Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

امریکہ کا کاغذی بادشاہ: پیٹرو ڈالر کا نظام اور آبنائے ہرمز کی عالمی مالی جنگا

اگر آپ اپنے بٹوے سے ایک ڈالر کا نوٹ نکالیں تو پہلی نظر میں وہ محض ایک معمولی سا کاغذ دکھائی دیتا ہے۔ کپاس اور لینن کے چند ریشوں سے بنا ہوا یہ نوٹ، جس کی اپنی کوئی مادی حیثیت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، نہ وہ سونا ہے، نہ چاندی، نہ اس کے پیچھے کوئی ٹھوس دھات چھپی ہے۔ مگر اس کے باوجود یہی نوٹ برازیل کے کسان کے ہاتھ میں بھی قابلِ قبول ہے، چین کے تاجر کے لیے بھی قابلِ اعتماد، عرب کے تیل فروش کے لیے بھی ضروری، اور جاپان کے صنعتکار کے لیے بھی ایک بنیادی وسیلہ۔ سوال یہ نہیں کہ یہ کاغذ کیا ہے، سوال یہ ہے کہ دنیا نے اسے یہ مقام کیوں دیا؟ اور اب جب آبنائے ہرمز کی اکیس میل چوڑی پانی کی ایک پٹی میں گولے برس رہے ہیں، جب ٹرمپ نے وہاں سے گزرنے والے ہر جہاز پر بیس فیصد ٹول کا اعلان کیا ہے، جب پانچ سو تین جہاز خلیج فارس میں لنگر ڈالے کھڑے ہیں اور جنگی بیمہ عام دنوں سے آٹھ گنا مہنگا ہو چکا ہے، تو ایک اور سوال بھی ہوا میں لٹک رہا ہے کہ کیا وہ نظام جو پچاس سال سے دنیا کو اپنے گرد گھماتا رہا، اب اپنے آخری موڑ پر کھڑا ہے؟جواب ایک لفظ میں پوشیدہ ہے، یقین۔ یہی یقین ڈالر کی اصل طاقت ہے۔ نہ کوئی مشین، نہ کوئی پالیسی، نہ کوئی شرح سود، بلکہ ایک اجتماعی ذہنی معاہدہ کہ یہ کاغذ قدر رکھتا ہے۔ اور اسی یقین کو سمجھنے کے لیے ہمیں وقت میں پیچھے جانا ہوگا، کیونکہ کوئی بھی نظام اچانک پیدا نہیں ہوتا اور کوئی بھی نظام اچانک ختم نہیں ہوتا، دونوں کی جڑیں تاریخ کی گہرائی میں ہوتی ہیں۔سن 1944 میں، دنیا جنگ کے شعلوں میں گھری ہوئی تھی، مگر اسی شور کے بیچ ایک خاموش فیصلہ ہو رہا تھا۔ بریٹن ووڈز معاہدے کے تحت چوالیس ممالک نے ایک نیا عالمی مالیاتی نظام ترتیب دیا جس کے مطابق دنیا کی تمام بڑی کرنسیاں امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک ہوں گی، اور امریکی ڈالر سونے کے ساتھ پینتیس ڈالر فی اونس کی مقررہ شرح پر جڑا رہے گا۔ امریکہ واحد بڑی معیشت تھا جو جنگ سے تباہ نہیں ہوا تھا، اس کے پاس دنیا کے آدھے سے زیادہ سونے کے ذخائر موجود تھے، اور دنیا نے اس پر اعتماد کیا۔ تقریباً پچیس سال تک یہ نظام کامیابی سے چلتا رہا، مگر جب امریکہ نے ویتنام جنگ اور اندرونی ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنا شروع کیا تو فرانس کے صدر چارلس ڈیگال نے امریکہ کو ڈالر واپس بھیجے اور سونا طلب کیا۔ دوسروں نے بھی یہی راستہ اپنایا اور امریکہ کے سونے کے ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے۔ایک فرانسیسی عہدیدار نے اس امریکی استحقاق کو “غیر معمولی مراعات” کا نام دیا، وہ طاقت کہ کرنسی چھاپو، دنیا سے چیزیں خریدو، قرض لو، جنگیں بھی لڑو، اور دنیا ڈالر قبول کرتی رہے۔ مگر پندرہ اگست 1971 کو نکسن شاک کے ذریعے امریکہ نے اعلان کیا کہ اب ڈالر کو سونے میں تبدیل نہیں کیا جائے گا اور بریٹن ووڈز کا نظام ایک جھٹکے میں ختم ہو گیا۔ دنیا ایک ایسے سوال کے سامنے کھڑی تھی جس کا جواب فوری درکار تھا کہ ایک ایسی کرنسی کو کیسے برقرار رکھا جائے جس کے پیچھے کوئی ٹھوس بنیاد نہ ہو؟ اس سوال کا جواب تیل نے دیا۔1974 میں سعودی عرب کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے پایا جس کا انکشاف 2016 میں بلومبرگ کی فوئی درخواست سے ہوا۔ اس معاہدے کے تحت اوپیک ممالک نے تیل کی قیمت صرف ڈالر میں مقرر کرنے پر اتفاق کیا، امریکہ نے انہیں فوجی تحفظ کی ضمانت دی، اور تیل سے حاصل ہونے والے ڈالر دوبارہ امریکی خزانوں میں سرمایہ کاری کی صورت واپس آنے لگے۔ یوں سونے کی جگہ تیل نے لے لی۔ ہر ملک کو اپنی معیشت چلانے کے لیے تیل چاہیے تھا، تیل خریدنے کے لیے ڈالر، اور ڈالر کمانے کے لیے امریکی منڈی تک رسائی۔ یہ ایک ایسا چکر تھا جو خود کو مضبوط کرتا چلا گیا اور امریکہ کو سستی فنانسنگ، کم شرح سود اور بے مثال مالیاتی طاقت حاصل ہوئی۔ اور دنیا کے ذہن میں یہ نظام اتنا گہرا اُتر گیا کہ اسے چیلنج کرنے کا خیال بھی کسی کو نہیں آتا تھا۔مگر وقت کے ساتھ ہر نظام میں دراڑیں پڑتی ہیں، آہستہ آہستہ، خاموشی سے۔ 1999 میں یورو کی آمد نے پہلی بار ایک متبادل فراہم کیا۔ 2008 کے مالیاتی بحران نے دنیا کو سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا ڈالر واقعی محفوظ ہے؟ مگر اصل تبدیلی 2022 میں آئی جب روس کے ذخائر منجمد کیے گئے اور دنیا نے کھل کر دیکھا کہ ڈالر صرف ایک کرنسی نہیں بلکہ ایک سیاسی ہتھیار بھی ہے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو جائے تو اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ سعودی عرب نے جون 2024 میں پیٹرو ڈالر معاہدے کی باقاعدہ تجدید نہیں کی، اگرچہ وہ اب بھی اکثریتی تیل ڈالر میں فروخت کرتا ہے۔ ڈالر کا حصہ عالمی ذخائر میں اکہتر فیصد سے گر کر ستاون فیصد پر آ گیا۔ یہ کمی آہستہ تھی، مگر تھی ضرور۔پھر اٹھائیس فروری 2026 کو ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس آہستہ رو تبدیلی کو یکدم تیز کر دیا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور ایران نے سب سے پہلے آبنائے ہرمز کو اپنا ہتھیار بنایا۔ آبنائے ہرمز محض ایک جغرافیائی نقطہ نہیں ہے، یہ وہ تنگ پانی کی گلی ہے جس میں سے جنگ سے پہلے دنیا کا بیس فیصد تیل اور بیس فیصد ایل این جی گزرتی تھی، روزانہ بیس ملین بیرل سے زیادہ۔ اس گلی میں سے جنگ سے پہلے ہر کوئی بلا روک ٹوک گزرتا تھا، نہ کوئی ٹیکس، نہ کوئی اجازت، نہ کوئی سوال۔ ایران نے تجارتی جہازوں پر حملے کیے، بحری سرنگیں بچھائیں اور اعلان کیا کہ جو ممالک امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کریں گے ان کے جہاز نہیں گزریں گے۔ مگر چینی جھنڈے والے جہازوں کو یوآن میں فیس ادا کر کے گزرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ صرف ایک فوجی چال نہیں تھی، یہ ایک نئے مالیاتی نظام کا اعلانِ جنگ تھا۔ایران اچھی طرح سمجھتا ہے کہ پیٹرو ڈالر نظام امریکی طاقت کی بنیاد ہے، اور اس بنیاد کو نقصان پہنچانے کا سب سے کارگر طریقہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہے۔ چین ایران کا اسّی فیصد سے زیادہ تیل خریدتا ہے اور یہ تجارت یوآن میں ہوتی ہے۔ بھارتی ریفائنریاں روسی خام تیل یوآن اور درہم میں خرید رہی ہیں، سویفٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے۔ اور Project mBridge نامی ایک کثیرالجہتی مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی پلیٹ فارم جو چین، یو اے ای، تھائی لینڈ اور سعودی عرب کو جوڑتا ہے، سویفٹ یا ڈالر کے بغیر توانائی کے لین دین کا ذریعہ بن چکا ہے۔ جرمنی کی ڈوئچے بینک کی رپورٹ کے مطابق 2023 تک عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک پانچواں حصہ غیر ڈالر کرنسیوں میں ہونے لگا تھا، اور 2026 کی جنگ نے اس تناسب کو تیزی سے بڑھا دیا۔ جو چیز اس بار مختلف ہے وہ یہ کہ متبادل ڈھانچہ پہلی بار صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی صورت میں موجود ہے۔ 2022 تک یہ بات نظریہ تھی کہ ڈالر کے بغیر تیل کی تجارت ممکن ہے، آج یہ بات حقیقت ہے۔اور اس سب کے درمیان تیرہ جولائی 2026 کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ آج سے امریکہ آبنائے ہرمز کا محافظ کہلائے گا اور انصاف کے طور پر گزرنے والے تمام سامان پر بیس فیصد معاوضہ لے گا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اس سوال کا جواب سب سے تکلیف دہ صورت میں سامنے آتا ہے کہ کیا یہ پیٹرو ڈالر کا نعم البدل ہے؟ نہیں، یہ اس کی تدفین کے کاغذات پر پہلا دستخط ہے۔ پیٹرو ڈالر کی پوری بنیاد یہ تھی کہ امریکہ مفت سیکیورٹی دے اور بدلے میں ڈالر کی بالادستی قائم رہے۔ اب ٹرمپ اس پچاس سالہ معاہدے کو یکطرفہ توڑ رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ سیکیورٹی مفت نہیں ملے گی، پیسے لگیں گے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ چند ہفتے پہلے جب ایران نے ایسا ہی ٹول لگانے کی بات کی تو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور اقوام متحدہ کی بحری امور کی ایجنسی نے بھی یہی کہا تھا کہ کوئی ملک بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر ٹول نہیں لگا سکتا۔ آج وہی امریکہ خود یہی کام کر رہا ہے اور ایران نے طنزاً کہا کہ بیس فیصد بہت زیادہ ہے، ہم انصاف کریں گے۔ کنگز کالج لندن کے ماہر اینڈریاس کریگ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ خود ٹول لگائے تو یہ ایران کی اسی دلیل کو تقویت دیتا ہے کہ آبنائے سے گزرنے پر ٹیکس لگانا جائز ہے، اور پچاس سال کا یہ اصول کہ آزادیِ بحری گزر ایک آفاقی حق ہے، یکدم کھوکھلا پڑ جاتا ہے۔امریکہ کا قومی قرض انیس مارچ 2026 کو انتالیس کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا اور صرف سود ادا کرنے پر سالانہ ایک کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو رہا ہے جو کہ پورے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ امریکہ کے تینوں بڑے کریڈٹ ریٹنگ اداروں نے پہلے ہی اس کی درجہ بندی کم کر دی ہے۔ یہ وہ معاشی ڈھانچہ ہے جس پر پیٹرو ڈالر کی عمارت کھڑی ہے، اور یہ عمارت اندر سے ہل رہی ہے۔ دنیا کے مرکزی بینک ریکارڈ مقدار میں سونا خرید رہے ہیں، کیونکہ سونا نہ منجمد ہو سکتا ہے، نہ سیاسی ہتھیار بن سکتا ہے، نہ کسی ایک ملک کے کنٹرول میں ہے۔البتہ یہ بھی سچ ہے کہ پیٹرو یوآن ابھی پیٹرو ڈالر کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔ امریکی مالیاتی منڈیوں کی گہرائی، چوڑائی اور لیکویڈٹی کا کوئی حریف نہیں، اور جیسے برطانوی پاؤنڈ کو ریزرو کرنسی کی حیثیت کھونے میں 1920 سے 1950 تک تیس سال لگے، اسی طرح ڈالر کا سفر بھی یکدم ختم نہیں ہوگا۔ مگر جو چیز ماضی کے تمام چیلنجوں سے اس بار مختلف ہے وہ یہ ہے کہ پہلی بار ایران نے ثابت کر دیا کہ آبنائے ہرمز پر ٹول لگانا ممکن ہے، پہلی بار ثابت ہوا کہ ڈالر کے بغیر تیل کی بین الاقوامی تجارت ممکن ہے، اور پہلی بار خود امریکہ نے اپنے ہاتھوں سے اس اصول کو توڑا جس پر پچاس سال کا نظام کھڑا تھا۔پیٹرو ڈالر دراصل ایک کرنسی کی کہانی نہیں، ایک یقین کی کہانی ہے۔ یہ یقین کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو مفت کھلا رکھے گا، یہ یقین کہ ڈالر سیاسی ہتھیار نہیں بنے گا، یہ یقین کہ امریکی سیکیورٹی چھتری بغیر بل کے ملے گی۔ یہ تینوں یقین آج ایک ساتھ ٹوٹ رہے ہیں، اور جب اعتماد بدلتا ہے تو نظام بھی بدل جاتے ہیں، آہستہ آہستہ، مگر یقینی طور پر۔آبنائے ہرمز کی اکیس میل چوڑی پانی کی پٹی میں آج صرف جہاز نہیں رک رہے، ایک نصف صدی پرانا مالیاتی نظام بھی لنگر ڈالے کھڑا ہے، اور اسے یقین نہیں کہ آگے کا راستہ کون کھولے گا، اور کس قیمت پر!!!!!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button