Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

اب تو اتنے ہیں کہ حیران ہوں کس کو چھوڑوں !

ای آئی ٹی برطانیہ کےعالمی شہرت کے حامل جریدہ اکنامسٹ کا وہ شعبہ ہے جواپنی تحقیقاتی رپورٹس کیلئے دنیا بھر میں موقر گردانا جاتا ہے۔! اس شعبہ کے مخفف کا پورا نام اکنامسٹ انٹیلی جینس یونٹ ہے اور یہ دنیا بھر کے ممالک کے مختلف شعبہء ہائے زندگی کے متعلق پابندی سے تحقیقات پر مبنی مواد شائع کرتا رہتا ہے اور اس کام میں اسے دنیا بھر سے پذیرائی ملا کرتی ہے۔اس کی تازہ ترین رپورٹ دنیا بھر کے173 شہروں کے متعلق ہے کہ کونسے شہر رہنے کیلئے بہترین ہیںاور کونسے شہر زندگی بسر کیلئے انتہائی ناموزوں اور تکلیف دہ ہیں!تو اس میں ہمارے شہر کراچی کا شمار ان شہروں میں ہوتا ہے جو رہنے کیلئے بدترین خیال کئے جاتے ہیں اور یہ رائے یونہی کسی دشمنی یا عصبیت کی وجہ سے نہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر قائم کی جاتی ہے۔ تواس رپورٹ کے مطابق 173 عالمی شہروں میں کراچی اس فہرست میں جو زندگی بسر کرنے کیلئے بدترین ہیں چوتھے نمبر پہ ہے۔ جی ہاں، چوتھے نمبر پر!کراچی سے بدتر صرف اور صرف تین شہر ہیں: کابل، ڈھاکہ اور دمشق۔یہ ڈکیت زرداری کی غلام اور باجگذار پیپلز پارٹی کا کارنامہ ہے، جو گذشتہ 18 برس سے ماضی کے جگمگاتے اور جاگتے، روشنیوں کے شہر کراچی پر قابض ہے، اس کے وسائل پر سانپ بنی بیٹھی ہے اور اپنے سرغنہ رسوائےزمانہ چوری کی حوالے سے عالمی شہرت کے مالک آصف زرداری کی سربراہی میں شہر کو اور اس کے بیشمار وسائل کو اس بری طرح دونوں ہاتھوں سے لوٹتی رہی ہے کہ روشنیوں کا شہر اب تاریکی کی بستی ہے جس میں نہ سڑکیں ہیں، نہ کوئی شہری ٹرانسپورٹ ہے اور نہ ہی دو ڈھائی کڑوڑ کی آبادی کے شہر میں کوئی کوڑا اٹھانے کا نظام ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر بستی، سوائے اس بستی کے جہاں ڈکیت اور اس کے حواری رہتے ہیں، کوڑے کا ڈھیر بن گئی ہے!مختصر یہ کہ کبھی کے روشنیوں کے شہر کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے کیونکہ عسکری طالع آزماؤں کو ملک کو اپنے چنگل میں رکھنے کیلئے ایسے ہی چوروں اور ڈاکوؤں کی ضرورت ہے، اور وہی پاکستان پر قابض ڈکیت جرنیلوں کی آنکھوں کے تارے ہیں، جیسے زرداری ہے،جیسے نام کے شریف برادران اور بڑے چور کی رسوائے زمانہ دخترِ نیک اختر ہیں!عمران خان جیسے کھرے اور دیانت دار رہنما ان چوروں کے سرپرست جرنیلوں کو نہیں بھاتےاور یوں نہیں بھاتے کہ وہ نہ خود کھاتے ہیں نہ ان جرنیلوں کو، جو ملک کو ستر برس سے بلا ڈکار لئے ہڑپ کرتے آرہے ہیں، کھانے دیتے ہیں۔سو عاصم منیر اور اس کے وردی پوش چوروں نے سندھ اور کراچی کو تو ڈکیت زرداری اور اس کے ڈاکوؤں کو ورثہ میں سونپا ہوا ہے اور ملک کا سب سے بڑا صوبہ، پنجاب، نام کے شریف خاندان کی تحویل میں دیا ہوا ہے۔جرنیلوں نے تو قائد کے پاکستان کو اپنا خاکستان بنادیا ہے لیکن ان کے دل پسند چور سیاستدانوں نے اسے منافقستان بنادیا ہے جہاں ہر بات میں اسلام کا حوالہ دینا لازمی ہے لیکن اسلامی شعائر اور اقدار کی جس بیدردی اور دیدہ دلیری سے ان کی حکومتوں میں بے حرمتی ہو رہی ہے اس پر توصحیح اسلامی معاشرہ میں حد جاری ہوسکتی ہے !ابھی چند دن پہلے پنجاب کے ایک شہر میں وہ ڈرامہ رچایا گیا جسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ سیاسی گماشتے جو ہر دوسرے جملہ میں اسلام کا حوالہ دئیے بغیر نہیں رہتے کیا واقعی مسلمان ہیں!شہزادی مریم نواز کی ایک نائب اپنی رانی کی حکمرانی میں فیاضی اور دریا دلی کی مثال قائم کروانے کیلئے معذوروں کے ایک سینٹر میں معذورافراد کو دان دینے کیلئے تشریف لے گئیں۔ وہاں انہوں نے اپنی رانی کی فیاضی کے دریا بہاتے ہوئے چند معذور افراد کو وہیل چیئرز عطا کیں اور ٹیلیوژن کیمروں نے اس دریا دلی کی خوبخوب فلمیں بنائیں۔ لیکن جیسے ہی کیمروں کی آنکھیں بند ہوئیں وہ تمام وہیل چیئرز ان سے چھین لی گئیں !یہ ہےوہ اندھیر نگری اور چوپٹ راج جو "فوجستان” یا "خاکستان” کی شناخت بن گیا ہے !اس بیرحم معاشرہ کا ایک بدصورت چہرہ ابھی دو دن ہوئے سامنے آیا جب لاہور میں ایک نوجوان جوڑے نے اپنے دو معصوم بچوں کو بھی زہر سے ماردیا اور خود بھی اپنی جانیں لے لیں کیونکہ وہ فاقوں سے اپنے بچوں کو بلکتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ان کے پاس پھوٹی کوڑی نہیں تھی، ان کو کوئی کام بھی نہیں مل رہا تھا، اس گھر میں جہاں بمشکل چند بلب جلتے تھے بجلی کا بل سترہ ہزار (17000) روپے کا تھا اور سنگدل مالکِ مکان کرائے پر اصرار کر رہا تھا ورنہ گھر خالی کرنے کیلئے حکم دے چکا تھا !یہ ہے وہ اسلامی معاشرہ جس کا خواب ایک جاہل قوم کو دن رات دکھایا جاتا ہے لیکن جہاں منافقت کا یہ عالم ہے کہ جیو ٹی وی نے آج چار پانچ منٹ تک اپنے ٹی وی پر ایک معذرت کا چرچا کیا کیونکہ کل پرسوں اس کے ایک حالیہ ڈرامہ سیریل ضبط کی ایک قسط میں ایک ایکٹریس نے طیش کے عالم میں اپنی میز پر رکھی کتابوں کو زمین پر پھینک دیا تھا۔ان کتابوں میں شاید ایک مذہبی کتاب بھی تھی جس کی بے حرمتی پر بہت سے ناظرین کو بہت اعتراض تھاکہ ایک اسلامی کتاب کی بے حرمتی کی گئی!جس معاشرہ میں رات دن جھوٹ بولا جاتا ہے، جہاں کھانے پینے کی اشیاء میں، حد یہ کہ دوائیوں میں بھی ملاوٹ ہوتی ہے، جہاں انصاف اپنے نہ ہونے سے نمایاں ہے، جہاں ہر ہر گھڑی اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اسلام کی بنیادی اقدار کی بے حرمتی ہوتی ہے وہاں بظاہر پڑھے لکھے افراد کا اسلام اور ایمان اس سے مجروح ہوگیا کہ ایک ڈرامے میں نادانستہ طور پر ایک مذہبی کتاب کی بے حرمتی ہوگئی تھی !خداوندہ یہ کیا ہورہا ہے اس ملک میں جو تیرے نام پر، تیرے دین کے نام پر بنایا گیا تھا لیکن جس پر عرصہ سے منافقتوں کا قبضہ ہے !اس پر ہمیں اختر الایمان کا ایک شعر یاد آگیا:
اگلے وقتوں میں کئی تھے کہ خدا ایک ہی تھا
اب تو اتنے ہیں کہ حیران ہوں کس کو پوجوں !
لیکن منافقستان کے حوالے سے اس کی یہ تضمین ہوسکتی ہے اور ہونی چاہئے:
اگلے وقتوں میں کئی تھے کہ شیطاں ایک ہی تھا
اب تو حاتنے ہیں کہ حیران ہوں کس کو چھوڑوں !
تو مقبوضہ وطنِ مرحوم میں تو ہر طرف شیطان ہی شیطان ہیں بلکہ اتنے ہیں کہ ابلیس نے اس جگہ سے اپنا ڈیرا اٹھا لیا ہے، اپنا بوریا بستر گول کرلیا ہے یہ کہہ کر کہ ان چیلوں نے تو مجھے بھی مات دے دی ہے، میلوں پیچھے چھوڑ دیا۔ ان کی یہاں موجودگی میں میری دال نہیں گلنے والی !
توہر جگہ، سیاست ہو کہ معیشت، مسجد ہو کہ ایوان ِ حکومت، تجارت ہو حکومتی کاروبار، ہر جگہ منافقوں کا قبضہ اور غلبہ ہے۔ جس پر ایک اور بار باردہرایا ہوا شعر یاد آجاتا ہے :
بربادیء گلشن کی خاطر بس ایک ہی اُلو کافی تھا
ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا!
تو جو انجام ہوگا، اور جو ہورہا ہے وہ نابینا کو بھی صاف نظر آرہا ہے۔
ملک کنگال ہورہا ہے، آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے پہ مجبور ہے لیکن غریب کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے، وہ جئے یا مرے یا اس نوجوان جوڑے کی طرح جس میں اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتے ہوئے دیکھنے کی ہمت ختم ہوچکی تھی اپنی جان خود لے لے، خود کشی کرلے۔ نام نہاد ‘اشرافیہ کے کانوں پر اس آہ و بکا سے جوں بھی نہیں رینگتی!اس ڈکیت اور چور اشرافیہ کو صرف اپنی عیاشیوں سے غرض ہے اور اس مذموم کام میں ان کی سرپرستی کرنے کیلئے وہ وردی والے طالع آزما ہمہ وقت آمادہ ہیں جنہیں اپنےہتھیاروں کی طاقت پر بہت ناز ہے لیکن جن سے ملک میں دہشت گردی کا فتنہ نہ تو سنبھل رہا ہے نہ مٹنے کے کوئی آثار ہیں !ملک و قوم پر مسلط جرنیلوں اور ان کے سیاسی گماشتوں کے پاس آسان نسخہ ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار دشمن بھارت کو ٹہرا دو اور خیبر پختونخواہ میں یہ الزام افغانستان کے سر تھوپ دو۔ ان خاکی خداؤں سے یہ سوال کیا جائے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے کہ افغانستان ، بقول ان کے، اگر دہشت گردی کا مرکز ہے تو افغانستان کی سرحدیں وسط ایشیا کے تین ملکوں سے ملتی ہیں، ایران اور چین سے ملتی ہیں ان ملکوں میں کیوں افغان دہشت گردی نہیں ہورہی؟اپنی کمزوری، اپنی نا اہلی کی ذمہ داری دوسروں کے سر ڈالنا کمزور اور بزدل کی نشانی ہے اور ہمارے جرنیلوں کی، جو اپنی زرق برق وردیوں پر نہ جانے کن کن بہادریوں کے تمغے سجائے رہتے ہیں اور زمین پر یوں اکڑ کے چلتے ہیں جیسے اس دھرتی کے وہی خدا ہیں، بزدلی کی توپوری تاریخ ہے۔ دور کیوں جائیے مشرقی پاکستان کا سانحہ اور سقوطِ ڈھاکہ کا المیہ ہی اس تاریخ کا ایسا خلاصہ ہے جو ہر ایک کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے، بشرطیکہ عقل و ہوش سلامت ہوں !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button