی لیے قیادت کا سب سے بڑا امتحان تقریر کرنا نہیں بلکہ خاموش رہنا ہوتا ہے۔ طاقت دکھانا نہیں بلکہ طاقت کو محدود رکھنا ہوتا ہے۔ مرکز میں کھڑا ہونا نہیں بلکہ بعض اوقات خود کو پس منظر میں لے جانا ہوتا ہے۔ دنیا کے بڑے رہنما صرف اس لیے عظیم نہیں بنے کہ وہ تاریخ کے ہر منظر میں موجود تھے۔ بہت سے رہنما اس لیے بھی عظیم مانے گئے کہ وہ جانتے تھے کب انہیں دوسروں کے لیے جگہ بنانی ہے۔ وقار کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ انسان کسی اور کی کامیابی کو اپنے وجود کی مہر لگائے بغیر تسلیم کرے۔ کسی اور کے لمحے میں خاموشی سے تالیاں بجائے اور پھر پیچھے ہٹ جائے۔ اسپین کی فتح میں ٹرمپ کا کوئی کھیل کا کردار نہیں تھا۔ انہوں نے کوئی گول نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کوئی دفاعی حملہ نہیں روکا تھا۔ انہوں نے ایک سو بیس منٹ تک میدان میں جسمانی جنگ نہیں لڑی تھی۔ اس لیے اخلاقی اور علامتی طور پر وہ لمحہ اسپین کے کھلاڑیوں کا تھا۔ ریاستی سربراہوں کا کام فاتح ٹیم کو ٹرافی دینا تھا۔ ٹرافی کے ساتھ تصویر کا مستقل حصہ بن جانا نہیں تھا۔ تاہم یہ واقعہ صرف ایک شخص کے بارے میں نہیں۔ یہ اقتدار کی اس عمومی نفسیات کے بارے میں ہے جو دنیا کے ہر معاشرے اور ہر سیاسی نظام میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتی ہے۔ حکمران اکثر ریاست اور اپنی ذات کے درمیان فرق بھول جاتے ہیں۔ وہ قومی کامیابی کو حکومتی کامیابی سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر حکومتی کامیابی کو ذاتی کامیابی میں بدل دیتے ہیں۔ آخرکار انہیں ہر کامیابی کے فریم میں اپنی موجودگی ضروری دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ جمہوریت محض ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت یہ شعور بھی ہے کہ کوئی شخص ریاست سے بڑا نہیں ہوتا۔ کوئی عہدہ ادارے سے بڑا نہیں ہوتا۔ کوئی حکمران قوم کی ہر کامیابی کا مالک نہیں ہوتا۔ جمہوریت اقتدار کو مرکز سے ہٹا کر ذمہ داری میں بدلتی ہے۔ وہ حکمران کو یاد دلاتی ہے کہ تم میزبان ہو مالک نہیں۔ تم امین ہو وارث نہیں۔ تمہاری موجودگی خدمت کے لیے ہے ہر منظر پر قبضہ کرنے کے لیے نہیں۔ ٹرمپ کی کھیلوں کی تقریبات میں موجودگی پہلے بھی بحث کا موضوع بنتی رہی ہے۔ نیویارک نکس نے این بی اے فائنلز کا وہ میچ ہارا جس میں وہ میڈیسن اسکوائر گارڈن میں موجود تھے اور وہاں بھی شائقین نے ان کے خلاف آوازیں بلند کی تھیں۔ اسی ورلڈ کپ کے دوران امریکی ٹیم بیلجیم کے خلاف چار ایک سے شکست کھا گئی تھی۔ اس میچ سے پہلے امریکی اسٹرائیکر فولارین بالوگن کا ریڈ کارڈ معطل کرانے کے لیے ٹرمپ نے فیفا کے صدر سے رابطہ کیا تھا۔ سزا ختم ہونے پر عالمی سطح پر اعتراضات اٹھے۔ ناقدین نے سوال کیا کہ کیا کسی ملک کا صدر کھیل کے انتظامی فیصلوں پر ذاتی اثر ڈال سکتا ہے۔ امریکی ٹیم پھر بھی شکست کھا گئی۔ اس واقعے نے کھیل اور سیاست کے درمیان فاصلہ مزید دھندلا کر دیا۔ اس سے پہلے فیفا کی قرعہ اندازی کے دوران ٹرمپ کو ایک امن انعام بھی دیا گیا تھا۔ پھر ٹرمپ ٹاور میں ہونے والی تقریب میں جیانی انفانٹینو نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈ کپ ان کے بغیر اتنا کامیاب نہ ہوتا۔ فیفا اور امریکی صدر کی قربت پہلے ہی سوالات کو جنم دے رہی تھی۔ اس لیے اسپین کی ٹرافی تقریب میں ہونے والا واقعہ محض ایک پروٹوکول کی لغزش نہیں سمجھا گیا۔ لوگوں نے اسے طاقت اور قربت اور کھیل کی سیاست کے ایک بڑے پس منظر میں دیکھا۔ کھیل ہمیشہ سیاست سے مکمل طور پر الگ نہیں رہا۔ ریاستیں کھیل کو اپنی نرم طاقت کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ حکمران بڑے مقابلوں میں اپنی موجودگی سے قومی تشخص اور سیاسی مقبولیت حاصل کرتے ہیں۔ عالمی مقابلوں کی میزبانی صرف کھیل کا معاملہ نہیں ہوتی۔ اس میں معیشت اور سفارت کاری اور قومی وقار سب شامل ہوتے ہیں۔ مگر اسی لیے حدود کا قائم رہنا زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ سیاست دان ٹرافی پیش کر سکتا ہے مگر کھلاڑیوں کے جشن کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ریاست اسٹیڈیم تعمیر کر سکتی ہے مگر گول کھلاڑی کرتا ہے۔ حکومت سکیورٹی فراہم کر سکتی ہے مگر فتح کا حق میدان میں محنت کرنے والوں کا ہوتا ہے۔ ایک مہذب معاشرہ اس فرق کو سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اختیار اور استحقاق ایک چیز نہیں۔ کسی تقریب میں موجود ہونے کا حق اس تقریب کے مرکزی کردار بن جانے کا حق نہیں دیتا۔ بعض لوگوں نے ٹرمپ کے اس عمل کو محض ایک معمولی سی غلط فہمی قرار دیا۔ ممکن ہے وہ واقعی یہ نہ سمجھ سکے ہوں کہ انہیں کس سمت جانا ہے۔ ممکن ہے پروٹوکول واضح نہ ہو۔ ممکن ہے شور اور روشنی اور ہجوم میں انہیں انفانٹینو کا اشارہ پوری طرح سمجھ نہ آیا ہو۔ ایک منصفانہ تجزیہ ان امکانات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ کسی ایک مختصر ویڈیو سے کسی انسان کے ذہن کا حتمی فیصلہ کرنا درست نہیں۔ مگر جب ایک ہی منظر دوسری بار تقریباً اسی انداز میں دہرایا جائے تو اتفاق آہستہ آہستہ ایک عادت کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ اس وقت سوال کسی فرد کی نیت سے زیادہ اس رویے کی علامتی معنویت کا بن جاتا ہے۔ کچھ مناظر اپنے کرداروں کی نیت سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگوں کے اجتماعی شعور میں ایک استعارہ بن جاتے ہیں۔ اسپین کی فتح کے اسٹیج پر ٹرمپ کی موجودگی بھی شاید اسی لیے دنیا بھر میں زیر بحث آئی کیونکہ لوگوں نے اس میں اقتدار کی ایک پرانی خواہش دیکھی۔ دوسروں کی فتح کے قریب کھڑے ہو کر خود کو بھی اس کی روشنی میں نمایاں کرنے کی خواہش۔ ٹرمپ نے کبھی کہا تھا کہ انہیں جیتنے والے پسند ہیں۔ شاید جیتنے والوں کے قریب رہنے کی کشش بھی اسی سوچ کا حصہ ہو۔ شکست تنہائی پیدا کرتی ہے اور فتح مجمع اکٹھا کرتی ہے۔ شکست کے وقت ہر شخص ایک دوسرے سے فاصلہ اختیار کرتا ہے۔ فتح کے وقت بہت سے لوگ اپنا حصہ تلاش کرنے آ جاتے ہیں۔ مگر اصل اخلاقی سوال یہی ہے کہ کون جیت کے وقت بھی اپنی حد پہچانتا ہے۔ کون ٹرافی کو چھو کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ کون فاتح کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ نہیں کہتا کہ مجھے بھی اس تصویر میں رہنے دو۔ زندگی میں بہت سے لوگ کامیابی کے سفر میں ہمارے ساتھ نہیں ہوتے مگر منزل پر پہنچتے ہی تصویر میں آ کھڑے ہوتے ہیں۔ کھیل کا یہ واقعہ اسی انسانی رویے کی ایک بڑی اور عالمی مثال بن گیا۔ تاریخ میں تصویریں بہت طاقتور ہوتی ہیں۔ وہ الفاظ سے زیادہ دیر زندہ رہتی ہیں۔ بائیس کھلاڑیوں کے میدان میں اترنے سے لے کر کپتان کے ٹرافی اٹھانے تک کی تمام تفصیل وقت کے ساتھ دھندلا سکتی ہے مگر ایک تصویر نسلوں تک محفوظ رہتی ہے۔ لیونل میسی کی دو ہزار بائیس میں روایتی عربی بشت پہن کر ٹرافی اٹھانے کی تصویر آج بھی اس ورلڈ کپ کی علامت ہے۔ اسی طرح اسپین کی دوسری عالمی فتح کی تصاویر میں میزبان ملک کے صدر کا فریم کے کنارے موجود ہونا بھی اس رات کی علامتی یاد کا حصہ بن سکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک تصویر میزبان تہذیب کے احترام کی علامت بنی اور دوسری تصویر اس سوال کی کہ کیا میزبان نے فاتحین کے لمحے کو مکمل طور پر ان کے لیے چھوڑا تھا۔ قیادت میں موجودگی اور عدم موجودگی دونوں کا اپنا اخلاق ہوتا ہے۔ کبھی رہنما کا سامنے آنا ضروری ہوتا ہے۔ بحران میں قوم اسے دیکھنا چاہتی ہے۔ جنگ میں اسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ سانحے میں اسے متاثرین کے درمیان کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ مگر جشن میں اس کا کردار مختلف ہوتا ہے۔ وہاں اسے اپنی موجودگی کو دوسروں کی کامیابی پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اصل قیادت وہ ہے جو اپنے لیے ہر وقت تالیاں نہ مانگے۔ وہ دوسروں کے لیے تالیاں بجانے کا حوصلہ بھی رکھتی ہو۔ ایک عظیم رہنما وہ نہیں جو ہر تصویر کے مرکز میں کھڑا ہو۔ عظیم رہنما وہ ہے جو جانتا ہو کہ کبھی کبھی تصویر سے باہر کھڑے رہنا ہی سب سے باوقار تصویر بن جاتا ہے۔ اقتدار انسان کو بلند مقام ضرور دیتا ہے مگر بلندی کا اصل حسن جھکنے میں ہے۔ جو شخص جتنا بلند ہوتا ہے اس سے اتنی ہی زیادہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے حق اور جگہ اور لمحے کا احترام کرے۔ طاقت اگر خود پر قابو نہ رکھ سکے تو وہ عظمت نہیں رہتی۔ وہ محض نمائش بن جاتی ہے۔ جمہوری تہذیب میں سب سے اہم اصول یہی ہے کہ حکمران بھی حدود کے پابند ہوتے ہیں۔ وہ قانون سے اوپر نہیں ہوتے۔ وہ اداروں سے بڑے نہیں ہوتے۔ وہ قوم کی ہر کامیابی کے مصنف نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی انہیں صرف ایک صفحے کے کنارے پر دستخط کرنا ہوتا ہے اور پھر کتاب اصل کرداروں کے حوالے کر دینی ہوتی ہے۔ اسپین کی یہ فتح کھلاڑیوں نے حاصل کی تھی۔ روڈری نے ٹرافی اٹھائی تھی۔ فیران ٹوریس نے فیصلہ کن گول کیا تھا۔ پوری ٹیم نے میدان میں اپنی توانائی صرف کی تھی۔ ان کے کوچز اور عملے نے حکمت عملی بنائی تھی۔ ان کے شائقین نے امید قائم رکھی تھی۔ سیاست دانوں نے نہ وہ دوڑ لگائی تھی اور نہ وہ دباؤ برداشت کیا تھا۔ اس لیے جب کنفیٹی فضا میں اڑی تو اس کے نیچے کھڑے ہونے کا اخلاقی حق سب سے زیادہ انہی لوگوں کا تھا جن کے لباس پسینے سے بھیگے ہوئے تھے۔ شاید چند قدم کا فاصلہ ہی اقتدار اور وقار کے درمیان فرق بن جاتا ہے۔ شاید ایک لمحہ پہلے اسٹیج سے اتر جانا ایک رہنما کی شخصیت کے بارے میں وہ بات کہہ سکتا تھا جو ہزار تقریریں بھی نہ کہہ پاتیں۔ شاید اسی لیے اس ویڈیو نے دنیا بھر کے ناظرین کو رک کر سوچنے پر مجبور کیا۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ ٹرمپ وہاں کیوں آئے۔ امریکی صدر کی حیثیت سے ان کی موجودگی فطری تھی کیونکہ امریکہ اس ورلڈ کپ کے میزبان ممالک میں شامل تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ ٹرافی پیش کرنے کے بعد وہ کب گئے۔ زندگی میں بہت سے تنازعات کہاں آنے سے نہیں بلکہ کب جانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ انسان کو اکثر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی جگہ پہنچنا ہے۔ مگر یہ شعور کم لوگوں میں ہوتا ہے کہ اسے وہاں سے کب رخصت ہونا ہے۔ شاید اقتدار کا سب سے مشکل سبق بھی یہی ہے۔ وقت پر آنا نظم ہے۔ وقت پر چلے جانا حکمت ہے۔ ٹرافیاں سیاست نہیں جیتتی۔ ٹرافیاں کھلاڑی جیتتے ہیں۔ حکومتیں اسٹیڈیم بناتی ہیں مگر تاریخ میدان میں لکھی جاتی ہے۔ صدور ٹرافی پیش کرتے ہیں مگر فتح ان ہاتھوں کی ہوتی ہے جنہوں نے اسے کمایا ہو۔ قیادت کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ ہر کامیابی کے ساتھ اپنی تصویر بنوائے۔ قیادت کی عظمت اس میں ہے کہ وہ دوسروں کی کامیابی کو ان کے نام سے محفوظ رہنے دے۔ اس رات اسپین نے ورلڈ کپ جیتا۔ مگر اس اسٹیج نے دنیا کو اقتدار کے بارے میں ایک اور سبق بھی دیا۔ بعض اوقات طاقت کی سب سے خوب صورت شکل یہ نہیں ہوتی کہ انسان مرکز میں کھڑا رہے۔ طاقت کی سب سے خوب صورت شکل یہ ہوتی ہے کہ وہ خاموشی سے ایک قدم پیچھے ہٹ جائے اور روشنی ان لوگوں پر پڑنے دے جو واقعی اس کے حق دار ہوں۔ کیونکہ اسٹیج چھوڑ دینا ہمیشہ شکست نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہی کردار کی سب سے بڑی فتح ہوتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button