پنجاب کا بجٹ 16جون کو پیش ہوگا، مجموعی حجم 6 کھرب روپے سےزائد

لاہور (آصف اقبال) پنجاب حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ 16 جون کو پنجاب اسمبلی میں پیش کرے گی جبکہ وفاقی محصولات میں متوقع کمی کے باعث صوبے کو تقریباً 570 ارب روپے کے مالی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبائی بجٹ کا مجموعی حجم 6 کھرب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم دستیاب مالی وسائل اور وفاق سے ملنے والی رقوم میں ممکنہ کمی کے باعث حکومت اخراجات میں ردوبدل پر غور کر رہی ہے۔مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت تعلیم، صحت، امن و امان، زرعی پروگراموں اور سماجی فلاحی منصوبوں کے بجٹ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرے گی، جبکہ مالی دباؤ کا زیادہ بوجھ ترقیاتی اور غیر ضروری اخراجات پر ڈالے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں 250 ارب روپے تک کمی کی جا سکتی ہے، جبکہ مواصلات و سڑکوں کے شعبے میں 80 ارب روپے، آبپاشی اور چھوٹے ڈیموں کے منصوبوں میں 50 ارب روپے، ہاؤسنگ و اربن ڈویلپمنٹ میں 40 ارب روپے، انتظامی اخراجات میں 50 ارب روپے، لوکل گورنمنٹ کے نئے منصوبوں میں 40 ارب روپے اور دیگر ترقیاتی اسکیموں میں 60 ارب روپے تک کمی زیر غور ہے۔اعداد و شمار کے مطابق متوقع کٹوتیوں کا مجموعی حجم 570 ارب روپے بنتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت جاری ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے گی جبکہ نئے منصوبوں کے آغاز کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ سڑکوں، شہری ترقی، آبپاشی اور بعض بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے فنڈز کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔بجٹ سازی کے عمل سے واقف حکام کے مطابق اگر وفاقی وسائل توقعات سے کم رہے تو صوبے کا ترقیاتی پروگرام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 1.5 ٹریلین روپے کے متوقع ترقیاتی پروگرام کو کم کرکے 900 ارب سے 1.2 ٹریلین روپے تک لانے کی تجویز زیر غور آ سکتی ہے۔دوسری جانب پنجاب حکومت سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے ریلیف پیکیج کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور ہیں تاہم حتمی فیصلہ مالی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔اقتصادی ماہرین کے مطابق پنجاب محدود مالی وسائل کے باوجود ترقیاتی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روکنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لئے حکومت کو ترقیاتی اخراجات، عوامی فلاح اور مالیاتی نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا سیاسی اور معاشی حلقوں کی نظریں 16 جون کو پیش کئے جانے والے بجٹ پر مرکوز ہیں جس سے صوبائی حکومت کی مالی ترجیحات اور آئندہ سال کی معاشی حکمت عملی واضح ہو جائے گی ان تمام بجٹ تجاویز کو اسمبلی اجلاس سے قبل کابینہ کے خصوصی اجلاس میں پیش کیا جائے گا جس کی حتمی منظوری کے بعد پنجاب اسمبلی میں بجٹ بحث ہو گی۔جس سے زرائع سے حاصل کردہ اعداوشمار میں کمی بیشی کا امکان موجود رہے گا۔



