بھارت میں ابھرتی نوجوان سیاست اور’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ ایک پارلیمانی و سماجی تجزیہ

تحریر:آصف اقبال
بھارت کی سیاست گزشتہ ایک دہائی سے شدید نظریاتی تقسیم، مذہبی قطبیت، میڈیا بیانیے اور شخصیت پرستی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ Narendra Modi اور Bharatiya Janata Party نے ہندوتوا، قوم پرستی اور طاقتور میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے ایک ایسا سیاسی ماحول تشکیل دیا جس میں ریاستی بیانیہ اکثر قومی سلامتی، مذہبی شناخت اور جذباتی نعروں کے گرد مرکوز رہا۔ مگر اس تمام سیاسی شور کے پیچھے بھارت کا نوجوان طبقہ مسلسل بے روزگاری، مہنگائی، معاشی عدم تحفظ اور سماجی بے چینی کا شکار ہوتا گیا۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں ایک غیر روایتی اور علامتی سیاسی تحریک “کاکروچ جنتا پارٹی” سامنے آئی، جس نے چند ہی دنوں میں بھارتی سوشل میڈیا، نوجوان حلقوں اور سیاسی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ ابتدا میں اسے محض ایک طنزیہ یا احتجاجی مہم سمجھا گیا، مگر تیزی سے اس نے ایک سنجیدہ سیاسی مباحثے کی شکل اختیار کر لی۔اس جماعت کی بنیاد ایک بھارتی نوجوان طالب علم نے رکھی، جو امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم بتایا جاتا ہے۔ پارٹی کے نام میں “کاکروچ” یا “لال بیگ” کا استعمال دراصل ایک سیاسی علامت ہے، جو ریاستی اشرافیہ کی جانب سے نوجوانوں کی تحقیر کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔چند روز قبل بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر جج Surya Kant نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بعض بے روزگار اور سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوانوں کو “کاکروچ” سے تشبیہ دی۔ ان ریمارکس نے نوجوانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا، کیونکہ اسے لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کی توہین تصور کیا گیا۔ اسی ردعمل میں سوشل میڈیا پر ایک نوجوان نے لکھا:
“میں بھی ایک کاکروچ ہوں۔”
یہ جملہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک علامتی نعرہ بن گیا۔ بعدازاں “کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا، جس نے خود کو نوجوانوں، بے روزگاروں، طلبہ اور سیاسی طور پر مایوس طبقات کی آواز قرار دیا۔حیران کن طور پر صرف چند دنوں میں اس جماعت کے سوشل میڈیا فالوورز لاکھوں میں پہنچ گئے۔ بھارتی سیاست میں جہاں روایتی جماعتیں وسیع مالی وسائل، کارپوریٹ حمایت اور میڈیا اثرورسوخ پر انحصار کرتی ہیں، وہاں ایک مکمل ڈیجیٹل اور نوجوان قیادت پر مبنی تحریک کا اس قدر تیزی سے مقبول ہونا سیاسی مبصرین کے لیے حیران کن تھا۔“کاکروچ جنتا پارٹی” دراصل صرف ایک جماعت نہیں بلکہ احتجاجی سیاست کی نئی شکل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ تحریک اس احساس کی نمائندگی کرتی ہے کہ بھارت کا نوجوان طبقہ اب مذہبی نعروں اور جذباتی سیاست سے آگے بڑھ کر روزگار، تعلیم، معاشی انصاف اور سیاسی شفافیت جیسے حقیقی مسائل پر بات کرنا چاہتا ہے۔پارٹی کے منشور میں کئی ایسے نکات شامل کیے گئے ہیں جو براہِ راست ریاستی ڈھانچے اور سیاسی نظام پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق:ریٹائرڈ ججوں کو سیاسی عہدے دینے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔ووٹر لسٹوں میں مبینہ ردوبدل اور جعلی حذف کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔پارلیمان اور کابینہ میں خواتین کی نمائندگی پچاس فیصد تک بڑھائی جائے۔کارپوریٹ میڈیا اور حکومتی حمایت یافتہ میڈیا کے مالی معاملات کی تحقیقات کی جائیں۔سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے سیاستدانوں پر طویل پابندی عائد کی جائے۔پارٹی کا انتخابی نشان “موبائل فون پر بنا ہوا کاکروچ” قرار دیا گیا ہے، جو موجودہ ڈیجیٹل نسل کی نمائندگی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نئی نسل کی سیاست اب جلسوں اور روایتی نعروں سے زیادہ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور عوامی ردعمل کے ذریعے تشکیل پا رہی ہے۔یہ تحریک ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا بھارت کی موجودہ سیاست واقعی نوجوانوں کے مسائل کو ترجیح دے رہی ہے؟ بھارت ہر سال لاکھوں گریجویٹس پیدا کرتا ہے، مگر بے روزگاری کی شرح مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ شہروں میں بڑھتی مہنگائی، دیہی علاقوں میں معاشی بحران، کسانوں کی مشکلات اور متوسط طبقے کی مالی پریشانیاں نوجوانوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رہی ہیں۔اس تناظر میں نوجوانوں کا یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ ریاستی سیاست اصل معاشی مسائل سے توجہ ہٹا کر مذہبی تنازعات، ہندو مسلم تقسیم اور جذباتی قوم پرستی کو ترجیح دیتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “کاکروچ جنتا پارٹی” جیسے پلیٹ فارمز نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ خود کو روایتی سیاست سے الگ اور “اینٹی اسٹیٹس کو” تحریک کے طور پر پیش کرتے ہیں۔تاہم اس پورے معاملے کا تجزیہ کرتے ہوئے توازن بھی ضروری ہے۔ بھارت ایک پیچیدہ اور وسیع جمہوری نظام رکھتا ہے جہاں انتخابی سیاست صرف سوشل میڈیا مقبولیت سے کامیاب نہیں ہوتی۔ زمینی تنظیم، مالی وسائل، سیاسی تجربہ، مقامی قیادت اور انتخابی اتحاد جیسے عوامل فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ “کاکروچ جنتا پارٹی” مستقبل میں واقعی ایک بڑی سیاسی قوت بن سکے گی یا نہیں۔اسی طرح یہ دعویٰ بھی محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پوری بھارتی عوام ہندوتوا یا موجودہ حکومتی پالیسیوں سے مکمل طور پر متفق یا غیر متفق ہے۔ بھارت ایک متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف طبقات، ریاستوں اور سیاسی گروہوں کی رائے ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہے۔ البتہ یہ حقیقت ضرور واضح ہو رہی ہے کہ نوجوان نسل کے اندر معاشی اور سماجی مسائل پر بے چینی بڑھ رہی ہے، اور وہ اب اپنی آواز کے لیے نئے پلیٹ فارمز تلاش کر رہی ہے۔بھارتی میڈیا کے کردار پر بھی مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں معرکہ حق پاکستان کی کامیابی کو بھی بھارتی میڈیا ہضم نہ کر پایا ناقدین کے مطابق کارپوریٹ اور حکومتی اثرات نے میڈیا کے ایک حصے کو غیرجانبدار صحافت سے دور کر دیا ہے، جبکہ حکومت مخالف آوازوں اور عوامی مسائل کو بعض اوقات مطلوبہ جگہ نہیں ملتی۔ دوسری جانب حکومت کے حامی حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ میڈیا ملک کے استحکام اور قومی مفاد کے مطابق بیانیہ پیش کرتا ہے۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے، مگر یہ طے ہے کہ نوجوان نسل نریندر مودی کی ار ایس ایس اڈیالوجی اور ہندو تواکے بیانیہ سے تنگ نظر اتی ہے اب روایتی میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اعتماد کر رہی ہے۔“کاکروچ جنتا پارٹی” کا ابھار دراصل جنوبی ایشیا میں نوجوان سیاست کی ایک وسیع تر تبدیلی کا حصہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ Bangladesh میں نوجوان احتجاجی تحریکیں، Nepal میں سیاسی تبدیلیاں، اور دنیا بھر میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ابھرنے والی قیادتیں یہ ثابت کر رہی ہیں کہ نئی نسل اب روایتی سیاسی ڈھانچوں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔آخرکار “کاکروچ جنتا پارٹی” صرف ایک جماعت کا نام نہیں بلکہ ایک علامت بن چکی ہے۔ یہ علامت اس نوجوان نسل کی ہے جو خود کو نظرانداز، غیر محفوظ اور غیر نمائندہ محسوس کرتی ہے۔ یہ پیغام بھی واضح ہے کہ نئی نسل اب صرف نظریاتی نعروں سے مطمئن نہیں، بلکہ وہ روزگار، انصاف، شفافیت اور معاشی مواقع کا عملی مطالبہ کر رہی ہے۔اگر بھارت کی روایتی سیاسی جماعتیں نوجوانوں کے حقیقی مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کر سکیں تو مستقبل میں ایسی احتجاجی اور ڈیجیٹل تحریکیں مزید طاقتور ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب نوجوان طبقہ مایوسی، بے روزگاری اور سیاسی بے اعتمادی کا شکار ہو جائے تو وہ کسی نہ کسی نئی سیاسی زبان کو جنم دیتا ہے اور “کاکروچ جنتا پارٹی” شاید اسی نئی زبان کا ابتدائی اظہار ہے۔



