Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

یت، تاریخ اور اقتدار: صوبے، یا احتساب کے دروازے پر تاریخ کا وہی پرانا تالا؟

ۭہر قوم کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب کوئی ایک آواز، کسی ایوان کی خاموشی چیر کر، صدیوں کے سوال کو ایک جملے میں سمو دیتی ہے۔نیت دیکھنی ہے یہ کوئی نعرہ نہیں، یہ ایک تازیانہ ہے، جو ہر اس ہاتھ پر برستا ہے جو اقتدار کی تشکیلِ نو کے نام پر تاریخ کے پرانے زخموں کو دوبارہ کریدتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی کہانی، اگر بغور دیکھی جائے، تو یہ کسی ایک بار کا سانحہ نہیں، یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں ہر نسل نے وہی سوال پوچھا، اور ہر بار جواب وہی آیا کہ نیت میں کھوٹ تھا۔ ایک صدا بلند ہوتی ہے، ایوانِ اقتدار کے کسی گوشے سے: "میں اس مفروضے کو نہیں مانتا کہ چیزیں غلط ہوئی ہیں۔ کاش جو ستر سال میں ہوا، وہ نیک نیتی سے ہوتا۔” یہ فقرہ سادہ نہیں یہ ایک الزام نامہ ہے، ایک ایسی گواہی جو تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہو کر بولتی ہے۔ ایوب خان نے جب مقامی حکومتوں کے نظام کو اپنی سیاسی بقا کا زینہ بنایا، تو وہ اصلاح کا موقع ضائع ہوا۔ جنرل ضیاءالحق نے آئین کا حلیہ بگاڑ ڈالا اور جب 1979ء کے انتخابات محض اس لیے ملتوی کئے تاکہ پیپلزپارٹی کو دفن کیا جا سکے، اور 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات کے ذریعے اپنے لیے ایک نیا سیاسی قبیلہ تراشا گیا ، تو یہ محض ایک الیکشن نہیں تھا یہ نیت کا ایک اعلانیہ تھا۔ اور پھر، جرنل مشرف نے ایوب خان دور حکومت کی شراب کو نئی بوتل میں بند کرکے وہی کوششیں کیں، گو کہ یہ نظام عوام کیلئے بہتر تھا مگر سیاستدانوں کی سیاست کیلئے یہ زہر ِقاتل تھا اسلئے انہوں نے اس پرانے نظام کو انکے جانے کے بعد ریورس کردیا، برسوں بعد، جنرل باجوہ کے دور میں،1985ء کی اسی نسل کو، ایک ایک کر کے، چن چن کر ختم کر دیا گیا جسمیں ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کو بھی لپیٹا گیا گویا تاریخ اپنے ہی اوزار سے اپنے آپ کو کاٹتی رہی۔سوال یہ نہیں کہ صوبے بنائے جائیں یا نہ بنائے جائیں۔ سوال یہ ہے: یہ خواہش کہاں سے آئی؟ نہ پارلیمنٹ سے، نہ کسی بڑی سیاسی جماعت سے، نہ عوامی نمائندگی کے کسی دروازے سے۔ تو پھر کس دہلیز سے یہ صدا بلند ہوئی؟ کہا جاتا ہے کہ یہ خواہش اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے آئی ہے، لیکن انہوں نے خود اس کا اعتراف نہیں کیا تاہم جو بات پردوں کے پیچھے سے بولی جائے، وہ نیت کے کھوٹے پن کا پہلا ثبوت بن جاتی ہے۔ ویسے جس بات پر پوری قوم کا اتفاق ہے کہ مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیار ملنا چاہیے، کہ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ایک فرضِ اولین ہے اسی اتفاقِ رائے کو موضوع ٔبحث بنا کر صوبوں کی نئی تشکیل اور ریفرنڈم کی طرف موڑ دینا، ایک فکری فریب کے سوا کچھ نہیں۔ جس دن سیاسی جماعتیں ایک بنیادی سوال پر متفق ہو جائیں، اور پھر بھی وہی سوال ایک نئے تنازعے کی شکل اختیار کر لے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ اصل نشانہ کچھ اور ہے۔تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی، مگر وہ ہر کسی کا حساب رکھتی ہے یہ حساب صرف وردی والوں سے نہیں لیا جاتا۔ اسی حساب کی زد میں وہ سیاستدان بھی آتے ہیں جنہوں نے کبھی وردی کے سامنے سینہ تانا تھا، اور آج وہی اسی وردی کے دستِ نگر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے، یہ ہائبرڈ نظام، جس کا رونا آج سب رو رہے ہیں، کسی خلا میں پیدا نہیں ہوا یہ عمران خان کے دور میں، نیا پاکستان بنانے کے خواب سے اس نے جنم لیا اور جو لوگ آج خود کو اس کا سب سے بڑا نقاد ظاہر کررہے ہیں۔ اور کل جو سیاسی جماعتیں اس ہائبرڈ نظام کے خلاف سراپا احتجاج تھیں، آج وہی مقتدرہ کی باندی بنی بیٹھی ہیں انکی نہ عزت باقی رہی ، نہ آزادی، صرف ایک رشتہ جو مفاد کی بنیاد پر باندھا گیا اور مفاد ہی کی بنیاد پر ابتک نبھایا جا رہا ہے۔ اور جس لاڈلے کو، ترامیم پہ ترامیم کر کے، انہی سیاسی یتیموں نے گود لیا ہے، اس کی داستان اس غزل کے مصرعے سے بہتر کوئی بیان نہیں کر سکتا: انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔ یہ لاڈلا اب چاند سے کم پر راضی نہیں اس نے آئینی استثنیٰ سے لیکر وہ تمام کھلونے حاصل کرلیئے ہیں جوکہ اسکی خواہشات کا ممبع تھے تاہم لگتا یہی ہے کہ یہ لاڈلا کل شاید ایوانِ صدر کا چاند بھی مانگ لے، گا اور جن ہاتھوں نے اسے آئینی طور پر محفوظ کیا ہے، وہی ہاتھ اب اس کی بے بس گواہی بن چکے ہیں۔امریکہ کبھی پاکستان کو ڈالروں کی بھیک دینے کے بعد جس طرح کہا کرتا تھا: ڈو مور اور اب وہی زبان، وہی لہجہ، وہی حکم اب اسسٹیبلشمنٹ اپنی گود لی ہوئی سیاسی جماعتوں کو سنارہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ حکم بیرونی طاقت سے پاکستان آتا تھا، آج یہ اندرونی طاقت کے ایوان سے سیاستدانوں کیلئے آتا ہے، اور تعمیل کرنے والے وہی لوگ ہیں جو کبھی جمہوریت اور خودمختاری کے علمبردار کہلاتے تھے۔ جمہوریت، جو کبھی ایک منزل تھی، اب محض ایک لفظ بنکر رہ گئی ہے ایک ایسا خول جس کے اندر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں اور اعلان ایوانوں میں کیا جاتا ہے۔ اور اس زوال میں سیاستدانوں کا اپنا حصہ بھی کچھ کم نہیں۔ دونوں بڑی جماعتوں کی سیاسی لوٹ مار وہیں جاری ہے جہاں سے یہ کہانی شروع ہوئی تھی ، اقتدار کی باریوں کا وہی پرانا کھیل، اہم عہدوں اور وسائل کی وہی پرانی بندر بانٹ، اور عوام کے نام پر وہی پرانا فریب جاری ہے، صدر زرداری نے، جن کی سیاسی مہارت کسی تعارف کی محتاج نہیں، ستائیسویں آئینی ترمیم کی آخری گھڑیوں میں وہ جوڑ توڑ کیا کہ تاحیات استثنیٰ، جو ابتدا میں صرف CDF کے لیے تجویز تھا، اپنے لیے بھی حاصل کر لیا، ایک ایسی مہارت جو تحسین تو حاصل کر سکتی ہے، مگر اعتماد نہیں۔مگر یہی وہ مقام ہے جہاں چالاکی، دانش کا روپ نہیں دھار سکی۔ حکومت انجوائے کرنے والے سیاستدانوں نے وقتی فائدے کی خاطر، اور محض عمران خان کی مخالفت کے جنون میں، وہ طویل مدتی فائدہ ہار دیا جو کسی زندہ، خودمختار جمہوریت کی صورت میں انہیں مل سکتا تھا۔ آج حالت یہ ہے کہ وہ خود لاغر گھوڑے بن چکے ہیں جس کی لگام کسی اور ہاتھ میں ہے، جس کی رفتار کسی اور کے اشارے کی محتاج ہے، اور جو محض اس بھرم پر زندہ ہیں کہ وہ ابھی بھی میدان میں دوڑ رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ صوبے بنیں گے یا نہیں ، سوال یہ ہے کہ جو ہاتھ صوبوں کا نقشہ بنا رہے ہیں، انہی ہاتھوں نے وہ آئینی حصار بھی بنایا جس کے اندر وہ خود، اور جن کی وہ گود لی ہوئی اولاد ہیں، آج تحفظ پا رہے ہیں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ، جو اسی ترمیم سے وجود میں آیا، تاحیات استثنیٰ کی چادر اوڑھے ہوئے ہے، ہٹانے کے لیے وہ دو تہائی اکثریت کی دیوار کے پیچھے چھپا ہوا ہے ، جبکہ اسوقت ایک منتخب وزیرِ اعظم کو رخصت کرنے کے لیے محض سادہ اکثریت کافی ٹھہرتی ہے۔ رینک، وردی، مراعات یہ سب کچھ تاحیات، یعنی جس دن تک سانس چلے، اس دن تک وردی بھی چلے، چاہے عمر سو برس سے بھی تجاوز کر جائے۔اور جب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہی وہ زینہ ہے جس پر چڑھ کر وردی، ایک بار پھر، ایوانِ صدر تک پہنچے گی، تو آئین خاموش رہتا ہے نہ ہاں کہتا ہے، نہ نہیں۔ تاریخ گواہ ہے، ایوب خان اور مشرف، دونوں وردی میں صدر رہے، اور آج صدر کا عہدہ عملی اختیار کے میزان میں CDF سے پہلے ہی کم تولا جاتا ہے۔ اور جس عدالت کو، بالفرض، اس سارے ڈھانچے پر نگاہ رکھنی چاہیے تھی، وہ عدالت خود اسی ترمیم کی کوکھ سے جنم لے چکی ہے نئی وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس اور ججز کا تقرر صدر کرتا ہے، وزیرِ اعظم کے مشورے پر، بغیر کسی معروضی معیار کے۔ دو سینئر ججوں نے احتجاجاً استعفیٰ دیا، ایک نے اسے آئین پر شدید حملہ قرار دیا جو عدلیہ کو ایگزیکٹو کے ماتحت کر دیتا ہے۔ وہی عدالت، جسے کل صوبوں کی نئی تشکیل یا ریفرنڈم کی قانونی حیثیت پر فیصلہ دینا ہو گا، وہ بھی اسی نظام کی پیداوار ہیں جس پر وہ نگاہ رکھنے کی مدعی ہے۔اور یہیں پر صوبوں کی وہ بحث بھی اپنا اصل چہرہ دکھاتی ہے، جو بظاہر بااختیاری اور مقامی حکومت کی زبان بولتی ہے۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ آئین کا آرٹیکل 239 صاف کہتا ہے کہ نیا صوبہ بنانے کے لیے پہلے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری درکار ہے، پھر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی دو تہائی اکثریت اور کوئی ریفرنڈم اس تقاضے کی جگہ نہیں لے سکتا، آرٹیکل 48(6) خواہ کچھ بھی کہے۔ مگر جب یہ راستہ مشکل نظر آئیگا ، تو قانونی ماہرین اس خدشہ کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ شاید پھر ایک نئی تجویز میدان میں اتاری جائیگی : آرٹیکل 1 میں ترمیم کر کے صوبائی اسمبلی کی رضامندی کی شرط ہی حذف کر دی جائے، اور نئے صوبے بنانے کا اختیار صرف وفاقی پارلیمنٹ کے سپرد کر دیا جائے۔ سینیٹ میں نشستیں آبادی سے قطع نظر ہر صوبے کو برابر ملتی ہیں اگر نئے صوبے، کمزور اور مقتدرہ نواز قیادت کے ساتھ، وجود میں لائے جائیں، تو دو تہائی اکثریت کا ہندسہ بلاشبہ بڑھے گا، مگر اسی تناسب سے مقتدرہ نواز ووٹ بھی بڑھ جائیں گے۔ نتیجہ صاف ہے: جس عہدے کو ہٹانا آج مشکل ہے، اسے ہٹانا کل تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ صوبے، بااختیاری کے نام پر، دراصل احتساب کے آخری دروازے پر ایک اور تالا جڑ سکتے ہیں۔اور اس تمام صورتحال کے پیچھے وہ سیاست دان کھڑے ہیں جن کے پاس کھونے کو بہت کچھ ہے، مگر عوام کو دینے کے لیے بہت کم۔ اس کے ساتھ ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت قوم مسلسل تقسیم ہوتے چلے گئے۔ کبھی فرقے کے نام پر، کبھی نسل اور زبان کے نام پر، کبھی سیاسی جماعتوں کے نام پر، اور انہی جماعتوں کے اندر مزید دھڑوں میں۔ کہیں لال ٹوپی، کہیں سبز ٹوپی، کہیں سفید یا کتھئی ٹوپی، کہیں پگڑی، کہیں برادری، کہیں ذات، اور کہیں علاقائی شناخت ہماری اصل پہچان بن گئی۔ ہم پاکستانی کم اور اپنی اپنی شناختوں کے محافظ زیادہ بنتے گئے۔ جو قومیں اپنے مشترکہ قومی مفاد پر متحد نہیں ہوتیں، وہ ہمیشہ تقسیم در تقسیم کا شکار رہتی ہیں، اور ایسی قوموں پر پھر وہی طرزِ حکمرانی مسلط ہوتا ہے جس کا سلسلہ گزشتہ سات دہائیوں سے کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ چہرے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، جماعتیں بدلتی ہیں، مگر نظامِ اقتدار اور عوام کی محرومیاں جوں کی توں رہتی ہیں۔ اصل سوال نئے صوبوں کا نہیں، بلکہ طرزِ حکمرانی، سیاسی کردار اور قومی شعور کا ہے۔ جب تک سیاسی قیادت اپنی اخلاقی ساکھ، دیانت داری اور عوامی اعتماد بحال نہیں کرتی، اور جب تک عوام اپنی لسانی، نسلی، فرقہ وارانہ اور جماعتی تقسیم سے بلند ہو کر خود کو صرف پاکستانی سمجھنے نہیں لگتے، تب تک کردار بدلتے رہیں گے مگر کہانی وہی رہے گی۔ قومیں صرف آئینی ترامیم یا انتظامی نقشوں کی تبدیلی سے نہیں بدلتییں، بلکہ اس دن بدلتی ہیں جب اقتدار کو ذاتی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت سمجھا جائے، سیاست خدمت کا نام بنے، اور عوام اپنی شناختوں سے اوپر اٹھ کر ایک قوم بن جائیں۔ شاید آنے والی نسلیں ہماری طرح ایک ہی سوال بار بار دہرانے پر مجبور نہ ہوں، بلکہ وہ ایسا نظام تشکیل دے سکیں جہاں آئین طاقتور افراد کی خواہش نہیں بلکہ عوام کے اجتماعی عہد کی علامت ہو۔ اس دن شاید تاریخ پہلی بار خود کو دہرانے کے بجائے ایک نیا باب لکھے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button