چین کا دورہ!

تجزیہ کار کہہ رہے تھے کہ صدر ٹرمپ چین جانے سے پہلے ایران سے جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں،ایران جنگ ختم کرکے صدر ٹرمپ کو کیا فائدہ ہوتا، اس سوال کے جواب میں امریکی اور مغربی میڈیا خاموش تھا زیادہ سے زیادہ جواب ملا تو وہ یہ تھا کہ صدر ٹرمُپ صدر شی سے یہ کہہ سکتے تھے کہ میں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیں یہ جواب انتہائی نا معقول ہوتا،ساری دنیا جانتی ہے کہ صدر ٹرمپ کا جنگیں رکوانے کا دعویٰ لا یعنی ہے ،سب سے بڑی جنگ تو پاکستان اور بھارت کے درمیان تھی جس کے بارے میں چند دن قبل ٹرمپ خود کہہ رہے تھے کہ پاکستان بھارت ہزار سال سے لڑ رہے ہیں اب بھی لڑ رہے ہیں یہ خود ہی لڑ کر تھک جائیں گے مگر جیسے ہی فرانس کا رافیل گرا، روس کا مگ گرا، بیٹری 400 تباہ ہوئی اس کے بعد ٹرمپ کی بیتابی قابل دید تھی ،ٹرمپ تو کہہ رہے ہیں کہ پاک بھارت جنگ میں نے رکوائی،Feather in the capشہباز نے لگا دیاکہ ٹرمپ اگر جنگ نہ رکواتے تو کروڑوں جانیں تلف ہو جاتیں،اول تو یہ موقع آنا ہی نہیں تھا،ایٹمی طاقتیں اتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیوں کریں گی ایک مبصر نے لکھا کہ فرنچ اور روسی ٹیکنالوجی کے پرخچے اڑنے کے بعد بھارت نے امریکی ٹیکنالوجی کو ہی آزمانا تھا،اور اس موقع پر امریکی ٹیکنالوجی پر حرف آتا تو امریکہ کے لئے یہ بہت بڑا disasterہوتا، ساکھ ملیامیٹ ہو جاتی،اس وقت کے آنے سے پہلے ہی ٹرمپ نے جنگ بندی کرا دی،ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ جنگ بندی انہوں نے کرائی مگر شواہد کچھ اور ہیں،بہر حال جنگ بندی ہوئی، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ٹرمُپ نے کشمیر پر ثالثی کرنی چاہی مگر بھارت نے انکار کر دیا جس پر ٹرمپ بہت ناراض ہیں اور وہ بار بار بھارت کے طیاروں کے گرنے کی بات کرتے ہیں،اور بھارت کو شرمندہ کرتے ہیں جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم معاشی محرکات کی بنا پر لڑی گئیں،ان دونوں جنگوں میں مشرق کا حصہ بہت کم تھا ،جنگ عظیم دوم کے بعد ساری جنگیں مشرق پر ہی تھوپی گئیں اور بلا جواز تھوپی گئیں ،نوآبادیاتی نظام کے گرنے کے بعد مغرب نے یہ طے کر لیا تھا کہ وہ مشرق کوٹکڑے ٹکڑے کر دے گا، اور چھوٹے چھوٹے ملکوں کے خام مال سے فائدہ اٹھائے گا، اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں تیل نکل آیا اور عالمی طاقتوں کی رال تیل پر ٹپکنے لگی اور ساری توجہ مشرق وسطی پر ہو گئی ،کچھ عرب خاندانوں کو بر سرِ اقتدار لایا گیا ،ان کو تحفظ دینے کا وعدہ کیا گیا ،تیل نکالنے کی ٹیکنیک مغرب کی تھی تو تیل کی دولت سے مغرب نے اب تک کماحقہُ فائدہ اٹھایا جس میں امریکہ کا بڑا کردار رہا،عراق، لبیا،اور شام کی تباہی کے بعد سوچا گیا کہ اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کا چودھری بنا دیا جائے،اسی لئے ابراہام معاہدہAbraham Accord کا ڈول ڈالا گیا،اور چند عرب ریاستوں جن میں امارات بھی شامل ہےاسرائیل کو تسلیم کر لیا، سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے ہی والا تھا کہ حماس نے اسرائیل پر حملہ کر دیا،اور اس کو اس قیمت غزہ کی تباہی اور فلسطینی نسل کشی کی صورت میں چکانی پڑی اس دوران امریکہ اور یورپ پوری یک سوئی سے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرتا رہا اور غزہ پر آگ برستی رہی،اور دنیا خاموش رہی ،اسی دوران یہ مناسب سمجھا گیا کہ لگے ہاتھوں ایران سے بھی نمٹ لیا جائے لہٰذا بلا جواز ایران پر حملہ ہوا،ابھی اس حملے کی گرد جمی بھی نہ تھی کہ آٹھ ماہ بعد امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملہ کر دیا اور ایران میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی مگر ایران کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی یہ بات اپنی جگہ خود ایک سوال ہے کہ دنیا کی سپر پاور کو ایک مفلوک الحال ملک سے مذاکرات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی،مختلف تجاویز دونوں ممالک کے درمیان Exchangeکی جا رہی ہیں مگر ایران اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹ رہا،امریکہ بزور قوت اس معاہدے پر دستخط کرانا چاہتا ہے جو اس نے خود تیار کیا ہے،سنا تو تھا کہ امریکہ نے ایک بڑا حملہ کرنے کی ٹھانی تھی مگر سعودیہ،قطر اور امارات کی درخواست پر یہ حملہ مؤخر کر دیا، یہ خبریں آرہی ہیں کہ امریکہ نے خود اعتراف کر لیا ہے کہ اس کے سینتالیس طیار ے تباہ ہوئے اور مشرق وسطی میں اس کے اثاثوں کو بہت نقصان پہنچا اور اب امریکی نہیں چاہتے کہ ایک مہنگی جنگ میں دوبارہ کودا جائے،کچھ ذرائع سے پتہ چلا کہ تیل کی بڑھتی گرتی قیمتوں سے ٹرمپ نے بھی فائدہ اٹھایا ہے اب اگر بیانات کا یہی سلسلہ جاری رہتا ہے صبح خبر آتی ہے حملہ نہیں ہوگا اور شام کو بیان بدل جاتا ہے کہ ہم جنگ ختم کر رہے ہیں اور ان بیانات سے ہی بلین ڈالرز کا فائدہ ہو جاتا ہے تو استعماری ذہن یہ سلسلہ جاری رکھیں گے دنیا کی معیشت کی تباہی ہوتی بھی ہے تو اس کی کس کو پرواہ،اس وقت ایران واقعی مشکل میں ہے اور اس کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے مگر تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران ان حالات میں چار چھ ماہ Surviveکر سکتا ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ چار چھ ماہ اسی ناکہ بندی کے ساتھ جنگ میں دوبارہ اُتر کر کچھ حاصل کر سکتا ہے یا نہیں تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف مسلسل گر رہا ہے،مڈ ٹرم سر پر ہیںصدر ٹرمپ کو و ائٹ ہاؤس میں ڈھائی سال اور گزارنے ہیں مگر ری پبلیکن پارٹی کو باقی رہنا ہےلہٰذا ری پبلیکنز کا دباؤ بڑھ رہا ہے جنگ بندی کی قرار داد سینیٹ سے منظور ہو چکی اگر کانگریس سے بھی منظور ہو گئی تو ٹرمپ کو جنگ روکنی ہوگی اور جنگ کے لئے خطیر بجٹ بھی نہ ملے گا،سو امریکہ کی تیل کمپنیز کے پاس یہ نادر موقع ہے کہ وہ کچھ دن اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں۔ٹرمپ کا چین کا دورہ کامیاب نہ تھا، اب ٹرمپ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ دورہ ناکام تھا،امریکی میڈیا اس دورے کے نتائج سے مطمئن نہیں امریکی اور امریکی میڈیا کو بڑی توقعات تھیں جو پوری نہیں ہوئیں پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کےدیسی تجزیہ نگار کچھ کنفیوزڈ نظر آتے ہیں کل تک سارا الیکٹرانک میڈیا ایران کے ساتھ کھڑا ہے مگر اب ایران پر تنقید بھی ہو رہی ہے،جنگ کے حوالے سے بھی دبے دبے لفظوں میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کو پیچھے ہٹ جانا چاہیئے اور جو کچھ مل رہا ہے اسی پر اکتفا کرنا چاہیئے،جب سے ہمارے محترم اقوام متحدہ میںپاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز نیچرل آبی راستہ ہے اور عالمی قوانین کے تحت اس کو بند نہیں کیا جا سکتا تب سے پاکستان کے ننھے منے اینکر ز بھی یہی کچھ کہنے لگے،محترم منیر اکرم کی بات تو درست ہے تو کچھ اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیر کے لئے تھیں کچھ قوانین غزہ کے لئے بھی تھے کہیں یہ بھی لکھا ہوگا کہ اسرائیل لبنان کے علاقےپر قبضہ نہیں کر سکتا، سندھ طاس معاہدے کے بارے میں کچھ عالمی قوانین ہونگے مگر عالمی قوانین کا اطلاق صرف آبنائے ہرمز پر کیوں، اس بات پر کیوں نہیں کہ دس ہزار میل سے امریکہ ایران پر حملہ آور کیوں ہوا؟خیر بات ہو رہی تھی ٹرمپ کے دورہ ٔچین کی،امریکی میڈیا کہتا رہا کہ چین پہنچتے ہی ٹرمپ کا لہجہ مہذب ہو گیا وہ چین کی flatteringکرتے نظر آئے کوئی بڑا بریک تھرو نہ ہو سکا پانچ سو boingsکی خرید کی بات ہونی تھی جو تین سو ہوئی پھر دو رہ گئی سویا بین پر بھی بات نہیں ہوئی، ٹیرف پر بھی بات نہ ہو سکی،البتہ تائیوان پر چین کا سخت موقف سامنےآیاصدر شی نے کہہ دیا کہ اگر تائیوان کو اسلحہ بیچا گیا تو تصادم ہوگا سماء ٹی وی ایک ممتاز ٹی وی چینل ہے اس چینل پر Straight Talk کے نام سے ایک ٹاک شو نشر ہوتا ہے جس کی میزبانی عائشہ بخش کرتی ہیں اس ٹاک شو میں سابق ائیر مارشل شہزاد چودھری ایک مستقل ممبر ہیں جو اپنے تجزیوں سے نوازتے ہیں شہزادچودھری کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا چین کا دورہ کامیاب رہا،انہوں چین سے اس بات کی endorsementلے لی کہ آبنائے ہرمز کوکھلا رہنا چاہیے اور یہ بات بھی منوا لی کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیئے،سیاست بڑی نازک چیزہے اور سیاسی تجزیوں میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیئے،اس وقت پاکستانی چینلز پر تقریباً تین درجن سے زائد دفاعی تجزیہ نگار موجود ہیں زیادہ تر ایران کو یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایران کو جنگ کیسے لڑنی چاہیئے ایران اپنے جغرافیہ کو کیسے استعمال کر سکتا ہے وغیرہ وغیرہ جہاں تک MilitaryStrategyکی بات وہ اپنے سبجکیٹ پر عبور رکھتے ہیں اور کہیں کہیں اپنے علم سے چونکا بھی دیتے ہیں مگر سیاسی تجزیہ نگاری چیز دیگری است،بہر حال ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکی میڈیا ٹرمپ کے اس دورے کو کیسے دیکھ رہے ہیں،اس دورے کو امریکی میڈیا اور امریکی عوام کے perspective سے ہی دیکھنا ہوگا یہ ضروری نہیں کہ اپنے دورے کے بارے میں ٹرمپ یا ان کے ساتھی کیا کہتے ہیں اور اکثریت کی رائے یہی ہے کہ دورے کے مقاصد پورے نہ ہو سکے،ہر چند کہ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ صدر شی سے ان کی ملاقات اچھی رہی ،پیوٹن اب چین پہنچ چکے ہیں اور پیوٹن ملاقات کے بعد صدر شی کا لہجہ کافی سخت لگ رہا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ ایران سے دوبارہ جنگ شروع کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی،خلیجی ممالک بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ امریکہ نے اگر ایران پر حملہ کیا تو ایران خلیج کو تباہ کر دے گا جس کی تعمیر نو میں دہائیاں لگ سکتی ہیں،اور ظاہر ہے کہ اس حملے سے خلیجی ممالک کو تو کوئی فائدہ ہوگا نہیں ،یہ حملہ اگر ہوگا بھی تو اسرائیل کو تحفظ دینے کے لئے ہوگایہ کیسا امریکہ خلیج اتحاد ہے جو خلیج کو نہ بچا سکا اسرائیل جنگ چاہتا ہے اور امریکہ کے بل پر چاہتا ہے،ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ہو بھی گیا تو یہ کیا گارنٹی ہے کہ امریکہ خود اپنے معاہدے کو نہیں توڑے گا۔



