Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
شوبز

ریئلٹی شو یا خطرناک تجربہ؟ ’میریڈ ایٹ فرسٹ سائٹ‘ پر جنسی تشدد کے الزامات نے تہلکہ مچا دیا

برطانیہ کے مقبول ریئلٹی شو Married at First Sight ایک بار پھر شدید تنازع کی زد میں آگیا ہے، جہاں سابق خواتین شرکاء نے شو کے دوران جنسی زیادتی، جسمانی تشدد اور دھمکیوں جیسے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ ان انکشافات کے بعد برطانوی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ریئلٹی ٹی وی انڈسٹری کے طریقہ کار پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔یہ شو ایک منفرد مگر متنازع تصور کے تحت بنایا گیا ہے، جس میں مکمل اجنبی افراد کی پہلی ملاقات براہِ راست شادی کی صورت میں کرائی جاتی ہے۔ بعد ازاں ان سے ازدواجی زندگی گزارنے اور تعلقات قائم کرنے کی توقع کی جاتی ہے، جبکہ کسی بھی اختلاف یا انکار کی صورت میں نام نہاد ماہرین کا پینل کیمروں کے سامنے ان سے سوالات کرتا ہے۔معاملہ اس وقت سنگین رخ اختیار کر گیا جب بی بی سی کی نئی دستاویزی رپورٹ ’’دی ڈارک سائیڈ آف میریڈ ایٹ فرسٹ سائٹ‘‘ سامنے آئی۔ رپورٹ میں تین سابق خواتین شرکاء نے اپنے شوہروں پر ریپ اور جنسی زیادتی کے الزامات لگائے ہیں۔متاثرہ خواتین میں شامل ایک شریک نے انکشاف کیا کہ شو کے ہنی مون مرحلے کے دوران اس کے ازدواجی تعلقات جلد ہی جسمانی اور جنسی تشدد میں بدل گئے۔ خاتون کے مطابق اس کے شوہر نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے کسی کو کچھ بتایا تو اس پر تیزاب سے حملہ کروا دیا جائے گا۔خاتون نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے تمام صورتحال سے پروڈکشن کمپنی کو آگاہ کیا، لیکن اس کے باوجود نہ صرف شو کی ریکارڈنگ جاری رکھی گئی بلکہ پروگرام کو نشر بھی کر دیا گیا۔ ان الزامات کے بعد ریئلٹی ٹی وی شوز میں شرکاء کی ذہنی اور جسمانی حفاظت سے متعلق سوالات ایک بار پھر شدت سے اٹھنے لگے ہیں۔بی بی سی کی دستاویزی رپورٹ میں ریئلٹی ٹی وی انڈسٹری کے پسِ پردہ ماحول، شرکاء پر دباؤ اور ریٹنگز کی دوڑ میں انسانی مسائل کو نظر انداز کرنے جیسے معاملات پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ تفریح کے نام پر بنائے جانے والے ایسے پروگراموں میں شرکاء کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button