Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

چین اور متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی!

امریکہ نے میدان جنگ تبدیل کر دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فتح آتش و آہن کی برسات سے نہیں بلکہ اقتصادی کاروائی سے حاصل کی جائے گی۔ پیر کے روز وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اس طریقہ کار کی وضاحت کی جسے بروئے کار لاکر ایران کے خفیہ مالیاتی نظام کو مفلوج کیا جائے گا۔ سینتالیس برس سے مسلسل امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے اور اپنے طرفدار ممالک سے تجارت کرنے کے لیے ایران نے ایک خفیہ نیٹ ورک بنایا ہوا ہے۔ اس پوشیدہ نظام میں ایرانی بینک ایسی درجنوں کمپنیوں اور سہولت کاروں سے لین دین کرتے ہیں جو ا مریکہ کے وضع کردہ عالمی مالیاتی نظام کو نظر انداز کر کے کاروبار کرتی ہیں۔ سکاٹ بیسنٹ نے نیوز کانفرنس میں کہاکہ ایران کی تمام سہولت کار کمپنیوں کے اثاثے منجمند کر دیئے جائیں گے۔ ایران پر لگ بھگ پانچ عشروں سے عائد شدہ پابندیاں کار گر نہ ہوئیں تو صدر ٹرمپ نے فروری میں Operation Economic Fury کے نام سے ایک نیا منصوبہ متعارف کرایا۔ وہ حکمت عملی اگر کامیاب ہوتی تو اب اس نئے اقتصادی حملے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اس معرکے کو امریکی عوام کے لیے قابل فہم بنانے کے لئے سکاٹ بیسنٹ نے اسے معاشی ڈی ڈے کا عنوان دیاہے۔ ڈی ڈے دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ دن تھا جب امریکہ‘ برطانیہ اور کینیڈا نے بحری جہازوں کے ذریعے یورپ کے پانچ ساحلی شہروں پر حملہ کر کے نازی جرمنی کے خلاف فیصلہ کن اقدام کیا تھا۔ چھ جون 1944 کو ہونے والے اس حملے کو تاریخ کا سب سے بڑا بحری حملہ کہا جاتا ہے اس میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اتحادی فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔
ایران کے خلاف اس نئے حربے پر شکو ک و شبہات کا اظہار کرتے ہوے امریکی صحافیوں نے وزیر خزانہ سے پوچھا کہ چین جو کہ ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے نے اگر تعاون نہ کیا تو پھر کیا ہو گا۔ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ چین سے بات چیت ہو رہی ہے۔ پیر ہی کے روز چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا کہ چین یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ غیر قانونی اوریکطرفہ اقتصادی پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ چین اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدمات کرے گا۔ چین اپنی ضرورت کا نوے فیصد تیل ایران سے حاصل کرتا ہے۔ نظر یہی آ رہا ہے کہ بیجنگ امریکہ کے اس نئے منصوبے میں شمولیت نہیں کرے گا۔ گذشتہ برس جب صدر ٹرمپ نے چین کی برآمدات پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کیا تھا تو چین نے بھی امریکی برآمدات پر بھاری ڈیوٹی عائد کرنے کے علاوہ امریکہ کو قیمتی معدنیات فروخت کرنا بند کر دیا تھا۔ یہ نایاب معدنیات امریکہ ‘ الیکٹرک موٹرز‘ پن چکی ( Wind Turbine) اور آئل ریفائنریز میں استعمال کرنے کے علاوہ اسلحہ سازی کی صنعت میں بھی استعمال کرتا ہے۔ چین کی طرف سے عائد کردہ یہ پابندی امریکہ کی جنگی صنعت کے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہوئی تھی۔ اسکے بعد صدرٹرمپ نے چین پر لگائی ہوئی پچاس فیصد ڈیوٹی بہت جلد واپس لے لی تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مرتبہ بھی بیجنگ نے اگر صاف انکار کردیا تو صدر ٹرمپ کے پاس چین کو سخت جواب دینے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہ ہو گا۔نظر یہ آ رہا ہے کہ امریکی صدر موجودہ مخدوش عالمی حالات میں اس مہم جوئی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اکتوبر کے مہینے چین کے صدر شی جن پنگ امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ دورہ وسط مدتی انتخابات سے صرف ایک ماہ پہلے اس لئے رکھا گیا ہے کہ ایک بڑی عالمی طاقت سے دوستانہ تعلقات کو امریکہ کی کامیاب خارجہ پالیسی کے طور پر پیش کر کے امریکی عوام سے ووٹ حاصل کئے جائیں۔ اس موقع پر ٹرمپ انتظامیہ چین سے کسی قسم کے تصادم کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔
چین نے اگر ایران کے خلاف اس معاشی ڈی ڈے والے منصوبے سے قطع تعلق کر لیا تو یہ بیل منڈھے نہ چڑ ھ سکے گی۔ اس صورت میں امریکہ ایران کے دوسرے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار یو اے ای کو استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ گذشتہ ہفتے یو اے ای کی وزارت خارجہ کی ترجمان افرا ال حمیلی نے ایران سے تمام اقتصادی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھی کہ ایران نے متحدہ عرب امارات پر بلا اشتعال میزائل حملہ کیا تھا۔ ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ عرب امارات عالمی اقتصادی نظام کو مستحکم بنانا ضروری سمجھتی ہیں۔ یو اے ای خلیج فارس میں ایران سے صرف پچاس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود کئی عشروں سے گہرے معاشی ‘ سفارتی اور کلچرل تعلقات قائم ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق دونوں ممالک کی دو طرفہ تجارت کا حجم 2024 میں 28 بلین ڈالر تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی یو اے ای کیساتھ تجارت اسے امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں مد ددیتی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یو اے ای کی وزارت خارجہ نے ایران کے خلاف بیان صدر ٹرمپ کی اماراتی لیڈر شیخ محمد بن زیاد کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد دیاتھا۔ یو اے ای کے اس غیر متوقع بیان کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دبئی کے حکمران یقینی طور پر ایران کے خلاف اقتصادی اقدامات اٹھائیں گے۔ایک برطانوی تھنک ٹینک Bourse And Bazaar Foundation کے مطابق عرب امارات اور ایران تجارتی طور پر اس حد تک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں کہ انکا اپنے روابط کو ختم کرنا قرین از قیاس نہیں ہے۔ برطانوی تھنک ٹینک کی رائے میں شیخ محمد بن زیاد صدر ٹرمپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے ایران کے خلاف بیان دیا ۔ یہ اگر درست ہے تو امریکہ آتش و آہن کے میدان سے گریز پا ہونے کے بعد اس نئی اقتصادی معرکہ آرائی میں بھی کامیاب ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button