Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی
Trending

وفاقی حکومت نے فنڈز روک کر تارکین وطن بچوں کومشکل میں ڈال دیا:ظہران ممدانی

ہم اس ظلم کے سامنے خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھیں گے،گورنر ہوچل اوراٹارنی جنرل جیمز کا ساتھ دینے کا شکریہ

نیویارک:میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ میں گورنر ہوچل کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ وہ نیویارک کی تارکِ وطن برادریوں کے تحفظ کے لیے قیادت کر رہی ہیں۔ ان برادریوں کو مسلسل ایسے حملوں کا سامنا ہے جو ان کی آزادانہ اور محفوظ زندگی گزارنے کی صلاحیت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔میں اٹارنی جنرل جیمز کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جو نیویارک کی قانونی طاقت کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہوئے ان ناانصافیوں کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ہم آج ایک سنگین ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے Acacia Center for Justice اور تقریباً 100 دیگر قانونی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ اپنے معاہدے کی تجدید سے انکار کر دیا ہے، جبکہ ان اداروں کی 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں روک لی گئی ہیں۔اس فیصلے کے عملی نتیجے کے طور پر 25 ہزار سے زائد ایسے تارکِ وطن بچے، جو اپنے والدین یا سرپرستوں کے بغیر امریکہ پہنچے تھے، اچانک قانونی نمائندگی سے محروم ہوگئے ہیں۔ اب انہیں ایک ایسے ناقص اور پیچیدہ امیگریشن نظام کا سامنا اکیلے کرنا پڑ رہا ہے ۔یہ ہمارے شہر کے انتہائی کمزور اور بے سہارا لوگوں کے ساتھ دھوکا ہے اور ان بنیادی اصولوں کی توہین بھی ہے جن پر ہماری قوم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔آج اس فیصلے کے نتیجے میں وہ بچے، جو تشدد، انسانی اسمگلنگ، جنگ اور ظلم و زیادتی سے بچ کر امریکہ پہنچے ہیں، عدالتوں میں اکیلے پیش ہوں گے۔نیویارک کے وہ شہری جن کے ذہن میں کوئی سوال ہے یا جو کسی وکیل سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں، وہ ہماری امیگریشن لیگل سپورٹ ہاٹ لائن 1-800-354-0365 پر مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ یا آپ 311 پر کال کرکے “Immigration Legal” کے بارے میں مدد طلب کر سکتے ہیں۔ہم متاثرہ سٹی ملازمین اور ان کے خاندانوں کو مفت قانونی مشاورت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ ہیلتھ انشورنس اور دیگر اہم و ضروری سہولیات تک رسائی حاصل کرنے میں بھی ان کی مدد کی جا رہی ہے۔اس بے پناہ ظلم و زیادتی کے سامنے نیویارک سٹی اور نیویارک اسٹیٹ خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھیں گے۔ ہم ان ہولناک حالات اور اس تکلیف کا مقابلہ اسی عملی اقدام اور یکجہتی کے ساتھ کریں گے جس کا یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے۔ اور ایسا کرتے ہوئے ہم وفاقی حکومت کو یہ واضح پیغام دیں گے کہ ہم ان کی انسانیت سوز پالیسیوں اور اس محدود سوچ کو مسترد کرتے ہیں کہ یہ ملک کیا بن سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button