ترکیہ نے کیسے ایران میں بدامنی اور رجیم چینج کے اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنایا

اسرائیلی میڈیا سے سامنے آنے والی رپورٹس سے پتہ چلا ہے کہ ترکیہ کی مداخلت نے ایران میں بدامنی اور رجیم چینج کے اسرائیلی منصوبے کو خاک میں ملایا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق موساد نے ایران میں رجیم چینج کی کوشش میں کرد مسلح گروپوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی تھی تاہم ترکیہ کی بروقت مداخلت سے یہ منصوبہ ناکام رہا۔ اس ناکامی نے اسرائیل کے انٹیلی جنس ادارے کے اندر کشیدگی کو ہوا دی اور موساد کے دو سینئر اہلکاروں کو مبینہ طور پر برطرف کر دیا گیا ہے۔ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والا تنازعہ ملک کے اندر اندرونی عدم استحکام پیدا کرنے سے بھی منسلک تھا۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، موساد نے شمالی عراق اور ایران کے اندر کرد مسلح گروہوں کو شامل کرتے ہوئے ایک حکمت عملی تیار کی تھی جس کا مقصد ان کی سرگرمیوں کو اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے ساتھ مربوط کرنا تھا۔موساد کے اس اقدام کا مقصد ایرانی حکومت کے خلاف بغاوت پیدا کرنا تھا اور اُسے فضائیہ سے تقویت دینی تھی۔ اسرائیلی رپورٹس اب اس بات کی نشاندہی کررہی ہیں کہ حکمت عملی کو عملی جامہ پہنایا جانے والا تھا۔ تاہم شمالی عراق اور ایرانی سرحد سے منسلک کرد عناصر کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا پتہ لگنے پر ترک صدر رجب طیب اردگان نے مارچ کے اوائل میں ایک فون کال کے دوران براہ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا اور اس سے خبردار کیا۔



