امن معاہدہ اور ایران کی نئی حکومت!

صدر ٹرمپ چودہ جون کو اپنی سالگرہ کے دن ایران کیساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنا چاہتے تھے لیکن پاسداران انقلاب نے کہا کہ انکے مذاکرات کار اس روز کسی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔ انکا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس موقع کو اپنی ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ لگتا ہے کہ ایران نہ صرف محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہے بلکہ اسے کوئی جلدی بھی نہیںجبکہ صدر ٹرمپ جلد از جلد اس کمبل سے جان چھڑا کر عالمی معیشت کو ایک بہت بڑے بحران سے بچانا چاہتے ہیں۔ انکی یہ خواہش اس لیے پوری نہیں ہوئی کہ گذشتہ چھ دنوں میں جنگ بندی کی کئی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ ایران نے چند روز پہلے امریکہ کا اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایاجس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے جوابی حملہ کیا اور اسکے ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ ایران نے اگر معاہدہ نہ کیا تو امریکہ جزیرئہ خارگ جہاں ایران کے تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے پر قبضہ کر لے گا۔ اسکے چند گھنٹے بعد امریکی صدر نے اچانک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے کسی بڑے حملے کا ارادہ ترک کر دیا ہے کیونکہ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔
صبح و شام تیزی سے بدلتے ہوے حالات نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا کوئی ایسا معاہدہ ممکن ہے جو صدر ٹرمپ اور مجتبیٰ خامنہ ای دونوں کے لیے قابل قبول ہو۔ امریکی میڈیا کے مطابق دونوں اطراف کے مذاکرات کاروں نے ایک ایسی دستاویز تیار کرنی ہے جسے دونوں فریق اپنی فتح قرار دے سکیں۔ واشنگٹن اور تہران دونوں اس لیے امن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کہ جنگ ان کے لیے ناقابل برداشت نقصانات کا باعث بن رہی ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اور مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے انکے انتہا پسند سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ واشنگٹن اور تہران کے عقاب ہر قیمت پر دشمن کو شکست فاش دینا چاہتے ہیں۔دونوں ممالک کے لیڈر کسی نہ کسی طرح ان جنگبازوں کو قائل کر لیں گے۔ امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات کاروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ دونوں ممالک کے سربراہ ہیں۔ ان میں سے ایک دن میں کئی مرتبہ اپنا مؤقف تبدیل کرتا ہے اور دوسرے تک رسائی اس لیے مشکل ہے کہ وہ ایک ایسے خفیہ مقام پر سکونت پذیر ہے جہاں پیغام رسانی کئی قاصدوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ ان مشکلات کی وجہ سے بات چیت آگے نہیں بڑھ رہی ۔ آبنائے ہرمز کو پاسداران انقلاب نے اٹھائیس فروری کے امریکی حملے کے فوراًبعد دو مارچ کو بند کر دیا تھا۔ اسکے بعد دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے ‘ افراط زر بے قابو ہے اور خلیجی ممالک کے کاروبار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اس اعتبار سے آبنائے ہرمز کا کھلنا عالمی معیشت کے لیے از حد ضروری ہے۔ اب تک ہونے والی پیشرفت میں سر فہرست یہ بات ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام ااورافزودہ یورینیم پر بات چیت کو دوسرے مرحلے تک ملتوی کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ ایران اگر اپنی جوہری توانائی پر کوئی سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو وہ اسکے جواب میں امریکی پابندیوں کے اختتام کا تقاضا کرے گا ۔ اسکے علاوہ تہران اپنے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ بھی کر رہاہے۔ صدر ٹرمپ کو یہ مشکل درپیش ہے کہ انہوں نے براک اوباما کے امن معاہدے کی اس لیے مخالفت کی تھی کہ اس کی رو سے ایران کو اربوں ڈالر ملے تھے۔ اب صدر ٹرمپ کیسے ایران کو ایک خطیر رقم دینے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے لیے ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اسوقت تہران میں ایک ایسی نڈر حکومت ہے جو رسک لینے پر آمادہ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ملکر 28 فروری کوآ یت اللہ خامنہ ای اور انکی کابینہ کے بیشتر اراکین کو ہلاک کر کے تہران میں رجیم توچینج کر دی تھی مگر اسکے بعد جو حکومت آئی ہے اس میں مذہبی رہنمائوں کے بجائے پاسداران انقلاب کا غلبہ ہے۔ یہ ایک ایسی قیادت ہے جو دشمنوں کی کسی ہتک آمیز شرط کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ امریکہ میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر علی واعظ نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جو اہداف میدان جنگ میں حاصل نہیں کر سکے وہ انہیں مذاکرات کی میز پر بھی حاصل نہ کر سکیں گے۔
اس کالم کو لکھنے کے دوران واشنگٹن پوسٹ نے نیو یارک کے وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے یہ خبر دی کہ امریکہ اور ایران کے سرکاری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی عوام کو مبارکباد دیتے ہوے کہا کہ امریکہ ایرانی بندرگاہ کی ناکہ بندی ختم کر دیگا ‘ ایران آبنائے ہرمز کو تجارت کے لیے کھول دے گااور جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے۔اتوار چودہ جون کو صدر ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کے دن ہونے والے اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر گفتگو جاری رکھیں گے۔ اس معاہدے پر جمعے کو سوئیزر لینڈ میں دستخط ہوںگے۔ ایران کے ڈپٹی وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ اتوار کے دن چودہ گھنٹے کی بات چیت کے بعد امریکہ نے غیر متوقع طور پر لچک دکھا کر معاہدے کو ممکن بنا دیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دونوں ممالک نے مکمل طور پر تمام محاذوں پر جن میں لبنان بھی شامل ہے پر عسکری کاروائیاں روکنے پر آمادگی کا اظہارکیاہے۔ یہ مذاکرات کا پہلا مرحلہ ہے اس میں نسبتاًغیرپیچیدہ معاملات کو طے کیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں ایران کے گیارہ ٹن افزودہ یورینیم کا خاتمہ ‘اسکی جوہری توانائی کے منصوبوں پر پابندی ،ایران کو 28ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی فراہمی اور آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول جیسے معاملات پر بات چیت ہو گی۔ ان تنازعات کو طے کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہو گا اسکے بارے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کسی ٹائم فریم کا تعین نہیں کیا گیا۔



