Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

2027: بحران دروازے پر ہے یا صرف دستک دے رہا ہے؟

دنیا کے بارے میں پیش گوئی کرنا بڑا آسان کام ہے، خاص طور پر معاشی بحران کے بارے میں۔ بحران نہ آئے تو پیش گوئی کرنے والا کہتا ہے کہ خطرہ ٹل گیا، آ جائے تو کہتا ہے میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ اصل مشکل یہ ہے کہ بحران آنے سے پہلے اس کی چاپ سن لی جائے۔تو سوال یہ ہے کہ 2027 کی چاپ سنائی دے رہی ہے یا نہیں؟میرا جواب ہے: آواز ابھی دھیمی ہے، مگر خاموشی نہیں دنیا کی معیشت فی الحال چل رہی ہے، بازار کھلے ہیں، بینک کام کر رہے ہیں، حکومتیں بجٹ بنا رہی ہیں اور ماہرین عالمی شرح نمو کے اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔ یعنی بظاہر کوئی قیامت نہیں آئی۔ لیکن معیشت کا مسئلہ بھی عجیب ہے، اس میں خطرہ اکثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سب کچھ بظاہر معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے۔اب ذرا پٹرول پمپ سے شروع کرتے ہیں۔تیل مہنگا ہو تو ہم فوراً شور مچاتے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہوا، ڈیزل مہنگا ہوا، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوگئی۔ لیکن اصل کہانی پٹرول پمپ پر ختم نہیں ہوتی، وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ٹرک مہنگا، مال کی ترسیل مہنگی بجلی مہنگی، فیکٹری کی پیداوار مہنگی۔فیکٹری مہنگی، چیز مہنگی چیز مہنگی، گھر کا بجٹ خراب اور گھر کا بجٹ خراب ہو تو حکومت کی مقبولیت بھی خراب یعنی تیل کی قیمت صرف تیل کی قیمت نہیں ہوتی، یہ پوری معیشت کی قیمت ہوتی ہے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی توانائی کی سپلائی کے بارے میں خدشات اسی لیے اہم ہیں۔ دنیا نے بارہا دیکھا ہے کہ جغرافیائی سیاست جب تیل کی منڈی سے ملتی ہے تو معاشیات کا حساب کتاب بدل جاتا ہے۔مگر صاحب، مسئلہ صرف تیل کا نہیں تیل کے بعد باری کھاد کی آتی ہے اور کھاد کے بعد روٹی کی۔یہ جملہ شاید سننے میں سادہ لگے، مگر اس کے اندر عالمی معیشت کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔کھاد کی پیداوار کے لیے گیس چاہیے۔ گیس مہنگی ہوگی تو کھاد مہنگی ہوگی۔ کھاد مہنگی ہوگی تو کسان کی لاگت بڑھے گی۔ لاگت بڑھے گی تو فصل مہنگی ہوگی۔ فصل مہنگی ہوگی تو آٹا، چاول، سبزیاں اور دوسری اشیائے خورونوش بھی متاثر ہوں گی۔یعنی جو بحران دبئی، دوحہ یا نیویارک کی توانائی مارکیٹ میں شروع ہوگا، وہ کچھ عرصے بعد لاہور، کراچی، فیصل آباد یا پشاور کے کچن میں پہنچ جائے گا یہی عالمی معیشت کا کمال بھی ہے اور المیہ بھی۔ دنیا ایک گاؤں بن چکی ہے، مگر اس گاؤں میں بجلی کا بل ہر گھر کو الگ ادا کرنا پڑتا ہے اب آئیے شرحِ سود کی طرف مہنگائی بڑھے تو مرکزی بینک کیا کرے؟ شرحِ سود بڑھائے۔شرحِ سود بڑھے تو قرض مہنگا۔
قرض مہنگا تو کاروبار محتاط۔کاروبار محتاط تو سرمایہ کاری کم سرمایہ کاری کم تو روزگار کے مواقع محدود۔پھر معیشت سست۔اور جب معیشت سست ہو تو سوال اٹھتا ہے کہ شرحِ سود کم کریں یا مہنگائی کا خوف دیکھیں؟یہ وہ معاشی گتھی ہے جس میں آج دنیا کے کئی مرکزی بینک پھنس سکتے ہیں۔اور پھر آتا ہے وہ شعبہ جس کا نام عام آدمی کم سنتا ہے مگر جس کی اہمیت بہت زیادہ ہے: پرائیویٹ کریڈٹ۔یہاں اصل خطرہ صرف قرض نہیں، اعتماد ہے۔مالیاتی دنیا میں ایک اصول ہے: جب تک سب کو یقین ہو کہ پیسہ واپس مل جائے گا، نظام چلتا رہتا ہے۔ جب چند بڑے سرمایہ کار یہ سوچنے لگیں کہ شاید دوسروں کا پیسہ پہلے نکل جائے گا، تو پھر سب اپنا پیسہ پہلے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہیں سے لیکویڈیٹی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔اور صاحب، مالیاتی بحران میں اکثر مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ دولت ختم ہوگئی۔مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دولت موجود ہوتی ہے مگر نقدی دستیاب نہیں ہوتی۔2008 ہمیں یہی سبق دے کر گیا تھا کہ مالیاتی نظام میں ایک جگہ پیدا ہونے والی دراڑ دوسری جگہ تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لیتی۔پھر جاپان ہے۔بعض اوقات عالمی معیشت میں کچھ ممالک ایسے کردار ادا کرتے ہیں جن کا ذکر عام گفتگو میں کم ہوتا ہے، مگر پردے کے پیچھے ان کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے۔ جاپان ان میں سے ایک ہے۔ین کی قدر، جاپانی بانڈ مارکیٹ اور بینک آف جاپان کی پالیسی صرف جاپان کا مسئلہ نہیں۔ جاپان عالمی سرمایہ کاری کے نظام کا اہم حصہ ہے اور امریکی ٹریژری مارکیٹ میں بھی اس کا کردار معمولی نہیں اب اگر جاپان کو اپنی کرنسی یا مالیاتی نظام کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے اپنے بیرونی اثاثوں میں تبدیلی کرنا پڑے تو اس کے اثرات عالمی مارکیٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔یہاں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے۔جاپان اپنی مشکل حل کرے تو ممکن ہے دنیا کی کسی دوسری مارکیٹ میں نئی مشکل پیدا ہو جائے۔
یہی آج کی دنیا ہے۔امریکہ الگ نہیں۔جاپان الگ نہیں۔چین الگ نہیں۔یورپ الگ نہیں۔مشرقِ وسطیٰ الگ نہیں۔اور پاکستان بھی الگ نہیں۔امریکہ میں شرحِ سود کا فیصلہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو متاثر کر سکتا ہے۔ تیل کی عالمی قیمت پاکستان کا درآمدی بل بڑھا سکتی ہے۔ ڈالر مضبوط ہو تو ہماری مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ عالمی قرض مہنگا ہو تو ہمارے لیے قرض لینا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ہم چاہیں یا نہ چاہیں، عالمی معیشت کی بڑی میز پر ہونے والی گفتگو کا بل کبھی نہ کبھی پاکستان کے گھر تک آ ہی جاتا ہے۔تو پھر کیا 2027 نیا 2008 ہوگا؟ یہ کہنا شاید جلد بازی ہوگی۔2008 جیسا بحران پیدا ہونے کے لیے بہت سے عوامل کا ایک خاص انداز میں ایک دوسرے سے جڑنا ضروری ہوگا۔ مرکزی بینکوں نے گزشتہ بحرانوں سے سبق سیکھا ہے، مالیاتی نگرانی پہلے سے بہتر ہے اور حکومتیں بحران کے وقت مداخلت کے کئی طریقے جانتی ہیں لہٰذا ابھی یہ کہنا کہ اگلا عالمی مالیاتی بحران آ گیا درست نہیں۔لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ خطرہ سرے سے موجود ہی نہیں خطرہ تب بنتا ہے جب کئی چھوٹے خطرے ایک دوسرے کے دوست بن جائیں توانائی کا مسئلہ الگ ہو تو شاید سنبھل جائے خوراک کا مسئلہ الگ ہو تو شاید سنبھل جائے۔بلند شرحِ سود الگ ہو تو شاید سنبھل جائے۔پرائیویٹ کریڈٹ کا مسئلہ الگ ہو تو شاید سنبھل جائے۔جاپان الگ، امریکی قرض الگ، ڈالر الگ۔لیکن اگر سب ایک دوسرے سے جڑ گئے تو پھر؟ پھر صاحب، یہ الگ الگ بیماریاں نہیں رہیں گی، ایک ہی بیماری کی مختلف علامات بن جائیں گی یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں تھوڑا محتاط ہونے کا مشورہ دیتی ہے بڑے بحران ہمیشہ اعلان کر کے نہیں آتے۔2008 سے پہلے بھی دنیا میں بینک تھے، بازار تھے، ماہرین تھے، بڑے بڑے ادارے تھے اور اعتماد بھی تھا مسئلہ یہ ہوا کہ اعتماد بہت دیر تک قائم رہا، پھر بہت تیزی سے ٹوٹا۔اور جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو اعداد و شمار بھی گھبرا جاتے ہیں۔شاید اسی لیے سونا پھر اہم ہو جاتا ہے۔سونے کی خاص بات یہ نہیں کہ وہ ہر وقت منافع دیتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب لوگوں کا اعتماد کاغذی وعدوں، کرنسیوں اور مالیاتی اداروں سے متزلزل ہوتا ہے تو وہ کسی ایسی چیز کی طرف دیکھتے ہیں جسے وہ صدیوں سے قدر کی علامت سمجھتے آئے ہیں لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔سونا بحران کا علاج نہیں، صرف بے یقینی کے دور میں ایک ممکنہ پناہ گاہ ہے اصل علاج معیشت کی مضبوطی ہے اور پاکستان کے لیے یہی سب سے اہم سوال ہے اگر 2027 میں دنیا کو معاشی جھٹکا لگا تو کیا ہمارے پاس اتنے زرمبادلہ کے ذخائر ہوں گے کہ درآمدی بل کا دباؤ برداشت کر سکیں؟کیا ہماری توانائی کی ضروریات محفوظ ہوں گی؟کیا ہماری خوراک کی پیداوار ہمیں عالمی قیمتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی؟کیا ہمارا قرض اتنا ہوگا کہ عالمی شرحِ سود میں معمولی اضافہ بھی ہمیں ہلا نہ سکے؟ اور کیا ہماری معیشت اتنی مضبوط ہوگی کہ عالمی بحران کا جھٹکا عوام کے کندھوں پر ڈالنے کے بجائے اسے برداشت کر سکے؟ یہ سوال حکومت سے بھی ہے، ماہرین سے بھی، کاروباری طبقے سے بھی اور ہم سب سے بھی کیونکہ بحران اگر آیا تو وہ صرف وزارتِ خزانہ کی فائل میں نہیں آئے گا وہ بجلی کے بل میں آئے گا وہ آٹے کی قیمت میں آئے گا وہ پٹرول کے نرخ میں آئے گا وہ ڈالر کی قیمت میں آئے گا اور سب سے بڑھ کر وہ عام آدمی کے اس سوال میں آئے گا میری آمدنی وہی ہے، پھر زندگی اتنی مہنگی کیوں ہوگئی؟‘‘اس لیے 2027 سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، مگر اسے نظر انداز کرنے کی بھی اجازت نہیں۔دنیا شاید بحران کی طرف جا رہی ہو، شاید نہ جا رہی ہو۔لیکن دانشمند وہی ہوگا جو طوفان آنے کا انتظار کرنے کے بجائے کشتی پہلے ہی مضبوط کر لے معاشی بحران کی سب سے خطرناک علامت کبھی تیل کی قیمت نہیں ہوتی، کبھی سونے کی قیمت بھی نہیں ہوتی سب سے خطرناک علامت اعتماد کا کم ہونا ہے۔ جب لوگ بینک سے پہلے پیسہ نکالنے لگیں، سرمایہ کار دوسروں سے پہلے بازار سے نکلنا چاہیں، حکومتیں قرض کے لیے پریشان ہوں اور عوام مستقبل کے بارے میں یقین کھو دیں تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ اعداد و شمار سے آگے بڑھ چکا ہے۔ 2027 ابھی آیا نہیں۔اس لیے حتمی فیصلہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔ مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ بحران آنے سے پہلے اس کی آہٹ سنائی دیتی ہے کبھی وہ تیل کی قیمت میں سنائی دیتی ہے کبھی بانڈ مارکیٹ میں کبھی کرنسی میں۔کبھی خوراک کے نرخ میں۔اور کبھی خاموشی سے عام آدمی کے گھریلو بجٹ میں۔سوال یہ نہیں کہ بحران آئے گا یا نہیں۔سوال یہ ہے کہ جب دنیا کی معیشت کروٹ بدلے گی تو ہم جاگ رہے ہوں گے یا سو رہے ہوں گے؟۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button