Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

آزادی کے پانچ سال بعد!

امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے پانچ سال بعدافغانستان ایک مرتبہ پھر ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے نئے اور پرانے راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ افغان طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے پورے خطے میں ایک ایسا منظر نامہ تخلیق کیا ہے جس میں وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی بجائے ملک کے اندر اور باہر کئی محاذوں پر الجھے ہوئے ہیں۔ انکے پر تشدد انداز ِحکمرانی اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونیوالی معاشی بد حالی انکی ناکامی اور عدم مقبولیت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ملک کے شمالی اضلاع میں مزاحمتی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں لیکن ان ناموافق حالات کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کابل میں انکے اقتدار کو خطرہ لاحق ہے۔ امریکہ سے دو عشروں تک مسلسل نبرد آزما رہنے کے بعد اگر انہوں نے فتح حاصل کی ہے تو انکی جڑیں اپنے ملک اور عوام میں یقیناًگہری ہوں گی۔ ایسا اگر نہ بھی ہو تب بھی کابل میں رجیم چینج کا خواب ایک خطرناک مہم جوئی ہو گا۔ امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے شکنجے میں پینتالیس برس تک جکڑے رہنے والے ایرانی عوام اگر اپنی قیادت تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے تو افغانستان کے عوام بھی طالبان حکومت کو برداشت کرتے رہیں گے۔ ایران اور افغانستان کی حکومتوں میں ایک مماثلت یہ بھی ہے کہ دونوں احتجاجی تحریکوں کو کچلنے میں سفاک واقع ہوئی ہیں۔ انکے عوام جانتے ہیں کہ ان سے نجات پانے کے لیے انہیں بے پناہ قربانیاں دینا پڑیں گی۔ان میں دوسری مماثلت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے عوام اتنے محب الوطن اور خود دار ہیں کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف کسی بیرونی طاقت کے آلہ کار نہیں بنیں گے۔
وادی پنجشیر کا نامور تاجک سردار احمد شاہ مسعود طالبان کے پہلے دور حکومت میں انکے خلاف بر سر پیکار رہا تھا۔ اب اسکا بیٹا احمد مسعود طالبان کے خلاف صف آرا ہے۔ اس نے 2021 میں National Resistance Front بنا کر طالبان کی مخالفت شروع کی تھی۔ اسے طالبان مخالف ہمسایہ ممالک کی مالی اور سیاسی معاونت بھی حاصل ہے مگر وہ چند دوسرے باغی گروہوں کے ساتھ ملکر بھی کابل پر قبضہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ افغانستان میں رجیم چینج کی کوشش کرنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ طالبان کابل سے پسپاہو کر غائب نہیں ہو جائیں گے بلکہ وہ پہلے کی طرح گوریلا جنگ شروع کر دیں گے۔ اس لیے جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے طالبان حکومت سے تعاون کے علاوہ دوسرے تمام آپشنز خطرناک اور طویل المیعاد ہیں۔ پاکستان ایک طویل عرصے تک طالبان حکومت سے اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی پر کاربند رہا مگر طالبان ٹی ٹی پی کی سرپرستی سے تائب نہ ہوئے۔ اسکا نتیجہ دو پرانے دوستوں کے مسلح تصادم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ایک طرف ٹی ٹی پی ُپختونخواہ اور بلوچستان میں بڑھ چڑھ کر حملے کر رہی ہے تو دوسری طرف پاکستان بھی افغانستان پر کئی فضائی حملے کر چکا ہے۔
اقوام متحدہ کی چند روز پہلے شائع ہونیوالی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایران نے گذشتہ دو سال میں چار ملین افغان مہاجرین واپس بھیجے ہیں۔ چار عشروں تک ایک نئی سرزمین پر گھر آباد کرنے اور اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت کرنے کے بعد اچانک اپنی بستیاں اجاڑ کر واپس لوٹ جانا کتنا تکلیف دہ عمل ہے اسکا اندازہ مقامی لوگ نہیں کر سکتے۔ افغان مہاجرین کسی بھی لحاظ سے اپنے میزبانوں پر بوجھ نہیں تھے۔ انکے بنائے ہوے قالین پاکستانی ایکسپورٹ کا ایک بڑا حصہ تھے۔ افغانستان کے ساتھ تجارت دونوں ممالک کے لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ تھی ۔ دونوں ممالک کے درد دل رکھنے والے لوگ آج بھی امن و آشتی اور بھائی چارے کے ماحول میں اختلافات ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے علما ئے کرام طویل عرصے تک کابل اور قندہار جا کر دشمنی کی اس آگ کو سرد کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کسی کی بات ماننے پر آمادہ نہیں۔ وہ نہ تو ملک کے اندر اپنی پُرتشدد پالیسوں میں لچک پیدا کر تے ہیں اور نہ ہی اپنی سرحدوں کو ٹھنڈا کرنے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔
اسوقت ایک دنیا دیکھ رہی ہے کہ طالبان خواتین کے ساتھ کیاسلوک کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی اوپر بیان کردہ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے 2.4 ملین لڑکیوں کو سیکنڈری اور کالج کی تعلیم سے محروم کیاہوا ہے۔ عورتیں مردوں کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں گلی محلے کے لوگ حتیٰ کہ اپنے خاندان کے افراد کسی عورت کے لباس یا عادات و اطوار کے بارے میں پولیس کو مطلع کر دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس پرتشدد ماحول نے لاکھوں خواتین کو ذہنی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔
ان تمام ناکامیوں کے باوجود طالبان حکومت نے پندرہ اگست کویوم آزادی بڑے جوش و خروش سے منایا۔ اس دن کا حیران کن واقع وزیر خارجہ امیر خان متقی کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے امریکہ سے کہاہے کہ وہ افغانستان کی قیمتی معدنیات میں سرمایہ کاری کرے۔ امیر متقی نے امریکہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوے کہا کہ ’’ ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ کا باب ختم ہو چکا اور اب ہمیں عزت و احترام اور مثبت تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہیئے۔‘‘ امیر خان متقی اگر اپنے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں تو اسکا آغاز انہیں اپنے عوام کو خوف و ہراس کی زندگی سے نجات دلا کر اور اپنے ہمسایوں سے پر امن تعلقات استوار کر کے کرنا ہو گا۔ دور دراز کے ممالک سے ’’ مثبت تعلقات‘‘ قائم کرنے کا اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button