آبادی کی شرح!

ہم ایسی قوم ہیں ہیں جو ماضی سے نکل ہی نہیں پا رہے،دعائیں،دھاگے،تعویز، عملیات،مزار نہ ماضی میں کام آئے نہ اس دور میں کام آرہے ہیں ،مولویوں کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے،مولوی کہتے ہیں ہمارے لئے یہ کتاب کافی ہے ہم کسی اور کتاب کو نہیں مانتے،دنیا میں کوئی تحقیق ہو کوئی سائنسی ایجاد ہو، مولوی بتا دیتے ہیں کہ یہ تو قرآن میں موجودہے، یہ تو فلاں حدیث میں مرقوم ہے، سات سو سال پہلے چھاپہ خانہ ایجاد ہوا اور ترکی کے ایک مفتی نے چھاپہ خانہ کوحرام قرار دے دیا،دلیل اپنی موت آپ مر جاتی ہے جب فتوی جاری ہو جاتا ہے،عوام جاہل اور ان پڑھ ،وہ فتوے کی اساس کو سمجھتے ہی نہیں ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ فلاں مدرسے کے فلاں بڑے عالم نے یہ فتوی دیا ہے اوراس سے سرِ مو اختلاف کفر ہے،جنرل ضیا الحق نے جاہل مولویوں سے جہاد کا فتوی لے لیا اور اس فتوے نے پاکستان کے پچاس سال کھا لئے،ایران میں آیت اللہ خامنہ ای نے ایٹم بم کو حرام قرار دے دیا،سارا ملک تباہ ہو گیا فتوے پر حرف نہیں آیا،پاکستان کے ایک بڑے مفتی تقی عثمانی ہیںحال ہی میں انہوں نے ایک فتوی داغ دیا ہے کہ کرپٹو کرنسی حرام ہے،مفتی تقی عثمانی وہ مولوی ہیں جنہوں نےاٹھائیس علماء کے ساتھ مل کر ایک حلف اس وقت اٹھایا جب اسرائیل غزہ پر حملہ کر چکا تھا،اس حلف میں مفتی تقی عثمانی نے اٹھائیس علماء کے ساتھ غزہ جا کر جہاد کرنے کا حلف اٹھایا تھا،غزہ جلتا رہا کوئی ایک مولوی غزہ جہاد کے لئے نہیں گیا،Genocideہوتی رہی اور فلسطین کے نام پر جو بڑی بڑی ریلیاں اور سیمینار ہوتے رہے ان کے شرکاء میں سے کسی نے بھی کسی مولوی کا گریبان نہیں پکڑاکہ قوم کو دھوکہ کیوں دیا،فتوی کہاں گیا حلف کا کیا ہوا،ہم نے فیس بک پر لکھا کہ تقی عثمانی کے پیچھے نماز جائز نہیں،اس نام نہاد مفتی نے حلف توڑا ہے،مولویوں کا حربہ یہ ہے کہ جو ان سے سوال کرے اس کو گستاخِ رسول بنا کر مار دیتے ہیں،سو عوام خوفزدہ ہیں،اور جاہل عوام کو کیا پتہ کہ دین نے اجتہاد،قیاس، انبساط،کا حق ہرپڑھے لکھے مسلمان کو دیا ہے،اب لاکھ کالم لکھیں، مضامین لکھیں، کتابیں لکھیں،فتوے کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے طاقت ایسی کہ حکومت بھی خاموش رہتی ہے،کیونکہ الیکشن میں یہی غنڈے حکومت کو ووٹ دلاتے ہیں ،اس تمہید کا مقصد یہی ثابت کرنا تھا کہ اس معاشرے میں دلیل کام نہیں آتی جہاں مولوی فتوے دیتا ہے،،سو علم کی کوئی قدر و قیمت نہیں،اور عام مسلمان کو علم نہیں کہ فتوؤں سے کتنا نقصان ہو چکا اور علمی اور سائنسی اعتبار سے دنیا کتنی آگے نکل چکی،ایک اندازے کے مطابق مسلمانوں نے گزشتہ ایک صدی میں جدید علم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور اربابِ اختیار نے بھی پوری کوشش کی کہ جدید علم ایک عام مسلمان تک نہ پہنچنے پائے،سو یہ کوشش کامیاب رہی،اور مسلمان مولوی کے زیر اثر ہی رہا،کراچی کی حالت سارے پاکستان کو معلوم ہے مگر مولانا فضل الرحمن جلسہ کرے تو کراچی اس کے جلسے میں اُمنڈ آئیگا،میں نے عرض کیا کہ گزشتہ ایک صدی سے جدید علم سے استفادہ نہیں کیا،سترھویں صدی میں انگلینڈ میں ایک ماہرمعاشیات گزرا،اس وقت معاشیات گھٹنوں کے بل چلتی تھی،مگر مضبوط بنیاد فراہم کر رہی تھی اس معیشت دان کانام Thomas Robert Malthus تھا وہ فروری 1766میں پیدا ہوا اور دسمبر 1834میں مر گیا، ایک روشن تھیوری اس کے نام سے جڑی ہوئی ہے مالتھس نے کہا کہ آبادی Exponentialy بڑھتی ہے یعنی دوگنی رفتار سے جیسے دو چار آٹھ اور سولہ،جب کہ اجناس Arithematically بڑھتے ہیں جیسے ایک دو تین اور چار ۔مالتھس کا خیال تھا کہ جب آبادی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو بیماری، آفات اور جنگ ایسے عناصر ہیں جو آبادی کم کر دیتے ہیں، مالتھس کی تھیوری پر بہت اعتراضات اٹھائے گئے،اور کہا گیا کہ بیماری،آفات، اور جنگ آبادی کو اس طرح کم نہیں کرتے جیسے آبادی بڑھتی مگر مالتھس نے تین صدی پہلے افراطِ آبادی کی طرف اشارہ کر دیا تھا اور بتادیا تھا کہ یہ عفریت اگر قابو میں نہ آیا انسانی ترقی کو کھا جائیگا،مغرب نے یہ خطرہ بھانپ لیا تھا لہٰذا رضاکارانہ طور پر لوگ کم بچے پیدا کرتے تھے،مالتھس کے نظریئے کے علاوہ چار اور نظریات مختلف معیشت دانوں نے دیئے جس میں کارل مارکس کا نظریہ بہت اہم ہے مارکس کہتا ہے کہ کہ بے روزگاری ،آبادی میں اضافہ اور غربت لیبر فورس میں بےپناہ اضافہ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اُجرت کم ہوتی ہے اور صاحبانِ اقتدار کو فائدہ ہوتا ہے،دو اور نظریات بھی ہیں جن کا ذکر کسی اور وقت کے لئے موخر کیا جاتا ہے مغرب اور امریکہ نے آبادی پر کنٹرول کے طریقے سیکھ لئے ،توازن برقرار رکھااور خوب ترقی کی، لیبر فورس میں کمی محسوس کی تو غریب ممالک سے لیبر فورس حاصل کر لی ،ایشیا اور افریقہ میں ایسا نہ ہو سکا، ایک تو وسائل کم، دوسرے وسائل کو استعمال کرنے کی تکنیک سے عدم آگاہی، اور پھر آبادی میں تیزی سے اضافہ،لہٰذا ایشیا اور افریقہ کے ممالک میں ترقی نہ ہونے کے برابر ،ملک کا جتنا قیمتی خام مال ہے وہ بڑے ملک لے جاتے ہیں ،پاکستان بھی اپنی قیمتی معدنیات خود پراسس نہیں کر سکتا پراسس کرنے کی ٹیکنالوجی ہی نہیں توقیمتی معدنیات سستے بھاؤ بیچی جا رہی ہیں،دنیا میں کیا ہو رہا ہے مولوی کو کچھ نہیں پتہ،لہٰذا یہ بھی نہیں پتہ کہ آبادی بڑھنے کے کیا نقصانات ہیں اس کے برعکس مولوی نے قرآن اور حدیث سے یہ نص نکال لی کہ فیملی پلاننگ غیر شرعی ہے ،پاکستان میں پچاسی لاکھ مساجد مولویوںکے پاس ہیں پچاسی لاکھ لاؤڈ اسپیکرز،مسجد سے اعلان ہوا کہ فیملی پلاننگ حرام ہے اور لوگوں نے دھڑا دھڑ بچے پیداکرنا شروع کر دئے پھر کہا کہ چار شادیاں بھی فرض ہیں ،سو غلیظ، بیمار، بھوک کے مارے بچے پیدا کئے گئے اس پر طرفہ تماشا یہ کہ کہا جائے کہ یہ سب اللہ کا کرم ہے،پھر مولوی کی یہ باتیں کہ جو اس دنیا میں آتا ہے اپنا رزق لے کر آتا ہے،اگر ایسا ہے تو Malnutritionسے بچے مر کیوں جاتے ہیں ،بھوک سے کیوں مر جاتے ہیں ایک غیر معروف
تفسیر میں کہیں لکھا تھا کہ بچہ اپنا رزق لے کر آتا ہے کیونکہ اس کی پیدائش کے بعد اس کی ماں کی چھاتی میں دودھ اُتر آتا ہے،یہ بات مانی جا سکتی ہے مگر یہ بھی ہے کہ ماں کو مناسب غذا نہ ملے تو ماں کی چھاتیاں بھی سوکھ جاتی ہیں،اور بچے کو غذا نہیں ملتی، اور یہ بھی ہوتا ہے کہ بچے بھوک سے مر بھی جاتے ہیں،میں نے عرض کیا ہے کہ گزشتہ جدید علم ہم تک پہنچا ہی نہیں،تو یہ بات بھی نہیں پہنچی کہ افراطِ آبادی کسی ملک کے لئے اچھی نہیں ہوتی افراط آبادی کی وجہ سے معاشی ترقی رک جاتی ہے صحت، تعلیم، human developementاور ترقیاتی منصوبوں پر کام نہیں ہوتا اتنے وسائل ہی نہیں ہوتے کہ مذکورہ بالا امور پر غور کیا جا سکے،فنڈز کہاں سے لائے جائیں،اس کو اس طرح سمجھ لیں کہ ایک خاص آمدنی میں گھر کے چار افراد سہولت کے ساتھ گزارا کر سکتے ہیں اگر گھر میں آٹھ افراد ہوں تو ظاہر ہے کہ چار افراد کو قربانی دینی پڑے گی معیار زندگی کم کرنا پڑے گا،گوشت کی جگہ دال کھانی ہوگی ،چار جوڑی کپڑوں کی جگہ دو جوڑی کپڑوں سے کام چلانا پڑے گا،اچھے اسکولوں کی بجائے عام سرکاری اسکولوں یا مدرسوں میں بچے تعلیم پائیں گے،،ایسا ہی ملکوں میں ہوتا ہے جن ملکوں کی آبادی زیادہ ہو وہ ممالک پہلے آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں پھر دفاع، صحت، تعلیم اور ترقیاتی کاموں کی طرف دیکھتے ہیں،فلاحی کام نہیں ہو پاتے،سڑکیں اور پل نہیں بنتے،اجناس کی درآمدارت برآمدات سے زیادہ ہوتی ہیں،تو پھر ترقی کیسی، ملک کو سیلاب وبائیں،زلزلے اور کمزور کر دیتے ہیں ان کا دفاع بھی کمزور ہوتا ہے، ایوب خان کے زمانے میں فیملی پلاننگ پر کام شروع ہوا اور لوگوں کو educate کرنا شروع کیا مگر اس وقت بھی مولویوں نے شور شروع کردیا اور نس بندی کا شور مچ گیا اور ایسا لگا کہ حکومت راہ چلتوں کو پکڑ پکڑ کر نس بندی کر رہی ہے،آج سوچیں تو ہنسی آتی ہے،اور اس بات پر حیرت ہوگی ہے کہ مولوی کس مکاری سے کام لے رہا تھا،جب پولیوکے قطرے بچوں کو پلوائے جا رہے تھے تب بھی مولویوں نے شور مچایا کہ ان قطروں سے بچے نامرد ہو جائیں گے،جب
covid 19پھیلا تب بھی یہی مولوی ویکسین کے خلاف ڈٹ گئے اور کہا گیا کہ ویکسین مردوں کو نامرد کر دے گی،یہ سارا فساد جاہل مولوی مسجد کے loud speaker سے پھیلاتا رہا اور کسی حکومت میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ان مولویوں سے loud speakers چھین لے،اس کی وجہ یہ ہے یہ غنڈے الیکشن میں سیاسی جماعتوں کے کام آتے ہیں،پی پی پی جو اپنے آپ کو progressive political partyکہتی ہے وہ بھی ان سے ہاتھ ملاتی ہے اور کبھی نہیں کہتی کہ ہمیں دہشت گردوں کے ووٹ نہیں چاہیئے،نواز شریف تو ان کے پرانے یار ہیںشہباز بھی مولانا سے کہتے ہیں کہ برکت کے لئے پھونک مار دیں،پاکستان کی پوری تاریخ پر نظر ڈالیں آپ کو کوئی ایسا صدر یا وزیر اعظم ملے گا جو political economics/geo politics/demographسے واقف ہو اورvisionaryہو،پڑھا لکھا ہو،اور party politics سے زیادہ پاکستان کے بارے میں سوچتا ہو،اور ایسا توکوئی بھی نہیں جسکو ذرا سا بھی اندازہ بھی ہو کہ افراطِ آبادی بڑھی تو پاکستان میں غربت اور افلاس بڑھے گا اور لوگ بھوک سے مریں گے،امریکہ میں بھی مولوی منبر سے کہہ رہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھاؤ اور اقتدار پر قبضہ کرلو۔



