Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

پیچیدہ نوعیت کے جنگی مذاکرات 

امن کا پرچم لہرانے والے ہاتھ بھی اب تھک ہار کے امریکہ ،ایران کے امن مذاکرات سے بد دل ہو کر بیٹھے ممکنہ جنگ کا انتظارکر رہے ہیں امریکہ کا صدارتی منصب جو دنیا میں بڑی اہمیت ،رُعب دبدبے کا حامل ہوتا تھا اس جنگی کاروائیوں کے دوران اپنی ساکھ کو بڑی حد تک متاثر کر چکا ہے ظاہر ہے کہ اس تنزلی کی ذمہ داری ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں کو جاتی ہے جس کی وجہ سے دنیا کا امن خطرات سے دوچار ہو کر معاشی ابتری کا شکار ہو رہا ہے ایران امریکہ کے مابین مذاکرات کی پیچیدگی یورینیم کی افزودگی پر اس شدت سے بر قرار ہے کہ گماں کیا جا رہا ہے کہ اس مدعے کی بنیاد پر تیسری عالمی جنگ چھڑنے کے خطرات آئے روز بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں امریکہ ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے لیکن اس حالیہ جنگ میں ایران سے زیادہ نقصان امریکہ کو اپنے اتحادی اسرائیل کی ہٹ دھرم پالیسیوں کی وجہ سے اُٹھانا پڑا ۔اسرائیلی قیادت کی ایماء پر امریکہ کا جنگ میں کودنا سفارتی ،اخلاقی اور تزویراتی سطح پر مشکلات سے دوچار کر گیا ہے گو کہ ایران کو بھی اس جنگ میں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن امریکہ بڑی طاقت ہونے کے باوجود کئی محاذوں پر غیر معمولی نقصان ہوا ۔امریکہ کی اخلاقی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی کیونکہ آغاز ِ جنگ سے قبل نہ تو اقوام ِ متحدہ سے اجازت لی گئی اور نہ ہی نیٹو کو اس قابل سمجھا گیا کہ اُس کی حمایت لی ۔  دنیا کے ان اہم فورمز کو نہ جانے کیوں ٹرمپ حکومت اس قابل ہی نہیں گردانا اور نہ ہی ان کی رائے کو مقدم جانا تو امریکہ کی یہ سفارتی تنہائی بلا سوچے سمجھے نیتن یاہو کی ایماء پر ایران پر جارحیت میں پہل کرنا ہے نیتن یاہو کی بدن بولی و نفسیاتی جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ گریٹر اسرائیل کا خواب ایران کو نیچا دکھا کر ایٹمی تنصیبات سے مبرا کر کے پورا کرنا چاہتا ہے اور اس بات کا برملا اظہار بھی نیتن یاہو کر چکے ہیں کہ ایران سے جوہری تنصیبات خاتمہ ہی جنگ بندی کی صورت بن سکتا ہے بصورت دیگر جنگ ہو گی دونوں فریقین کی جانب سے دھواں دار مکالموں میں لفظوں کی شدت سے ثالثی کا کردار ادا کرنے والا پاکستان جہاں سفارتی سطح پر بلند ہورہا ہے تو اندرون ِ ملک تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے شہباز حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے معاشی ماہرین معیشت کی بہتری کی نوید دے رہے ہیں مگر عوام زمینی حقائق کی روشنی میں حکومتی دعوئوں کو مسترد کر رہی ہے تو ثالث کی حالت اس وقت ناقابل ِ دید ہے کہ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ضروریات ِ زندگی کی ہر شے گرانی کے عروج پر پہنچ چکی ہے یوں ہم ثالثی کی سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں قیصر شریف جماعت ِ اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر بتاتے ہیں کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت 414.78روپے فی لیٹر ہے جب کہ دیگر ممالک میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت پاکستانی کرنسی کے حساب سے مقرر ہے سری لنکا میں 370،چین میں 365,بنگلہ دیش میں 318مالدیپ میں 289،افغانستان میں 287بھارت میں 277اور ایران 8روپے سے عوام کو دستیاب ہے چائیے تو یہ کہ اس مشکل میں ایران بھی پٹرول کی دستیابی میں ارزاں نرخوں پر ہمیں دے جیسے چین اور روس کھلم کھلا ایران کی حمایت میں امریکہ و اسرائیل سے بر سر پیکار ہیں ایران سے چین اور روس کا یہ والہانہ اتحاد اسرائیل و امریکہ کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ان حالات کے ساتھ ساتھ چونکہ ایران اسرائیل کی توقع سے بڑھ کر مضبوط نکلا تو وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس بوکھلاہٹ پر مجھے اپنے دیہاتی دوستوں کی بات یاد آگئی کہ وہ اکثر موقع کے لحاظ سے بات کرتے ہوئے یہ مثال ضرور پیش کرتے ہیں کہ گائوں کے چودھری کا مرغ جب ہارنے لگے تو وہ شور مچا مچا کر لڑائی رکوا دیتا ہے موجودہ جنگ بندی اور ٹرمپ کا حالیہ دورہ چین اہم ضرور ہے مگر سب سے زیادہ اہم بات چین کی عالمی استحکام کے لئے مذاکرات کو اہم قرار دینا ہے اور بڑی طاقتوں کو ایک دوسرے کا حریف بننے کی بجائے شراکت دار بننے کی تجویز پیش کی ہے دوسرے لفظوں میں جنگ کی شدید مخالفت اور پائیدار عالمی امن کے قیام پر زور دیتے ہوئے تائیوان کے حوالے سے اپنے موقف بھی بیان کیا جو امریکہ و اسرائیل کے جنگی جنون کی نفی کرتا ہے اور کسی کی حقیقی آزادی کو سلب کرنے کی مخالفت بھی کرتا ہے ۔اب امریکہ کو اور خصوصی طور پر ٹرمپ کو سمجھ لینا چائیے کہ اسرائیلی عزائم کی پیروی میں امریکہ تنہائی کا شکار ہو رہا ہے اور اُسے پیچیدہ نوعیت کے جنگی مذاکرات کرنے کی بجائے عالمی معیشت کی بحالی میں شراکت داری کو اہمیت دینی چائیے جنگوں کے سابقہ تجربات سامنے رکھ کر ٹرمپ حکومت امن کی بہتر راہ استوار کر سکتی ہے کیونکہ جنگ و جدل سے قومیں اتنی تباہ و تاراج نہیں ہوتیں جتنی معاشی تنزلی سے ،معاشی ابتری سے ہوتی ہیں بدحالی کی نوحہ گری سے بہتر ہے کہ امن کی فضاء میں معاشی بہتری کے لئے عالمی سطح پر کام کیا جائے ترجیح اُن ممالک کو ملے جو مدتوں سے گھمبیر مسائل کا شکار ہیں ۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button