اصل مرحلہ تو معاہدہ کا اطلاق ہے !

تو ایران اور امریکہ کے مابین آخرِ کار مفاہمت کا آغاز ہوگیا!اطلاعات کے مطابق ابتدائی معاہدہ پر جنیوا، سوئٹزرلینڈ، میں جمعہ، 19 جون ، دستخط ہوجائینگے۔اس خوشخبری کا اعلان بڑے طمطراق کے ساتھ ہمارے پاکستان کے غیر منتخب ’’وزیرِ اعظم‘‘ شہباز شریف نے اسلام آباد سے کیا اور متحارب فریقین کو ان کی دور بینی اور صلح جوئی کی مبارکباد بھی دی۔شہباز شریف پاکستانی قوم کے توبلاشبہ غیر پسندیدہ ہیں لیکن حالات حاضرہ کے حادثہ کے طور پہ ان کی حکومت مظلوم ایران کی نہ سہی لیکن اس تنازعہ میں ظالم امریکہ کی ضرور پسندیدہ ہے اور جہاں تک ڈونالڈ ٹرمپ کا سوال ہے تو پاکستان کی یہ غیر جمہوری حکومت ان کی آنکھوں کا تارا بنی ہوئی ہے اور کوئی دن نہیں جاتا کہ ٹرمپ بہادر اپنےپسندیدہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر نہ کرتے ہوں اور ان کی امن کیلئے خدمات کا راگ نہ الاپتے ہوں!
امریکہ کی خدمت تو ہماری بدنصیبی ہے کہ ہمارے ہر عسکری طالع آزما کے سر کا تاج رہی ہے لیکن خود ساختہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس غلامی میں بدرجہ کمال تیرے ہوئے ہیں۔دنیا جانتی ہے کہ امریکہ نے اپنی غرض کیلئے، اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے ہر طالع آزما کو ہوا دی ہے اور اپنی سرپرستی کی چھتری اس کے سر پہ تان کر اسے وہ سایہ بخشا ہے جس نے ہر طالع آزما کا حوصلہ بڑھایا ہے اور اس کے مظالم کو، اور اس کے غیر جمہوری رویہ کو بطورِ خاص جواز عطا کیا ہے !
ایوب خان سے لیکر عاصم منیر تک امریکہ کی چھتر چھایا میں ہر عسکری طالع آزما نے پاکستان کے اصل مالک اور مختار، یعنی پاکستانی عوام، کے بنیادی اور انسانی حقوق پر بلا دریغ ڈاکہ مارا ہے اور اس یقین کے ساتھ یہ کام کیا ہے کہ جب تک اس کے سر پر انکل سام کا دستِ شفقت ہے وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہے اور کمال اطمینان کے ساتھ وہ اپنی آمریت میںآگے بڑھ سکتا ہے !میں بار بار یہ کہتا آیا ہوں کہ پاکستان کے عسکری طالع آزماؤں کے رویہ اور قوم کے ساتھ اس کے جابرانہ سلوک میں بتدریج زوال آیا ہے۔ لیکن عاصم منیر نے ظلم و جبر کو ایک نیا روپ دیا ہے۔ ظلم کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم پر جو خوف مسلط کردیا گیا ہے وہ ایسا زہر ہے جو قوم کی رگ و پے میں ایسا سرایت کرتا جارہا ہے کہ قوم کا مزاج ہی بدلا لگتا ہے !لیکن قوم کے زہر کی بات تو بعد میں ہوگی پہلے اس معاہدہ کی بات ہوجائے جس نے پاکستان کو عالمی برادری میں سرخرو کیا ہے !اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان نے ایران کے پڑوسی ہونے کا حق ادا کردیا ہے اگرچہ اس کے تعلقات اپنے مغربی پڑوسی سے ویسے نہیں رہے جیسے دو ایسے پڑوسیوں کے ہونے چاہئیں جن کے درمیان صرف ہزار کلومیٹر سے زیادہ زمینی سرحدیں ہی نہیں ملتیں بلکہ تاریخ کا وہ ورثہ بھی ملتا ہے جس میں دین سے لیکر ثقافت، زبان اور کلچر تک بھی بیشمار اقدار مشترک ہیں !لیکن اس تلخ حقیقت تناظر کے باوجود پاکستان نے ایک اچھے پڑوسی کا کردار ادا کیا چاہے وہ مظلوم ایران کی حمایت کا تو کہیں سے نہیں لگا لیکن امریکہ کی چاکری اور خدمت کا اثر اس پر بلاشبہ بہت حاوی رہا !ٹرمپ نے ایران پر صیہونی اسرائیل کی شہ پر جو جارحیت اور جنگ مسلط کی تھی تو اس کے بعد ٹرمپ کیلئے وہ نازک صورتِ حال پیدا ہوگئی تھی کہ ایران ان کے حلق کا وہ کانٹا بن گیا تھا جو نہ نگلتے بنتا تھا نہ اگلتے!
ان کی جارحیت کی حمایت میں یا تو صیہونی اسرائیل کی قیادت پیش پیش رہی ہے یا امریکہ کے وہ سفید فام نسل پرست جو اس تھالی کے بینگن کو اس کے غیر متحمل مزاج اور کردار کے باوجود امریکہ کے مالک و مختار بنانے کے مجرم ہیں۔ یہ نسل پرست اسلامو فوبیا کے بھی مریض ہیں اور ایران ان کی آنکھوں میں اس وقت سے کھٹکتا رہا ہے جب سے وہاں اسلامی اور نظریاتی انقلاب آیا تھا!
لیکن ایران نے جس حوصلہ اور پامردی کے ساتھ اس جارحیت کے دانت کھٹے کئے ہیں اس نے ٹرمپ کو دن میں تارے دکھادئیے۔ اپنے سحر میں مبتلا ٹرمپ کو تو یہ باور کروایا گیا تھا کہ جیسے وینزویلا ان کی یلغار کے سامنے دو دن میں ڈھیر ہوگیا تھا ایسے ہی ایران دو چار دن میں نہ سہی لیکن دو تین ہفتوں میں گھٹنے ٹیک دے گا !لیکن ایران نے اپنے دفاع میں جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف ٹرمپ کیلئےنہ جائے ماندن نہ پائےرفتن جیسی صورتِ حال پیدا کردی بلکہ نیتن یاہو کو، جسے سوشل میڈیا درست "شیطن یاہو” کہتا ہے، کو بھی دردِ سر میں مبتلا کردیا۔ یہ شیطان تو فلسطینیوں پر اپنے دانت تیز کر کر کے اس خوش فہمی میں تھا کہ ایران بھی اس کیلئے ترنوالہ ثابت ہوگا لیکن الٹی آنتیں اس کے گلے پڑگئیں اور اس کیلئے بھی اور اس کے کم عقل اور کم فہم امریکی حلیف کیلئے بھی ایران ایک آسیب بن گیا !تو پاکستان کی ثالثی یا ایلچی کے کردار نے ٹرمپ کو صلح کرنے کے قابل تو بنادیا لیکن وہ جو صیہونی شیطان ہے، وہ ہر ممکن کوشش کرے گا، اور اس کے کڑوڑوں امریکی حمایتی اس کا بھرپور ساتھ دینگے اس شیطانی کھیل میں کہ وہ ایران- امریکہ مفاہمت کو کامیاب نہ ہونے دے اور جس طرح بھی ممکن ہو اس معاہدہ کو سبوتاژ کرے۔بہر حال پاکستان اپنی ثالثی میں کامیاب رہا ۔ اب اس سےپاکستان کے اس تاریخی کردار پر کوئی حرف نہیں آئے گا اگر صیہونی شیطان اس منصوبہ کو اپنی غرض کیلئے سبوتاژ کرتا ہے اور ٹرمپ اپنے سحر میں مبتلا خود بھی صیہونی منصوبہ کو ہوا دینے کا سبب بنتا ہے!لیکن ہاں، یہ بھی پاکستان کے جمہور نوازوں کیلئے تکلیف کا باعث ہے کہ عاصم منیر اور اس کے ہم خیال یزیدی جرنیلوں کا ٹولہ اپنے ایجنڈا کو آگےبڑھانے اور پاکستان پر خوف و دہشت کی فضا مسلسل قائم رکھنے کیلئے پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو مزید استعمال کرتا ہے !
اور یہ مذموم کام آزاد کشمیر میں حریت پرستوں کی آوازِ احتجاج دبانے کیلئے بلاشبہ شروع بھی ہوچکا ہے !
ہمارا پاکستانی میڈیا بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے ظلم و ستم کے قصے بڑھا چڑھا کر بیان کیا کرتا تھا لیکن آج جو ظلم پاکستانی یزیدی برائے نام آزاد کشمیر میں کر رہے ہیں اس کا ذکر پاکستان کے میڈیا میں سرے سے غائب ہے، ناپید ہے اسلئے کہ عاصم منیر کا غاصب یزیدی ٹولہ اپنےسیاہ کرتوت کا کوئی ذکر پاکستانی عوام کے کانوں تک پہنچنے نہیں دینا چاہتا !لیکن ظلم کا ماحول جو پورے ملک پر آسیب کی مانند مسلط ہے فی الحال نہ ٹلے، اسلئے کہ عاصم منیر ٹرمپ کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا ہے، لیکن یہ وہ دور ہے جس میں ظالم حکومتوں اور یزیدیوں کیلئے اپنا نامہء اعمال چھپانا اور دنیا کیلئے الم نشرح نہ ہونا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ اسلئے ہوتا جارہا ہے کہ جدید ٹیکنالو جی نے اسے ابلاغِ عامہ کا عہد بنادیا ہے اورظالم کیلئے اپنا ظلم چھپانا اب ناممکن ہوگیا ہے !
سو پاکستان کے عوام تک وہ خبریں پہنچ رہی ہیں کہ آزاد کشمیر میں کس دیدہ دلیری کے ساتھ حریت کے متوالوں پربیدریغ گولیاں برسائی گئیں اور رینجرز، جو پاکستان کے عوام پر اپنے تیر آزمانے کے عادی ہوچکے ہیں، نےکس شقاوت کے ساتھ نہ صرف آزاد کشمیر کے نہتے عوام کو اپنے ظلم کا شکار کیا بلکہ آزاد کشمیر کی پولیس کے سپاہی بھی ان کے گولیوںسے محفوظ نہیں رہ سکے !اب ہماری حکومت کا، یا قیدی میڈیا کا، کیا منہ رہ جائے گا مودی سرکار کے مظالم کا تذکرہ کرنے کا جب ہم خود اس سے بدتر کرداراور کہیں زیادہ ظلم کا مظاہرہ اپنے آزاد کشمیر میں کر رہے ہیں؟
اسی ظلم کے ماحول میں نیا پاکستانی بجٹ آخرِ کار مقبوضہ پارلیمان میں پیش کردیا گیا جس کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ فوج کے بجٹ میں کوئی 18 فیصد اضافہ کردیا ہے اور ظاہر ہے کہ اسی تناسب سے ترقیاتی بجٹ میں رقم کم کی گئی ہے!عسکری طالع آزما کا دور ہے تو فوج کی مراعات میں اضافہ نہیں ہوگا تو کیا غریب اور مفلوک الحال عوام کیلئے بہتر بجٹ بنے گا؟
اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ریٹائرڈ فوجیوں کی پنشن سول ملازمین کے بجٹ ادا کی جاتی ہے اور یہ تو کہنا ہی فضول ہے کہ فوجیوں کی پنشن اس مد میں سول ملازمین کی پنشن سے تین گنی ہے!
پورا ملک ہی فوج کا ہے۔ نظرِ بینا رکھنے والے مولانا ابوالکلام آزاد نے تو پاکستان بننے سے پہلے ہی یہ پیشن گوئی کردی تھی کہ یہ ملک فوج کے قبضہ اور تصرف میں رہے گا اور ہمارے عسکری طالع آزماؤں نے مولانا کو مایوس نہیں کیا!
اور اس پس منظر میں جب پاکستان سے لیکر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک ہر چپے چپے پر عسکری مظالم اور دہشت گردی میں اضافہ ہورہا ہے نیا ہجری سال، 1448، آغاز ہونے کو ہے۔ آپ جب یہ کالم پڑھیںگے تو نیا ہجری سال شروع ہوچکا ہوگا اور ہر مسلمان جانتا ہے کہ ہمارے ہجری سال کا آغاز سید الشہداء، امامِ عالی مقام سیدنا حسین کی اس عظیم قربانی سے ہوتا ہے جو کربلا کے میدان میں یزیدی قوت کی مزاحمت کی صورت میں ادا کی گئی!
پاکستان کے عوام کیلئے، چاہے ان کا مسلک کچھ بھی ہو، سید الشہداء کی مثال قابلِ تقلید ہے، ہمیشہ ہی اور آج پاکستان پر، ان کے ملک پر، جو یزیدی آمریت مسلط ہے اس میں خاص طور پہ یہ مثال صادق آتی ہے۔تو لیجئے ہمارے یہ چار مصرعے سید الشہداء کو خراجِ عقیدت سمجھ کے لیتے جائیے۔ شاید اس سے کوئی تحریک آپ میں بھی ظلم کے خلاف پیدا ہوسکے:
ظلم کے تقابل میں جو کھڑا نہیں ہوتا
ظلم کی حمایت سے وہ جدا نہیں ہوتا
ظلم کی کلائی کو گر نہ موڑتی کربلا
سجدہء حسینی کا حق ادا نہیں ہوتا!



