جے یو آئی (ف) کے متنازعہ بیانات پر تنازع برقرار، مختلف حلقوں میں شدید ردعمل
شہداء سے متعلق بیانات پر معافی کے مطالبات، غفور حیدری کے بیان پر بھی بحث، سیاسی کشیدگی میں اضافہ

لاہور (آصف اقبال ) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کی جانب سے شہداء سے متعلق دئیے گئے متنازعہ بیانات کے بعد پیدا ہونے والا تنازع بدستور برقرار ہے، جبکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے ان بیانات پر سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق جے یو آئی (ف) کی قیادت کو حالیہ بیانات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور عوامی ردعمل کے باعث سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر وضاحتیں اور مؤقف پیش کیے گئے، تاہم ناقدین کے مطابق اس سے تنازع مزید بڑھا ہے۔دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کی جانب سے جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج سے متعلق بیان بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث ہے، جس پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔مختلف مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ شہداء سے متعلق بیانات نے شہداء کے اہلِ خانہ اور عوام کے ایک طبقے میں تشویش پیدا کی ہے، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے جے یو آئی (ف) کی قیادت سے اپنے بیانات پر وضاحت یا معذرت کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔تاہم، جے یو آئی (ف) کی جانب سے ان الزامات اور تنقید پر مختلف مواقع پر اپنا مؤقف پیش کیا جاتا رہا ہے اور جماعت کا کہنا ہے کہ اس کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ تنازع نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے کے سیاسی اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔



