کیاہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے؟

ِصاحبو! راقم ایک مفروضہ پر بات کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور کمانڈر انچیف سید عاصم منیر جو گذشتہ چند ماہ سے امریکہ اور ایران میں جنگ بندی اور صلح کے معاہدے پر صبح شام ایک کر رہے ہیں، اس میں پاکستان کا فائدہ ہو گا۔وہ اس طرح کہ جو جنگ ایران کے ساتھ عزرائیل اور امریکہ نے چھیڑی ہے، وہ جنگ اب ختم ہونے کے قریب ہے اور اس کے بعد وہ جنگ عزرائیل ، بھارت اور امریکہ کے توسط سے پاکستان میں لانے کا مصمم ارادہ کر چکا ہے۔عزرائیل کو جس بات کا خوف ہے وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہیں۔ اس کاخیال ہے کہ جس دن پاکستان میںکوئی ہر دلعزیز اسلام پسند حکمران آ گیا۔ تو ایسا خطرہ اور بھی بڑھ جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ عزرائیل نے امریکہ کے توسط سے پاکستان پر یہ ذمہ واری ڈالی ہے کہ عمران خان کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ اور اس کی جماعت کو تتر بتر کر دیا جائے۔ہماری حکومت یہ کام بخوبی سر انجام دے رہی ہے۔ اور شہباز شریف نہایت ہوشیاری سے اس کا سارا الزام عسکری قوت پر ڈال رہا ہے۔یہ جتنی آئینی تبدیلیاں کی گئی ہیں، ان سب کا مقصد ایک ہے کہ آئینی عدالتی نظام مکمل طور پر حکومت کی نگرانی میں چلا جائے۔ اور حکومت اور فوج کی مرضی کے خلاف کسی مقدمہ کا فیصلہ نہ ہو سکے۔یہ وہی آمرانہ نظام ہے جو مارشل لاء کی حکومتیں چلاتی تھیں اور ا ب نام نہاد جمہوری حکومت میں لاگو کر دیا گیا ہے۔
چونکہ ان دو حضرات کی انتھک کوششوں سے امریکہ اور ایران میں صلح کی بات چیت میں خاصی بہتری نظر آ رہی ہے ، اس سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی بہتر ہو رہے ہیں، جس سے پاکستان پر امریکہ عزرائیل اور بھارت کے جنگی عزائم پر فرق پڑ سکتا ہے۔اور چونکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر فوج کا مکمل کنڑول ہے، اور فوج امریکہ کے کنٹرول میں ہے، اس لیئے ممکن ہے کہ پاکستان پر بمباری نہ ہو؟ البتہ پاکستان بیرونی بمباری سے تو بچ جائے لیکن اقتصادی بد حالی سے پھر بھی نہیں بچ سکے گا۔اس لیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو مالی امداد نہیں دے گا بیشک پاکستان اس کے لیے ایک لاکھ جوانوں کو نہ مروا دے۔ یعنی پاکستان الٹا بھی لٹک جائے۔ ٹرمپ کو پہلے ہی بڑا افسوس ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو تیس ارب ڈالر کی امداد دی تو اسکے بدلے میں پاکستان نے کیادیا؟ ٹرمپ نے شاید تاریخ نہیں پڑھی کہ کس طرح پاکستان نے افغانستان کی جنگ میں امریکہ کو مدد دی۔اپنے پچاس ہزار جوان بھی مروائے۔یہ سب پاکستان کی مدد سے ہی ہوا۔یہی نہیں، مشرقی پاکستان کو کس کے کہنے پر علیحدہ کروایا؟ اگر بہت تیر مارا تو امریکہ بین الاقوامی مالی اداروں سے پاکستان کو مزید قرضے دلوا دے گا۔ تا کہ وہ کبھی اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہو سکے۔پاکستانی حاکموں کو امریکہ سے زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہئیں ۔جو پیش رفت ایران اور امریکہ میں امن کے معاہدے کی طرف ہوئی ہے اور ہو رہی ہے اس میں تیسری پارٹی خوش نہیں ہے۔ ان کی خواہش تو یہ تھی اور ہے کہ ایران کو اس حد تک تباہ کر دیا جائے کہ وہ مستقبل میں ایٹم بم کا خواب نہ دیکھے بلکہ کوئی خواب بھی نہ دیکھے۔ لیکن ان عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ایران کے یورینیم کے ذخائر تک پہنچنا نا ممکن نظر آتا ہے۔اگر ایران اپنے ذخائر کو دے بھی دے تو کیا آئیندہ دس برسوں میں وہ نئے ذخائر بنا نہیں لے گا؟ لیکن یہ بات چھپی نہیں رہے گی۔ عزرائیل کے بہت سے جاسوس ایران میں ہیں جو اس کے پتےپتےپر نظر رکھتے ہیں۔ اس لیے ہو سکتا ہے صہیونی ایران سے صلح پر آمادہ ہو جائیں۔ لیکن انہوں نے ایک ایسی نئی شرط پیش کر دی ہے جو مسلم ممالک کو قبول نہیں ۔ وہ شرط ہے کہ تمام مسلم ممالک عزرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کریں اور اس کے لیے ابرہیمی معاہدہ پر دستخط کر دیں۔ یہ معاہدہ عزرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بنیاد بناتا ہے۔لیکن سعودی عرب نے کہہ دیا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کا فیصلہ نہیں ہوتا، وہ اس معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔ دوسرے اسلامی ممالک ، بشمول پاکستان، بھی غالباً اسی حکمت عملی کے پابند ہوں گے ۔لہٰذا ٹرمپ بہادر ایک نا قابل عمل مخمصہ میں پھنس گئے ہیں۔ایک طرف وہ نیتن یاہو کا حکم ماننے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف وہ کے ایس اے کے جائز مطالبہ کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔یاد رہے کہ یہ دونوں قائدین، یعنی ٹرمپ اور نیتن اپنی سیاسی حیثیت بچانے کے لیے پریشان ہیں۔ ٹرمپ کو ایپسٹین فائلوں کا سامنا ہے، جن کی پشت میں عزرائیل انہیں بلیک میل کر رہا ہے۔دوسری طرف نیتن یاہو پر رشوت کے مقدمات میں جیل کی سزا نظر آ رہی ہے، جس کے لیے وہ ایران سے جنگ میں طول چاہتے ہیں۔خیال یہ ہے کہ جتنی دور جنگ چلے گی، نیتن حوالات سے بچ سکیں گے۔ٹرمپ کو نہ صرف ایپسٹین فائلوں کا سامنا ہے بلکہ اس کے خلاف امریکی کانگریس، انتظامیہ اور فوج میں صہیونی طرفداروں کا سامنا بھی ہے۔ جن کا اثر و رسوخ ابھی بھی وزنی ہے۔اس کشمکش میں امریکن ٹیکس دہندگان کا کتنا نقصان ہو رہا ہے وہ ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔جنگ کے اخراجات بڑھتے چلے جا رہے ہیں، اور کوئی انجام نظر نہیں آتا۔ اور جنگ بھی وہ امریکہ کی اپنی جنگ ہی نہیں۔ جنگ عزرائیل کی ہے اور امریکہ خواہ مخواہ اس میں شامل ہے۔عزرائیل ٹرمپ پر شکنجہ اور تنگ کر رہا ہے۔ آخری خبروں کے مطابق اب ٹرمپ کو دماغی مریض بھی قرار دینے پر کام ہو رہا ہے ۔ہم بات کر رہے تھے کہ سید عاصم منیر کو جو عالمی پذیرائی ملی ہے وہ اسی صورت میں سود مند ہو گی کہ جب ایران اور امریکہ کا امن کا معاہدہ ہو جائے گا۔ لیکن اگر یہ جنگ دوبارہ چل پڑی اور امن کی ساری کوششیں بے کار ہو گئیں تو سید صاحب کا کیا ہو گا؟ابھی تو اس سفارتی نوٹ نے پاکستانیوں کو کھول کر بتا دیا ہے کہ جنرل باجوہ نے نواز شریف اور دوسرے غداروں کے ساتھ ملکر عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹا۔یہ بڑی نازک صورت حال بن گئی ہے ۔ اس میں موجودہ حکومت کے سب کرتے دھرتے شامل ہیں۔ لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہر چیز فوج کے کنٹرول میں ہے۔ عدالتیں بھی اور انتظامیہ بھی۔اس لیے نہ تو کوئی غداری کا مقدمہ چلے گا اور نہ ہی کسی کوسزا ملے گی۔ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔اگر تو سید صاحب کی کوششوں سے ایران اور امریکہ میں صلح ہو گئی اور امن کا معاہدہ ہو گیا تو سید صاحب کا سر بادلوں کو چھوئے گا۔ پھر ان کو کوئی للکار نہیں سکے گا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستانی عوام عسکریت کے سیاسی ہتھکنڈوں سے تنگ آ چکے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ان کو جو کچھ کہا جارہا ہے وہ خاصا پریشان کن ہے۔ اگر پاکستان کے مالی حالات نہ سنبھلے، تو فوج بھی کچھ نہیں کر سکے گی۔ اگر عوام نے سڑکوں کا رخ کرلیا؟۔ سید صاحب حافظ قران تو ہیں لیکن قرانی احکامات میں سے صرف اپنی پسند اور فائدے کی آیات اور الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان جو کہ ملائوں کی جاہلیت کے لیے مشہور ہے ان ہتھکنڈوں سے مرعوب ہو جاتا ہے۔ورنہ جو ظلم اس وقت پاکستانیوں پر، خصوصاً تحریک کے کارکنوں اور عورتوں پر سوشل میڈیا کی وڈیوز کے ذریعے دکھایا جا رہا ہے، وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔یہ فوج کی مجبوری ہے؟ یا پاکستانیوں کو اپنی جہالت اور بزدلی کی سزا مل رہی ہے؟پاکستان کے قرضوں کا انبار ایک دن بادشاہ کے محل کو دھڑام سے گرانے والا ہے۔کیونکہ سات لاکھ کی فوج کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ پاکستان نہیں سہار سکتا۔اورنہ ہی اتنے قرضوں کی واپسی کا بوجھ۔ عوام کی ضروریات تو گئیں بھاڑ میں۔عوام بچے بنانے میں مصروف ہیں بیشک ان کے کھانے پینے، علاج معالجہ کا انتظام ہو یا نہ ہو۔ وہ بچے کسی نہ کسی طرح پل جائیں گے۔خواہ وہ پستہ قد ہی ہوں گے اور لاغر۔ کس کو پرواہ ہے؟ حالات خراب ہوتے دیر نہیں لگتی۔ ڈالر اور روپیہ کا تناسب پل بھر میں کہیں سے کہیں پہنچ سکتا ہے۔قرضوں کی واپسی اور قسطوں کی ادائیگی میں ایک دن کی دیر سے معاملہ ڈیفالٹ تک پہنچ سکتا ہے۔دنیا میں اس کی بہت مثالیں ہیں۔ ٹرکی اس سٹیج سے گذر چکا ہے۔ یہ کوئی معمولی واقع نہیں ہو گا۔جو ملک پہلے ہی تباہی کے دہانہ پر کھڑا ہے، وہ ان حادثوں سے کیسے جانبر ہو گا؟ پاکستان کے دشمن تو اس تاک میں ہیں کہ ایسا وقت آئے اور ہم اس کے ایٹمی اثاثوں کا اونے پونے سودا کریں۔ہمارے حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ۔ یہ اپنے خزانے کو، امریکہ اور ایران کی ثالثی کے شوق میں اور متعلقہ بیرونی سفروں پر آنے جانے پر خرچ کر رہے ہیں۔جو پاکستان کے لیے نہیں، ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہیں۔ اپنے سفر کو پر تعیش بنانے کے لیے جیٹ خریدے گئے ہیں جن میں پنجاب کی ملکہ بے وجہ کے سفر کررہی ہے۔ جیسے ابھی ابھی آذر بائیجان گئیں ، جہاں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔البتہ کوئی ذاتی مقاصد ہونگے؟ان کی حرکات پر کون نظر رکھتا ہے؟ وزیر اعظم تو چچا ہے۔ سب فیملی کے اندر کا معاملہ ہے۔ اسمبلی غیر فعال ہے۔ کوئی رکن اگر سوال کرے بھی تو صدا بصحرا ہوتی ہے۔نہ تو کوئی وزیر ایسی جرأت کر سکتا ہے اور نہ کوئی اور۔ ایسے حالات میں ملک دن بدن تنزلی کی طرف نہ جائے تو کہاں جائے گا!



