
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد ورفت شروع ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو رہی ہے اور بہت سے جہاز تیل سے بھرے ہوئے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ جہاز ’سدرن ہائی وے‘ کے راستے سفر کر رہے ہیں جو مکمل طور پر محفوظ، پُرسکون اور بہترین حالت میں ہے۔صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سدرن ہائی وے کے علاوہ بھی سفر کے دیگر راستے موجود ہیں تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔قبل ازیں امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ ایران کو پُرامن اور سویلین مقاصد کے لیے جوہری پروگرام برقرار رکھنے کی اجازت دے گا لیکن اس کے عسکری استعمال پر سخت اور مستقل پابندیاں عائد ہوں گی۔صدر ٹرمپ کے بقول مذاکرات میں ایران کی یورینیئم افزودگی کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ ان میں 15 سالہ پابندی سے لے کر 20 سال تک کی طویل مدت کے فریز کی تجاویز شامل ہیں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ اس میں سے 15 سالہ انتظام کو قبول کرسکتے ہیں بشرطیکہ ایران صرف اتنی کم سطح کی افزودگی تک محدود رہے جو کبھی بھی فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوسکے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ کسی بھی معاہدے کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی مکمل آزادی اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس، ٹول یا پابندی عائد نہ ہونے کی یقین دہانی کرانا ہے۔



