
بیجنگ: چین نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی ابتدائی مفاہمتی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور اس عمل میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور چین امید کرتا ہے کہ اسے جلد از جلد مکمل طور پر کھول دیا جائے گا تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے۔انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے متن پر اتفاق کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ترجمان نے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے، جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔چین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے فروغ سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ بیجنگ نے ایک بار پھر تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس گزرگاہ کی بندش یا محدود فعالیت عالمی توانائی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں خطے میں پائیدار امن اور توانائی کی سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کر رہی ہیں۔



