Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

جب طاقت کو انصاف کا نام دے دیا جائے

تاریخ کی ایک عجیب عادت ہے۔ وہ کبھی شور مچا کر فیصلہ نہیں سناتی، بلکہ خاموشی سے صفحات پلٹتی رہتی ہے۔ آج جو فاتح نظر آتے ہیں، کل انہی کے فیصلے تاریخ کی عدالت میں سوال بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔دنیا نے گزشتہ تین دہائیوں میں طاقت کی ایسی سیاست دیکھی ہے جس میں اصول اکثر مفادات کے تابع رہے۔ انسانی حقوق کا پرچم بھی بلند رہا، جمہوریت کے نعرے بھی لگتے رہے، امن کے عالمی وعدے بھی کیے جاتے رہے، مگر انہی نعروں کے سائے میں کئی بستیاں اجڑتی رہیں، کئی شہر ملبے کا منظر پیش کرتے رہے اور لاکھوں انسان اپنی ہی سرزمین پر بے گھر ہوتے رہے۔افغانستان کی داستان صرف ایک جنگ کی کہانی نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کی محرومی کی تاریخ ہے۔ بیس برس تک بارود کی گونج سننے والے بچوں نے شاید سکون کا مفہوم کتابوں میں پڑھا ہو، زندگی میں نہیں دیکھا۔ جنگ ختم ہوئی تو سوال باقی رہ گیا کہ اس طویل معرکے کا حاصل کیا تھا؟ اگر انجام وہی تھا جس پر آغاز سے پہلے بات ہو سکتی تھی تو پھر اتنی جانیں کس کے کھاتے میں لکھی جائیں؟عراق پر حملے کو اس یقین کے ساتھ پیش کیا گیا کہ وہاں ایسے ہتھیار موجود ہیں جو پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ بعد کے برسوں میں جب یہ دعویٰ ثابت نہ ہو سکا تو دنیا نے چند لمحوں کے لیے حیرت کا اظہار کیا، پھر معمول کی زندگی میں لوٹ گئی۔ لیکن عراق آج تک معمول پر واپس نہیں آ سکا۔ ریاستیں صرف عمارتوں سے نہیں بنتیں، اعتماد سے بنتی ہیں، اور اعتماد ٹوٹ جائے تو اسے تعمیر ہونے میں دہائیاں لگتی ہیں۔لیبیا کو ایک نئے سیاسی مستقبل کا خواب دکھایا گیا، مگر خواب ٹوٹا تو ریاست بھی بکھر گئی۔ شام عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بن گیا۔ ہر فریق اپنے مفاد کی جنگ لڑتا رہا اور قیمت عام شہری ادا کرتے رہے۔ تاریخ شاید یہ ضرور لکھے گی کہ اس جنگ میں سب سے کم طاقت ان لوگوں کے پاس تھی جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔فلسطین کا دکھ تو گویا ہمارے عہد کا مستقل استعارہ بن چکا ہے۔ ہر چند ماہ بعد دنیا چند روز کے لیے چونک اٹھتی ہے، قراردادیں زیرِ بحث آتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ مگر وہاں ماؤں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو کسی قرارداد کے محتاج نہیں ہوتے۔ بچے کسی سفارتی اصطلاح کو نہیں جانتے، وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ گھر کیا ہوتا ہے اور گھر اجڑنے کا درد کیا ہوتا ہے۔سوال صرف یہ نہیں کہ ظلم کہاں ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ظلم کی تعریف کون کرتا ہے؟ اگر ایک کمزور گروہ تشدد کرے تو پوری دنیا اسے دہشت گردی قرار دیتی ہے، اور بجا طور پر دیتی ہے۔ مگر جب طاقتور ریاستوں کی کارروائیوں سے بے شمار بے گناہ شہری مارے جائیں، بستیاں مٹ جائیں اور نسلیں بے گھر ہو جائیں تو الفاظ اچانک بدل جاتے ہیں۔ کہیں اسے قومی سلامتی کہا جاتا ہے، کہیں جغرافیائی ضرورت، کہیں جمہوریت کا سفر اور کہیں امن کے قیام کی کوشش۔انسانی حقوق کا حسن اسی وقت برقرار رہتا ہے جب وہ کسی پرچم، کسی نسل، کسی مذہب یا کسی طاقت کے تابع نہ ہوں۔ اگر ایک بچے کا خون قیمتی ہے تو ہر بچے کا خون قیمتی ہونا چاہیے۔ اگر ایک ماں کے آنسو اہم ہیں تو ہر ماں کے آنسو برابر اہم ہونے چاہییں۔ انصاف کا ترازو اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب اس کے دونوں پلڑے ایک ہی اصول سے تولے جائیں۔دنیا کو شاید نئے قوانین سے زیادہ نئے ضمیر کی ضرورت ہے۔ طاقت اگر قانون سے بلند ہو جائے تو انصاف محض ایک نعرہ بن جاتا ہے، اور جب انصاف نعرہ بن جائے تو امن بھی ایک خواب رہ جاتا ہے۔تاریخ کے اوراق ابھی بند نہیں ہوئے۔ آنے والی نسلیں صرف یہ نہیں پوچھیں گی کہ جنگ کس نے جیتی، وہ یہ بھی پوچھیں گی کہ انسانیت کس نے ہاری۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button