الٹی ہوگئیں سب تدبیریں ۔۔۔۔۔!

بہت سے لوگوں کو زمین پر خدا ہونے کا خبط یا خوش فہمی ہوتی ہے !اصل میں انسان کا ظرف دو ہی چیزوں سے آزمایا جاتا ہے: دولت سے یا اقتدار سے۔ جن میں ظرف ہوتا ہے، جیسے پاکستان کے یزیدی جرنیلوں کے عتاب کا شکار، عمران خان، وہ اقتدار ملنے کے بعد اور زیادہ عاجز اور منکسر مزاج ہوجاتے ہیں لیکن کم ظرف، جن میں پاکستان کے حوالے سے عمران کے خلاف اپنے ذاتی عناد اور بغض کو ہوا دینے والا پاکستان کا خود ساختہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سرِ فہرست ہے، جسے اقتدار اور طاقت سنبھالی نہیں جاتی اور وہ اپنی کم ظرفی کا ثبوت اپنے ہر اوچھے فعل سے دنیا کو دیتا رہتا ہے!لیکن خود کو ارضی خدا سمجھنے میں سامراج اور استعمار کے گرو گھنٹال کا کوئی ثانی ہی نہیں، جن کا ایک معمولی ہرکارہ پاکستان میں خود کو خدا منوانا چاہتا ہے لیکن پاکستانی عوام کی اکثریت ایسے شعبدہ بازوں سے اب نہ متاثر ہوتی ہے نہ مرعوب اور یہ چمتکار اس ذہنی آبیاری کا ہے جو عمران نے قوم کو، خاص طور پہ نوجوانوں کو بخشا ہے اور جس کے اثر کو عاصم منیر کی ذہنی پستی اور عمران کے خلاف اس کی منتقمانہ گھٹیا حرکتیں بھی زائل نہیں کرسکیں !لیکن سامراجی گرو گھنٹال کی بات ہی اور ہے۔ وہ نہ صرف اپنے ارضی خدا ہونے کا اظہار رات دن کرتے رہتے ہیں بلکہ خدا کے لہجہ میں بولنے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور ایران کو خصوصا” ہر روز دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ایران کی زندگی وہ اپنی پھونک سے بجھادینگے، کبھی کہتے ہیں کہ ایران کو وہ ایسے مٹائینگے کہ پھر کبھی آباد نہ ہوسکے، کبھی نہ بس سکے!اپنی تازہ ترین دھمکی میں انہوں نے ایران کو یہ دھونس دی ہے کہ اس کیلئے جو انہوں نے کلاک وضع کیا ہے اس کی سوئیاں چل رہی ہیں اور ایران کے پاس بقاء کیلئے زیادہ وقت نہیں ہے ۔ ایران کے پاس کچھ نہیں بچے گا، ان کی دھمکی کا لبِ لباب یہ ہے !
یہ دھونس اور دھمکیاں اس کے باوجود ہیں کہ ان کے اپنے مداح، جو ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملایا کرتے تھے، واشگاف انداز میں یہ کہہ رہے ہیں کہ گرو گھنٹال یہ جنگ ہار چکے ہیں اور ایران نے اپنی استقامت، ثابت قدمی اور استقلال سے دنیا کی سب سے بڑی اور جنگجو عسکری طاقت کے دانت کھٹے کردئیے ہیں!مرحوم حبیب جالب، جو حق گوئی کیلئے اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، نے فیلڈ مارشل ( یہ خود ساختہ فیلڈ مارشل پاکستان کے حق میں عذاب بنے ہوئے ہیں، کل بھی عذاب تھے اور آج تو کل سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں) ایوب خان کی مادرِ ملت کے خلاف صدارتی انتخاب میں دھاندلی کے ذریعہ فتح کو کیا خوب بیان کیا تھا:
دھاندلی، دھونس ، دھن سے جیت گیا
جبر پھر مکر و فن سے جیت گیا
سامراجی گرو گھنٹال کو ایران سے دَھن تو کچھ بھی نہیں ملا اگرچہ کوشش انہوں نے بہت کی کہ ایران کے تیل کے کنوؤں پر ایسے ہی قبضہ کرلیں جیسے انہوں نے وینزویلا کی تیل کے اثاثوں پر قبضہ کیا ہے اور خود بڑے فخرسے اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے بحری قزاق کا کردار ادا کیا ہے۔لیکن ایران نے اپنے تیل پر بحری قزاق کو قابض نہیں ہونے دیا اور الٹا قزاق کا تیل نکال دیا۔ ایسا تیل نکالا ہے کہ اب قزاق کے پاس صرف دھونس اور دھمکیاں ہی باقی رہ گئی ہیں!لیکن شراب کی طرح ڈینگیں ہانکنے اور دھمکیاں دینے کی لت ایک بار چمٹ جائے تو پھر چھڑائے نہیں چھٹتی!لیکن قزاق پریشان یقینا” ہے اور اسی پریشانی میں اس نے چین کی مدد لینے کی کوشش کی جو بیل منڈھے نہیں چڑھی!ٹرمپ نے چین کے دورے کیلئے بہت اہتمام کیا تھا!ساہوکاروں اور امریکہ کے چوٹی کے سرمایہ داروں کی ایک فوج ان کے ہمراہ چین یاترا پر گئی تھی!اس کے علاوہ اپنے چینی میزبانوں کو مرعوب کرنے کیلئے بہت سارا تام جھام وہ بیجنگ میں نازل ہونے سے پہلے سترہ دیو ہیکل طیاروں میں بھجواچکے تھے جس میں درجنوں گاڑیاں اور سکیورٹی کاساز و سامان شامل تھا۔کم ظرف یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ٹیپ ٹاپ اور شان سے سامنے والا مرعوب ہوجائے گا لیکن وہ چینیوں سے اسی طرح واقف نہیں جیسے دنیا کے کسی اور خطہ کے لوگوں کے مزاج کو وہ بالکل نہیں سمجھتے۔ انہیں صرف اپنی ذات سے مقصد ہے اور اس کے سحر میں وہ ہمہ وقت مبتلا رہتے ہیں!لیکن چینی ان کی اُٹھائی گیر شخصیت کے برعکس انتہائی بردبار اور متحمل مزاج لوگ ہیں۔ وہ شور شرابہ مچانے کے بجائے خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ان کی بے مثال اقتصادی اور عسکری ترقی اس کا ثبوت ہے۔چین نے اپنے وسائل کو دنیا میں جنگیں کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا بلکہ خود کو عالمی اقتصادی طاقت بنانے کیلئے استعمال کیا اور ان کی اس عمل میں کامیابی کا آج دنیا لوہا مانتی ہے!ٹرمپ بہادر کی مشکل یہ ہے کہ اپنی دھونس دھمکیوں اور شیخی کے باوجود وہ ایران کی دلدل میں گلے گلے تک دھنس گئے ہیں اور اس دلدل سے نکلنے کیلئے انہیں چین کا سہارااورمدد چاہئے۔یہی دورہء چین کا ان کا سب سے بڑا مقصد بھی تھا اور حسب معمول اور حسبِ فطرت انہوں نے بیجنگ روانگی سے پہلے نعرہء مستانہ لگایا کہ چین کے صدر شی جن پنگ انہیں، بقول ان کے، ایک بڑی اور توانا جھپی دینگے جسے ہماری نستعلیق زبان اور محاورہ میں بغلگیر ہونا کہا جاتا ہے !لیکن صدر شی ان کی طرح اُتھلے نہیں ہیں۔ لہٰذا انہوں نے ٹرمپ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور بغلگیر ہونے کے بجائے اپنے کو صرف ایک مصافحہ تک محدود رکھا!چین نے ایران کے حوالہ سے بھی ٹرمپ کی کوئی خاص مدد نہیں کی۔ چین ایران کا قریبی دوست اور بزنس پارٹنر ہے۔ اپنی ضرورت کا تیل سب سے زیادہ وہ ایران سے لیتا ہے اور یہاں تک ہے کہ ایران کی خام تیل کی برآمدات کا اسی (80) فیصد حصہ چین جاتا ہے !تو ظاہر ہے کہ چین کبھی نہیں چاہے گا کہ ایران جو سامراجی اور صیہونی جارحیت کا شکار ہے اور مظلوم ہے اس کے مقابلے میں وہ اس کی مدد کرے جو ننگی جارحیت کا مرتکب ہے!تو بقول شخصے شی جن پنگ نے ٹرمپ کو لال جھنڈی دکھادی اور ٹرمپ جو اس انداز سے اکڑتے ہوئے چین پہنچے تھے جیسے اسے بھی فتح کرکے آئینگے اپنا سا منہ لیکے رہ گئے !ان کے اپنے امریکی مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ ٹرمپ کو اپنے چینی میزبان سے کچھ نہیں ملا بلکہ الٹا شی جن پنگ نے تائیوان کے حوالہ سے، جو بلاشبہ چین کا اٹوٹ انگ ہے، یہ وارننگ دے دی کہ امریکہ نے حسبِ معمول اگر وہاں کوئی شرارت کرنے کی کوشش کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ دوسروں لفظوں میں شی جن پنگ نے ٹرمپ کے سامنے ایک سرخ لکیر پھیر دی کہ اس لکشمن ریکھا کو پار کیا تو نتائج اچھے نہیں ہونگے!ٹرمپ تو اپنے دعووں کے برعکس بیجنگ سے بے نیل و مُرام واپس گھر پہنچ گئے لیکن وطنِ مرحوم، پاکستان میں ان کے بے دام غلام اور چیلے ان کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں اور ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ آقائے نامدار ان سے راضی رہیں اسلئے کہ یزیدی عسکری ٹولہ کی دال روٹی اور پاکستان پر قبضہ اپنے آقا کی سرپرستی کا محتاج ہے اور فی الحال آقا اپنے پاکستانی کارندے کو تعریف اور توصیف سے آئے دن پھونک دیتے رہتے ہیں۔ بھائی غلام سے کام بھی تو لینا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جس دن کام نکل جائے گا وہ غلام کو، حسبِ روایت، کسی استعمال شدہ کلینکس کی طرح کوڑے کے ڈھیر پہ پھینکنے میں پل بھر کی دیر نہیں لگائینگے!لیکن فی الحال عاصم منیر کی گڈی تنی ہوئی ہے اور وہ اپنے مقبوضہ پاکستان کے بے تاج بادشاہ بنے ہوئے ہیں!
نہ صرف وہ بلکہ ان کا دستِ راست محسن نقوی جس کے متعلق مبصرین وثوق سے کہتے ہیں ک وہ پاکستان دشمن انٹیلیجنس اداروں کا تربیت یافتہ ایجنٹ ہے، وہ اپنے سر پہ نئے نئے ہیٹ سجاتا رہتا ہے۔یہ محسن نقوی کہاں سے آیا اس کا سراغ نہیں ملتا لیکن اپنے برادرِ نسبتی عاصم منیر کے بعد پاکستان میں ارتکازِ اقتدار اور طاقت کے ضمن میں یہ سامراجی ایجنٹ دوسرے نمبر پہ ہے !یہ پہلے پنجاب کا نگراں وزیر اعلیٰ بنا، پھر کٹھ پتلی وزیر اعظم چور شہباز کی کابینہ میں وزیرِ داخلہ لگا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے پاکستانی کرکٹ کا بھی کرتا دھرتا مقرر کردیا گیا اور ایسا کرتا دھرتا کہ یہ چھٹ بھیئا پوری طرح سے پاکستانی کرکٹ کے بدن سے ناگ کی طرح لپٹ گیا ہے !لیکن اب ان سب اعزازات کے بعد محسن نقوی پاکستان کا سب سے بڑا سفارتکار بھی ہوگیا ہے اور اس کردار میں وہ تہران پہنچا ہے اپنے سامراجی آقاء کی اس تازہ ترین دھمکی کے بعد کہ ایران کی گھڑی کی سوئیاں چل پڑی ہیں اور ایران کے پاس اب زیادہ وقت نہیں بچا ہے !تو سامراج کا غلام اور کارندہ محسن نقوی ایرانی قیادت کو یہ پیغام دینے گیا ہے کہ سامراجی گرو گھنٹال کی دھمکی کے جواب میں وہ ہتھیار ڈال دیں !لیکن ایرانی قیادت پاکستان پر مسلط عسکری قیادت اور اس کے سیاسی گماشتوں کی طرح بیغیرت نہیں ہے۔ اس میں غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے تو سامراجی کارندہ جس مشن پہ تہران بھیجا گیا ہے اس میں ناکامی اس کا مقدر ہوگی اور کچھ نہیں!لیکن پاکستان کے ارضی خداؤں نے پچیس کڑوڑ عوام کے دیس کو، جو دنیا میں کہنے کو واحد اسلامی جوہری طاقت ہے، اپنے مفاد کیلئے کس طرح دنیا میں رسوا کیا ہے اس کا اصل احوال کل کا مورخ ہی کُھل کے بیان کرسکے گا!عاصم منیر اور اس کے یزیدی ٹولہ کو، اور اس ٹولہ کے سامراجی آقاء کیلئے ہمارا یہ پیغام ہے کہ:
جو اپنے آپ کو سمجھیں وہ سقراطِ زمانہ ہیں
وہ اپنے آپ کو ارضی خدا گردانتے ہیں اب
خدائی کے جو دعویدار ہیں ان کو یہ بتلاؤ
خدا کے سامنے کس کی خدائی چل سکی ہے کب ؟



