بیوفور قلعے پر ایک بار پھر اسرائیل نے اپنا پرچم لہرا دیا!

لبنان کے جنوبی علاقے نبطیہ میں واقع ایک بلند چٹان پرقدیم دیوہیکل قلعہBeaufort Castle بیوفور قلعہ ہے،جسے900سوسال پہلے تعمیر کیا گیا تھا،یعنی 3ہزار سال پہلےساتویں صدی ہجری اور گیارویںصدی عیسوی کی صلیبی جنگوں کے بعد اس قلعہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔اس قلعے کی ہر دیوار سینکڑوں کہانیاں سناتی ہیں۔26 سال بعدآج ایک بار پھر اس قلعہ پر اسرائیلی پرچم لہرارہا ہے۔ تقریباً 900 سال پر محیط اس قلعہ کا تاریخی پس منظر جنگوں، فتوحات اور مختلف سلطنتوں کی حکمرانیوں سے جڑا ہوا ہے۔بیوفورٹ ایک فرانسیسی لفظ ہے، جس کا مطلب’’ خوبصورت قلعہ‘‘ کے ہیں،یہ قلعہ لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب ایک اونچی پہاڑی چٹان پر جس کے نیچے دریا بہہ رہاہے واقع ہے، جہاں سے پورے جنوبی لبنان اور شمالی فلسطین کے علاقے نظر آتے ہیں،یہ جنوبی لبنان میں واقع ایک صلیبی دور کا تاریخی قلعہ ہے۔ 1190 میں صلاح الدین ایوبی نے اس قلعہ کو فتح کیا تھا۔بعد میں صلیبیوں نے کچھ عرصے کے لیےاس پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ 1268 میں مملوک سلطان بیبرس نے اسے مستقل طور پر مسلم حکومت میں شامل کر لیا۔موجودہ جدید دور 1982 کی لبنان جنگ میں اسرائیل نے اس پر قبضہ کیا اور 2000 تک اسے اپنے کنٹرول میں رکھا۔اس کے بعد26سال تک یہ قلعہ لبنان کے قبضے میں تھا اوریہ لبنان کا ایک انتہائی اہم تاریخی، عسکری اور اسٹریٹجک قلعہ کہلاتا ہے۔پھر اب2026 میں اسرائیلی فوج نے دوبارہ اس قلعے کو اپنےقبضے میں لےلیا۔ یہ قلعہ دریائے لیطانی کے اوپر ایک بلند چٹان پر تعمیر کیا گیا ہے، جو اسے قدرتی طور پر ایک مضبوط دفاعی مقام بناتا ہے،یہ ایک بہترین محفوظ قلعے کےطور پر یوں جاناجاتاہے کہ بیو فور قلعہ کی تعمیرات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ قلعہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ 900 سالہ عسکری تاریخ کا زندہ ثبوت ہے۔ اس کی مضبوط دیواریں، زیرِ زمین سرنگیں، بلند محلِ وقوع اور صلیبی فنِ تعمیر اسے دنیا کے اہم ترین تاریخی قلعوں میں شمار کرتے ہیں۔موجودہ قلعے کی تعمیر صلیبیوں نے 12ویں صدی میں شروع کی تھی۔صلیبیوں نے ہی اسے Beau Fort یعنی خوبصورت قلعہ کا نام دیا۔یہ قلعہ صلیبی سلطنت کے لیے ایک اہم دفاعی مرکز تھا کیونکہ یہ جنوبی لبنان اور شمالی فلسطین پر نظر رکھتا تھا۔ایوبی اور مملوک دور کے بعد قلعہ کچھ عرصہ دوبارہ صلیبیوں کے ہاتھ میں چلا گیا تھا، مگر1268ء کے عثمانی اور فرانسیسی دور میں یہ قلعہ عثمانی سلطنت کا حصہ رہا۔پہلی جنگِ عظیم کے بعد یہ فرانسیسی مینڈیٹ کے زیرِ انتظام آیا۔اس دوران قلعہ اپنی دفاعی اہمیت کھو بیٹھا اور زیادہ تر کھنڈر کی صورت اختیار کر گیا۔1982میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا اور بیوفور قلعہ پر قبضہ کر لیااس سے پہلےیہ قلعہ PLO (فلسطینی تنظیم) کا اہم مرکز تھا۔اسرائیل نے اسے 2000 تک فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا۔2026 کی تازہ جھڑپ میںمئی 2026 میں اسرائیلی فوج نے دوبارہ قلعے پر قبضہ کیا، جو حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا حصہ تھا ۔یہ قلعہ 300 میٹر بلند چٹان پر واقع ہے، جہاں سے جنوبی لبنان، شمالی اسرائیل اور دریائے لیطانی کا وسیع منظر واضح دکھائی دیتا ہے۔اسی وجہ سے یہ قلعہ صدیوں سے ہر فوجی قوت کے لیے ایک اہم دفاعی چوکی رہا ہے۔ بیوفور قلعہ ایک ایسا مقام ہے جس نے صلیبی جنگوں سے لے کر جدید عرب اسرائیل تنازع تک مسلسل اپنی فوجی اہمیت برقرار رکھی۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن نے اسے ہر دور میں ایک اسٹریٹیجک قلعہ بنائے رکھا، جس پر مختلف سلطنتوں اور افواج نے قبضے کے لیے جنگیں لڑیں۔صلاح الدین ایوبی اور بیوفور قلعہ کا تعلق صلیبی جنگوں کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ صلاح الدین نے 1190ء میں طویل محاصرے کے بعد اس قلعے کو فتح کیا، جو صلیبیوں کے مضبوط ترین قلعوں میں شمار ہوتا تھا۔ 1189ء میں یہ قلعہ رینالڈ آف صیدا کے قبضے میں تھا۔اس نے صلاح الدین ایوبی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تین ماہ بعد قلعہ خالی کر دے گا تاکہ اس کا خاندان محفوظ مقام پر منتقل ہو سکے۔مگر اس نے اس مدت میں قلعے کی مزید مضبوط کیا اور رسد جمع کرنے کےلئے استعمال کیا ۔مدت پوری ہونے پر جب قلعہ خالی نہ ہوا تو صلاح الدین ایوبی نے رینالڈ کو یرغمال بنا لیا،رینالڈ کے سپاہیوں نے اپنے سردار کی رہائی کے بدلے قلعہ صلاح الدین ایوبی کے حوالے کر دیا۔یوں اپریل 1190ء میں بیوفور قلعہ مکمل طور پر صلاح الدین کے قبضے میں آ گیاتھا۔۔یہ قلعہ صلیبی سلطنت کے لیے شمالی فلسطین اور جنوبی لبنان پر کنٹرول کا اہم مرکز تھا۔جنگِ حطین (1187) کے بعد صلیبی قلعے ایک ایک کر کے صلاح الدین کے ہاتھوں فتح ہوئے۔بیوفور قلعہ آخری مضبوط صلیبی قلعوں سے ایک تھا 1190-1189میں صلاح الدین ایوبی نے قلعے کا طویل محاصرہ کیا۔صلیبی کمانڈر رینالڈ آف صیدا نے دھوکے سے وقت حاصل کیا تھا، مگر آخرکار قلعہ مسلمانوں کے حوالے کرنا پڑا۔یوں 1190 میں قلعہ ایوبی سلطنت کا حصہ بن گیا۔
بیوفورقلعے کی تعمیرات صلیبی دور کے عسکری فنِ تعمیر کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہیں۔ یہ قلعہ نہ صرف اپنی بلندی، مضبوطی اور محلِ وقوع کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ اس کی تعمیراتی ساخت میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو ایک ناقابلِ تسخیر قلعے کے لیے ضروری سمجھی جاتی تھیں۔ یہ قلعہ بنیادی طور پر صلیبی طر زِ تعمیر Crusader Architecture کا بہترین شاہکار نمونہ ہے۔ اس کی دیواروں میںپتھروں کے بڑے بڑے بلاکس استعمال کیے گئے، جنہیں بغیر چونے کے جوڑا گیاجوصلیبی قلعوں کی خاص پہچان ہے۔دیواریں بہت موٹی 4میٹر چوڑی رکھی گئیں تاکہ منجنیق اور پتھر پھینکنے والی مشینوں کا مقابلہ کر سکیں، یہ قلعہ 300 میٹر بلند چٹان پر بنایا گیا، جو قدرتی طور پر ناقابلِ رسائی ہے۔اس کی پوزیشن ایسی ہے کہ دریائے لیطانی پر مکمل نظرجنوبی لبنان اور شمالی فلسطین تک وسیع نگرانی دشمن کی نقل و حرکت کا دور سے پتہ چل جاتا تھایہی وجہ ہے کہ صلیبی، ایوبی، مملوک، عثمانی اور جدید دور کی افواج سب اسے اسٹریٹیجک چوکی کے طور پر استعمال کرتی رہیں۔ دفاعی حصےبڑی بیرونی دیواریں جو حملہ آوروں کو روکنے کے لیے بنائی گئیں تھیں۔بُرج Towersجو تیر اندازوں اور نگرانی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔خندقیں اور ڈھلوانیں جو دشمن کے لیے قلعے تک پہنچنا مشکل بناتی تھیں۔داخلی دروازہ ایک تنگ راستے سے گزرتا تھا، تاکہ حملہ آور ایک ساتھ داخل نہ ہو سکیں۔زیرِ زمین سرنگیں اور کمروں کا نظام قلعے کے اندر زیرِ زمین راہداریوں کا جال موجود ہے۔سپاہیوں کی خفیہ نقل و حرکت ،پانی اور خوراک کی ترسیل اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے گودام ،گرچہ بیوفور بنیادی طور پر فوجی قلعہ تھا، مگر اس میں صلیبی دور کا ایک چھوٹا چرچ بھی موجود تھا۔اس میںگول محراب ، سادہ پتھریلی دیواریںرومنِسک طرز کے نشانات نظر آتے تھے۔ بیوفور قلعہ صلیبی فنِ تعمیر کی بہترین مثال اس لیے ہے کہ اس میں،طاقتور دفاعی ڈیزائن بلند محلِ وقوع پتھریلی مضبوط تعمیرصلیبی مذہبی و عسکری طرز سب ایک ساتھ ملتے ہیں۔یہی خصوصیات اسے دنیا کے دیگر مشہور صلیبی قلعوں کی صف میں نمایاں مقام پرکھڑا کرتی ہیں۔بیوفور قلعہ صلیبی فنِ تعمیر کا ایک بہترین مکمل نمونہ ہے جواونچائی، مضبوطی، دفاعی حکمتِ عملی اور یورپی رومنِسک طرز کا امتزاج لئے ہوئے یہ قلعہ آج بھی صلیبی دور کی عسکری ذہانت اور تعمیراتی مہارت کا زندہ ثبوت ہے۔300 میٹر بلند چٹان پر تعمیر یہ قلعہ صلیبی، ایوبی، مملوک، عثمانی، اور جدید افواج سب کے لیے اہم عسکری تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔بیوفور قلعہ ایک ایسا تاریخی مقام ہے جس نے صلیبی جنگوں سے لے کر جدید عرب اسرائیل تنازع تک مسلسل مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کی تعمیر، محلِ وقوع اور مضبوطی نے اسے ہر دور میں ایک اسٹریٹیجک قلعہ بنائے رکھا،اورآج پھر2026 میںاسرائیل نےبیوفو ر قلعےاپنا پرچم لہرا کر اسکو دوبارہ اپنے قبضے میں لےلیا ہے!!!!!!



