Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

کس غضب کے یہ نامے میرے نام آتے ہیں!

یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، اب کسی کو اچھا لگے یا برا۔ اس سے پہلے دور میں صرف ان لوگوں کی بات اخبار یا ٹی وی پر آتی تھی جو جانے پہچانے ہوتے تھے یا میڈیا کے اپنے اہلکار۔جب سے سوشل میڈیا آیا ہے ہر کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا بھی جو دل میں آتا ہے، پٹاخ سے سوشل میڈیا میں داغ دیتا ہے۔یہ دیکھنے والوں کو سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔قانون بھی جمہور کی رائے زنی کی اجازت دیتا ہے جسے آزادی رائے کہتے ہیں۔اور دل جلے بھی کچھ چھپا کر نہیں رکھتے۔اسی آزادی رائے کا حق استعمال کرتے ہوئے، راقم بھی جرات کرتا ہے کہ دل کی بات لب پر لے آئے۔ اس ہزاروں میل دور پردیس میں رہ کر جتنا خیال پاکستان کا آتا ہے اتنا پاکستان کے اندر رہ کر نہیں آتا۔اسی لیے ہدایت نامہ حکمران پاکستان تحریر کیے دیتا ہوں۔ کہ بوقت ضرورت کام آوے۔پاکستان مسائل سے گھرا ہوا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ مواقع بھی کم نہیں۔اب سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں رشوت ستانی جسے بری گورننس کہا جاتا ہے، وہ بے انداز ہے۔اب یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے اور ہر دوسرے تیسرے دن خبریں آتی ہیں کہ کتنے اربوں کی بد عنوانی پکڑی گئی۔لیکن اس پر کاروائی ہوتے نہیں سنا گیا۔اس لیے کہ ہر ایسی بد عنوانی کے پیچھے کسی بڑی شخصیت کا ہاتھ ہوتا ہے جسے ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔اب دیکھیں کہ پاکستان جیسا مفلوک الحال ملک سات لاکھ کی فوج کے اخراجات نہیں سہار سکتا۔ ان کی تنخواہیں، پینشن، ترقیاں، بیرونی تربیت اور نئے ہتھیار، سب کی لاگت کئی ارب ہوتی ہے۔ اور سب سے بڑی بات کہ ہم اگر ہمسایہ ملکوں سے پنگا نہ لیں اور امن اور چین کے ساتھ رہنے کا قصد کر لیں، تو پچاس ہزار کی فوج اور دو لاکھ ریزرو بھی کافی ہو سکتے ہیں۔ مطلب ہے کہ ہم اپنے فوجی اخراجات میں خاطر خواہ کمی لا سکتے ہیں۔موجودہ حالات میں پاکستان کے وسائل اتنے کم ہیں کہ ان سے ہمارا بجٹ نہیں چل سکتا۔ اور حکومت کو قرضے لینے پڑتے ہیں۔اب قرضوں کی واپسی دشوار ہو رہی ہے۔آئی ایم ایف کہتا ہے کہ عوام پر ٹیکسوں کا پورا بوجھ ڈال دو۔ آخرا نہی کی وجہ سے قرضے بڑھ رہے ہیں۔ پنجاب کے عوام تو ہر بوجھ اٹھا بھی لیتے ہیں اور اُف نہیں کرتے۔ایسے ٹیکس پٹرول، بجلی، گیس وغیرہ پر لگائے جاتے ہیں جن کے بغیر کسی کا گذارہ نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ رشوت کا دارو مدار سرکاری محکموں پر ہوتا ہے۔ان پر کسی کا زور نہیں اور نہ ان کے خلاف کچھ کیا جا سکتا ہے، وہ اس لیے کہ ان محکموں سے جو رشوت کا پیسہ اکٹھا ہوتا ہے اس کی بانٹ بہت اوپر تک جاتی ہے۔ اب فوج نے اکثر محکموں پر اپنے حاضر سروس یا ریٹائرڈ جنرل لگا دئیے ہیں، غالباً ان کا بڑا کام ان محکموں سے بد عنوانی ختم کرنا ہو گا؟ اگر نہیں تو ان کی تعیناتی کا کوئی اور جواز نہیں۔پاکستان کی معیشت نازک موڑ پر ہے۔ نواز فیملی کو اپنی عیاشیوں سے فرصت نہیں۔ عوام کی ایک بڑی تعداد خط غربت سے نیچے چلی گئی ہے۔ ڈھائی کروڑ بچے جنہیں سکول میں ہونا چاہیئے وہ سکول میں نہیں ہیں۔تعلیم میں تو پاکستان کی اشرافیہ کو کبھی دلچسپی نہیں رہی، ہماری مراد عوام کے بچوں کی تعلیم ہے۔ ان کے اپنے بچے تو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں پڑھتے ہیں۔پاکستان کا اصل بیڑہ غرق ان لوگوں نے کیا ہے جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے اور عدلیہ کی آئینی حیثیت ختم کر دی ہے۔ جس ملک میں انصاف نہ ملے، وہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہتا۔ نہ وہاں سرمایہ کار آتے ہیں اور نہ بیرونی سرمایہ۔ بلکہ جو کاروبار بیرونی کمپنیاں چلاتی تھیں وہ بھی گھر جا رہی ہیں۔اس سے نہ صرف بیروزگاری بڑھ رہی ہے، ملک پر اس کے اپنی باسیوں کا اعتماد اٹھ رہا ہے۔اب صحت کی بات سن لیں۔ ایک بڑی تعداد میں نو زایئدہ اور چھوٹے بچوں کو مناسب غذائیت نہیں مل رہی۔ وہ لاغر اور پستہ قد ہو رہے ہیںْ جس کا مطلب ہے کہ مستقبل کی افرادی قوت بہت سے جسمانی کام نہیں کر سکے گی۔کیا اس کی کسی کو پرواہ ہے؟عوام کو تو اندازہ ہی نہیں کہ انکے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟ان کو تو یہی بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی مرضی ہے ۔ حکمرانوں کا کوئی قصور نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی عوام کو انپڑھ کیوں رکھا گیا؟ اسی لیے کہ وہ پڑھنے کے بعد اپنے انسانی حقوق سے نہ واقف ہو جائیں۔خیر یہ پرانی کہانی ہے۔ ہم اپنے کالموں میں کئی بار اس کا ذکر کر چکے ہیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ دوست بھی کہتے ہیں کہ آپ یہ کیا پرانی باتیں پکڑے بیٹھے ہیں۔یہاں کچھ نہیں بدلے گا۔ایک اور مسئلہ جو سر فہرست ہے اور سب کی توجہ مانگتا ہے کہ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک تو انہیں کوئی ہنر نہیں سکھایا جاتا اور دوسرے جو تعلیم دی جاتی ہے وہ ناکارہ ہے۔ حکومت نے نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے ادارے تو بنا دئیے ہیں لیکن وہ ناکافی ہیں، جتنے نوجوانوں کو ان میں داخلہ چاہیے اتنی سیٹیں نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ ان کی فیسیں بھی سب لوگ ادا کرنے کے قابل نہیں۔اور بھی بہت مسائل ہیں جیسے شہری علاقوں میں کچرہ اٹھانے کا انتظام، گندے پانی کے نکاس کا انتظام، پینے کے پانی کی فراہمی، یہ سب توجہ طلب ہیں۔ پاکستان کو بنے 75 سال ہو گئے ہیں، ابھی تک ہم صفائی کا وہ معیار نہیں بر قرار رکھ سکے جو انگریز چھوڑ کر گئے تھے۔یہ کارپوریشنز اور میونسپل اداروں کی ذمہ واری ہوتی ہے جو بد عنوانیت کے گڑھ ہیں۔ اب آئیے ان شاہ پاروں کی طرف جو ہمیں سوشل میڈیا پر ملتے ہیں۔ مشتے از خروارے ملاحظہ ہوں:۔ مشرف دور میںایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ارشد محمود کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیا گیا۔ایک میٹنگ میں ریٹائرڈجنرل نے ڈاکٹر مجاہد کامران سے پوچھا، شاہ جی آپ کیا بننا پسند کریں گے؟ جس پر ڈاکٹر مجاہد کامران جواب دیا ، میں راولپنڈی کا کور کمانڈر بننا پسند کروں گا۔ جنرل نے کہا آپ تو پروفیسر ہیں ہیں آپ کا کوئی فوجی تجربہ نہیںآپ کیسے راولپنڈی کے کور کمانڈر لگ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا جیسے ایک ریٹائریڈفوجی کو ایک اہم ترین تعلیمی ادارے کا سر براہ بنا دیا گیا بالکل ویسے ہی مجھے بھی کور کمانڈر لگا دیا جائے۔ اس کے بعد جنرل ارشد محمود صاحب کے چراغوں میں روشنی نہ رہی۔لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ ایک سال میں2لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ جوان بیرون ملک شفٹ ہو چکے ہیں اور یہاں ریٹائرڈحضرات میں اعلیٰ عہدے فتح کرنے کا ورلڈ کپ جاری ہے۔ ایک خاتون کا وڈیوپیغام سنیئے: یہ تمام معصوم زنا بالجبر کی متاثرہ خواتین ہماری اپنی کوتاہیوں اور لا پرواہیوں کا نتیجہ ہیں۔اور ہماری رعونت بحثیت معاشرہ کی بے حسی کا نتیجہ ہیں۔ ہم انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن اسلامک ریپبلک آف پاکستان میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں۔نہ کوئی امن ہے اور نہ ہی قانون کی حکمرانی۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چلتا ہے۔اور زنا کی شکار عورتوں کو کہا جاتا ہے کہ آواز نہ نکالیں۔ اور انکے اقرباء کو بھی خاموش رہنے کا حکم دیا جاتا ہے۔زنا کی شکار لڑکیوں کا ذکر تک نہیں کیا جاتا تھا نہ ان کی فیملی، نہ ان کے عزیز و اقارب، کسی کو بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ میں جب پاکستان میں پلی بڑھی تو جب بھی کوئی ہراسگی کا موقع ہوتا تھا مجھے بھی اگر میں اس کی شکار تھی تو زبان نہ کھولنے کا حکم دیا جاتا تھا۔پاکستان میں ایسی ماں بننا بہت افسوسناک تھا۔ پاکستان میں ایسی متاثرہ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی پر نہ آواز اٹھائی جا سکتی تھی اور نہ انہیں انصاف میسر آتا تھا، ان کے اپنے والدین انہیں خاموش رہنے کی ہدایت دیتے تھے۔خاص طور پر اگر ان کے پاس مقدمے لڑنے اور وکلا کی فیسیں دینے کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔۔ ’’مجھے کسی حاضر سروس بڑے افسر نے پیغام بھیجا ہے، فوجی جنرل جن کی تعداد 5یا6ہے ان کی یہ سوچ ہے گلگت بلتستان آزاد کشمیر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ اگر پاکستان سے الگ ہو جاتے ہیں تو بھی ہمارے پاس 13کروڑ لوگ بچتے ہیں، جن پر ہم حکومت کر سکتے ہیں۔ 13کروڑ اندھے بھی ہیں، گونگے بھی ہیں اور ہمارے اچھے غلام بھی ہیں۔یہ حوالہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کا ہے ۔‘‘ نجم سیٹھی۔ ’’ اسی زمین پے ظالم تھے تم سے پہلے لوگ۔ اسی زمین کے اندر کہیں پڑے ہو نگے ‘‘۔۔ لنڈسے گراہم جس نے کہا تھا امریکہ سے کہ غزہ کے ساتھ بھی وہی سلوک کرو جو ٹوکیو اور برلن کے ساتھ کیا تھا۔ اس بستی کا نام ونشان مٹا دو۔ وہ دو روز پہلے خود ہی ہلاک ہو گیا۔ کسی کو پتہ نہیں کہ وہ اچانک کیسے مرا؟۔ اسے کہتے ہیں اللہ کا انتقام۔گراہم اکثر مسلمانوں کے خلاف اور عزرائیل کے حق میں بکواس کرتا تھا۔ اس کی عمر 71سال تھی۔وہ تین دن پہلیء یو کرائن سے واپس آیا تھا اور دل کی بیماری سے جان بر نہ ہو سکا۔ محمد صفا نے کہا ’’مجھے کہا گیا ہے کہ لنڈسے گراہم کی موت کے حوالے سے خاموش رہیں۔اور جو سفارتی بیانیہ ہے اس کو اختیار کریں۔ہماری پرورش ایسی ہوئی تھی کہ جس میں ُمردوں کا احترام کیا جاتا تھا بلا امتیاز کہ زندگی میں وہ کون تھے اور انہوں نے اپنی زندگی میںکیا کام کئے تھے۔کیونکہ صرف اللہ ان کا حساب لے گا۔ میں نے لنڈسے گراہم کو قریب سے دیکھا تھا کیونکہ جب سب اس سے ہاتھ ملا رہے تھے، میں الگ دور کھڑا اسے دیکھ رہا تھا جیسے کہ وہ ایک عفریت ہو جو دنیا میں آیا ہو۔وہ واشنگٹن ڈی سی میں صہیونیوں کا سرغنہ تھا۔ اس نے ایک دفعہ امریکی صدر سے کہا ’ تم غزہ میں وہ کرو جو کر سکتے ہو۔‘ اس خطہ کو ملیا میٹ کر دو۔‘ بس اسے خاک کر دو۔ جیسے ہم نے برلن اور ٹوکیو کو تباہ کیا تھا۔( اس کی یاداشت خراب تھی۔ اسے یاد نہیں تھا کہ امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے جاپانی شہروں پر ایٹم بم پھینکے تھے۔برلن اور ٹوکیو پر نہیں۔ برلن پر اتحادیوں نے سخت بمباری کی تھی۔)۔لنڈسے گراہم غزہ پر ایٹم بم گرانے کے حق میں تھا۔(اس بیوقوف کو معلوم نہیں تھا کہ اگر غزہ پر ایٹم بم پھینکا گیا تو عزرائیل بھی اس کے اثرات سے بچ نہیں سکے گا۔)۔ گراہم ایران پر ایٹمی حملے کرنے کے حق میں بھی تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ جنگ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہے۔یہ ننگ انسانیت اب مر چکا ہے۔لیکن اس کی خباثت اس کی بد روح کو قیامت تک نہیں چھوڑے گی۔اسے تاریخ میں بد ترین انسان کے یاد رکھا جائے گا۔میں نے کہا تھا کہ کہ ہمیں مرے ہوئوں کو احترام دینا چاہیئے لیکن اس کی مثال موجودہ سیاستدانوں کو جو اس کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، کو دینی بھی ضروری ہے۔جب تم مرو گے تمہیں لوگ انہی لفظوں سے یاد کریں گے۔ اور بجائے یہ کہنے کہ امن سے سوئو، کہیں گے جہنم میں جائو۔‘‘ ۔ ’’جس ملک میں سکول کے بچوں کا ناشتہ تیار کرنے کے لیے گیس موجود نہ ہو ، اس ملک کی گیس کمپنی کے ایم ڈی کی تنخواہ 68لاکھ روپے ہے۔‘‘ شگفتہ اعجاز۔’’ ٹرمپ، ایران کے لیے سب سے اچھا تحفہ تھا۔اس نے جتنا زیادہ نقصان امریکہ کو پہنچایا جتنا ایران ساری عمر میں نہیں پہنچا سکتا تھا۔اس کی قیادت میں ، ایران نے اپنے دوست پہچانے جن کا انہیں پہلے کبھی اندازہ بھی نہیں تھا‘‘۔۔’’اچھا وقت ہمیشہ ان کا ہوتا ہے، جو کبھی دوسروں کا بُرا نہیں سوچتے۔ انسان کی نیت ہی اس کا مقدر ہوتی ہے۔‘‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button