سونے کا شہر، دوبئی

چند ماہ پہلے تک دوبئی ایک عالمی شہر تھا۔ یہ امن و آشتی کا گہوارہ اور ترقی و خوشحالی کا استعارہ تھا۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں سیرو تفریح اور خرید و فروخت کے لیے آتے تھے۔ مشرق وسطیٰ کے علاوہ ایشیاء اور افریقہ سے بھی لوگ یہاں روزگار کی تلاش میں آتے تھے۔ اسکے جگمگاتے بازاروں‘ کشادہ سڑکوں اور پر سکون ماحول کی وجہ سے اسے خلیج فارس کاسوئزر لینڈ کہا جاتا تھا۔ایک یورپی سیاح Jim Krane نے سٹی آف گولڈ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اس نے دوبئی کو سرمایہ دارانہ نظام کا حسین خواب قرار دیا ہے۔ سرمایہ ،کاروبار اور ہنر مند یہاں بلا خوف آتے تھے اور یہیں کے ہو رہتے تھے۔ ربع صدی قبل اسکی آبادی دس لاکھ سے بھی کم تھی۔ آج یہاںچار ملین لوگ رہتے ہیں۔ دوبئی نے دیکھتے ہی دیکھتے صف اول کے کاروباری شہروں میں اپنا مقام بنا لیا ہے۔معروف امریکی مصنف پروفیسر رچرڈ فلوریڈا کی تحقیق کے مطابق دوبئی میں اکیاسی ہزار Millionaires اور بیس ارب پتی رہتے ہیں۔ گذشتہ برس 9,800 Millionares نے دبئی میں 63 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ رچرڈ فلوریڈا کے مطابق دنیا کے کسی بھی دوسرے شہر میں گزشتہ چند برسوں میں اتنی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ ترقی کی دوڑ میں دوبئی صرف نیویارک اور لندن سے پیچھے ہے اور پیرس‘ ٹوکیو‘ فرینکفرٹ ‘ لاس اینجلس اور شکاگو سے آگے ہے۔ اسکا غیر سیاسی ہونا اور آس پاس کے ممالک کی سیاست سے الگ تھلگ رہنا اسکی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مغربی ممالک میں بھاری انکم ٹیکس دینے والے سرمایہ دار دوبئی کو اس لیے بھی پسند کرتے ہیں کہ یہاں انہیںانکم ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔ اسکے شاپنگ مال‘ بلندو بالا ٹاورز‘ ائیر پورٹ‘ ریسٹورنٹ اور لگژری ہوٹل اسے سیاحوں کے لیے پر کشش بناتے ہیں۔
دوبئی ‘ سات عرب امارات میں سے ایک ہے۔ اسکی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اسکی ترقی میں تیل کی دولت کا کوئی حصہ نہیں۔ اسکی خوشحالی کاروبار اور سیاحت کی وجہ سے ہے۔ یورپ‘ ایشیاء اور افریقہ کے لوگ اسے اچھی ملازمتوں‘ پر امن ماحول‘ عمدہ سکولوں ‘ کاروباری مواقع اور جداگانہ لائف سٹائل کی وجہ سے بھی پسند کرتے ہیں۔ اسکی 11.4ملین آبادی میں سے دس ملین بیرونی ممالک کے لوگ ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد امریکہ اور برطانیہ سے آئے ہوئے لوگوں کی بھی ہے مگر اسکی آبادی کا ایک بڑا حصہ جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ سے روزگار کی تلاش میں آئے ہوئے نوجوانوں کا ہے۔ جو محنت کش یہاں عشروں سے آباد ہیں انہیں بھی شہریت کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ عرب امارات کی ترقی کاراز بیرونی ممالک سے آئے ہوے تارکین وطن ہیں مگر یہاں انہیں مستقل طور پر دوسرے درجے کے شہریوں کی حیثیت سے رہنا پڑتا ہے۔ عرب امارات کا نظام حکومت مہاجرین کو ایک فاصلے پر رکھتا ہے ۔ وہ انہیں اشرافیہ کے قریب نہیں آنے دیتا۔ اس غیر مساوی اور امتیازی سلوک کی وجہ سے یہاں تیس چالیس برس تک رہنے والے لوگ بھی اسے اپنا نہیں سمجھتے۔ مغربی ممالک کی ترقی اسی لئے دیر پا ہے کہ وہاں تارکین وطن شہریت حاصل کر کے قدم جما لیتے ہیں۔ جس سرزمین نے انہیں گلے لگایا ہوتا ہے وہ اپنی وفاداریاں اسے سونپ دیتے ہیں۔ وہ اپنی آئندہ نسلوں کا مستقبل بھی اس نئی سرزمین سے وابستہ کر دیتے ہیں۔ عرب امارات کے آس پاس طویل عرصے تک خوفناک جنگیں ہوتی رہیں۔ ایک دنیا نے عراق‘ شام ‘ لیبیا ‘ یمن‘ لبنان اورفلسطین کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا شکار ہوتے دیکھا۔ ربع صدی کے اس خون آشام دور میں خلیجی ممالک کی ترقی کا سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا۔مگر یہ صورت حال اسوقت حیران کن طور پر تبدیل ہو گئی جب اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ پانچ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی اس جنگ میں امریکہ‘ اسرائیل اور ایران تینوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن اسکی سب سے زیادہ قیمت خلیجی ممالک نے ادا کی ہے۔ ایران نے ہر امریکی حملے کے جواب میں عرب امارات کو بطور خاص نشانے کی زد پر رکھا۔ اس دوران میں ایران کے ڈرون اور میزائلوں نے امریکی تنصیبات کے علاوہ دوبئی کے کاروباری مراکز اور لگژری ہوٹلوںپربھی تواتر سے حملے کئے۔ اس جنگ کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے سونے کا شہر دوبئی سنسان ہو گیا۔ ایک امریکی اخبار نے دوبئی کے جنوبی حصے میں واقع جبل علی کی بندرگاہ سے ایران کے میزائل حملے کے بعد اٹھتے ہوے دھویں کے بادلوں کی تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ دوبئی کی معیشت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اس خبر میں یہ بھی لکھا ہے کہ Flaming Debris scarred the facades of five star hotels along Dubai’s skylineگیارہ جون کے نیو یارک ٹائمز میں دوبئی سے بھیجی ہوئی اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس شہرکے لیے ایک بڑے خطرے کی گھڑی آ پہنچی ہے۔ اسکا مصروف ترین ائیر پورٹ اور اسکی بندرگاہیں ویران پڑی ہیں۔ ایران کے حملوں نے عرب امارات کی معیشت کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ امریکہ ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کے کئی پرانے اور تاریخی حقائق کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا ہے۔ دوبئی کو اب امن و آشتی کا گہوارہ نہیں سمجھا جاتا۔ یہ اب سرمایہ دارانہ نظام کا چمکتا ہوا ستارہ نہیں رہا۔ امریکہ کو اس جنگ سے پہلے خلیجی ممالک کے تحفظ کی ضمانت سمجھا جاتا تھا مگر وہ اب انکے لئےخطرے کی علامت بن گیاہے۔ اس نے نہ صرف خلیجی ممالک کو غیر محفوظ کر دیا ہے بلکہ وہ اس خطے میں اپنا اعتبار اور وقار بھی کھو بیٹھا ہے۔ سونے کا شہر‘ دوبئی اس جنگ کے خاتمے کے بعد یقیناًگرتا پڑتا اپنی ترقی کا سفر جاری رکھے گا مگر اسکے قلعے میں شگاف پڑ چکا ہے ۔ ہم لاکھوں تارکین وطن کے اس شہر کی عظمتِ رفتہ کی واپسی کے لیے دعا گو رہیں گے۔



